کہانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کہانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 10 فروری، 2021

مغز کہانی



سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل ایمبولینسیں، لوگوں کا ایک چھوٹا سا ہجوم، اور رُک رُک کر چلتی ٹریفک۔ نہر والی سڑک پر یہ منظر روز مرہ کا معمول ہے البتہ پاس سے گُزرتے ہوئے موٹرسائیکل آہستہ کر کے کسی سے یہ پوچھنا کہ "بندے بچ گئے ہیں؟" بھی ہمارا روزمرہ کا معمول ہی ہے۔ 

لیکن اُس روز جب ہم ایک ایسے ہی مجمعے کے پاس سے ایسے ہی پوچھ گچھ کرنے کیلئے آہستہ ہوئے تو ہم نے ایک ایسا منظر دیکھا جسکے بعد ہم مجبورا موٹر سائیکل ایک جانب کھڑی کر کے مجمع کا حصہ بن گئے۔ 

سڑک پر ایک بھیجا دھرا ہوا تھا اور اسکے پاس ایک زخمی آدمی لیٹا ہوا تھا۔ ریسکیو والے پائوں کے بل بیٹھ کر کُچھ کر رہے تھے، شاید ٹیکہ وغیرہ بھر رہے تھے۔ ہمیں لگا کہ زخمی حرکت کر رہا ہے۔ اُس سے چند قدم دور ہونے کیوجہ سے ہم نے تصدیق کی خاطر مجمع میں شامل ایک اور پیٹی بھائی سے پوچھا کہ "بندہ مر گیا ہے؟" "نہیں، ابھی ہِل رہا ہے" اُسنے جواب دیا۔ 

لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بھیجا باہر نِکل جائے اور آدمی پھر بھی ہِلتا رہے؟ ہم نے کندھوں کا زور استعمال کرتے ہوئے چند افراد کو دائیں بائیں سرکایا اور لامبے قد کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مجمع کے اوپر سے جھانک کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ 

سڑک پر خون بِکھرا تھا، آدمی کا سر بھی خون سے لت پت تھا، لیکن سڑک پر چند خون آلود پٹیاں گول مول کر کے رکھی ہوئی تھی۔ ہم شاید انہیں کو بھیجا سمجھے تھے۔ 

لیکن نہیں، انہیں پٹیوں کیساتھ ہی ایک عدد مغز بھی نیم ملیدہ حالت میں موجود تھا۔ "اوئے دفع ہو جائو، پیچھے ہٹ جائو۔ اِدھر کوئی تماشہ لگا ہے کیا؟" گرجدار آواز گونجی تو مجمع میں شامل افراد کھسیانے ہو کر چند قدم پیچھے ہٹ گئے۔ کُچھ نے ہیلمٹ پہنے اور موٹرسائیکل سٹارٹ کر چلتے بنے۔ ہم البتہ اس مُعمے کو حل کئے بغیر پیچھے ہٹنے والے نہ تھے۔ دِل ہی دِل میں  خود کو ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے پر لعنت ملامت کی اور ذرا سرک کر وہیں جمے رہے۔

اب اس آدمی کی مثال ہی لے لیں، اگر ہیلمٹ پہنا ہوتا تو اسکا مغز سڑک پر نہ پڑا ہوتا۔ اچانک اُس آدمی کی چیخ گونجی۔ ہم نے اُسکی جانب دیکھا تو چکرا کر رہ گئے۔ جِس آدمی کا دِماغ سڑک پر ہو وہ چیخ کیسے سکتا ہے؟ اسی اثنا میں ایمبولینس کے ہوٹر کی صدا سنائی دی۔ ریسکیو ورکر نے ایک مرتبہ پھر لوگوں کو پیچھے ہٹ جانے کی درخواست کی مگر ایسا لگتا تھا کہ لوگوں پر سحر طاری تھا اور وہ ہِلنے کو تیار نہ تھے۔ تیزی سے اپنی جانب آتی ایمبولینس کو دیکھ کر ذمہ دار شہری فٹا فٹ بادلوں کیطرح بس اتنا سا چھٹ گئے کہ ایمبولینس کو جائے وقوعہ تک پہنچنے کا موقع مِل گیا۔ 

