منگل، 13 ستمبر، 2022

گُستاخ لارڈ آلٹرنکم اور ملکہ برطانیہ

Queen Elizabeth 2
“یوں تقریر کرتی ہے جیسے گردن میں بل پڑا ہو۔" 

"اپنی ماں کی طرح چار فقرے بھی اکٹھے بول نہیں سکتی جب تک لکھ کر سامنے

نہ رکھے ہوں۔"

"اُسکے مُنہ میں بھرے (محلاتی افسرشاہی کے لکھے)  فقروں کیوجہ سے اُسکی

شخصیت ایسی لگتی ہے کہ جیسے کوئی خود سر سکول کی لڑکی ہو،

یا ہاکی ٹیم کی کپتان، یا کلاس کی مانیٹر۔ "

ملکہ برطانیہ کے بارے میں لارڈ آلٹرنکم(Lord Altrincham) نامی صحافی کی

انیس سو ستاون میں لکھی گئی تحریر اسی قسم کے خیالات سے لبریز تھی۔ 

لارڈ ایک ناکام سیاستدان اور ایک غیر معروف صحافی تھا، لیکن اگست انیس سو ستاون میں

لکھے اُس کے اخباری آرٹیکل "The Monarchy Today" نے برطانیہ میں ایک طوفان

کھڑا کر دیا۔ 

Lord Altrincham John Edward Poynder Grigg


پورے مُلک (برطانیہ) میں اُسکو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ایک موقع پر ایک

ریٹائرڈ فوجی نے سرِ عام اُسکے جبڑے پر مُکا بھی دے مارا۔

آنے والے چند روز میں بہرحال لارڈ کو عالمی و برطانوی میڈیا پر کافی توجّہ مِلی جسکے بعد

عوام کی ایک کثیر تعداد نے اُسکے خیالات سے اتفاق کرنا شروع کر دیا۔ 

پِھر ایک روز آلٹرنکم کو شاہی مِحل کے نسبتاً چھوٹے افسر سے مُلاقات کا دعوت نامہ موصول

ہوا۔ "میرے خیال میں وہ لوگ میرے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں، اسیلئے تو کسی تیسرے درجے

کے محلاتی افسر سے مِلنے کا دعوتنامہ بھیجا ہے۔" آلٹرنکم نے اِن خیالات کا اظہار

اپنی محبوبہ سے کیا۔ "نہیں، تُم جائو۔ جو بھی ھے بس تُم جائو۔" پیٹریشیا، اُسکی محبوبہ نے

جواب دیا۔ "لیکن اپنے ساتھ ایک تجویزات کی فہرست ضرور لے کر جانا۔" پیٹریشیا نے یہ

بھی تاکید کی۔ 

بادلِ نخواستہ آلٹرنکم طے شُدہ وقت پر شاہی مِحل جا پہنچا۔ جب اُس نے اپنا تعارف کروایا تو

اُسے مِحل کی انتہائی بالائی منزل پر واقع ایک چھوٹے سے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ اُسے

یقین ہو گیا کہ اِس دڑبہ نما کمرے میں بیٹھنے والے افسر سے مِلنے آ کر اُس نے اپنا وقت ہی

ضائع کیا ہے۔ 

انتظار کے دوران وقت گُزاری کیلئے وہ سیکرٹری کے کمرے میں لگی تصویروں کو دیکھ

رھا تھا کہ اُسکے عقب میں دروازہ کُھلا اور کوئی کمرے میں داخل ہوا۔ جب وہ اپنے تئیں

سیکرٹری کو مِلنے کی خاطر گھوما تو ایک بڑا سرپرائز اُسکا مُنتظر تھا۔ سیکرٹری کے بجائے

ایک ایسی شخصیت اُسکے سامنے کھڑی تھی جسے مِلنے کے بارے میں اُس نے سوچا تک نہ

تھا۔ 

اُسکے سامنے ملکہ برطانیہ، الزبتھ دوم بنفسِ نفیس موجود تھی۔ اِس مُلاقات کو شاہی مِحل نے

ہمیشہ خُفیہ ہی رکھا لیکن اس میں لارڈ آلٹرنکم نے ملکہ کے سامنے نہ صرف کہ اپنے

نُقطہِ نظر کی وضاحت پیش کی، بلکہ باشاہت کو جدید دور سے ہمکنار کرنے کیلئے اپنی

تجاویز بھی ملکہ کے سامنے رکھیں۔ 


اِس تحریر کو آپکے سامنے پیش کرنے کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ

زندگی میں Just show up کی کیا اہمیت ہے۔ 

بسا اوقات ہم کئی سنہری مواقع کو یہی سوچ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ

یہ کسی "تیرے درجے کے افسر" کا دعوتنامہ ہے۔ البتہ ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ

اس دعوتنامہ دراصل ملکہ سے مُلاقات کا ایک بہانہ ہے۔ تو دوستو، اگلی مرتبہ کسی

بھی موقع کو رد کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا کہ شاید آپکی مُلاقات ملکہ لکشمی

سے ہونے جا رہی ہو۔ 


بدھ، 10 فروری، 2021

مغز کہانی



سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل ایمبولینسیں، لوگوں کا ایک چھوٹا سا ہجوم، اور رُک رُک کر چلتی ٹریفک۔ نہر والی سڑک پر یہ منظر روز مرہ کا معمول ہے البتہ پاس سے گُزرتے ہوئے موٹرسائیکل آہستہ کر کے کسی سے یہ پوچھنا کہ "بندے بچ گئے ہیں؟" بھی ہمارا روزمرہ کا معمول ہی ہے۔ 

لیکن اُس روز جب ہم ایک ایسے ہی مجمعے کے پاس سے ایسے ہی پوچھ گچھ کرنے کیلئے آہستہ ہوئے تو ہم نے ایک ایسا منظر دیکھا جسکے بعد ہم مجبورا موٹر سائیکل ایک جانب کھڑی کر کے مجمع کا حصہ بن گئے۔ 

سڑک پر ایک بھیجا دھرا ہوا تھا اور اسکے پاس ایک زخمی آدمی لیٹا ہوا تھا۔ ریسکیو والے پائوں کے بل بیٹھ کر کُچھ کر رہے تھے، شاید ٹیکہ وغیرہ بھر رہے تھے۔ ہمیں لگا کہ زخمی حرکت کر رہا ہے۔ اُس سے چند قدم دور ہونے کیوجہ سے ہم نے تصدیق کی خاطر مجمع میں شامل ایک اور پیٹی بھائی سے پوچھا کہ "بندہ مر گیا ہے؟" "نہیں، ابھی ہِل رہا ہے" اُسنے جواب دیا۔ 

لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بھیجا باہر نِکل جائے اور آدمی پھر بھی ہِلتا رہے؟ ہم نے کندھوں کا زور استعمال کرتے ہوئے چند افراد کو دائیں بائیں سرکایا اور لامبے قد کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مجمع کے اوپر سے جھانک کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ 

سڑک پر خون بِکھرا تھا، آدمی کا سر بھی خون سے لت پت تھا، لیکن سڑک پر چند خون آلود پٹیاں گول مول کر کے رکھی ہوئی تھی۔ ہم شاید انہیں کو بھیجا سمجھے تھے۔ 

لیکن نہیں، انہیں پٹیوں کیساتھ ہی ایک عدد مغز بھی نیم ملیدہ حالت میں موجود تھا۔ "اوئے دفع ہو جائو، پیچھے ہٹ جائو۔ اِدھر کوئی تماشہ لگا ہے کیا؟" گرجدار آواز گونجی تو مجمع میں شامل افراد کھسیانے ہو کر چند قدم پیچھے ہٹ گئے۔ کُچھ نے ہیلمٹ پہنے اور موٹرسائیکل سٹارٹ کر چلتے بنے۔ ہم البتہ اس مُعمے کو حل کئے بغیر پیچھے ہٹنے والے نہ تھے۔ دِل ہی دِل میں  خود کو ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے پر لعنت ملامت کی اور ذرا سرک کر وہیں جمے رہے۔

اب اس آدمی کی مثال ہی لے لیں، اگر ہیلمٹ پہنا ہوتا تو اسکا مغز سڑک پر نہ پڑا ہوتا۔ اچانک اُس آدمی کی چیخ گونجی۔ ہم نے اُسکی جانب دیکھا تو چکرا کر رہ گئے۔ جِس آدمی کا دِماغ سڑک پر ہو وہ چیخ کیسے سکتا ہے؟ اسی اثنا میں ایمبولینس کے ہوٹر کی صدا سنائی دی۔ ریسکیو ورکر نے ایک مرتبہ پھر لوگوں کو پیچھے ہٹ جانے کی درخواست کی مگر ایسا لگتا تھا کہ لوگوں پر سحر طاری تھا اور وہ ہِلنے کو تیار نہ تھے۔ تیزی سے اپنی جانب آتی ایمبولینس کو دیکھ کر ذمہ دار شہری فٹا فٹ بادلوں کیطرح بس اتنا سا چھٹ گئے کہ ایمبولینس کو جائے وقوعہ تک پہنچنے کا موقع مِل گیا۔ 

اُنہوں نے زخمی کو ایمبولینس میں منتقل کر دیا لیکن اُسکا دماغ وہی سڑک پر پڑا رِہ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی کو اُسکے دماغ کی کوئی پرواہ ہی نہ ہو۔ ہم نے ایک مسیحا کا کندھا پکڑ کر اُسے جھنجھوڑا اور سوال پوچھا کہ "یہ کیوں باہر چھوڑ دیا آپ نے؟" اُس نے تنک کر جواب دیا "جائو اپنا کام کرو، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا"۔

یا حیرت! یا حیرت! ہم دو قدم پیچھے ہٹے تو اچانک ہمارا پائوں پِھسل گیا، گِرنے سے بچنے کیلئے ہمارا دایاں بازو لاشعوری طور پر پھیلا اور ہاتھ سڑک پر ٹِک گیا۔ مگرجہاں ہاتھ ٹِکا تھا اُسکو دیکھ کر ہم پر ہذیان طاری ہو گیا۔ پائوں زخمی کے خون سے پھسلا تھا اور ہاتھ جا کر سیدھا دِماغ پر ٹھہرا تھا۔ 

ہم نے دائیں بائیں مدد کیلئے دیکھا تو پاس ہی کھڑی موٹرسائیکل کی ٹینکی میں سے جھانکتے صفائی والے میلے کپڑے پر نظر پڑی۔  ہم نے جلدی سے کپڑا پکڑا اور رگڑ رگڑ کر اپنے ہاتھوں سے اُسکا بھیجا اُتارنے لگے۔ لیکن وہ زِندہ کیسے تھا؟ لیکن وہ چیخ کیسے رہا تھا؟ آخریہ کیسے مُمکن ہے؟ 

ایمبولینس رُخصت ہو چُکی تھی، تماشبین بھی جا چُکے تھے۔ چند کُتے آس پاس منڈلا رہے تھے۔ ہم ہاتھ دھونے کی نیت سے نہر کیجانب چل پڑے۔ ہاتھ دھونے کیبعد ہم نے دیکھا کہ اب وہاں کُتوں کا اجتماع لگ چُکا تھا۔ ایک بڑا سا کُتا سڑک پر پڑا مغز چاٹ رہا تھا جبکہ دیگر سگانِ کم مایہ اُسکے جانب حسرت سے دیکھ رہے تھے۔ 



ہم سے مغزِ انسانی کی یوں بے توقیری برداشت نہ ہوئی تو سڑک سے ایک پتھر اُٹھا کر بڑے کُتے کو دے مارا۔ اُس نے ایک دِلدوز چیخ ماری اور ایکجانب دوڑ لگا دی۔ اُسکے دیگر ساتھی بھی بھاگ نکلے، کچھ کے منہ میں چھیچھڑے تھے، کچھ کو بوٹیاں نصیب ہوئی، اور کچھ بھاگتے بھاگتے شاپر پر جھگڑ رہے تھے۔ 

ہم نے بھی اپنی موٹرسائیکل سٹارٹ کی اور اسکو ایکجانب دوڑا دیا۔ 

نعیم اکرم ملک

دس فروری دو ہزار اکیس


اتوار، 4 اگست، 2019

تھینک یو اللہ میاں



یہ قصہ ہے گرمیوں کی ایک دوپہر کا۔ بچے گرمیوں کی چھٹیاں منانے اپنی نانی اماں کے

 گھر گئے ہوئے تھے۔ 

ہمیں دفتر سے چُھٹی تھی، اور بجلی کو واپڈا سے۔ رات بھی ڈھنگ سے نیند پوری نہ ہوئی تھی

 اور اب تو سونے کا کوئی چانس ہی نہ تھا۔  بجلی کی طویل رخصت کی بدولت یو پی ایس

بے ہوش ہو چکا تھا

 اور پنکھے ساکت۔ اس پسِ منظر میں ہم نے دِن کا بقیہ حصہ نہر کنارے سو کرگزارنے کا فیصلہ کیا۔

 یوں ہم بوریا بستر یعنی کہ چٹائی اور پانی کا کولر وغیرہ اُٹھا کر نہر کیجانب چل نکلے۔ 

سامعین و حاضرین میں سے کئی کو نہر کے گندے ہونے پر اعتراض ہو گا۔ البتہ ہم اس قسم کی باتوں کی  پرواہ نہیں کرتے، کیونکہ "گندی ہے پر ٹھنڈی ہے"۔ 



پس اشنان کرنے کیبعد، طے شُدہ پروگرام کے مطابق قریب ہی ایک درخت کی چھائوں میں چٹائی بچھائی

 اور چاروں شانے چِت ہو کر لیٹ رہے۔ ارادہ تھا کہ تھوڑی دیر سولیا جائے۔

البتہ نہر پر برپا طوفانِ بد تمیزی اور ٹریفک کی پاں پاں کیوجہ سے سونے کی تمام کوششیں ناکام ٹھہریں۔

گھر واپس جانا بھی بیکار تھا۔ موسم البتہ ابر آلود ہو رہا تھا، سو نہر میں چند مزید ڈُبکیاں لگانے کیبعد

 ہم جلو پارک کیجانب عازمِ سفر ہوئے۔ سوچا کہ باغ کی خامشی میں کسی برگِ گُل کی چھائوں سے لُطف

اندوز ہوتے ہوتے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹیں گے۔ 

منزلِ مقصود پر پہنچنے کیبعد ہم نے پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق گھنے درختوں کی 

چھائوں میں استراحت کا انتظام کیا، یعنی چٹھائی بچھائی کر کولر کو پاس ہی ٹکایا  اور ایک مرتبہ پھر دراز

 ہو گئے۔ کچھ دیر بعد اسطرف تین چار بچے اپنے دو عدد والدین سمیت آ دھمکے۔ 

انہوں نے "شیطانوں کا کھیل" کرکٹ کھیلنا شروع کر دیا جسکی وجہ سے ماحول کا سکون پہلے جیسا نہ رہا۔


 البتہ یہ "تبدیلی" قابلِ برداشت تھی اور اسکے باوجود نیند کی دیوی ہم پر مہربان ہو ہی گئی۔ 

مگر قدرت کو ہمارا سونا منظور نہ تھا، کچی پکی نیند کو ایک بچے کی آواز نے کرچی کرچی کر دیا۔ 

"انکل، پانی ہے"

"ہاں ہے" میں نے اُکتائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ 

"پی لوں؟" اُسکا اگلا سوال تھا۔ 

"اوہ پی لے بھائی" جواب دیکرمیں نے آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔

لیکن پکچرابھی باقی ہے دوست۔ بچے کو ایک سوال اور پوچھنا تھا۔ 

"انکل گلاس کہاں ہے؟"

اتنے سوال اگر اب تک میرے اپنے بچے نے پوچھے ہوتے تو عین ممکن ہے معالمہ اسکی والدہ کی سپریم 

کورٹ تک جا چُکا ہوتا اور بچے کو پانی کے بجائے سوئے ہوئے والد کو سے حتی الامکان دور رہنے پر

 لیکچر مِل رہا ہوتا۔ لیکن افسوس یہ ممکن نہ تھا۔ لفافے سےگلاس نکالا اور خود ہی بھر کر اُسکی خدمت

 میں پیش کیا کہ جلدی سے پیئے اور جائے۔ 

بچے نے پانی پیا، گلاس واپس رکھا، اور جانے سے پہلے ایک مرتبہ پھر بوُل پڑا۔

"انکل تھینک یو"۔ 

اس مرتبہ اُس نے ایسی بات کی تھی کہ باوجود اکتاہٹ کے مجھے مسکرانا ہی پڑا۔ 

"یو آر ویلکم"اب  میں نے خوشدلی سے جواب دیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ 

بمشکل دو منٹ گُذرے ہونگے کہ ایک اور بچہ پانی پینے آ دھمکا۔ 



میں نے سوچا کہ کولر انہی کو دے دیتا ہوں کہ جائو جتنا مرضی پانی پیو، جاتے ہوئے کولر لوٹا جانا۔

 پانی پی کر یہ بچہ بھی "تھینک یو انکل" کہہ گیا۔ 

اسی طرح کچھ دیر بعد انکی ننھی بہن کو بھی پیاس لگی اور اسنے بھی آ کر پوچھا "انکل پانی پی لوں؟"

 جاتے جاتے اسنے بھی "انکل تھینک یو" کی پُھلجھڑی چلائی۔ 

اچھی تربیت کے اثرات صاف ظاہر تھے۔

اِن بچوں کیبعد اور بھی کئی لوگ پانی پینے آئے۔ گملے بھرنے والا لڑکا، بوُڑھا مالی، اور

 جوڑوں کے شکاری دو موٹرسائیکل سوار پولیس والے۔ ان سب نے پانی پیا،

لیکن بچوں جیسا تھینک یو کسی نے نہیں کہا۔ 

اُس روز مجھے اندازہ ہوا کہ زندگی میں شُکریہ ادا کرنے کی کیا اہمیت ہے۔ 

"تھینک یو"، "مہربانی"، "معذرت"، "پلیز"، کرشماتی الفاظ ہیں جو کہ اُکتائے ہوئے انسان کو بھی مُسکرانے

 پر مجبور کر دیتے ہیں۔ 

رہا سوال میرے سونے کا، تو جناب کُچھ ہی دیر بعد موسا دھار بارش شروع ہو گئی۔

 اس سے بھاگنا کُفرانِ نعمت ہوتا۔ پس ہم بارش میں خوب نہائے اور کئی مرتبہ بے اختیار منہ سے یہ الفاظ

 نکلے

"تھینک یو اللہ میاں"

جمعہ، 18 جنوری، 2019

زرعی انقلاب کا پھندا


لگ بھگ بارہ ہزار سال قبل رونما ھونے والا زرعی انقلاب، تاریخ کے متنازع ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ کُچھ طرفدار کہتے ہیں کہ اسنے بنی نوع انسان کو عروج اور ترقی کی راہ پر ڈال دِیا۔ البتہ مخالفین مُصر ہیں کہ اسکا نتیجہ مسلسل ابتلاء ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ یہی وہ موڑ تھا جب سیپینز یعنی انسانوں نے فطرت کے ساتھ اپنا قریبی ربط نوچ پھینکا اور سرپٹ لالچ و اجنبیت کی جانب دوڑ لگا دی۔ راہ جِس سمت بھی لے جاتی، واپس ناممکن تھی۔ 

کھیتی باڑی کی بدولت انسانی بستیاں اسقدر سرعت سے پھیلی کہ کوئی بھی پیچیدہ زراعتی معاشرہ اگر قدیم شکاری اور متلاشی طور طریقوں کی جانب لوٹتا تو قائم ہی نہ رہ پاتا۔
لگ بھگ دس ہزار سال قبلِ مسیح کو، زراعت پر منتقلی سے پہلے، زمین پر شکاری متلاشی انسانوں کی آبادی پچاس لاکھ سے اسی لاکھ کے درمیان تھی۔ پہلی صدی عیسوی آتے آتے انکی تعداد گھٹ کر دس لاکھ سے بیس لاکھ تک رہ گئی وہ بھی زیادہ تر آسٹریلیا، افریقہ، اور امریکہ میں۔ لیکن اُنکے مقابلے میں اُسوقت صفحۃ ہستی پر کسانوں کی تعداد پچیس کڑوڑ کے قریب پہنچ چُکی تھی۔ شکاری معدوم ہو رہے تھے۔

کِسانوں کی بڑی تعداد مُستقل آابادیوں میں رہتی تھی۔ ان میں کم ہی خانہ بدوش چرواہے تھے۔ ایک جگہ ٹِک جانے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا علاقہءِ عمل ڈرامائی طور پر سُکڑ گیا تھا۔
قدیم مُتلاشی شکاری عام طور پر سیکڑوں یا کبھی کبھار ہزاروں مربع میل پر مُحیط علاقے میں سرگرم رہتے تھے۔ سارے کا سارا علاقہ انکا گھر ہوتا تھا۔ پہاڑ، جھرنے، جنگلات، اور کُھلا آسمان۔ 
دوسری جانب کسان، زیادہ وقت نسبتا چھوٹے کھیت یا باغ میں کام کرتے رہتے۔ اُنکی روزمرہ زندگی لکڑی، پتھر، یا گارے کے ایک ٹھنسے ٹھنسائے ڈھانچے کے گِرد گھومتی تھی جو بمشکل چند میٹر پر مُحیط ہوتا تھا؛ یہ ڈھانچہ تھا اُنکا گھر۔ 

عام طور پر کِسان کو اِس ڈھانچے کیساتھ گہرا لگائو ہو جاتا تھا۔ یہ ایک دور رس انقلاب تھا جسکے اثرات جسقدر نفسیاتی تھے، اُسی قدر ہی عماراتی بھی تھے۔ اِسکے بعد سے "میراگھر" کی لگن اور پڑوسیوں سے علیحدگی ایک خود کفیل مخلوق کا خاصہ بن گئی۔
نئے زراعتی رقبے نہ صِرف قدیم مُتلاشی شکاریوں کے زیر استعمال علاقوں سے  کئی گُنا چھوٹے تھے، بلکہ بے حد بناوٹی بھی تھے۔



 آگ کے استعمال کے سے ہٹ کر، شکاری جس سرزمین میں گھومتے پھرتے تھے اُسمیں کم ہی کوئی بڑی تبدیلی کیا کرتے۔

لیکن کِسان، مصنوعی انسانی جزیروں میں رہتے، جنہیں وہ جفاکشی سے آس پاس کے جنگلات کو صاف کر کے تراشتے۔ جہاں پر وہ گھر تعمیر کرتے، ہل چلاتے، اور دیدہ زیب قطاروں میں پھلدار درخت لگاتے۔
 نتیجتاۤ رونما ہونے والا مصنوعی ماحول فقط انسانوں، اُنکے پودوں، اور پالتو جانوروں کیلئے بنا ہوتا۔ رہائش کے اردگرد عموما دیواروں یا باڑھوں کی مدد سے حد بندی کی جاتی۔ جنگلی جانوروں اور تیزی سے پھیلنے والی جڑی بوٹیوں کو باہر رکھنے کیلئے کِسان خاندان ہر مُمکن جتن کرتے۔

اگر ایسے گُھس بیٹھیئے اندر آ ہی جاتے تو انہیں نکال باہر کیا جاتا۔ اگر وہ ڈٹے رہتے، تو اُنکے مد مقابل انسان انہیں جان سے مارنے کے نت نئے طریقے اختیار کرتے۔

زراعت کی ابتدا سے لیکر آج تک اربوں کی تعداد میں انسان لاٹھیوں، کیڑے مار اوزاروں، جوتوں، اور زہریلی ادویات کیساتھ جفاکش چیونٹیوں، چُھپنے کے خوگر کاکروچوں، اور بھوُلے بسرے مکوڑوں کیخلاف برسرِ پیکار ہیں۔ مگر وہ بھی مُسلسل انسانوں کے رہائشی علاقوں میں در اندازی کی عادت پر قائم ہیں۔

تاریخ کے بیشتر حصے میں انسان کی تخلیق کردہ یہ آماجگاہیں بُہت چھوٹی رہی ہیں، انہیں ہمیشہ وحشی فطرت نے اپنے گھیرے میں لئے رکھا۔ زمین کی کُل سطح لگ بھگ اکیاون کڑوڑ مربع میل ہے، جسمیں سے ساڑھے پندرہ کڑوڑ مربع میل خُشکی ہے۔ سن چودہ سو عیسوی تک، کسانوں کی بڑی تعداد اپنے پودوں اور پالتو جانوروں سمیت، محض ایک کروڑ دس لاکھ مُربع میل پر مرکوز تھی۔ 

کُرہ ارض کی کُل سطح کا محض دو فیصد۔ باقی تمام جگہیں یا تو شدید سرد تھی، یا شدید گرم، انتہائی خُشک، بُہت گیلی، یا پھر ناقابلِ کاشت۔ کُرۃ ارض کا محض دو فیصد حصہ وہ سٹیج تھا جس پر تاحال معلوم تاریخ رقم ہوئی۔

اپنے مصنوعی جذائر کو چھوڑنا لوگوں کیلئے سخت دشوار تھا۔ اپنے گھر، کھیت، اور ذخیروں کو بغیر شدید نقصان کا خطرہ موُل لئے چھوڑنا ناممکن ہوتا۔ 

قدیم کسان ہمارے حساب سے تو شاید غریب لگتے ہوں۔ لیکن ایک عام گھرانے کی ملکیت میں اتنے زیادہ اوزار ہوتے ہوں گے جتنے شکاریوں کے پورے جتھے کے پاس نہ رہے ہوں گے۔

جوں جوں وقت گُزرتا گیا، انسان اپنے اردگرد مزید چیزیں اکٹھی کرتا گیا۔ ایسی چیزیں جنکو ساتھ لیکر گھومنا پھرنا آسان نہ تھا۔ ایسی چیزیں جنہوں نے اُسے باندھ کر رکھ دیا تھا۔

آزاد منش شکاری، اپنے کھیتوں، اوزاروں، اور گھر کا قیدی ہو گیا تھا۔ جھرنے، پہاڑ، اور آزادی پیچھے رہ گئے تھے۔

یہ تھا زرعی انقلاب کا پھندا۔

پیر، 8 جنوری، 2018

سی پیک اور پاکستان کی ایس ای زی بالیسی - صحیح، غلط، اور حل


سی پیک: ہمارے ایس ای زیز کو کیسےچلایا جائے؟
چین پاکستان معاشی راہداری کے سلسلے میں
ایک اور دلچسپ ویڈیو کے ساتھ آپکا بھائی نعیم ملک
حاضر ہے۔

جب سے سی پیک کا پراجیکٹ شروع ہوا، ایک اصطلاح
بار ہا سننے میں آ رہی ہے۔
یہ اصطلاح ہے، ایس ای زی یا سپیشل اکنامک زون ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایس ای زی ہوتی کیا چیز ہے
اور اس لفظ پر اتنا زور دینے کی وجہ کیا ہے؟
اِس ویڈیو میں ہم آپکو بتائیں گے کہ ایس ای زی کیا ہوتا
ہے، سی پیک میں کون کون سے ایس ای زی بنائے جا
رہے ہیں، اور پاکستان کے ایس ای زی منصوبوں میں کیا
مسائل موجود ہیں۔
دوستو ایس ای زی یعنی سپیشل اکنامک زون ایک خاص
علاقہ ہوتا ہے، اس علاقے میں کاروبار اور سرمایہ کاری
کو آسان بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔
اردو میں ہم اِسے خصوصی معاشی علاقہ بھی کہہ
سکتے ہیں۔
مُلک کی حکومت کسی بھی علاقے کو یہ درجہ دے سکتی
ہے۔ پاکستان، سی پیک کے سلسلے میں کئی اسپیشل اکنامک
زون بنانے جا رہا ہے۔ کیا آپکو پتہ ہے پاکستان میں کتنے نئے اسپیشل اکنامک
زون بننے جا رہے ہیں؟
کسی بھی معیشت میں سرمایہ کاروں کی آمد کو آسان بنانا
پاکستان میں ایک دو یا چار پانچ نہیں، پورے نو ایس ای
زی بنائےجائیں گے۔ List of Special Economic Zones (SEZ) created in Pakistan for CPEC ایس ای زی بنانے کے چند اہم مقاصد کچھ یوں ہوتے ہیں تجارت کو فروغ دینا عوام الناس کیلئے نوکریاں پیدا کرنا
ان پالیسیوں کا تعلق عام طور پر جن چیزوں کے ساتھ ہوتا
ہے وہ ہیں
سرمایہ کاری، صنعت، اور تجارت سے متعلقہ مختلف
انتظامی امور کو تیزی سے سر انجام دینا سرمایہ کاروں کو کسی بھی ایس ای زی کی جانب متوجہ
کرنے اور سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے لئے کئی پاپڑ
بیلے جاتے ہیں۔ اور خاص قسم کی مالی پالیسیاں لاگو کی جاتی ہیں۔ ٹیکسیشن سرمایہ کاری تجارت کوٹہ سسٹم کسٹمز اور لیبر کے قوانین وغیرہ
اب آپ ضرور سی پیک میں بننے والے نو ایس ای زیز کا
نام بھی جاننا چاہ رہے ہوں گے۔
اسکے علاوہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کمپینوں کو کچھ
عرصے کے لئے ٹیکس معاف کر دیئے جائیں یا کاروبار
لگانے سے کچھ عرصہ بعد تک ان سے کم ٹیکس وصول
کئے جائیں۔ پہلے سے موجود انڈسٹریل اسٹیٹس میں ایس ای زی بنانا
ایک کثرت سے استعمال ہونیوالی حکمت عملی ہے۔ البتہ
کسی جگہ پر نیا انفراسٹرکچر بنا کر اسے ایس ای زی
قرار دینا بھی عین ممکن ہے۔ ناموں کی لسٹ حکومت پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود
ہے۔ یہ ویڈیو بنانے کے وقت اس لسٹ میں موجودہ نام
آپکو بتاتا چلوں۔ رشکئی اکنامک زون، ایم ون، نوشہرہ
اس مقام سے آگے تمام معلومات اُس کالم کی بنیاد پر دی
جا رہی ہیں۔
چائنہ اسپیشل اکنامک زون، دھابے جی بوستان انڈسٹریل زون علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، ایم تھری، فیصل آباد آئی سی ٹی ماڈل انڈسٹریل زون، اسلام آباد ڈیولپمنٹ آف آنڈسٹریل پارک آن پاکستان سٹیل ملز لینڈ
پورٹ قاسم نئیر کراچی سپیشل اکنامک زون ایٹ میرپور اے جے کے مہمند ماربل سٹی موقپوندس ایس ای زی گلگت بلتستان پاکستان کی ایس ای زی پالیسیوں کے بارے میں ہمیں
روزنامہ ایکسپریس ٹرائیبیون میں حسان خاور کا ایک
مفید آرٹیکل پڑھنے کو مِلا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنے ایس ای زیز کو شین زین کی طرح بنانے کیلئے کام بھی کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر ہمیں اپنے ایس ای زیز کو شین زین جیسا کامیاب بنانا ہے تو پھر ہمیں اس مقصد کیلئے درست اقدامات بھی کرنے پڑیں گے۔
دُنیا کا پہلا جدید ایس ای زی انیس سو انسٹھ میں آئرلینڈ
میں بنایا گیا تھا۔ لیکن، اس تصور کو دُنیا میں مقبولیت اس
وقت حاصل ہوئی جب چین نے شین زین کی معمولی سی
مچھیرا بستی کو "چینی معجزے" کی مدد سے تبدیل کر
کے رکھ دیا۔ آج کے شین زین کی آبادی تو لاہور جتنی ہے لیکن اسکا
جی ڈی پی پورے پاکستان جتنا ہے۔ جی ہاں، سائز میں
چھوٹا لیکن کارکردگی میں چیتا۔ جیسا کہ میں نے آپکو بتایا کہ پاکستان سی پیک کے
ساتھ پورے نو ایس ای زی بنانے جا رہا ہے۔ انکا مقصد
چین اور باقی دُنیا سے سرمایہ کار کو پاکستان لانا اور
ہماری معشیت کا پہیہ تیزی سے گُھمانا ہے۔ ان میں سے
پانچ کی فیزیبلٹی سٹڈی مکمل ہو چُکی اور دو کی ابتدائی
فیزیبلٹی۔
سب سے پہلے، ایس ای زی اسلئے بنائے جاتے ہیں کہ
محدود پیمانے پر سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول
اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
لیکن، ایس ای زی بھی کامیابی کا کوئی مُجرب نسخہ نہیں
ہیں۔ دُنیا ایسے ناکام منصوبوں سے بھری پڑی ہے
جہاں بہترین انفراسٹرکچر بنایا تو لیا، لیکن اسکے استعمال
کی نوبت نہیں آئی۔ سری لنکن شہر ہم بن توٹا اس کی ایک مثال ہے۔ اگر یہ بات ہے، تو کہیں ہم پاکستان میں بھی کوئی غلطی
تو نہیں کر رہے۔ دُنیا بھر میں موجود لگ بھگ پانچ ہزار اسپیشل اکنامک
زونوں میں سے، بہت سارے کامیاب بھی ہیں۔ ہمارے ایس ای زی بھی ان میں شمار ہو سکتے ہیں۔ غور سے دیکھنے پر ہمیں ہمارے ایس ای زی کے
طریقوں میں کچھ اہم مسائل نظر آ جائیں گے۔ چلیں ان پر بات کرتے ہیں۔ یعنی کہ ایس ای زی ایک بلبلے یا انکیوبیٹر کی طرح
ہوتا
ہے جو کہ مُلک کے دیگر حصوں میں پائے جانے والے
مسائل سے حتیٰ ال وسع پاک ہوتا ہے۔
البتہ سی پیک میں بننے والے ایس ای زیز میں سرمایہ
کار کیلئے ہر طرح کے تحفظ، یعنی سیکورٹی، کا جاندار
انتظام کرنا لازمی ہو گا۔
اسی لئے، ہر مُلک کو یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اسُکے
سپیشل اکنامک زون، اسکے اپنے اندر پائے جانے والے
مسائل سے بالاتر ہو۔ سیدھا سیدھا چین یا کہیں اور دیئے جانے والے فوائد کی
نقل کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ ہمارے ایس ای زیز
ایسے ہونے چاہیئیں کہ وہ ہمارے یہاں پائے جانے والے
مسائل کا محدود پیمانے پر حل کر سکیں۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونیوالے ڈیٹا کے مطابق
پاکستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی
رکاوٹ ہے یہاں کی سیکورٹی صورتحال۔ یہاں سرمایہ
کار کو اپنے مال، جان، اور کاروبار کا خطرہ پڑا رہتا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی، اور قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر تک
رسائی نہ ہونا، مشکل ٹیکس نظام، کرپشن، اور طرح طرح
کے کرایئے مانگتے ادارے اسکے علاوہ ہیں۔ چلیں اب ان مسائل کے حل کے بارے میں بھی بات کرتے
ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے انفراسٹرکچر اور رابطوں کا نظام
تو ٹھیک ہو جائے گا۔
اسکے علاوہ، بہت سارے ایس ای زیز میں نیگیٹو لسٹوں
کا تصور بھی موجود ہے۔ یعنی کہ سرمایہ کاروں کیلئے
ایسی فہرستیں شائع کی جاتی ہیں جن میں صرف وہ کام
لکھے ہوتے ہیں جنکو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یعنی
جنکا جواب نیگیٹو ہوتا ہے۔ اِن لسٹوں میں دی گئی
ممنوعہ سرگرمیوں کے علاوہ باقی سب کچُھ پیدائشی
طور پر جائز سمجھا جاتا ہے۔
اسکے علاوہ، ٹیکس اور کمپلائنس کے قوانین کو سہل
بنانا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہو گا۔ کیونک، اس میں
صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومتت کو مِل کر کام
کرنا پڑے گا۔ دوسرے کئی مُلکوں نے اس بھول بُھلیاں میں سے راستے
تلاش کیا بھی ہے۔ انہوں نے ایسے قوانین بنائے ہیں جو
کہ ایس ای زیز کے منتظم اداروں کو اجازت نامے جاری
کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ اُنکے اداروں کو رنگ برنگی وزارتوں سے منظوریاں
نہیں لینی پڑتی۔ یو اے ای ۔۔۔ یعنی متحدہ عرب امارات نے، کئی زونز میں
پیش منظوری یعنی پری اپروول متعارف کروا رکھی ہے۔ سرمایہ کاروں کو اُس وقت تک ایک پیسہ بھی نہیں خرچ
کرنا پڑتا جب تک کہ اُنکے اجازت نامے مُکمل نہ ہو
جائیں۔ ایس ای زی سے اگلا مرحلہ ہے چارٹر سٹیز، یعنی خاص
مقصد کیلئے بسائے گئے شہر۔ ایسے شہر، ترقی یافتہ
مُلکوں میں رواج پا رہے ہیں۔ چین میں ہانگ کانگ اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں
سین ہوزے شہر جو کہ آئی ٹی انڈسٹری کا گڑھ ہے چارٹر
سٹی کی مثالیں ہیں۔
مثلن، ٹیان جن، جو کہ چین کا ایک بڑا انڈسٹریل زون ہے، پسماندہ ٹیکنالوجی یا پُرانے سامان کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے۔
یہاں پر لوکل گورنمنٹس کو بہت ساری معاشی پالیسیاں
بنانے کا اختیار دے دیا جاتا ہے، یعنی مرکز کا کِردار
کم کر کے غیر مرکزیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ہمارے
یہاں، بہرحال تمام معاملات میں شدید مرکزیت پسندی
موجود ہے۔ پاکستان کے ایس ای زی نظام میں ایک اور کمزوری
سرمایہ کاروں کو دیئے جانے والے فائدے ہیں۔ بے شک
ٹیکس سے چھوٹ محدود مُدت تک دی جا رہی ہے، لیکن
زیادہ تر فائدے بغیر کسی حساب کتاب کے ہیں۔ انکا تعلق
سرمایہ کار کی کارکردگی سے جُڑا ہوا نہیں ہے۔ حالانکہ
حکومت یہ فائدے صرف اُس صورت میں بھی دے سکتی
ہے جب کہ سرمایہ کار پہلے سے بتائے گئے اہداف تک
پہنچے۔ مثال کے طور پر، نئی پیدا کردہ نوکریوں کی تعداد کیا ہے؟ کس قدر سرمایہ استعمال میں لایا جا چُکا ہے؟ یا مُلک میں نئی ٹیکنالوجی مُنتقل کی جا رہی ہے یا نہیں؟ اگر چین میں دیکھا جائے تو، اُنہوں نے ایس زی زیز کو
استعمال کر کے ایڈوانس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا ہے۔ ٹیانجن، نئی صنعتوں، اور ٹیکنالوجی کے حساب سے
برتر کمپنیوں کو ترجیح دیتا ہے۔

یہی صحیح وقت ہے کہ اِس ویڈیو میں بتائے گئے اور
اسکے علاوہ بھی کئی اور اہم معاملات کے بارے میں
سوچا جائے۔ اور ایسی ایس ای زی حکمت عملی اپنائی
جائے کہ سی پیک اور کے ساتھ آنے والی غیر مُلکی
براہ راست سرمایہ کاری یعنی ایف ڈی آئی سے پیدا
ہونے والے مواقع کا بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ مُجھے امید ہے کہ آپکو ویڈیو پسند آئی ہو گی۔ ایکسپریس
ٹرائیبیون کے جس آرٹیکل کی بُنیاد پر یہ ویڈیو بنائی گئی، اُسکا لنک ڈسکرپشن میں موجود ہے۔ مُصنف حسان خاور ٹویٹر پر خآصے ایکٹو ہیں، اِنکو کو ٹویٹر پر فالو کرنے کیلئے آپ سکرین پر دیا گیا ہینڈل استعمال کر سکتے ہیں۔
اگر آپکو یہ ویڈیو پسند آئی ہے تو جناب اسے لائک کریں
اور اپنے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کریں۔ آئندہ ویڈیوز کی
اطلاع حاصل کرنے کیلئے میرا چینل ضرور سبسکرائب
کریں۔ بہت شکریہ، سلام علیکن۔


ہفتہ، 4 نومبر، 2017

گل سچ سیانے کہہ گئے نیں


گل سچ سیانے کہہ گئے نیں
چِڑی اُڈی راضی نئیں ہوندی

رب سجنوں سوکھا من جاندا اے
۔۔۔
واہ۔۔۔
۔۔۔
پر بُڈھی راضی نئیں ہوندی

اتوار، 1 اکتوبر، 2017

How to Buy Confirm Train Tickets From Pakistan Railways App Online, New ...


پاکستان ریلویز کی ایپ کو استعمال کر کے ٹرین میں سیٹ بُک کروانے آ سان ترین طریقہ۔ 

پیر، 20 مارچ، 2017

Lahore Special - Android App Demo: Bus Data Pata by Lahore Transport Com...






اس ویڈیو میں جناب ہم آپکو بس دا پتہ ایپ کا مظاہرہ کر کے دکھائیں گے۔ 
اس ایپ کی مدد سے آپ لاہور شہر میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی تمام بسوں کے کرائے، انکے سٹاپ، اور انکے روٹ دیکھ سکتےہیں۔
لاہور میں سفر کرنے کا اس سے سستہ اورپر لطف ذریعہ اور کوئی نہیں۔ 
گرمیوں میں ان بسوں کے اے سی بھی خوب چلتے ہیں اور لگ بھگ دس منٹ بعد اگلی بس بھی آ جاتی ہے۔ 
اس ایپ کے ذریعے آپ یہ بھی جان سکتے ہیں کہ آپکی موجودہ لوکیشن سے قریب ترین کون کونے بس اسٹیشن ہیں اور وہاں سے کون کونسی بسیں گزریں گی۔ 
امید ہے احباب کو ویڈیو پسند آئیگی۔ 
والسلام
نعیم اکرم ملک

بدھ، 8 مارچ، 2017

Vault 7 سب لیکس کا باپ



Vault 7
کیا آپکو پتہ ہے کہ ویپنگ اینجل یا  روتا ہوا فرشتہ کیا چیز ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایئر زیرو کیا بلا ہے؟ فرینکفرٹ جرمنی کا امریکی کونسلیٹ کیا کر رہا ہے؟
وکی لیکس کا ایک اور دھماکہ۔ حال ہی میں سامنے آنے والی خفیہ فائلوں نے سی آئی اے کے سائبر جاسوسی پروگرام کا کچا چٹھا کھول دیا۔

یہ تمام راز والٹ سیون میں افشاء کر دیئے ہیں۔
اسوقت اسکا صرف ایک حصہ سامنے آیا ہے اور مستقبل میں وقفے وقفے سے اوربھی حصے باہر آنے کی توقع ہے۔
وکی لیکس کے مطابق وہ ان دستاویزات میں سے تمام معلومات نہیں نکال سکتے۔
وکی لیکس نے صحافیوں کو دعوت دی ہے ہے کہ وہ ان ڈاکومینٹس کو کھنگالیں اور ان میں چھپی تہلکہ خیز خبریں باہر نکالیں۔
سینکڑوں ایسی کہانیوں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔
والٹ سیون لیکس کے پہلے حصے کا نام ہے ایئر زیرو یا سالِ صفر۔
اس میں آٹھ ہزار سات سو اکسٹھ ڈاکومنٹس اور فائلیں ہیں جو کہ سی آئی کے سنٹر فور سائبر انٹیلیجنس لینگلے ورجنیا سے نکالی گئی ہیں۔
وکی لیکس کے مطابق کچھ عرصہ پہلے سی آئی اے کے ہیکنگ کے ہتھکنڈے اسکے قابو سے باہر ہو چکے تھے۔
ان میں شامل ہیں بہت سے میل ویئر، وائرس، ٹروجان، زیرو ڈے ایکسپلائٹ، ریموٹ کنٹرول سسٹم اور انکی معلومتی دستاویزات۔
وکی لیکس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ پورا تھدا امریکی سرکاری ہیکروں کے بیچ میں بغیر کسی پوچھ پڑتال کے گردش کرتا رہا ہے۔
انہی لوگوں میں سے کسی نے اسکا کچھ حصہ وکی لیکس کے حوالے کیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کسی کے پاس یہ تمام سافٹ ویئر ہتھیار موجود ہیں، سی آئی اے کا پورا سائبر دفاعی نظام اسکے ہاتھ میں ہے۔

مبینہ طور پر فرینکفرٹ جرمنی میں واقع امریکی کونسلیٹ دراصل ہیکروں کو سہولیات مہیا کرنے کا اڈا ہے ۔ کیونکہ ایک مرتبہ جب کوئی ہیکر اپنے سفارتی پاسپورٹ اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ یہاں پہنچ جاتا ہے تو وہ یورپ کے پچیس ممالک میں بلا روک ٹوک سفر کر سکتا ہے۔ ان میں فرانس، اٹلی اور سوئٹزر لینڈ بھی شامل ہیں۔

وقفہ

خواتین و حضرات توجہ فرمائیں۔ سی آئی کا ایک گروپ غیر ملکی ذرائع سے چوری شدہ میل ویئر کا ذخیرہ بھی رکھ رہا ہے۔ اس میں روس وغیرہ میں بنائے گئے سافٹ ویئر بھی موجود ہیں۔
یعنی کہ نہ صرف سی آئی کے پاس دشمن کے کمپیوٹروں پر حملہ کرنے کے ایک سے زیادہ ذریعے موجود ہیں بلکہ وہ حملہ کر کے الزام کسی کے سر بھی تھوپ سکتے ہیں۔  
جیسا کہ حال ہی میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں یہ الزام سامنے آیا کہ صدر ڈانلڈ ٹرمپ کو جیتوانے میں روس کا ہاتھ تھا۔
ان ٹولز میں کی لاگر، پاسورڈ جمعدار، ویب کیم قابو، ڈیٹا اڑائو، چھپائو سافٹ ویئر، پریویلج ایسکیلیشن، خفیہ، اینٹی وائرس سے بچانے والے، اور معلومات اکٹھے کرنیوالی سافٹویئر شامل ہیں۔

وقفہ

والٹ سیون کی وجہ سے سامسنگ کمپنی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔ مبینہ طور پر سامسنگ کے سمارٹ ٹی وی کو ہیک کرنے کیلئے سی آئی اے نے ویپنگ اینجل یا روتا فرشتہ نامی پروگرام چلایا۔
کہا یہ جا رہا ہے کہ اس ایمبیڈڈ سافٹویئر حملے کیلئے برطانیہ کی ایم آئی فائیو ایجنسی نے بھی سی آئی کے ساتھ تعاون کیا۔
اس ہیک کی وجہ سے آپکا سیمسنگ سمارٹ ٹی وی دیکھنے میں تو آف ہوتا ہے لیکن در اصل وہ آن ہو کر ایک مائیکروفون کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے جسکی وجہ سے آس پاس ہونے والی تمام گفتگو نامعلوم مقام پر سنی جا سکتی ہے۔
وقفہ

اسکی علاوہ اکتوبر دو ہزار چودہ کے بعد سے سی آئی اے باقاعدہ۔۔۔ کمپیوٹر سے کنٹرول ہونیوالی گاڑیوں کو ہیک کرنے پر بھی کام کرنا شروع کر دیا ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسکی وجہ سے سی آئی اے لوگوں کو ایکسیڈنٹس میں مارنے کی صلاحیت حاصل کر لیگی۔
اسکے علاوہ سی آئی پر یہ بھی الزام ہے کہ انہیں ایپل اور اینڈرائڈ سمارٹ فونز کی کئی  سیکورٹی
کمزوریاں معلوم ہیں جنکے ذریعے ان فونز کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکومتی قوانین کے مطابق ایسی کمزوریوں کی اطلاع فوری طور پر ایپل اور گوگل جیسی کمپینوں کو دی جانی چاہیئے تاکہ وہ انکو صحیح کر سکیں۔
سی آئی اے نے ان معلومات کو چھپا کر نہ صرف قانون سے سرتابی کی ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ہیکنگ کے ہتھیار بنانے اور چوری کرنے علاوہ مبینہ طور پر سی آئی انکو خرید بھی رہی ہے اور دیگر ملکوں کو دے بھی رہی ہے۔
ایڈورڈ سنوڈن نے کہا ہے کہ خطرے کی بات یہ کہ ہے جو چور راستہ سی آئی ڈھونڈ سکتی ہے، اسکو کوئی اور بھی ڈھونڈ کر دنیا کے کسی بھی آئی فون کو ہیک کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔
والٹ سیون دستاویزات میں یہ بھی لکھا ہے کہ سی آئی اے کے پاس مشہور رابطہ ایپس کی اینکرپشن یا معلومات کو چھپانے کی صلاحیت کا توڑ بھی موجود ہے۔ یعنی کہ واٹس ایپ، سگنل، ٹیلی گرام، اور کنفائیڈ جیسی ایپس پر بھیجی جانے والی معلومات بھی سی آئی سے چپھی ہوئی نہیں۔
اسکے علاوہ سی آئی اے کسی بھی سمارٹ فون کی جیو لوکیشن کو آن کر کے یہ جان سکتی ہے کہ آپ دنیا میں کس جگہ پر ہیں، وہ فونز کا کیمرہ اور مائیک وغیرہ آن کر کے آپکے بتائے بغیر آپکو دیکھ اور سن بھی سکتے ہیں۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آنیوالے گھنٹوں اور دنوں میں کئی نئے معلوماتی دھماکے ہونگے۔ اور یہ لیک ایڈورڈ سنوڈن کے لیک سے کہیں بڑا ہے۔

پاکستانی صحافیوں کے لئے یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ والٹ سیون پر ٹوٹ پڑیں اور اس میں چھپی دھماکہ خیز خبریں ڈھونڈ نکالیں۔

اس لیک کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کیجیئے
یہ ویڈیو اپنے ویس بک اور دیگر سوشل میڈا پر ضرور شیئر کریں۔ ۔ میں نے اپنا لہجہ تبدیل کیا ہے اس پر آپکی فیڈ بیک کا منتظر ہوں۔  میرا چینل لازمی سبسکرائب کریں۔ سلام علیکم

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer