پاکستان خوش قسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوان ہے۔ ان نوجوانوں کی اکثریت پڑھی لکھی ہے اور انٹرنیٹ استعمال کرنا جانتی ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمارے یہاں انٹرنیٹ کو فقط برائی کا اڈا ثابت کرنے پر تلے دانشوروں کی کوئی کمی نہیں۔ اسوقت انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھڑی کڑوڑوں اربوں ڈالر کا سرمایہ گردش کر رہا ہے۔ آپکو بس ایسی صلاحیتیں اور آلات چاہیئں جنکو استعمال کر کے آپ بھی اس سرمائے میں سے اپنا حلال، اور جائز حق کما سکیں۔
تصحیح
گوگل پلے کے بارے میں میری معلومات غلط تھی، اب ہم گوگل پلے پر اپنی ایپس پیسوں کے عوض فروخت کر سکتے ہیں۔
سالوں بیت گئے پاکستانی فری لانسر کمیونٹی سر پیٹ رہی ہے کہ کسی طریقے سے پے پال کی سروس پاکستان میں بھی چالو ہو جائے۔ اس ایک کام کے ہو جانے سے پاکستانی معیشت میں ہر ماہ لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ آیا کرے گا۔ میں کیونکہ خود فری لانسر ہوں اسلئے پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سروس کے آنے سے پاکستانی آئی ٹی محنت کش اپنی صلاحیتیں کئی ایسی جگہوں پر بھی بیچ سکیں گے جہاں سے پیسے منگوانے کے لئے پے پال لازمی ہے۔
امازون مکینیکل ترک
اسی موضوع پر میں ایک تحریر چار سال پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ نہ اسکا کوئی فائدہ ہوا تھا اور نہ اس کا شاید کوئی فائدہ ہو پر چلو، "تم اپنی کرنی کر گزرو"۔
مکینیکل ترک دنیا کی سب سے بڑی آنلائن دوکان ایمازون ڈاٹ کام کی ملکیت ہے۔ یہاں مختلف چھوٹے چھوٹے کام کر کے دو سینٹ تا پانچ ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ یہ کام ایسے ہوتے ہیں جو فی الحال کمپیوٹر خودکار طریقے سے نہیں کر سکتا۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں
مریض کی ڈاکٹر سے گفتگو کی آڈیو فائل کو سن کر ٹائپ کرنا
کسی ویڈیو کو دیکھ اور سن کر اسمیں ہونے والی گفتگو کو ٹائپ کرنا
بہت سی تصاویر کا مشاہدہ کرنا اور ان میں سے ایسی الگ کرنا جن میں آگ یا دھواں نظر آ رہا ہو
ٹویٹ کو پڑھنا اور انکے بارے میں بتانا کہ ان سے کیسے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے
یہ ایسے کام ہیں جو کہ کمپیوٹر کا استعمال جاننے والے نوجوان آسانی سے کر سکتے ہیں۔
مسئلہ کیا ہے؟
مسئلہ یہ ہے کہ مکینیکل ترک والے صرف انڈیا اور امریکہ سے ہی لوگوں کو کام کرنے دیتے ہیں۔ اگر منسٹری آف آئی ٹی، فنانس، اور ہیومن ریسورس والے مل جل کر امازون کے ساتھ کوئی ڈیل کر لیں تو بلاشبہ امازون پاکستان کو بھی ایک موقع تو دیگا۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے یہاں بہت سے نوجوانوں کو روزگار کے باعزت ذرائع میسر آئیں گے۔ ایسا ہونے سے نہ صرف معیشت میں پیسہ آئیگا بلکہ بہت سارے لوگوں کی پریشانیاں بھی کم ہو جائینگی۔
بونس: او ڈیسک ای لانس کے مطابق پاکستان دنیا میں فری لانسنگ سے پیسہ کمانے والے ملکوں کی فہرست میں پانچواں ملک ہے۔
What is this post about?
Helping Pakistani economy with introduction of several well known web based services. Paypal support in Pakistan will be very helpful in enabling freelancer community and bringing in more jobs along with money in Pakistan. Ability to sale paid apps on Google Play Store is second on the list. Last one is Amazon mTurk service in Pakistan. If it is working in India, then why not Pakistan? We got a good educated workforce that is hungry for work.
چند روز قبل فیس بک والوں نے مشہور زمانہ موبائل میسجنگ سسٹم واٹس ایپ کو انیس بلین ڈالر کے عوض خرید لیا۔ واٹس ایپ کی کل ٹیم اس وقت پچاس لوگوں پر مشتمل ہے۔
اس خریداری کی کاغذی کاروائی کو حتمی شکل دینے کے لئے واٹس ایپ کے سی ای او جین کوم نے چند دستاویزات پر دستخط کرنے تھے۔ موصوف نے دستخط کرنے کے لئے ایک نرالی جگہ کا انتخاب کیا۔
جین کوم کا تعلق یوکرائن سے ہے، اسکا بچپن کسمپرسی کی حالت میں گزرا اور جب جین کی عمر کوئی پندرہ سولہ برس تھی تو گھر والوں کے ساتھ وادیء سلیکون، یا سلیکون ویلی کے علاقے میں آن بسیرا کیا۔
ان لوگوں کی رہائش چھوٹے سے حکومتی فلیٹ میں تھی؛ کوم کی والدہ چار پیسے کمانے کے لئے لوگوں کے بچے سنبھالتی تھی۔
اسکے علاوہ، انکا گزارہ فوڈ سٹیمپ کی ٹکٹوں پر بچت کر کر کے ہوتا۔
تو میں آپکو بتا رہا تھا کہ جب فروخت کے معاہدے پر دستخط کرنے کا وقت آیا تو کوم کو پکا پتہ تھا کہ اسکے حساب سے بہترین جگہ کونسی بنتی ہے۔ فوربز میگزین کی پالمی اولسن لکھتی ہیں
کوم، اسکے ساتھ مل کر کام شروع کرنے والا برائن ایکٹن سیکویا سے سرمایہ دار جم گویٹز گاڑیوں پر واٹس ایپ کے دفتر سے چند فرلانگ دور چلے گئے، ایک پرانی متروک سفید رنگ کی عمارت میں، جہاں کسی زمانے میں نارتھ کائونٹی کا سوشل سیکورٹی دفتر ہوا کرتا تھا۔ کوم جسکی عمر اب سینتیس سال ہے، کبھی اس جگہ کھڑے ہو کر راشن رعایت ٹکٹیں لیا کرتا تھا۔ اور اسی جگہ کھڑے ہو کر ان تینوں نے فروخت کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔
جین کوم فروخت کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے۔
"Koum, cofounder Brian Acton and venture capitalist Jim Goetz of Sequoia
drove a few blocks from WhatsApp’s discreet headquarters in Mountain
View to a disused white building across the railroad tracks, the former
North County Social Services office where Koum, 37, once stood in line
to collect food stamps. That’s where the three of them inked the
agreement to sell their messaging phenom..." بندے کو اپنی اوقات کسی بھی حال میں نہیں بھولنی چاہیئے۔ عاجزی ایک بیش قیمت اثاثہ ہے، بڑے لوگ بہت عظیم کام کر لینے کے بعد بھی شوخے نہیں ہوتے۔ چھوٹے بندے ذرا سی کامیابی حاصل کر لیں تو انکی گردن میں سریا آ جاتا ہے جو کہ بے تکی بدمعاشی کی وجہ سے گردن سے نکل کر گاف الف گا ڈیش ڈیش میں منتقل ہوتے دیر نہیں لگتی۔ Source: trove.com/me/content/EZRd4?chid=144757&utm_source=editorial&utm_medium=social&utm_campaign=srfan
کوئی دو مہینے پہلے کی بات ہے، میرا کزن لاہور آیا اور میں اسے کھانا کھلانے لے گیا۔ لبرٹی والے بندو خان میں بیٹھے تھے کہ میرے نوکیا بارہ سو پر کال آنا شروع ہو گئی۔ کزن کہتا ہے کہ "یار یہ تو نے کیا رکھا ہوا ہے، شرم کر شرم اچھی خاصی تنخواہ ہے اور موبائل دیکھو ذرا"۔ اس وقت میں ہنس کے ٹال گیا۔ پھر جناب نتھیا گلی جانے کا اتفاق ہوا تو کیمرہ کہیں سے نہ مِلا، پورا ٹرپ میں نے کیمرہ بہت مِس کیا کہ اگر ہوتا تو چلو شغل رہتا۔ بہت اعلٰی کوالٹی کی نہ سہی، تصویریں اور ویڈیوز ہونی چاہیئے تھیں۔ پھر آ گئی میرے کزن کی شادی، جہاں پر موخر الذکر کزن کے علاوہ باقی بھی پورے خاندان کی موجودگی یقینی تھی۔ یہاں آ کر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اور ساتھ ہی میری تنخواہ بھی اکائونٹ میں ٹرانسفر ہو گئی، اور آپکو پتہ ہونا چاہئیے کہ تنخواہ دار بندے کی تنخواہ آتے ہی اسکو خاص قسم کی خارش شروع ہو جاتی ہے جسکا علاج عام طور پر کہیں پیسے خرچ کرنا ہی ہوتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے نوٹوں کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔
تو جناب میں نے کزن کو ساتھ لیا اور جا پہنچا حفیظ سینٹر، موبائل خریدنے۔ انٹرنیٹ پر ایک سائٹ نے بارہ ہزار نو سو روپے قیمت لکھی ہوئی تھی۔ مارکیٹ گیا تو پہلے دوکاندار نے بارہ ہزار پورے بتائی، دوسرے دوکاندار نے گیارہ ہزار پانچ سو بتائی۔ ویسے میں نے سیکنڈ ہینڈ ای سیونٹی ٹو بھی تلاش کیا لیکن کوئی اچھا دانہ ملا نہیں۔
سی تھری میں اچھا کیا ہے؟
اس قیمت میں اتنے فیچرز والا سیٹ نوکیا نے آج سے پہلے کبھی نہیں نکالا تھا، اس مرتبہ نوکیا والوں نے صحیح مارکیٹ سگمنٹ کو پکڑا کیا ہے۔ وجہ شاید یہ ہے کہ نوکیا ہائی اینڈ سمارٹ فونز میں پٹ چکا تھا، وہاں آئی فون، اینڈرائڈ، بلیک بیری جیسے پہلوانوں کا راج ہے۔ اسکے علاوہ کچھ عرصہ پہلے سام سنگ کی کوربی لائن مارکیٹ میں آ چکی تھی، اسکی دیکھا دیکھی۔
تو جناب سب سے بڑی خوبی ہے وائی فائی نیٹ ورکنگ۔ اگر آپ کے پاس گھر میں یا دفتر میں وائی فائی نیٹ ورک ہے تو آپکی تو لگ گئی موجیں، بالکل میری طرح۔ سی تھری کا وائی فائی بلاشبہ بہترین ہے۔
پہلے سے انسٹال شدہ انٹرنیٹ میسجنگ کا سافٹ ویئر بھی اچھا ہے، ایم ایس این میسنجر، یاہو، جی ٹالک، اور نوکیا کی اپنی او وی چیٹ پر آپ ایک ہی وقت میں لاگ ان ہو سکتے ہیں، ہر اکائونٹ کے روابط الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے یہ پروگرام وائی فائی کے علاوہ جی پی آر ایس پر بھی چلا کر دیکھا ہے، فٹا فٹ کانٹیکٹس اٹھا کر لے آتا ہے اور اے ون چلتا ہے۔
فیس بک اور ٹوٹر والی جو بلٹ ان اپلیکشن ہے، نوکیا کمیونٹیز وہ ہر مرتبہ کمیونیکیشن ایرر دے کے بند ہو جاتی ہے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ۔ بہرحال میں نے ان کاموں کے لئے سنیپ ٹو انسٹال کر لیا ہے۔ جو کہ میرے خیال سے بہتر ہے، کیونکہ اس میں آر ایس ایس ریڈر، روزنامہ گارڈین، بگ پکچر، اور کافی کچھ ہے۔ مزا آتا ہے جب اپ انگیجیٹ یا ٹیک کرنچ پر کچھ پڑھ رہے ہوں اور اسے آرام سے فیس بک پر شیئر کر سکیں یا ٹوٹر پر چوں چوں کر سکیں۔
او وی سٹور کے ذریعے ایپلیکیشنز ڈائونلوڈ کرنے کی سہولت بھی بہت اعلٰی ہے، کافی ساری مفت اپلیکیشنز مل جاتی ہیں۔ جن پر پیسے لگے ہیں وہ بھی کوئی زیادہ مہنگی نہیں ہیں، مثال کے طور پر پینتالیس روپے سے لے کر ڈھائی تین سو روپے تک۔
پورا کی پیڈ تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہو گا، ایس ایم ایس کے دیوانوں کے لئے اسے سے اچھی اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟
میں نے اپنے کمپیوٹر پر نوکیا او وی پی سی سوئٹ بھی انسٹال کیا ہوا ہے۔ یو ایس بی یا بلو ٹوتھ کے ذریعے کمپیوٹر کی سی تھری کے ساتھ گپ شپ کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ مجھے خود کمپیوٹر پر ایس ایم ایس پڑھنا، انکا جواب دینا اور انکو فارورڈ کرنا آسان لگتا ہے، خاص طور پر جب دفتر بیٹھا ہوں۔
موبائل گم جائے تو ساتھ ہی کانٹیکٹس بھی جاتے رہتے ہیں، بہرحال او وی سوئٹ کی موجودگی میں یہ مسئلہ سمجھیں حل ہو جاتا ہے بشرطیکہ آپ نوکیا کا ایک فون گم کر کے ایک اور نوکیا فون خرید لیں۔ کانٹیکٹس کو مفتو مفت نوکیا کی انٹرنیٹ سروس پر محفوظ کیا جا سکتا ہے، یعنی کہ موجاں ای موجاں، خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں۔
سی تھری میں اوپرا برائوزر پہلے سے انسٹال شدہ آتا ہے، میں نے نیا ورژن کیا ہے جو کہ پہلے والے سے کافی بہتر ہے۔ میں نے تو کافی سارے گانے، اور ویڈیوز ڈائریکٹ ڈائونلوڈ بھی کئے ہیں۔ سانگز ڈاٹ پی کے ڈیسک ٹاپ وغیرہ سے استعمال کرتے وقت محسوس نہیں ہوتا، لیکن موبائل پر بار بار زورے آ جانے والے پاپ اپ بہت برےلگتے ہیں۔
اسکے علاوہ آٹھ جی بی تک کا میموری کارڈ لگایا جا سکتا ہے، میں نے دو جی بی کا لگایا ہوا ہے میرے لئے کافی ہے۔ اس میں بھی کافی گانے آ جاتے ہیں۔ سائونڈ کوالٹی اچھی ہے، آئی پوڈ، زون، سونی والک مین سیریز، یا آئی فون کی ٹکر کی تونہیں ہے بہر حال ٹھیک ہے۔ کال ریکارڈنگ کی اپلیکشن بھی موجود ہے، آنے جانے والی کالز کو بڑے سکون سے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے، اگر آپ گندے بندے ہیں یا آپکا واسطہ گندے بندوں سے پڑتا رہتا ہے تو خوش ہو جائیں۔ ای میل کی بھی ایپلیکیشن ہے، جس میں کہ ہاٹ میل یاہو جی میل اور سکے علاوہ بھی پاپ یا ایس ایم ٹی پی میلز چیک کی جا سکتی ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سافٹ ویئر ہی سافٹ ویئر بتائی جا رہا ہے، تو جناب اس موبائل کا ہارڈ ویئر بھی اچھا ہے۔ پچپن ایم بی انٹرنل میموری ہے۔ کانٹیکٹس اور ایس ایم ایس جتنے مرضی محفوظ رکھیں۔
اسکے علاوہ نوکیا والوں نے ایک اور اچھا کام یہ کیا ہے، کہ ایک جناب گلابی رنگ کا سی تھری بھی بنا دیا ہے۔ یقین مانیں نیلے والا سی تھری نوجوان لڑکوں کے لئے زبردست ہے، اور گلابی والا لڑکیوں کے لئے۔ جہاں تک میرا خیال ہے مارکیٹ میں جلد ہی اس فون کی اور بھی رنگ برنگی کیسنگز آ جائیں گی۔
سب کچھ اچھا ہی نہیں ، کچھ کمزوریاں بھی ہیں؟
ہاں جی میں نے کوئی نوکیا والوں سے پیسے نہیں پکڑے ہوئے جو تعریفیں ہی کری جائوں۔ دو تین ہفتے کے استعمال میں مجھے سی تھری کی چند باتیں بری بھی لگی ہیں۔ بیٹری لائف زیادہ نہیں ہے، ایک مرتبہ فُل کروں تو کوئی ڈیڑھ دن نکالتا ہے۔ شاید اگرمیں صرف فون کالز اور ایس ایم ایس کروں تو زیادہ چل جائے لیکن میں نے دو ایک گھنٹے تو وائی فائی آن کرنا ہی ہوتا ہے، اور گانے بھی چلانے ہوتے ہیں۔
سام سنگ کاربی
اگر آپ فیس بک پر کسی کے میسج کا جواب دے رہے ہیں، یا کسی کی ای میل کا جواب لکھنے بیٹھ گئے ہیں، یا اپنے بلاگ پر کسی کے کمنٹ کا طویل جواب تحریر کر رہے ہیں اور ساتھ میں گانے بھی چلے ہوئے ہیں تو لکھائی کی رفتار آہستہ ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی حرف ضائع تو نہیں ہوتا لیکن، حروف ٹھہر ٹھہر کے سکرین پر نظر آتے ہیں۔ کیمرہ پر دو میگا پکسل لکھا ہوا ہے لیکن کیمرہ کی کوالٹی بالکل فارغ ہے، کیا تھا اگر ذرا سنسر اچھی کوالٹی کا لگا کر ساتھ میں کمزور سا فلیش بھی دے دیتے؟ جی پی آر ایس کو زبردستی بند کرنے کا کوئی آپشن کہیں نہیں ملتا، اگر آپکا وائی فائی سوئچ کسی وجہ سے اچانک آف لائن ہو گیا ہے تو سی تھری چول اپنے اپ جی پی آر ایس یا ایج کے ذریعے رابطہ چالو کر دے گا۔ غلطی سے بندہ ایم ایس این چلتا چھوڑ کے سو جائے، اوپر سے بجلی بند ہو جائے، تو جناب آپکے جاگنے تک کافی پیسے خرچ ہو چکے ہوں گے۔
سام سنگ کاربی ٹی ایکس ٹی
اس سے ملتا جلتا مسئلہ ای میل اپلیکشن کے ساتھ بھی ہے، الو کی کان تھوڑی تھوڑی دیر بعد خود ہی آن ہو کے آپکی ای میل چیک کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اگر کوئی نئی میل ہو تو بیل بجا کر بتاتی ہے کہ جناب نئی میل آئی ہے، پاڈی وڈی۔ گھر یا دفتر میں تو بھائی وائی فائی سے کام چل جاتا ہے، بصورت دیگر جی پی آر ایس آن اور خرچہ پروگرام شروع۔ بھئی بندہ کبھی صرف مِس کال کا بیلنس بمعہ ایس ایم ایس پیکج رکھ کر بھی کام چلا رہا ہوتا ہے، لیکن اس بات کا تو کسی کو خیال ہی نہیں جیسے۔ چیٹ اپلیکشن کی طرح برائوزر کو بھی بیک گرائونڈ میں لے جانا ممکن ہونا چاہیئے، ورنہ اگر آپ برائوزنگ کر رہے ہوں اور ایس ایم ایس آ جائے تو سارے ٹیب بند کر کے ایس ایم ایس دیکھنا پڑتا ہے۔ اسکے علاوہ ایم پی فور فائلز کچھ چلتی ہیں اور کچھ نہیں چلتی۔ فیس بک کی تو اکثر ویڈیوز نہیں چلتی، صرف آواز آتی ہے تصویر کوئی نہیں۔ انٹرنیٹ پر ہر جگہ لکھا ہوا ہے کہ دو جی بی کا کارڈ ساتھ مفت آتا ہے، لیکن ہماری لوکل مارکیٹ میں کوئی بھی نہیں دے رہا۔ پتہ نہیں کیا چور بازاری لگائی ہوئی ہے لوگوں نے؟؟؟ کافی مرتبہ فون کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر مرتبہ فیل ہو جاتا ہے، یہ بات مجھے بری لگتی ہے۔ نوکیا والوں کے پاس لے کر گیا تو انکی نمائندی کا رویہ بڑا غیر پیشہ ورانہ بدتمیزانہ لعنتیانہ تھا۔ میں نے جا کے مشین سے ٹکٹ لیا، وہ فارغ بیٹھی تھی میں جا کے کھڑا ہو گیا کہ جی یہ سی تھری کا مسئلہ ہے۔ بد تمیز نمائندی: ٹوکن لیا ہے۔ میں: ہاں جی۔ بدتمیز نمائندی: نمبر کیا ہے؟ میں: اٹھانوے۔ بدتمیز نمائندی: اوپر سکرین پر کہیں لکھا نظر آ رہا ہے؟ میں: نہیں۔ بد تمیز نمائندی: تو پھر جا کے بیٹھیں، جب نمبر آئے گا تو آ جانا۔ مجھے بڑی تپ چڑھی کہ بھلا یہ کوئی طریقہ ہے، بندے کے پتروں کی طرح کہو بھئی آپ انتظار کریں، جب سکرین پر ٹوکن نمبر آئے تو آ جانا۔ بلاوجہ سکرین والی فلم چلائی اس نے، اوپر سے اسکا لہجہ ایسے تھا جیسے میں پتہ نہیں اللہ واسطے کام کروانے آیا ہوں۔ یا مجھ پر بڑا احسان کر رہی ہے، مِس ورلڈ۔ مجھے کہتی ہے کہ جی فون چھوڑ جائیں، تین دن بعد ملے گا اور آپکا تمام ڈیٹا بھی فارغ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ چل بھاگ جا بی بی، میں خود ہی کوئی جگاڑ لگا لوں گا۔
کال ویٹنگ سے متعلقہ کسی مسئلے کی بھنک سنی تھی میں نے، مجھے اس قسم کا کوئی مسئلہ نہیں پیش آیا۔ اب آپ لوگ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں فون کی سپیکس کا ٹیبل کاپی پیسٹ کروں گا، کوئی چکر نہیں وئی۔ سی تھری کا انگریزی میں سیدھا سادا جائزہ آپکو پندرہ سو ویب سائٹوں پر مل جائے گا، اور ساتھ سپیکس بھی ہوں گی۔ جا کے وہاں سے دیکھ لیں۔ مطلب خالی کانپی پیسٹ کرنے کا کیا فائدہ بھئی۔ اچھا چلیں نراض نا ہوں، یہ جی ایس ایم ارینا کا لنک لے لیں، یہاں سارے سپیکس لکھے ہیں سی تھری کا جامع ریویو، از نعیم اکرم ملک جی ایس ایم ارینا پر نوکیا سی تھری