اُنہوں نے زخمی کو ایمبولینس میں منتقل کر دیا لیکن اُسکا دماغ وہی سڑک پر پڑا رِہ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی کو اُسکے دماغ کی کوئی پرواہ ہی نہ ہو۔ ہم نے ایک مسیحا کا کندھا پکڑ کر اُسے جھنجھوڑا اور سوال پوچھا کہ "یہ کیوں باہر چھوڑ دیا آپ نے؟" اُس نے تنک کر جواب دیا "جائو اپنا کام کرو، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا"۔

یا حیرت! یا حیرت! ہم دو قدم پیچھے ہٹے تو اچانک ہمارا پائوں پِھسل گیا، گِرنے سے بچنے کیلئے ہمارا دایاں بازو لاشعوری طور پر پھیلا اور ہاتھ سڑک پر ٹِک گیا۔ مگرجہاں ہاتھ ٹِکا تھا اُسکو دیکھ کر ہم پر ہذیان طاری ہو گیا۔ پائوں زخمی کے خون سے پھسلا تھا اور ہاتھ جا کر سیدھا دِماغ پر ٹھہرا تھا۔ 

ہم نے دائیں بائیں مدد کیلئے دیکھا تو پاس ہی کھڑی موٹرسائیکل کی ٹینکی میں سے جھانکتے صفائی والے میلے کپڑے پر نظر پڑی۔  ہم نے جلدی سے کپڑا پکڑا اور رگڑ رگڑ کر اپنے ہاتھوں سے اُسکا بھیجا اُتارنے لگے۔ لیکن وہ زِندہ کیسے تھا؟ لیکن وہ چیخ کیسے رہا تھا؟ آخریہ کیسے مُمکن ہے؟ 

ایمبولینس رُخصت ہو چُکی تھی، تماشبین بھی جا چُکے تھے۔ چند کُتے آس پاس منڈلا رہے تھے۔ ہم ہاتھ دھونے کی نیت سے نہر کیجانب چل پڑے۔ ہاتھ دھونے کیبعد ہم نے دیکھا کہ اب وہاں کُتوں کا اجتماع لگ چُکا تھا۔ ایک بڑا سا کُتا سڑک پر پڑا مغز چاٹ رہا تھا جبکہ دیگر سگانِ کم مایہ اُسکے جانب حسرت سے دیکھ رہے تھے۔ 



ہم سے مغزِ انسانی کی یوں بے توقیری برداشت نہ ہوئی تو سڑک سے ایک پتھر اُٹھا کر بڑے کُتے کو دے مارا۔ اُس نے ایک دِلدوز چیخ ماری اور ایکجانب دوڑ لگا دی۔ اُسکے دیگر ساتھی بھی بھاگ نکلے، کچھ کے منہ میں چھیچھڑے تھے، کچھ کو بوٹیاں نصیب ہوئی، اور کچھ بھاگتے بھاگتے شاپر پر جھگڑ رہے تھے۔ 

ہم نے بھی اپنی موٹرسائیکل سٹارٹ کی اور اسکو ایکجانب دوڑا دیا۔ 

نعیم اکرم ملک

دس فروری دو ہزار اکیس


بدھ، 28 ستمبر، 2016

Moses and Ant, lesson about financial wisdom [Urdu]

موسیٰ علیہ السلام اور چیونٹی کی کہانی مختصر ہے البتہ اس میں ایک انتہائی اہم سبق موجود ہے۔ دور حاضر میں بہت سارے لوگ کریڈٹ کارڈ کے غلط یا غیر ضروری استعمال کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ 
اسکے علاوہ لوگوں نے بینکوں سے بہت سارے قرضے بھی اٹھا رکھے ہیں۔
اس کہانی کی وجہ سے ہم یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم کونسی چیونٹی ہیں؟ وہ جو ایک دانہ کھا کر ایک برے وقت کے لئے بچاتی ہے یا وہ جو دونوں دانے قبل از وقت اُڑا کر کریڈٹ کارڈ پر ادھار لینے چل پڑتی ہے۔
شکریہ

جمعرات، 3 دسمبر، 2015

انجمن دُم پسند مصنفین



Ali Akbar Natiq - Urdu writer
علی اکبر ناطق، مصنف

تیسری دفعہ کا ذکر ہے، ایک گاﺅں میں ایک آدمی تھا۔ جس
کا ذاتی کردار کا فی مشکوک تھا ۔ ہر روز نیا اشقلہ چھوڑ دیتا اور گاﺅں والوں سے پھٹکاریں سُنتا۔ انہی کرتوتوں کے باعث ایک دن گاﺅں سے بھاگ گیا اور جنگلوں کی راہ لی ۔چلتا چلتا ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں دُور تک آدم نہ آدم زاد ۔ جدھر نظر پڑتی بندر ہی بندر تھے ۔ کافی دنوں کی مسافت کے بعد اِن صاحب کا حلیہ بھی کچھ اُنہی کا سا ہو گیا تھا ۔چہرے اور سر کے بال بڑھ کر جھاڑ جھنکاڑ ہو گئے ۔ چنانچہ بندر اُس کو دیکھ کراپنی ہی نسل کی کوئی شے سمجھے اور بدکے وِدکے نہیں ۔ وہاں جڑی بوٹیاں کثرت سے تھیں جن پر اس کا گزارا ہونے لگا ۔ کئی سال گزر گئے ۔ بندروں کی صحبت اُس کو ایسی بھائی کہ یہ وہیں کا ہو کر رہ گیا ۔

 رفتہ رفتہ اُسے بھی یقین ہونے لگا کہ در اصل وہ بھی ایک بندر ہے ۔ کمی ہے تو صرف دُم کی ۔اُس نے سوچا اِس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔چنانچہ اپنے بندر ہونے کی دریافت پر بہت خوش ہوا ۔ اِسی خوشی میں بھاگا بھا گا دوبارہ گاﺅں پہنچا اور آتے ہی اعلان کر دیا کہ وہ بندر ہے اور ناصرف وہ بندر ہے بلکہ سب گاﺅں والے بھی بندر ہیں ۔ یہ سُن کر حسبِ توقع گاﺅں کی اکثریت نے اُس کا حقہ پانی بند کر دیا اور اُسے دُر فٹے منہ کہا مگر وہ اپنی بات پر اڑا رہا ، اپنے اور اُن کے بندر ہونے پر اصرار کرتا رہا ۔کچھ عرصے بعد اُنہی میں سے کچھ لوگ اُس باندر کے ہم خیال ہو گئے (اب میں بندر کو ِ،،باندر،، لکھوں گا) ۔ ویسے بھی وہ اپنے آپ کو انسان کہلاتے کہلاتے اُکتا چکے تھے ۔انہوں نے اُس باندر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا واقعی تم ٹھیک کہتے ہو ۔اتنا عرصہ تم انسانوں سے دور بندروں میں رہے اس لیے ہم سے بہتر جانتے ہوگے ۔ ہوتے ہوتے یہ بات پھیل گئی جس پر گاﺅں کی کابینہ فیصلہ کرنے بیٹھ گئی ۔دونوں طرف سے بھاری اکثریت تھی ۔ دلائل دیے جانے لگے ۔کچھ لوگوں نے اعتراض اُٹھایا،اگر ہم واقعی بندر ہیں تو ہماری دُم کہاں گئی ؟ اس کا جواب دینا ضروری تھا ورنہ بندر ہونے کی دلیل کمزور پڑ جاتی ۔کچھ دنوں بعد باندروں نے اس کا جواب ڈھونڈ لیا ۔ اُس اولین باندر اور اُس کے حواریوں نے ایک دن دلیل پیش کی، چونکہ ہم کافی عرصہ پہلے پیٹھ کے بَل بیٹھنے لگے تھے جس کی وجہ سے وہ رفتہ رفتہ گھس گئی ۔ دوسرا یہ کہ ہم نے دُم کا استعمال کم کر دیاتھا اور دماغ کا زیادہ ۔اور فطرت کا اصول ہے، جس چیز کا استعمال کم کر دیا جائے وہ شے بے کار ہو کر آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہماری دُم ختم ہو گئی اور دماغ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے وہ مزید تیز ہو گیا۔اُس باندر کی یہ بات سب کو بڑی مدلل لگی ۔وہاں موجود بہت سے لوگوں نے اُس کی بات پر واہ واہ کیا اور بے چون و چرا اپنے آپ کو باندر اور اُسے اپنا رہبر مان لیا ۔ 

انجمن دم پسند مصنفین

اب سب کو اس بات پر افسوس ہونے لگا کہ اپنی نا اہلی کی وجہ سے ہم نے اتنی اچھی چیز کھو دی ۔ اگر ہماری دُم ہوتی تو زندگی کا لُطف دوبالا ہو جاتا۔ مثلاً اُس کی وجہ سے ہم کپڑوں سے آزاد ہو جاتے ۔ آسانی سے اپنی پیٹھ چھُپا سکتے تھے ۔درختوں پر مزے مزے سے جھولتے ۔ایک شاخ سے دوسری شاخ پر بلاجھجک دُم کا سہارا لے کر چھلانگیں لگا تے۔ ایک دوسرے کے کان میں کھُجلی کر لیتے ۔ کوئی حملہ آور ہوتا تو دم دبا کر بھاگ جاتے ۔ الغرض ایک دُم سے کئی کام لیے جا سکتے تھے ۔ ان باتوں کے پیش ِ نظر انہوں نے فیصلہ کیا کہ جو ہو گیا سو ہو گیا ۔ نا سمجھی سے کیے گئے اس بے پایاں نقصان کا ازالہ تو ممکن نہیں البتہ یہ ہے کہ اب اپنی کھوئی ہوئی دُم واپس حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے ۔ چنانچہ گاﺅں والوں نے مل کر ایک انجمن بنائی ۔ اُس کا نام انجمن دُم پسند مصنفین رکھ دیا ۔اُسے یہ کام سونپا گیا کہ وہ اس بات پر سوچ بچار کرے کہ کھوئی ہوئی دُم کس طرح واپس لائی جا سکتی ہے۔ انجمن دُم پسند مصنفین نے آخر یہ فیصلہ کیا، چونکہ دُم کا نقصان دماغ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوا ہے اور فطرت کا یہ اصول ہے کہ چیز جس طرح ختم ہوتی ہے اُسی قاعدے سے واپس لائی جا سکتی ہے ۔لہذا آئندہ دماغ کا استعمال کم سے کم کیا جائے اور پیٹھ زمین پر یا سخت جگہ پر رکھنے کی بجائے فوم کے گدوں یا بڑے ہوٹلوں کی نرم نرم کرسیوں پر رکھی جائے تاکہ پیدا ہوتی ہوئی دُم کے گھِسنے کا خطرہ نہ رہے اور وہ لمبی سے لمبی ہوتی جائے ۔ 
اب اُن کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ دماغ کا استعما ل کیسے کم کیا جائے ۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے ۔ ایک دن یہ معما بھی حل کر لیا گیا ۔ وہ اس طرح کہ شراب زیادہ سے زیادہ پی جائے اور اُس کے نشے میں بندر ہونے سے انکار کرنے والوں اور اپنے اشرف مخلوق کہلانے والوں بلکہ جس نے اُنہیں اشرف بنایا ہے ،اُنہیں بے دریغ گالیاں دی جائیں اور مسلسل دی جائیں ۔لہذا اس پر عمل ہونے لگا۔ مسلسل شراب پی جانے لگی اور بغیر وقفے کے انسانوں اور اُس کے بنانے والے کو گالیاں دی جانے لگیں ۔یہ عمل کافی کارآمد ثابت ہوا ۔رفتہ رفتہ دماغ نے واقعی کام کرنا چھوڑ دیا ۔ جس کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے کائنات کو ایک حادثہ قرار دے دیا ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سروں میں بھیجے کی بجائے بھوسا پیدا ہو گیا اور دماغ بالکل نہ رہا ۔مگر حیرت کی بات یہ ہوئی کہ دماغ کے چلے جانے سے دُم ، جس کے واپس آنے کی بہت توقع تھی ،وہ بھی پیدا نہ ہوئی۔ یہ ایک سانحہ عظیم تھا جس کی اُنہیں خبر تک نہ ہوئی ۔عرصے بعد جب اُن کو بتایا گیا کہ اُن کا نقصان دوہرا ہو چکا ہے ۔ دُم کے ساتھ ساتھ دماغ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تو وہ کچھ اونگھے ۔ اس بات پر مزید غور کرنے کے لیے انجمن دُم پسند مصنفین کے تمام ارکان دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے ۔مگر اب مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ سوچ بچار دماغ کے ذریعے سے کرنا تھی اور وہ پاس نہیں تھا ۔ یہ بات اُن کو سمجھائی بھی نہیں جا سکتی تھی کہ اس کے لیے دماغ ہونا ضروری ہے ۔ جب اُن سے کہا گیا کہ دماغ کی واپسی اب آپ کے بس کا کام نہیں ہے۔ آپ اُٹھ کر کوئی اور کام کریں یا کم از کم مولوی بن جائیں کہ تمھاری بیشتر عادتیں اُنہی سے ملتی جُلتی ہیں ۔ مگر اب وہ یہ باتیں کہاں سُن اور سمجھ سکتے تھے ۔ وہ مکمل طور پر احساسِ کمتری میں مبتلا ہوگئے ، وہ دیکھتے تھے کہ کچھ کے پاس دُم ہے اور کچھ کے پاس دماغ ہے اور خود اُن کے پاس اِن میں سے کچھ بھی نہیں رہا ، تو وہ بے دریغ اور متواتر سب کو کوسنے دینے لگے ۔دُم والے بندر جنگلوں میں ہونے کی وجہ سے اِن کے شر سے بچے ہوئے تھے ۔ اور مولویوںسے ،اُن کے ڈر کی وجہ سے یہ خود اُ ن سے دُور رہتے تھے یا ملتے بھی تھے تو بڑے ادب و احترام سے کیونکہ مولویوں کی اکثریت بھی انہی کی طر ح شراب پی کر گالیاں دینے کی عادی تھی ۔ لہذا اِن کے مشق ِ ستم وہی انسان بنتے تھے جن کے پاس دماغ بھی تھے اور وہ شریف النفس بھی تھے۔ ہوتے ہوتے یہ مسئلہ لا ینحل صورت اختیار کر گیا اور یہ بے دُم کے بندر انسانوں کے شہر میں ایک وبا کی شکل اختیار کر گئے ۔

تو حضرات۔۔۔
 تب سے اب تک ایک عرصہ ہو گیا ہے،انجمن دُم پسند مصنفین کے تمام ارکان سوائے خُدا اور انسانوں کو گالیاں دینے کے اور شراب پینے کے، کچھ نہیں کرتے ۔اِن کے پاس اب نہ دُم ہے نہ دماغ ہے ۔کسی دوسرے کی بات نہ سُنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں ۔ کام کاج کچھ نہیں کرتے ،جس کی وجہ سے دیگر اعضا بھی ناکارہ ہو کر آہستہ آہستہ ختم ہو چکے ہیں ۔ البتہ مسلسل گالیاں دینے اور شراب پینے کی وجہ سے اِن کی دو چیزیں کام کر رہی ہیں ایک زبان اور دوسرا مثانہ۔ ہمارا مشورہ ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ ایسا آ ئے جو اِنہیں دوبارہ جنگلوں میں اِن کی برادری کے پاس چھوڑ آئے جہاں کم از کم اِن کا دماغی احسا سِ کمتری تو ختم ہو۔اور یہ بھی ممکن ہے وہاں ایک دو نسلیں گزارنے کے بعد ان کی دوبارہ دُم نکل آئے۔اگر اتنی بڑی کائنات حادثے سے پیدا ہو سکتی ہے تو ایک چھوٹی سی دُم کیوں پیدا نہیں ہو سکتی ۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer