‏Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 8 جنوری، 2018

سی پیک اور پاکستان کی ایس ای زی بالیسی - صحیح، غلط، اور حل


سی پیک: ہمارے ایس ای زیز کو کیسےچلایا جائے؟
چین پاکستان معاشی راہداری کے سلسلے میں
ایک اور دلچسپ ویڈیو کے ساتھ آپکا بھائی نعیم ملک
حاضر ہے۔

جب سے سی پیک کا پراجیکٹ شروع ہوا، ایک اصطلاح
بار ہا سننے میں آ رہی ہے۔
یہ اصطلاح ہے، ایس ای زی یا سپیشل اکنامک زون ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایس ای زی ہوتی کیا چیز ہے
اور اس لفظ پر اتنا زور دینے کی وجہ کیا ہے؟
اِس ویڈیو میں ہم آپکو بتائیں گے کہ ایس ای زی کیا ہوتا
ہے، سی پیک میں کون کون سے ایس ای زی بنائے جا
رہے ہیں، اور پاکستان کے ایس ای زی منصوبوں میں کیا
مسائل موجود ہیں۔
دوستو ایس ای زی یعنی سپیشل اکنامک زون ایک خاص
علاقہ ہوتا ہے، اس علاقے میں کاروبار اور سرمایہ کاری
کو آسان بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔
اردو میں ہم اِسے خصوصی معاشی علاقہ بھی کہہ
سکتے ہیں۔
مُلک کی حکومت کسی بھی علاقے کو یہ درجہ دے سکتی
ہے۔ پاکستان، سی پیک کے سلسلے میں کئی اسپیشل اکنامک
زون بنانے جا رہا ہے۔ کیا آپکو پتہ ہے پاکستان میں کتنے نئے اسپیشل اکنامک
زون بننے جا رہے ہیں؟
کسی بھی معیشت میں سرمایہ کاروں کی آمد کو آسان بنانا
پاکستان میں ایک دو یا چار پانچ نہیں، پورے نو ایس ای
زی بنائےجائیں گے۔ List of Special Economic Zones (SEZ) created in Pakistan for CPEC ایس ای زی بنانے کے چند اہم مقاصد کچھ یوں ہوتے ہیں تجارت کو فروغ دینا عوام الناس کیلئے نوکریاں پیدا کرنا
ان پالیسیوں کا تعلق عام طور پر جن چیزوں کے ساتھ ہوتا
ہے وہ ہیں
سرمایہ کاری، صنعت، اور تجارت سے متعلقہ مختلف
انتظامی امور کو تیزی سے سر انجام دینا سرمایہ کاروں کو کسی بھی ایس ای زی کی جانب متوجہ
کرنے اور سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے لئے کئی پاپڑ
بیلے جاتے ہیں۔ اور خاص قسم کی مالی پالیسیاں لاگو کی جاتی ہیں۔ ٹیکسیشن سرمایہ کاری تجارت کوٹہ سسٹم کسٹمز اور لیبر کے قوانین وغیرہ
اب آپ ضرور سی پیک میں بننے والے نو ایس ای زیز کا
نام بھی جاننا چاہ رہے ہوں گے۔
اسکے علاوہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کمپینوں کو کچھ
عرصے کے لئے ٹیکس معاف کر دیئے جائیں یا کاروبار
لگانے سے کچھ عرصہ بعد تک ان سے کم ٹیکس وصول
کئے جائیں۔ پہلے سے موجود انڈسٹریل اسٹیٹس میں ایس ای زی بنانا
ایک کثرت سے استعمال ہونیوالی حکمت عملی ہے۔ البتہ
کسی جگہ پر نیا انفراسٹرکچر بنا کر اسے ایس ای زی
قرار دینا بھی عین ممکن ہے۔ ناموں کی لسٹ حکومت پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود
ہے۔ یہ ویڈیو بنانے کے وقت اس لسٹ میں موجودہ نام
آپکو بتاتا چلوں۔ رشکئی اکنامک زون، ایم ون، نوشہرہ
اس مقام سے آگے تمام معلومات اُس کالم کی بنیاد پر دی
جا رہی ہیں۔
چائنہ اسپیشل اکنامک زون، دھابے جی بوستان انڈسٹریل زون علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، ایم تھری، فیصل آباد آئی سی ٹی ماڈل انڈسٹریل زون، اسلام آباد ڈیولپمنٹ آف آنڈسٹریل پارک آن پاکستان سٹیل ملز لینڈ
پورٹ قاسم نئیر کراچی سپیشل اکنامک زون ایٹ میرپور اے جے کے مہمند ماربل سٹی موقپوندس ایس ای زی گلگت بلتستان پاکستان کی ایس ای زی پالیسیوں کے بارے میں ہمیں
روزنامہ ایکسپریس ٹرائیبیون میں حسان خاور کا ایک
مفید آرٹیکل پڑھنے کو مِلا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنے ایس ای زیز کو شین زین کی طرح بنانے کیلئے کام بھی کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر ہمیں اپنے ایس ای زیز کو شین زین جیسا کامیاب بنانا ہے تو پھر ہمیں اس مقصد کیلئے درست اقدامات بھی کرنے پڑیں گے۔
دُنیا کا پہلا جدید ایس ای زی انیس سو انسٹھ میں آئرلینڈ
میں بنایا گیا تھا۔ لیکن، اس تصور کو دُنیا میں مقبولیت اس
وقت حاصل ہوئی جب چین نے شین زین کی معمولی سی
مچھیرا بستی کو "چینی معجزے" کی مدد سے تبدیل کر
کے رکھ دیا۔ آج کے شین زین کی آبادی تو لاہور جتنی ہے لیکن اسکا
جی ڈی پی پورے پاکستان جتنا ہے۔ جی ہاں، سائز میں
چھوٹا لیکن کارکردگی میں چیتا۔ جیسا کہ میں نے آپکو بتایا کہ پاکستان سی پیک کے
ساتھ پورے نو ایس ای زی بنانے جا رہا ہے۔ انکا مقصد
چین اور باقی دُنیا سے سرمایہ کار کو پاکستان لانا اور
ہماری معشیت کا پہیہ تیزی سے گُھمانا ہے۔ ان میں سے
پانچ کی فیزیبلٹی سٹڈی مکمل ہو چُکی اور دو کی ابتدائی
فیزیبلٹی۔
سب سے پہلے، ایس ای زی اسلئے بنائے جاتے ہیں کہ
محدود پیمانے پر سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول
اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
لیکن، ایس ای زی بھی کامیابی کا کوئی مُجرب نسخہ نہیں
ہیں۔ دُنیا ایسے ناکام منصوبوں سے بھری پڑی ہے
جہاں بہترین انفراسٹرکچر بنایا تو لیا، لیکن اسکے استعمال
کی نوبت نہیں آئی۔ سری لنکن شہر ہم بن توٹا اس کی ایک مثال ہے۔ اگر یہ بات ہے، تو کہیں ہم پاکستان میں بھی کوئی غلطی
تو نہیں کر رہے۔ دُنیا بھر میں موجود لگ بھگ پانچ ہزار اسپیشل اکنامک
زونوں میں سے، بہت سارے کامیاب بھی ہیں۔ ہمارے ایس ای زی بھی ان میں شمار ہو سکتے ہیں۔ غور سے دیکھنے پر ہمیں ہمارے ایس ای زی کے
طریقوں میں کچھ اہم مسائل نظر آ جائیں گے۔ چلیں ان پر بات کرتے ہیں۔ یعنی کہ ایس ای زی ایک بلبلے یا انکیوبیٹر کی طرح
ہوتا
ہے جو کہ مُلک کے دیگر حصوں میں پائے جانے والے
مسائل سے حتیٰ ال وسع پاک ہوتا ہے۔
البتہ سی پیک میں بننے والے ایس ای زیز میں سرمایہ
کار کیلئے ہر طرح کے تحفظ، یعنی سیکورٹی، کا جاندار
انتظام کرنا لازمی ہو گا۔
اسی لئے، ہر مُلک کو یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اسُکے
سپیشل اکنامک زون، اسکے اپنے اندر پائے جانے والے
مسائل سے بالاتر ہو۔ سیدھا سیدھا چین یا کہیں اور دیئے جانے والے فوائد کی
نقل کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ ہمارے ایس ای زیز
ایسے ہونے چاہیئیں کہ وہ ہمارے یہاں پائے جانے والے
مسائل کا محدود پیمانے پر حل کر سکیں۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونیوالے ڈیٹا کے مطابق
پاکستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی
رکاوٹ ہے یہاں کی سیکورٹی صورتحال۔ یہاں سرمایہ
کار کو اپنے مال، جان، اور کاروبار کا خطرہ پڑا رہتا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی، اور قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر تک
رسائی نہ ہونا، مشکل ٹیکس نظام، کرپشن، اور طرح طرح
کے کرایئے مانگتے ادارے اسکے علاوہ ہیں۔ چلیں اب ان مسائل کے حل کے بارے میں بھی بات کرتے
ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے انفراسٹرکچر اور رابطوں کا نظام
تو ٹھیک ہو جائے گا۔
اسکے علاوہ، بہت سارے ایس ای زیز میں نیگیٹو لسٹوں
کا تصور بھی موجود ہے۔ یعنی کہ سرمایہ کاروں کیلئے
ایسی فہرستیں شائع کی جاتی ہیں جن میں صرف وہ کام
لکھے ہوتے ہیں جنکو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یعنی
جنکا جواب نیگیٹو ہوتا ہے۔ اِن لسٹوں میں دی گئی
ممنوعہ سرگرمیوں کے علاوہ باقی سب کچُھ پیدائشی
طور پر جائز سمجھا جاتا ہے۔
اسکے علاوہ، ٹیکس اور کمپلائنس کے قوانین کو سہل
بنانا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہو گا۔ کیونک، اس میں
صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومتت کو مِل کر کام
کرنا پڑے گا۔ دوسرے کئی مُلکوں نے اس بھول بُھلیاں میں سے راستے
تلاش کیا بھی ہے۔ انہوں نے ایسے قوانین بنائے ہیں جو
کہ ایس ای زیز کے منتظم اداروں کو اجازت نامے جاری
کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ اُنکے اداروں کو رنگ برنگی وزارتوں سے منظوریاں
نہیں لینی پڑتی۔ یو اے ای ۔۔۔ یعنی متحدہ عرب امارات نے، کئی زونز میں
پیش منظوری یعنی پری اپروول متعارف کروا رکھی ہے۔ سرمایہ کاروں کو اُس وقت تک ایک پیسہ بھی نہیں خرچ
کرنا پڑتا جب تک کہ اُنکے اجازت نامے مُکمل نہ ہو
جائیں۔ ایس ای زی سے اگلا مرحلہ ہے چارٹر سٹیز، یعنی خاص
مقصد کیلئے بسائے گئے شہر۔ ایسے شہر، ترقی یافتہ
مُلکوں میں رواج پا رہے ہیں۔ چین میں ہانگ کانگ اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں
سین ہوزے شہر جو کہ آئی ٹی انڈسٹری کا گڑھ ہے چارٹر
سٹی کی مثالیں ہیں۔
مثلن، ٹیان جن، جو کہ چین کا ایک بڑا انڈسٹریل زون ہے، پسماندہ ٹیکنالوجی یا پُرانے سامان کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے۔
یہاں پر لوکل گورنمنٹس کو بہت ساری معاشی پالیسیاں
بنانے کا اختیار دے دیا جاتا ہے، یعنی مرکز کا کِردار
کم کر کے غیر مرکزیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ہمارے
یہاں، بہرحال تمام معاملات میں شدید مرکزیت پسندی
موجود ہے۔ پاکستان کے ایس ای زی نظام میں ایک اور کمزوری
سرمایہ کاروں کو دیئے جانے والے فائدے ہیں۔ بے شک
ٹیکس سے چھوٹ محدود مُدت تک دی جا رہی ہے، لیکن
زیادہ تر فائدے بغیر کسی حساب کتاب کے ہیں۔ انکا تعلق
سرمایہ کار کی کارکردگی سے جُڑا ہوا نہیں ہے۔ حالانکہ
حکومت یہ فائدے صرف اُس صورت میں بھی دے سکتی
ہے جب کہ سرمایہ کار پہلے سے بتائے گئے اہداف تک
پہنچے۔ مثال کے طور پر، نئی پیدا کردہ نوکریوں کی تعداد کیا ہے؟ کس قدر سرمایہ استعمال میں لایا جا چُکا ہے؟ یا مُلک میں نئی ٹیکنالوجی مُنتقل کی جا رہی ہے یا نہیں؟ اگر چین میں دیکھا جائے تو، اُنہوں نے ایس زی زیز کو
استعمال کر کے ایڈوانس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا ہے۔ ٹیانجن، نئی صنعتوں، اور ٹیکنالوجی کے حساب سے
برتر کمپنیوں کو ترجیح دیتا ہے۔

یہی صحیح وقت ہے کہ اِس ویڈیو میں بتائے گئے اور
اسکے علاوہ بھی کئی اور اہم معاملات کے بارے میں
سوچا جائے۔ اور ایسی ایس ای زی حکمت عملی اپنائی
جائے کہ سی پیک اور کے ساتھ آنے والی غیر مُلکی
براہ راست سرمایہ کاری یعنی ایف ڈی آئی سے پیدا
ہونے والے مواقع کا بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ مُجھے امید ہے کہ آپکو ویڈیو پسند آئی ہو گی۔ ایکسپریس
ٹرائیبیون کے جس آرٹیکل کی بُنیاد پر یہ ویڈیو بنائی گئی، اُسکا لنک ڈسکرپشن میں موجود ہے۔ مُصنف حسان خاور ٹویٹر پر خآصے ایکٹو ہیں، اِنکو کو ٹویٹر پر فالو کرنے کیلئے آپ سکرین پر دیا گیا ہینڈل استعمال کر سکتے ہیں۔
اگر آپکو یہ ویڈیو پسند آئی ہے تو جناب اسے لائک کریں
اور اپنے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کریں۔ آئندہ ویڈیوز کی
اطلاع حاصل کرنے کیلئے میرا چینل ضرور سبسکرائب
کریں۔ بہت شکریہ، سلام علیکن۔


بدھ، 18 فروری، 2015

پاکستانی معیشت میں انٹرنیٹ سے مزید سرمایہ لانے کے دو لوازمات

paypal_google_play_amazon_mturk

پاکستان خوش قسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوان ہے۔ ان نوجوانوں کی اکثریت پڑھی لکھی ہے اور انٹرنیٹ استعمال کرنا جانتی ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمارے یہاں انٹرنیٹ کو فقط برائی کا اڈا ثابت کرنے پر تلے دانشوروں کی کوئی کمی نہیں۔ اسوقت انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھڑی کڑوڑوں اربوں ڈالر کا سرمایہ گردش کر رہا ہے۔ آپکو بس ایسی صلاحیتیں اور آلات چاہیئں جنکو استعمال کر کے آپ بھی اس سرمائے میں سے اپنا  حلال، اور جائز حق کما سکیں۔

تصحیح 

گوگل پلے کے بارے میں میری معلومات غلط تھی، اب ہم گوگل پلے پر اپنی ایپس پیسوں کے عوض فروخت کر سکتے ہیں۔



Helping Pakistani Economy with PayPal, Google Play, Amazon mTurk from Naeem Akram on Vimeo.


پاکستان میں پے پال کی سروس

paypal_ppسالوں بیت گئے پاکستانی فری لانسر کمیونٹی سر پیٹ رہی ہے کہ کسی طریقے سے پے پال کی سروس پاکستان میں بھی چالو ہو جائے۔ اس ایک کام کے ہو جانے سے پاکستانی معیشت میں ہر ماہ لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ آیا کرے گا۔ میں کیونکہ خود فری لانسر ہوں اسلئے پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سروس کے آنے سے پاکستانی آئی ٹی محنت کش اپنی صلاحیتیں کئی ایسی جگہوں پر بھی بیچ سکیں گے جہاں سے پیسے منگوانے کے لئے پے پال لازمی ہے۔

امازون مکینیکل ترک

اسی موضوع پر میں ایک تحریر چار سال پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ نہ اسکا کوئی فائدہ ہوا تھا اور نہ اس کا شاید کوئی فائدہ ہو پر چلو، "تم اپنی کرنی کر گزرو"۔

مکینیکل ترک دنیا کی سب سے بڑی آنلائن دوکان ایمازون ڈاٹ کام  کی ملکیت ہے۔ یہاں مختلف چھوٹے چھوٹے کام کر کے دو سینٹ تا پانچ ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ یہ کام ایسے ہوتے ہیں جو فی الحال کمپیوٹر خودکار طریقے سے نہیں کر سکتا۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں
  1. مریض کی ڈاکٹر سے گفتگو کی آڈیو فائل کو سن کر ٹائپ کرنا
  2. کسی ویڈیو کو دیکھ اور سن کر اسمیں ہونے والی گفتگو کو ٹائپ کرنا
  3. بہت سی تصاویر کا مشاہدہ کرنا اور ان میں سے ایسی الگ کرنا جن میں آگ یا دھواں نظر آ رہا ہو
  4. ٹویٹ کو پڑھنا اور انکے بارے میں بتانا کہ ان سے کیسے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے
یہ ایسے کام ہیں جو کہ کمپیوٹر کا استعمال جاننے والے نوجوان آسانی سے کر سکتے ہیں۔

مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ مکینیکل ترک والے صرف انڈیا اور امریکہ سے ہی لوگوں کو کام کرنے دیتے ہیں۔ اگر منسٹری آف آئی ٹی، فنانس، اور ہیومن ریسورس والے مل جل کر امازون کے ساتھ کوئی ڈیل کر لیں تو بلاشبہ امازون پاکستان کو بھی ایک موقع تو دیگا۔ 
اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے یہاں بہت سے نوجوانوں کو روزگار کے باعزت ذرائع میسر آئیں گے۔ ایسا ہونے سے نہ صرف معیشت میں پیسہ آئیگا بلکہ بہت سارے لوگوں کی پریشانیاں بھی کم ہو جائینگی۔


elance-odesk-annual-impact-report-freelancer-countries
بونس: او ڈیسک ای لانس کے مطابق پاکستان دنیا میں فری لانسنگ سے پیسہ کمانے والے ملکوں کی فہرست میں پانچواں ملک ہے۔ 

What is this post about?
Helping Pakistani economy with introduction of several well known web based services. Paypal support in Pakistan will be very helpful in enabling freelancer community and bringing in more jobs along with money in Pakistan. Ability to sale paid apps on Google Play Store is second on the list. Last one is Amazon mTurk service in Pakistan. If it is working in India, then why not Pakistan? We got a good educated workforce that is hungry for work.



جمعہ، 4 اپریل، 2014

Rawalpindi Metro Bus منصوبے پر کام شروع


rawalpindi-metro-murree-road-giant-drill

pindi-metro-bus-big-drill

کل مجھے چاندنی چوک سے ناز سینما روڈ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ دور سے ہی  ٹیکنالوجی کا شاہکار جہازی ڈرل مشین دکھائی دے رہی تھی، میں نے کہا سبحان اللہ۔
سب سے مزے کی بات مجھے یہ لگی کہ مشین کے آس پاس کافی مقامی لوگ اکٹھے ہو کر اسے چلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
ڈرل کے ورمے کے سائز کا اندازہ اوپر سے دوسری تصویر کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ ورمے نے ہمارے بلاگ کے لئے خصوصی پوز بھی دیا، تصویر ملاحظہ ہو
the-big-drill-rawalpindi-metro

اوپر والی ڈرل کے مقابلے میں عام طور پر بڑی لگنے والی کرین مشینیں چھوٹی دکھائی دے رہی تھیں۔ سر نیہوڑائے یہ مشین ٹھکا ٹھک سڑک میں سوراخ کئے جا رہی تھی۔


بڑے تعمیراتی پراجیکٹ کا ایک فائدہ، عوام الناس کو مزدوری مِل جاتی ہے۔

تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والی مشینیں بلاشبہ زبردست ہیں، ایک شاول کرین میٹرو بس سروس کی تعمیر میں مصروف ہے۔

بڑی ڈرل مشین کی ایک اور تصویر
ٹریفک کی صورتحال تھوڑی خراب ہے، البتہ فیروز پور روڈ لاہور والی ستیا ناس ابھی نہیں ہوئی۔



میٹرو بس مکمل ہوجانے کے بعد سواریاں ڈھونے والی ان سوزوکیوں کا کام تو 
بہرحال ٹھپ ہو ہی جائیگا۔ 











بدھ، 1 جولائی، 2009

اول حمد ثنا الٰہی

اول حمد ثنا الٰہی، تے جو مالک ہر ہر دا

اُس دا نام چیتارن والا، کسے میدان نہیں ہردا

میں سوچ رہا تھا کہ انٹرنیٹ پر اردو میں لکھنے والوں کی تعداد کوءی بہت زیادہ نہیں ہے۔ لہٰذہ، طبع آزماءی کر لینی چاہیے۔ حالانکہ کمپیوٹر میں اردو لکھنا کوءی مشکل کام نہیں۔

تو شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان نہانت رحم کرنے والا ہے۔

اِس بلاگ کا مقصد مختلف سوچوں کو قلمبند کرنا ہے، سوچیں جو انسان کے ذہن میں آتی جاتی رہتی ہیں۔

ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ میں لکھنا چاہتا ہوں، لیکن کوءی باقاعدہ اخبار/جریدہ/یا رسالہ میری تحریروں کو جگہ نہیں دے گا۔ جگہ بنانے کے لیے باقاعدہ محنت کرنی پڑتی ہے، یکسوءی کی ضرورت ہوتی ہے اور یکسوءی میرے بس کی بات نہیں ہے۔

اور ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے، وہ یہ کہ لا شعور میں ملک صاحب یہ چاہتے ہیں کہ لوگ مجھے جانیں مجھے سنیں۔ منظرِ عام پر آنےکی یہ خواہش بھی "کھلی کتاب" سلسلے کا محرک ہو سکتی ہے۔

میں نے حساب لگایا ہے اور یقیناً مجھ سے پہلے بھی لوگوں نے حساب لگایا ہی ہو گا۔۔۔ کہ نءی بات کو سُن کر لوگوں میں اُسکے بارے میں کھپ ڈالنا آسان کام ہے۔ اور اُس بات پر عمل کرنا مشکل۔ اکثر لوگ کیونکہ سست واقع ہوءے ہیں، تو اکثر لوگ بات کو سُن کر اسکے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جو کہ آسانی سے ہو جاءے۔ یعنی کہ شور مچا دینا، دوسرے لفظوں میں تبلیغ کرنا۔ واضح رہے کہ میں تبلیغ کا لفظ مذہبی طبقے کے لیے نہیں استعمال کر رہا۔ تبلیغ کا لفظ ابلاغ سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے کمیونیکیشن، بولنا، اپنی بات لوگوں تک پہنچانا۔

کاہلی کے علاوہ ایک اور وجہ بھی ہوتی ہے، وہ ہے لوگوں کی نظروں میں آنا۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بندے کو لوگوں کی تعریفی نگاہوں، جملوں کی لت پڑ جاتی ہے۔ بلکہ نہیں، میں شاید آگے نکل گیا ہوں۔ لت تو بعد میں پڑے گی، پہلے تو یہ ایک بھوک ہے، ہر بندہ "بندے سے مراد عام بندہ ہے، ولی پیغمبر الگ ہیں"  تعریف چاہتا ہے۔ تعریف یا حوصلہ افزاءی ہرانسان کی ضرورت ہے بالکل کھانے کی طرح۔ تو جناب جب آپکو کوءی ایسی بات پتہ چلے جو کہ کم از کم آپ سمجھتے ہوں کہ صرف آپ یا چند اور آپ جیسے عظیم انسان ہی جانتے ہیں تو آپکی بھوک جاگ اٹھے گی۔ بالکل جیسے کسی بھوکے کی بھوک کھانا سامنے دیکھ کر جاگ اٹھتی ہے۔ پہلے چاہے آپ اس بھوک کو بھولے بیٹھے ہوں، بات ملتے ہی آپکا دِل کہنا شروع کر دے گا کہ "چل نا" سب کو بتا۔۔۔

 یہ جو مدح کی بھوک ہے، اسکی وجہ سے اکثر اوقات لوگ بڑی عجیب حرکتیں کرتے ہیں۔۔۔ عجیب حرکتیں عمومًا کھوکھلے لوگ ہی کرتے ہیں، جن سے کہ انکی اہمیت میں اضافہ ہو۔۔۔ یا کم از کم لوگ یہ سوچیں کہ "یار اس بندے میں کوءی بات ہے"۔۔۔ اور جن لوگوں میں واقعی ہی کوءی بات ہوتی ہے وہ راءی کا پہاڑ نہیں بنایا کرتے۔۔۔ کیونکہ ایسا کیے بنا ہی اُنکو بہت حوصلہ افزاءی مل جاتی ہے۔۔۔

کھوکھلے لوگ ایک اور قسم کے بھی ہوتے ہیں، وہ لوگ جنکا "پُھدو" لگا ہوا ہو۔۔۔ یا جنکو خود پر یقین نہ ہو، جو یہ سوچتے ہوں کہ "کہیں یہ جو نیا لڑکا آیا ہے یہ کہیں میری جگہ نہ لے لے" ۔ اور اس خوف کے مارے یہ ہستیاں نہ خود کام کر پاتی ہیں اور نہ ہی کسی اور غریب کو کرنے دیتی ہیں۔ جو کوءی کوشش کرے، تو ٹانگ کھینچ لیتے ہیں۔  

تو جناب بات کہاں سے چل کر کہاں نکل گءی۔۔۔ عموماً ہماری سوچ کے دھاگے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔ اور میں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ اس تحریر کا پہلا مقصد میری مختلف سوچوں کو ایک جگہ قلمبند کرنا ہے۔۔۔ اور جو میں یہاں لکھوں گا عمومً بے عنوان اور بے مقصد ہی  ہو گا۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہوتا ہے۔۔۔ لہٰذا جو لوگ اچھی نیت سے ایسا کرتے ہیں، میرا مقصد انکی دل شکنی ہرگز نہیں ہے۔۔۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer