‏ترجمہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ترجمہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 18 جنوری، 2019

زرعی انقلاب کا پھندا


لگ بھگ بارہ ہزار سال قبل رونما ھونے والا زرعی انقلاب، تاریخ کے متنازع ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ کُچھ طرفدار کہتے ہیں کہ اسنے بنی نوع انسان کو عروج اور ترقی کی راہ پر ڈال دِیا۔ البتہ مخالفین مُصر ہیں کہ اسکا نتیجہ مسلسل ابتلاء ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ یہی وہ موڑ تھا جب سیپینز یعنی انسانوں نے فطرت کے ساتھ اپنا قریبی ربط نوچ پھینکا اور سرپٹ لالچ و اجنبیت کی جانب دوڑ لگا دی۔ راہ جِس سمت بھی لے جاتی، واپس ناممکن تھی۔ 

کھیتی باڑی کی بدولت انسانی بستیاں اسقدر سرعت سے پھیلی کہ کوئی بھی پیچیدہ زراعتی معاشرہ اگر قدیم شکاری اور متلاشی طور طریقوں کی جانب لوٹتا تو قائم ہی نہ رہ پاتا۔
لگ بھگ دس ہزار سال قبلِ مسیح کو، زراعت پر منتقلی سے پہلے، زمین پر شکاری متلاشی انسانوں کی آبادی پچاس لاکھ سے اسی لاکھ کے درمیان تھی۔ پہلی صدی عیسوی آتے آتے انکی تعداد گھٹ کر دس لاکھ سے بیس لاکھ تک رہ گئی وہ بھی زیادہ تر آسٹریلیا، افریقہ، اور امریکہ میں۔ لیکن اُنکے مقابلے میں اُسوقت صفحۃ ہستی پر کسانوں کی تعداد پچیس کڑوڑ کے قریب پہنچ چُکی تھی۔ شکاری معدوم ہو رہے تھے۔

کِسانوں کی بڑی تعداد مُستقل آابادیوں میں رہتی تھی۔ ان میں کم ہی خانہ بدوش چرواہے تھے۔ ایک جگہ ٹِک جانے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا علاقہءِ عمل ڈرامائی طور پر سُکڑ گیا تھا۔
قدیم مُتلاشی شکاری عام طور پر سیکڑوں یا کبھی کبھار ہزاروں مربع میل پر مُحیط علاقے میں سرگرم رہتے تھے۔ سارے کا سارا علاقہ انکا گھر ہوتا تھا۔ پہاڑ، جھرنے، جنگلات، اور کُھلا آسمان۔ 
دوسری جانب کسان، زیادہ وقت نسبتا چھوٹے کھیت یا باغ میں کام کرتے رہتے۔ اُنکی روزمرہ زندگی لکڑی، پتھر، یا گارے کے ایک ٹھنسے ٹھنسائے ڈھانچے کے گِرد گھومتی تھی جو بمشکل چند میٹر پر مُحیط ہوتا تھا؛ یہ ڈھانچہ تھا اُنکا گھر۔ 

عام طور پر کِسان کو اِس ڈھانچے کیساتھ گہرا لگائو ہو جاتا تھا۔ یہ ایک دور رس انقلاب تھا جسکے اثرات جسقدر نفسیاتی تھے، اُسی قدر ہی عماراتی بھی تھے۔ اِسکے بعد سے "میراگھر" کی لگن اور پڑوسیوں سے علیحدگی ایک خود کفیل مخلوق کا خاصہ بن گئی۔
نئے زراعتی رقبے نہ صِرف قدیم مُتلاشی شکاریوں کے زیر استعمال علاقوں سے  کئی گُنا چھوٹے تھے، بلکہ بے حد بناوٹی بھی تھے۔



 آگ کے استعمال کے سے ہٹ کر، شکاری جس سرزمین میں گھومتے پھرتے تھے اُسمیں کم ہی کوئی بڑی تبدیلی کیا کرتے۔

لیکن کِسان، مصنوعی انسانی جزیروں میں رہتے، جنہیں وہ جفاکشی سے آس پاس کے جنگلات کو صاف کر کے تراشتے۔ جہاں پر وہ گھر تعمیر کرتے، ہل چلاتے، اور دیدہ زیب قطاروں میں پھلدار درخت لگاتے۔
 نتیجتاۤ رونما ہونے والا مصنوعی ماحول فقط انسانوں، اُنکے پودوں، اور پالتو جانوروں کیلئے بنا ہوتا۔ رہائش کے اردگرد عموما دیواروں یا باڑھوں کی مدد سے حد بندی کی جاتی۔ جنگلی جانوروں اور تیزی سے پھیلنے والی جڑی بوٹیوں کو باہر رکھنے کیلئے کِسان خاندان ہر مُمکن جتن کرتے۔

اگر ایسے گُھس بیٹھیئے اندر آ ہی جاتے تو انہیں نکال باہر کیا جاتا۔ اگر وہ ڈٹے رہتے، تو اُنکے مد مقابل انسان انہیں جان سے مارنے کے نت نئے طریقے اختیار کرتے۔

زراعت کی ابتدا سے لیکر آج تک اربوں کی تعداد میں انسان لاٹھیوں، کیڑے مار اوزاروں، جوتوں، اور زہریلی ادویات کیساتھ جفاکش چیونٹیوں، چُھپنے کے خوگر کاکروچوں، اور بھوُلے بسرے مکوڑوں کیخلاف برسرِ پیکار ہیں۔ مگر وہ بھی مُسلسل انسانوں کے رہائشی علاقوں میں در اندازی کی عادت پر قائم ہیں۔

تاریخ کے بیشتر حصے میں انسان کی تخلیق کردہ یہ آماجگاہیں بُہت چھوٹی رہی ہیں، انہیں ہمیشہ وحشی فطرت نے اپنے گھیرے میں لئے رکھا۔ زمین کی کُل سطح لگ بھگ اکیاون کڑوڑ مربع میل ہے، جسمیں سے ساڑھے پندرہ کڑوڑ مربع میل خُشکی ہے۔ سن چودہ سو عیسوی تک، کسانوں کی بڑی تعداد اپنے پودوں اور پالتو جانوروں سمیت، محض ایک کروڑ دس لاکھ مُربع میل پر مرکوز تھی۔ 

کُرہ ارض کی کُل سطح کا محض دو فیصد۔ باقی تمام جگہیں یا تو شدید سرد تھی، یا شدید گرم، انتہائی خُشک، بُہت گیلی، یا پھر ناقابلِ کاشت۔ کُرۃ ارض کا محض دو فیصد حصہ وہ سٹیج تھا جس پر تاحال معلوم تاریخ رقم ہوئی۔

اپنے مصنوعی جذائر کو چھوڑنا لوگوں کیلئے سخت دشوار تھا۔ اپنے گھر، کھیت، اور ذخیروں کو بغیر شدید نقصان کا خطرہ موُل لئے چھوڑنا ناممکن ہوتا۔ 

قدیم کسان ہمارے حساب سے تو شاید غریب لگتے ہوں۔ لیکن ایک عام گھرانے کی ملکیت میں اتنے زیادہ اوزار ہوتے ہوں گے جتنے شکاریوں کے پورے جتھے کے پاس نہ رہے ہوں گے۔

جوں جوں وقت گُزرتا گیا، انسان اپنے اردگرد مزید چیزیں اکٹھی کرتا گیا۔ ایسی چیزیں جنکو ساتھ لیکر گھومنا پھرنا آسان نہ تھا۔ ایسی چیزیں جنہوں نے اُسے باندھ کر رکھ دیا تھا۔

آزاد منش شکاری، اپنے کھیتوں، اوزاروں، اور گھر کا قیدی ہو گیا تھا۔ جھرنے، پہاڑ، اور آزادی پیچھے رہ گئے تھے۔

یہ تھا زرعی انقلاب کا پھندا۔

ہفتہ، 30 اپریل، 2011

تین درویش از لیو ٹالسٹائی, حصہ دوم

An Urdu Translation Of  Three Hermits by Leo Tolstoy, Part 2

ملاحوں نے احتیاط سے کشتی کو ساحل کے ساتھ لگایا، اور پادری کے اتر جانے تک کشتی کو تھامے رکھا۔
بوڑھے اُسے دیکھ کر ادب سے جھکے، اس نے  انہیں دعا دی، جسے سن کر وہ اور بھی جھک گئے۔ پھر پادری ان سے مخاطب ہوا۔
اللہ کے بندو میں نے سنا ہے کہ تم یہاں رہتے ہو، اپنی روح کی حفاظت کی خاطر اور تم خدا سے کُل عالمین کی خیر بھی مانگتے ہو۔ میں بھی مسیح کا ادنٰی خادم ہوں، خدا کی مہربانی سے اسکی رعایا کا دھیان رکھنا اور انکی تربیت کرنا میری ذمہ داریاں ہیں۔ اللہ والو میری خواہش ہے تھی کہ تم سے مِلوں اور کچھ تمہیں بھی سکھلائوں۔
بوڑھے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے، لیکن خاموش رہے۔
مجھے بتائو، پادری بولا۔۔۔ تم اپنی روح کی حفاظت کی خاطر کیا کر رہے ہو، اور تم اِس جذیرے میں رہ کر خدا کا کونسا کام کر رہے ہو؟
دوسرے درویش نے آہ بھری، اور سب سے بوڑھے...  سب سے قدیم بابے کی طرف دیکھا۔ بابا مسکرایا اور گویا ہوا
بندہء خدا، ہمیں نہیں پتہ خدا کی خدمت کیسے کرنی ہے۔ ہم تو بس اپنے کام کاج کر کے گذر بسر کرتے ہیں۔
لیکن تم خدا کی عبادت کیسے کرتے ہو؟ پادری نے پوچھا۔
ہم تو ایسے عبات کرتے ہیں، درویش بولا
تم تین ہو، ہم بھی تین ہیں، ہم پر رحم کرو۔
جب بوڑھا یہ الفاظ کہہ رہا تھا، تینوں درویشوں نے نگاہیں آسمان کی سمت اٹھا لیں اور بولے
تم تین ہو، ہم بھی تین ہیں، ہم پر رحم کرو۔
پادری مسکرایا۔
تم لوگوں کو مقدس تکون کا تو پتہ ہے، لیکن تمہارا عبادت کا طریقہ درست نہیں ہے۔ اللہ والو مجھے تم سے ہمدردی ہو گئی ہے۔  صاف ظاہر ہے کہ تم خدا کو خوش کرنا چاہتے ہو، لیکن تمہیں طریقہ نہیں پتہ۔
ایسے نہیں کرتے عبادت۔۔۔ میں تمہیں سکھا دوں گا، تم سنتے جائو۔ جو طریقہ میں تمہیں بتائوں گا وہ میرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ خداوند نے مقدس صحیفوں میں بندوں کو  اس طریقے سے اُسکی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔
پھر پادری نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ کس طرح خدا نے خود کو لوگوں پر ظاہر کیا۔ اس نے انہیں باپ خدا، بیٹے خدا، اور مقدس روح خدا کے بارے میں بتایا۔
بیٹا خدا انسانوں کی جان بخشی کروانے زمین پر آیا۔ اور اس نے ہمیں عبادت کا یہ طریقہ سکھایا۔۔۔
 " ہمارا باپ " 
پہلا بوڑھے نے پادری کے پیچھے دہرایا، ہمارا باپ اسکے پیچھے دوسرا بولا ہمارا باپ اور پھر تیسرا بولا ہمارا باپ
جو عالم بالا میں ہے، پادری بولا
پہلے بوڑھے نے دہرایا "جو عالم بالا میں ہے" ، لیکن دوسرے والے سے الفاظ خلط ملط ہو گئے۔ اسکے بڑھے ہوئے بال اسکے منہ میں آ رہے تھے، اسلئے اس سے صحیح بولا نہیں جاتا تھا۔ سب سے بوڑھے بابے کے دانت نہیں تھے، اس نے بھی 
پوپلے منہ سے کچھ انٹ شنٹ بول دیا۔
پادری نے دوبارہ الفاظ دہرائے، اسکے پیچھے پیچھے بوڑھے بھی دہرانے لگے۔ پادری ایک پتھر پر بیٹھ گیا، اور بوڑھے اسکے سامنے بیٹھ گئے، جیسے جیسے وہ بولتا بوڑھے بھی اسکے منہ کی طرف دیکھ کر دہراتے جاتے۔ سارا دِن پادری جان مارتا رہا، ایک ایک لفظ کو بیس بیس تیس تیس سو سو مرتبہ تک دہراتا رہا، اور بوڑھے۔۔۔ اسکے پیچھے پیچھے دہراتے رہے۔ وہ غلطی کرتے، وہ تصحیح کرتا، اور پھر شروع سے شروع کرا دیتا۔
پادری وہیں رہا، حتٰی کہ اس نے انہیں پوری دعا زبانی یاد کروا دی، وہ نہ صرف اسکے پیچھے دہرانے جوگے ہو گئے بلکہ اسکے بغیر بھی پوری دعا انہیں یاد ہو گئی۔ درمیانے والے نے سب سے پہلے دعا یاد کر کے زبانی سنائی۔ پادری کے
کہنے پر اس نے دوسروں کی بار بار دہرائی کروائی، بالآخر دوسروں کو بھی دعا ازبر ہو گئی۔
اندھیرا چھا رہا تھا، اور پانیوں کے پیچھے سے چاند طلوع ہو رہا تھا، تب پادری جہاز پر واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے بوڑھوں سے جانے کی اجازت مانگی، وہ سارے اسکے سامنے احتراماً جھک گئے۔ اس نے انہیں اٹھایا، اور ایک ایک کو چوما، اور انہیں اِسکے بتائے ہوئےطریقے پر عبادت کرنے کی ہدایت کی۔
کشتی میں بیٹھ کر واپس جاتے ہوئے اسے بوڑھوں کی آوازیں آ رہی تھیں، وہ اونچی اونچی دعا پڑھ رہے تھے۔ جیسے جیسے کشتی جہاز کے نزدیک ہوتی گئی، انکی آوازیں مدھم ہوتی چلی گئیں، لیکن چاند کی چاندنی میں انکے ہیولے پھر بھی دکھائی 
دے رہے تھے، جہاں وہ انہیں چھوڑ کر آیا تھا اسی جگہ پر کھڑے سب سے چھوٹا درمیان میں، بڑا دائیں، اور درمیانا والا بائیں۔ پادری کے جہاز پر پہنچتے ہی لنگر اٹھا کر بادبان کھول دیئے گئے۔ ہوا نے بادبانوں کو بھر دیا، اور جہاز جذیرے سے 
دور دھکیلا جانے لگا۔ پادری عرشے پر ایک جگہ بیٹھ گیا اور اس جذیرے کی جانب دیکھنے لگ پڑ جسے وہ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ تھوڑی دیر تک درویش نظر آتے رہے، لیکن پھر وہ نظر سے اوجھل ہو گئے، جذیرہ بہرحال نظر آتا رہا۔ آخر کار وہ بھی غائب ہو گیا، تاحد نگاہ سمندر ہی سمندر رہ گیا۔۔۔ چاندنی میں کروٹیں لیتا سمندر۔
زائرین لیٹ کر سو گئے،  عرشے پر خاموشی چھا گئی۔ پادری سونا نہیں چاہتا تھا، لیکن عرشے پر اکیلا ہی بیٹھا رہا، اور سمندر میں اس سمت دیکھتا رہا جہاں اب جذیرہ نظر نہیں آ رہا تھا،  بھلے مانس درویشوں کے بارے میں سوچتے ہوئے۔ اس نے سوچا کہ وہ لوگ دعا یا کر کے کتنے خوش ہوئے تھے؛ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اُس نے اِسے اتنے خدا پرست لوگوں کو کچھ سکھانے اور انکی مدد کرنے کا موقع دیا۔
بس جی پادری بیٹھا رہا، سوچتا رہا، اور سمندر کی جانب دیکھتا رہا جہاں جذیرہ اوجھل ہوا تھا۔ چاندنی اسکی نظروں کے سامنے ٹمٹماتی رہی، جلھملاتی رہی، ابھی یہاں ابھی وہاں لہروں کے دوش پر۔
اچانک اسے کوئی سفید اور چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی، سمندر پر پھیلی چاندی میں۔ پتہ نہیں کوئی بگلا تھا، یا کسی کشتی کا چھوٹا سا چمکدار بادبان؟ پادری نے سوچتے سوچتے اُس پر نظر ٹکا دی۔
یہ کوئی کشتی ہی لگتی ہے، جو ہمارے پیچھے پیچھے چلی آ رہی ہے۔ لیکن قریب بڑی تیزی سے آ رہی ہے۔ ابھی چند لمحے پہلے تو بہت دور تھی، لیکن اب بہت نزدیک۔ کشتی تو نہیں ہو سکتی، کیونکہ بادبان کوئی نہیں نظر آ رہا۔ خیر جو کچھ بھی ہے، ہمارا پیچھا کر رہا ہے اور ہم تک پہنچنے ہی والا ہے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر چیز تھی کیا؟ کشتی نہیں ہے، پرندہ نہیں ہے، مچھلی بھی نہیں ہے۔ آدمی سے تو وہ بہت ہی بڑی چیز تھی، اور ویسے بھی بندہ سمندر کے بیچوں بیچ تو آ ہی نہیں سکتا۔ پادری اٹھا، اور ملاح سے بولا
وہ دیکھو یار، وہ پتہ نہیں کیا چیز ہے؟پتہ نہیں کیا چیز ہے؟ پادری نے تکرار کی، حالانکہ اب اسے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کیا چیز ہے۔۔۔
پانی پر دوڑے چلے آتے ہوئے، تینوں درویش، نِرے چِٹے سفید، انکی بھوری داڑھیاں چمک رہی تھیں، اور وہ اتنی تیزی سے جہاز کے قریب آ رہے تھے جیسے کہ جہاز رُکا ہوا ہو۔
ان پر نظر پڑتے ہی پتوار پر بیٹھے ملاح نے خوف کے مارے پتوار چھوڑ دیا۔
اوہ میرے خدا!درویش ہمارے پیچھے پانی پر ایسے بھاگے چلے آ رہے ہیں جیسے خشک زمین پر بھاگ رہے ہوں۔
دوسرے مسافر اسکی یہ بات سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے ، اور جہاز کے کنارے ان کا مجمع لگ گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ درویش ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے انکی طرف چلے آ رہے ہیں، دائیں بائیں والے درویش جہاز کو رکنے کے لئے اشارے کر رہے رہے تھے۔ پانی کے اوپر تینوں بنا پائوں ہلائے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اڑے چلے آ رہے تھے۔  جہاز کے رکنے سے پہلے درویش اس تک آن پہنچے، سر اوپر اٹھائے تینوں بیک آواز کہنے لگے
اللہ کے بندے، ہمیں تیری بتائی ہوئی تعلیمات بھول گئی ہیں۔ جتنی دیر ہم دہراتے رہے، ہمیں یار رہیں، لیکن جونہی ہم نے ذرا دہرائی روکی ایک حرف بھول گیا۔ اور اب حرف حرف کر کے ساری دعا ہی بھول گئی ہے۔ ہمیں کچھ یاد نہیں رہا ہے۔ ہمیں دوبارہ سکھلا دو۔
پادری نے سینے پر صلیب بنائی، اور جہاز کے کنارے پر جھک کر بولا
اللہ کے بندو، تمہاری خود کی دعا خدا کو پہنچ جائے گی، میں تمہیں کچھ نہیں پڑھا سکتا، بس ہم گنہگاروں کے لئے دعا کر دینا۔
پھر پادری اُن بوڑھوں کے سامنے بہت ادب سے جُھک گیا، وہ مڑے اور سمندر پر اڑتے ہوئے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ جس جگہ وہ نظروں سے اوجھل ہوئے تھے ایک نور سحر ہو جانے تک اس جگہ لشکارے مارتا رہا۔
ختم شد
حصہ اول کا لِنک
موجودہ وولگا کے علاقے کی ایک لوک داستان۔

جمعرات، 28 اپریل، 2011

تین درویش، از لیو ٹالسٹائی حصہ اول

An Urdu Translation Of  Three Hermits by Leo Tolstoy, Part One
لیو ٹالسٹائی کی کہانی تین درویش کا اردو ترجمہ
Leo-Tolstoy
اور دعا میں بار بار باتیں مت دہرایا کرو، جینٹائلیوں کی طرح۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں بہت بولنے سے انکی سنی جائے گی۔ لہٰذا ان جیسے مت ہو جانا۔ کیونکہ تمہارا رب تمہاری حاجتیں جانتا ہے، تمہارے مانگنے سے بھی پہلے۔ میٹ، آیات سات آٹھ۔

موجودہ وولگا کے علاقے کی ایک لوک داستان۔

ایک پادری آرچ اینجل سے سمندر کے راستے سلوستک خانقاہ کی جانب سفر کر رہا تھا، اسی جہاز میں اور بھی زائرین سوار تھے۔ سفر آسان تھا، ہوا ساتھ دے رہی تھی، اور موسم خوشگوار۔ مسافر عرشے پر لیٹے رہتے، کھاتے پیتے 

یا گروہوں میں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے۔ پادری بھی عرشے پر آ گیا، اور ادھر اُدھر چکر لگانے لگا، تب اسکا دھیان جہاز کے بادبان کے پاس کھڑے چند لوگوں پر پڑا جو ایک مچھیرے کی بات بڑے غور سے سن رہے تھے، مچھیرا سمند کی جانب انگلی سے 

اشارہ کر کے لوگوں کو کچھ بتا رہا تھا۔ پادری نے رُک کر اس سمت دیکھا جدھر مچھیرا اشارہ کر رہا تھا۔ لیکن اسکو لشکیں مارتے سمندر کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا۔ بات چیت سننے کے لئے پادری ان لوگوں کے تھوڑا اور نزدیک ہو گیا، لیکن مچھیرے نے اسے دیکھتے ہی احتراماً ٹوپی اتاری اور خاموش ہو گیا۔ باقی لوگوں نے بھی اپنی ٹوپیاں اتاری اور خم ہوئے۔
"میں تم لوگوں کو تنگ نہیں کرنے آیا دوستو"
پادری بولا، 'بلکہ میں تو ان بھائی صاحب کی بات سننے آیا ہوں' ۔
 مچھوارہ ہمیں درویشوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔ دوسروں کی نسبت تیز طراز ایک تاجر بولا ۔
کیسے درویش؟ پادری نے جہاز کے کونے پر پڑے ایک ڈبے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ "مجھے بھی بتائو یار، مجھے بھی پتہ چلے تم کس چیز کی طرف اشارہ کر رہے تھے" ۔
وہ جذیرہ نظر آ رہا ہے، بندے نے جواب میں آگے کی طرف تھوڑا سا دائیں اشارہ کرتے ہوئے کہا "وہ جذیرہ ہے جہاں درویش رہتے ہیں، روحانی نجات کی خاطر"۔
کدھر ہے جذیرہ، مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا"؟ پادری نے جواب دیا۔"
ادھر، تھوڑے فاصلے پر، اگر آپ میرے ہاتھ کی سمت دیکھیں تو چھوٹا سا بادل نظر آئے گا اسکے نیچے ذرا بائیں، مدہم سی پٹی ہے۔ وہی جذیرہ ہے۔
پادری نے غور سے دیکھا، لیکن اسکی سمندر نا شناسا نگاہوں کو سوائے چمکتے پانی کے اور کچھ نہ دکھائی دیا۔
مجھے نہیں نظر آیا، لیکن۔۔۔ کیا درویش یہیں رہتے ہیں؟ پادری بولا۔
وہ بڑے پہنچے ہوئے بندے ہیں، مچھیرے نے جواب دیا، میں نے انکے بارے میں بڑے عرصے سے سن رکھا تھا لیکن پچھلے سال ہی انکو دیکھ پایا ہوں۔
پھر مچھیرے نے بتایا کہ کیسے وہ مچھلیاں پکڑتے پکڑتے رات کے وقت جذیرے میں پھنس گیا، اور اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔ صبح کے وقت جب وہ جذیرے میں مارا مارا پھر رہا تھا، اسکو مٹی کی ایک جھونپڑی اور اسکے ساتھ کھڑا ایک بوڑھا آدمی دکھائی دیا۔ پھر دو اور بھی آ گئے، مجھے کھانا کھلانے اور میرا سامان سکھانے کے بعد انہوں نے کشتی مرمت کرنے میں میری مدد بھی کی۔ 
اچھا... دیکھنے میں کیسے ہیں؟ پادری نے پوچھا۔
ایک چھوٹے قد کا ہے، اسکی کمر جھکی ہوئی ہے۔ بڑا ضعیف ہے، اور پادریوں والا چولا پہنتا ہے؛ کم و بیش سو سال کا تو ہو گا میرے حساب میں۔ اتنا بوڑھا ہے! اتنا بوڑھا ہے! کہ اسکی داڑھی کی سفیدی بھی اب ہری سی ہوئی جاتی ہے، لیکن ہر وقت  مسکراتا رہتا ہے، اور اسکا چہرہ تو جیسے کسی عرشوں سے اترے فرشتے کی طرح روشن ہے۔ دوسرا قدرے لمبا ہے، لیکن وہ بھی بہت بوڑھا ہے۔ پھٹا پرانا کسانوں والا سلُوکا پہنتا ہے۔ اسکی داڑھی چوڑی اور زردی مائل سلیٹی رنگ کی ہے، وہ مضبوط آدمی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اسکی مدد کرتا، اُس نے میری کشتی کو کھلونے کی طرح الٹا بھی دیا۔ وہ بھی، حلیم اور خوش مزاج ہے۔ تیسرے والا لمبا ہے ، داڑھی اسکی برف سفید اور گھٹنوں تک آتی ہے۔ وہ سنجیدہ ہے، بڑی بڑی بھونئوں والا؛ 

اس نے بس کمر کے گرد ایک لنگی سی باندھ رکھی ہے۔
انہوں نے تم سے کوئی بات کی؟ پادری نے پوچھا۔
زیادہ تر کام انہوں نے خاموشی سے کئے اور تو اور آپس میں بھی بہت کم بات کی۔ کوئی ایک بس نگاہ کرتا اور دوسرا اسکی بات سمجھ جاتا۔ میں نے لمبے والے سے پوچھا کہ کافی عرصے سے یہاں رہ رہے ہو؟   اس نے جواباً مجھے گھور کر دیکھا اور بڑبڑانے لگ پڑا، جیسے کہ غصے میں ہو۔ لیکن سب سے بوڑھے نے اسکا ہاتھ پکڑا اور مسکرایا، تو لمبے والا خاموش ہو گیا۔ پھر بابے نے مجھ سے مسکرا کر کہا، "ہم پر رحم کرو" ۔
مچھیرے کی گفتگو کے دوران جہاز کنارے کے کافی نزدیک جا پہنچا تھا۔
وہ دیکھیں، اب صاف نظر آ رہا ہے، اگر سرکار دیکھنا پسند فرمائیں تو، تاجر ہاتھ سے اس طرف اشارہ کر کے بولا۔
پادری نے دیکھا، اور اب کے اسے واقعی ہی سیاہ پٹی کی شکل میں جذیرہ دکھائی دیا۔ تھوڑی دیر اس پٹی کی جانب دیکھنے کے بعد وہ جہاز کے کنارے سے ہٹ گیا اور عرشے پر جا کر جہازی سے پوچھا
یہ کونسا جذیرہ ہے؟
وہ والا، ملاح بولا، بے نام ہے۔ اس جیسے بے شمار ہیں سمندر میں۔
کیا یہ سچ ہے کہ یہاں درویش تذکیہ نفس کی خاطر رہ رہے ہیں؟
ایسا ہی کہتے ہیں سرکار، سچ جھوٹ کا مجھے نہیں پتہ۔ مچھیرے دعوٰے کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھے ہیں، لیکن وہ آپکو پتہ ہے لمبی لمبی چھوڑتے ہیں۔
میرا دِل ہے کہ جذیرے پر رُک کر ان بندوں سے مِلوں۔ پادری نے کہا، لیکن کیسے؟
جہاز جزیرے کے بالکل پاس نہیں جا سکے گا، البتہ آپکو چھوٹی کشتی میں وہاں پہنچایا جا سکتا ہے۔ بہتر ہو گا آپ کپتان سے بات کریں۔
کپتان کو بلاوا بھیجا گیا تو وہ فوراً آ گیا۔ 
میں ان درویشوں کو مِلنا چاہتا ہوں، پادری نے کہا، مجھے ساحل تک پہنچا سکتے ہو؟
کپتان نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔
ہاں جی بالکل جا سکتے ہیں، وہ بولا لیکن وقت بہت ضائع ہو جائے گا۔ اور گستاخی معاف یہ بڈھے اس قابل نہیں کہ سرکار انکے لئے تکلیف کریں۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ ایویں پاگل بوڑھے ہیں، جنہیں کسی بات کی سمجھ ہی نہیں آتی، اور کچھ بولتے بھی نہیں، ایسے ہی ہیں جیسے سمندر کی مچھلیاں۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، پادری بولا۔ تمہارے وقت اور تکلیف اٹھانے کا میں معاوضہ ادا کروں گا۔ براہِ مہربانی کشتی کا بندوبست کروا دو۔
کوئی چارہ نہ چلا تو کپتان نے کشتی تیار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ملاحوں نے چپو اور پتوار تیار کئے، اور کشتی جذیرے کی جانب چل نکلی۔
 پادری کے لئے کشتی میں ایک کرسی رکھی گئی تھی، سارے مسافر جہاز کے کنارے پر ٹکے جذیرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ تیز نظر والوں کو وہاں پڑے پتھر دکھائی دے رہے تھے، پھر مٹی کی ایک جھونپڑی نظر آئی۔ بالآخر ایک بندے کو درویش بھی نظر آ گئے۔ کپتان نے دوربین نکالی اور اس سے ایک نظر دیکھ کر پادری کی جانب بڑھا دی۔ 
بات تو سچ لگتی ہے، تین بندے کھڑے ہیں ساحل پر۔ وہ، اس بڑی چٹان سے تھوڑا دائیں۔
پادری نے دوربین پکڑی، سیدھی کی اور تین بندوں کو دیکھا: ایک لمبا، ایک درمیانا، اور ایک بہت چھوٹا کُبڑا سا، ساحل پر ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے کھڑے۔
کپتان پادری کی طرف مڑا۔
سرکار جہاز مزید آگے نہیں جا سکتا، آپ ساحل پر جانا ہی چاہتے ہیں تو گزارش ہے کشتی میں تشریف لے جائیں تب تک ہم یہاں لنگر ڈال کر انتظار کرتے ہیں۔
رسا پھینکا لنگر ڈالا گیا، بادبان پھڑپھڑائے۔ ایک جھٹکا لگا، جہاز ہِل گیا۔ پھر کشتی کو پانی میں اتارا گیا، ایک ملاح چھلانگ مار کر کشتی میں اترا اسکے بعد پادری سیڑھی سے نیچے جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ بندوں نے چپو چلا کر کشتی کو تیزی سے جذیرے کی جانب لے جانا شروع کر دیا۔ جب وہ بہت قریب آ گئے تو انکو تین بندے دکھائی دیئے: ایک لنگی پوش لمبا، ایک مندھرا جس نے چیتھڑے سا سلوکا پہن رکھا تھا، اور ایک بہت بوڑھا۔۔۔ ضعف پیری کی وجہ سے جھکا ہوا، پرانی پوشاک پہنے ہوئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ تھامے کھڑے۔

بقیہ ایک آدھے دِن میں۔۔۔


جمعہ، 15 اکتوبر، 2010

ویلوٹ راکٹ۔۔۔ میکسیکو میں

میں نے یہ تحریر اکتوبر دو ہزار دس کو لندن میں لکھی۔
یہ واقعات جون انیس سو چھیانوے کو میکسیکو کے پیسیفک ساحلی علاقے میں پیش آئے تھے۔
پچھلی مرتبہ جب میں کیلیفورنیا گیا، تو میری نظر چند تصاویر پر پڑی، جو کہ میں نے انیس سو چھیانیوے میں میکسیکو کے ایک دورے پر کھینچی تھی۔ پہلے تو میں یہ تحریر عام جگہوں کے سفر کٹیگری میں ڈالنے لگا تھا، لیکن پھر میں نے اُس دورے کی صورتحال اور میکسیکو کی آجکل کے حالات کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ میں نے حساب لگایا کہ ویلوٹ راکٹ آج سے دس سال قبل میدانِ کار زار میں تھا، اور میکسیکو میں منشیات کے کاروبار پر تحقیقات کر رہا تھا، میکسیکو میں منشیات کے کاروبار کے عروج پر آنے سے بہت بہت پہلے۔ اب یہ "عمومی جگہوں" والی چیزیں تو بہرحال نہیں ہیں۔
کوئی بڑی بات تو نہیں، لیکن یہ دورہ میرے چند حالیہ دوروں سے متعلقہ تھا۔ صومالیہ اور افغانستان جیسی جگہیں میرے لئے کوئی غیر معمولی بات نہیں، بمشکل چل سکنے کی عمر میں کتابوں والی الماری پر چڑہ جانا، سائیکل لے کے اُلٹ پُلٹ جگہوں پر چلے جانا، تیز گاڑی چلانا، وغیرہ وغیرہ واقعات کا ایک تسلسل سا ہے۔ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے میرے ساتھ؟
بہرحال، میکسیکو پہنچنے کے بعد جلد ہی میں چند نئے میکسیکن جان پہچان والے لوگوں کے ساتھ پرانی کشتی میں تھا۔ ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کشتی کا انجن چنگھاڑ رہا تھا، شراب خانوں، ساحلوں، اور قحبہ خانوں سے بڑھ کر کسی دلچسپ چیز کی تلاش میں۔۔۔ بے چین ہو جاتا ہوں۔۔۔
دلچسپ چیزوں کی تلاش میں ہیں میں اس تصویر میں دکھائے گئے گائوں میں جا پہنچا


بھلے اس گائوں میں سڑکیں نہ ہوں، بجلی، ، پانی نہ ہو "ما سوائے گائوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے چشمے کے" ، یہاں بکریاں، اور بے تکلف لوگ بہت تھے۔ میرے خیال میں یہ ساحل پر بیٹھ کے جوس پینے سے لاکھ درجے بہتر ہے۔

گائوں والوں میں گھلنا ملنا گائوں کے چند لڑکوں کی وجہ سے اور بھی آسان ہو گیا تھا، ان لڑکوں سے میری کچھ دیر قبل واقفیت بنی تھی۔ کافی سارے تعارفوں، زبردست کھانے، تھوڑی سرویزا، اور بہت دیر بیٹھے رہنے کے بعد کسی نے مشورہ دیا کہ مجھے گائوں کی پچھلی جانب موجود پہاڑیوں کی سیر کروائی جائے۔ لڑکے تو گائوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی رہ گئے، لہٰذا میں چند دیہاتیوں کے ساتھ چل نکلا۔ ہمارے ساتھ ایک انگریزی بولنے سمجھنے والی لڑکی بھی تھی۔۔۔ آٹھ سال کی بچی۔۔۔
بہت خوبصورت منظر تھا۔ پہاڑیوں کو جنگل نے ڈھانپ رکھا تھا، اور سیدھی انکا اختتام سیدھے جا کے سمندر پر ہوتا تھا۔ ان پہاڑیوں پر یہ لوگ چرس کے وسیع کھیت بھی کاشت کرتے تھے۔ شاید لڑکوں کے کہنے کی وجہ سے، مجھے نفع بخش کاروباری موقع خیال کیا جا رہا تھا۔ چرس کے کھیتوں میں گھومتے گھومتے مجھ  سے ڈھیروں سوالات پوچھے گئے۔ اور یقین مانو مجھے آٹھ سال کے بچے سے اس موضوع پر بات کرنا بڑا عجیب لگا۔

میں کچھ خریدنا چاہوں گا؟انکا سودا زبردست ہے۔۔۔ اور حساب کتاب لگا لیں گے وغیرہ۔۔۔
تو پھر کیا میں اُنکے ساتھ کاروبار کروں گا؟ امریکی شہریوں کے لئے سرحد کے اس پار آنا جانا ہمیشہ سے بہت آسان رہا ہے نا۔
پھر میں نے بھی اُن سے ایک سوال پوچھا۔۔۔ تصویریں بنا لوں؟ نہ نہ تصویر مت بنانا امیگو۔۔۔


بالآخر جب انہیں اندازہ ہو گیا کہ میں کوئی نوخیز پابلو ایسکوبار یا کارلوس لیہڈر   نہیں ہوں ، انہوں نے مال بیچنے والی بات کا پیچھا تو چھوڑ دیا، لیکن پھر بھی وہ کافی بے تکلف تھے۔ مجھے جنگل کے بیچوں بیچ ایک آبشار بھی دکھائی گئی۔ پانی صاف اور ٹھنڈا تھا، دیکھ کر میرا دِل تو چاہ رہا تھا کہ ڈُبکی لگائوں تاکہ پسینہ اور دھول اُتر جائے۔

رات میں نے گائوں میں گزاری اور اگلے دن آگے بڑھ گیا۔


گائوں نیچے تصویر میں دکھائے گئے ساحل کے کنارے ہے۔۔۔ کٹائیوں کے دنوں میں، چرس کے گٹھے خچروں پر لاد کر پہاڑی سےنیچے لائے جاتے ہیں، اور پھر ان ماہی گیر کشتیوں پر لاد دیئے جاتے ہیں جہاں سے ان قیمتی گٹھوں کا شمال میں امریکہ کی طرف سفر شروع ہوتا ہے۔



اس گھر کے بارے میں مجھے بتایا گیا کہ یہ علاقے کے بڑے سمگلر کا ہے۔ اور اس گھر میں چلتا پانی، اور بجلی موجود تھی۔۔۔ جنریٹر کے ذریعے۔ جرائم سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کم از کم اس گائوں میں اس بات کے معنی مختلف ہوں گے۔



کافی دلچسپ اور معلوماتی دورہ تھا۔۔۔ میکسیکو کے لڑائی میں مصروف منشیات فروش گروہوں کے حالیہ پر تشدد واقعات اور بد اعتمادی کی باعث شاید آجکل تو ایسی سیر ناممکن ہو گی۔۔۔
یہ تحریر جسٹن ایمس کی درج ذیل بلاگ کا ترجمہ ہے

جمعہ، 8 اکتوبر، 2010

انسانی جسم میں پلنے والی عجوبہ چیزیں

آپ کے بدن میں کیا پرورش پا رہا ہے؟
 شاید آپکو نہ پتہ ہو لیکن۔۔۔ ہو سکتا ہے آپ کافی سارے جانداروں کی میزبانی کر رہے ہوں مثال کے طور پر سنڈیاں، پسو، مگٹ کیڑے، یا کبھی کبھار کوئی پودا۔ اور تو  اور حاملہ عورتیں جو یہ سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ انہیں معلوم ہے انکے جسم میں کیا ہے بھی نہیں جانتیں کہ انکے پیٹ میں دراصل کیا پرورش پا رہا ہے۔ اس پوسٹ میں کچھ غیر معمولی چیزوں کا تذکرہ  ہے، جو کہ آپ میں پرورش پا سکتی ہیں۔

 پھیپھڑوں کے پودے
مساچوسٹس کا ران سویڈن پچھلے سال ہسپتال بدترین خبر کی توقع  لے کر آیا تھا۔ بیمار تو وہ کافی عرصے سے تھا، لیکن تھوڑے دنوں سے اسکی صحت مزید خراب ہو رہی تھی۔ ایکسرے کے  مطابق اسکے بائیں پھیپھڑے میں کافی بڑا سیاہ دھبا تھا، لیکن  نمونے لینے کے بعد پتہ چلا کہ کم از کم کینسر تو نہیں ہے۔ پھر جب ڈاکٹروں  نے چیر پھاڑ کی تو انہیں ملا آدھا انچ لمبا کا مٹر کا پودا، بندے کے  پھیپھڑے میں اُگا ہوا۔ شاید کوئی کچا مٹر خوراک کی بجائے سانس کی نالی میں گھس گیا  تھا، اور پھیپھڑے کے گرم مرطوب ماحول کی وجہ سے اُگ پڑا۔ ایسا کم کم ہوتا ہے، لیکن بہرحال ہو سکتا ہے بقول مارک سیگل ایسوسی ایٹ  پروفیسر نیو یارک سکول آف میڈیسن۔

مگٹ موٹل
جو لوگ کچھ عرصہ قبل کسی بارانی جنگلاتی علاقے سے ہو کر آئے ہیں  ہو سکتا ہے وہ کیڑا نوشی کا شکار ہو چکے ہوں۔ عام طور پر، بارانی جنگلاتی مکھی کسی مچھر یا سوکھنے ڈالے گئے کپڑوں پر انڈے دے جاتی ہے۔ اب جب یہ مچھر، کیڑا، یا چیز کسی بندے کی جلد سے ٹکراتا ہے تو لاروے منتقل ہو جاتے ہیں، بقول جیمز نارڈلنڈ ڈرماٹالوجی  پروفیسر رائٹ سٹیٹ سکول آف میڈیسن ڈیٹن اوہائیو۔
یہ انڈے کیڑوں جیسے لارووں عرف مگٹ کو جنم دیتے ہیں۔ جو  کہ جلد میں دبے پڑے رہتے ہیں، اور چھوٹا سا ابھار بنا دیتے ہیں۔


یہ ابھار مگٹوں کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا ہے، حتٰی کہ مگٹ ایک انچ تک لمبے ہو جاتے ہیں۔ یہ ابھار دردناک بھی ہو سکتا ہے، اور اس میں سے مواد بھی رِس سکتا ہے، اس میں کلبلاہٹ بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھار تو لاروے نظر تک آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر تو آپ انتظار کر سکتے ہیں تو ایک سے تین ماہ میں لاروے جلد پھاڑ کر باہر نکل آئیں گے۔ لیکن نارڈلنڈ کا کہنا ہے کہ، ویسلین لگا  کر مگٹوں کا سانس بند کریں تو انہیں جلدی بار نکلنے پر مجبور کیا  جا سکتا ہےیا ڈاکٹر کی مدد سے بھی انہیں نکالا جا سکتا ہے۔


 دماغ میں مگٹ 
جلد میں رہائش پذیر ہونے کے علاوہ، برساتی مکھیاں کبھی کبھار کان، ناک، یا آنکھ میں بھی انڈے دے جاتی ہیں۔ اور ان جگہوں پر جب انڈے سے لاروا، کیڑا، یا مکھی بننے کا مطلب ہے بڑی مصیبت۔ ڈیوڈ ایزمین کے مطابق یہ غلط فہمی ہے کہ  مگٹ صرف جسم  کے مردہ ریشے کھاتے ہیں، بلکہ یہ تو صحیح سلامت ریشوں کو بھی  صحیح سلامت کھا جاتے ہیں۔ کان کے اندر، دبے ہوئے لاروے کی وجہ سے ہو سکتا ہے بدبودار  مادہ رسے، یا بھنبھناہٹ کی آواز آئے، بقول احمد میساحل سرجن سائوتھ مانچسٹر یونیورسٹی ہسپتال انگلستان۔ وہ کہتے ہیں، ناک میں  مگٹ ہو تو ناک بند ہو سکتا ہے، ناک سے خون آ سکتا ہے، یا بدبودار مادہ رس سکتا ہے۔ خود سوچیں جس بندے کے ناک سے بدبودار مادہ رسے گا اسکی حالت کیا ہو گی، رومال رکھ کر ناک بند بھی نہیں کر سکے گا۔ البتہ سب سے خطرناک لیکن نادر صورت وہ ہوتی ہے جب بھوکا لاروا ریشے کھاتا کھاتا دماغ تک جا پہنچے، وہاں یہ خاصہ نقصان کر سکتا ہے۔آنکھ کے اردگرد، مساحل کہتے ہیں، لاروا کی وجہ سے درد، خارش، آنکھوں سے پانی بہنا، اور پپوٹوں کا سوج جانا ممکن ہے۔ اور اگر لاروا آنکھ کی گولی میں جا پہنچے تو تاخیر کی صورت میں مریض کو اندھا بھی کر سکتا ہے۔

ساحل کے شیطان
ساحل پر ننگے پائوں چلنے سے ہو سکتا ہے آپکی جلد میں کُتوں  اور بلیوں پر پائے جانے والے ننھے کیڑوں کے بچے گھس جائیں۔  اسکے بعد یہ شتونگڑے جلد کے نیچے بے مقصد گھومتے پھرتے ہیں۔ اس وجہ سے جلد پر آڑھی ترچھی خارش ہو جاتی ہے، اور ہر گھنٹے بعد تقریباً ایک سینٹی میٹر مزید پھیل جاتی ہے۔ 
سکے علاوہ ایک اور قسم کا کیڑا عام طور پر پائوں کی جلد میں گھس کر سفید رنگ  کا درمیان سے کالا ابھار بنا دیتا ہے۔ علاج کے طور پر ڈاکٹر کو جلد کاٹ کر کیڑا نکالنا پڑتا ہے۔

 فیتے جیسے کیڑے
بڑی عجیب بات ہے۔۔۔ لیکن ٹیپ ورم یا چپٹے کیڑے کی عمر بیس سال تک ہو سکتی ہے، اور اس عرصے میں اسکی لمبائی پچاس فٹ تک جا سکتی ہے۔ عام طور پر چپٹے کیڑوں کا بیج لاروے کی شکل میں خوراک کے راستے جسم میں پہنچتا ہے۔ لاروے آنتوں میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں میں انکی موجودگی کی علامات ظاہر نہیں ہوتی، لیکن کچھ لوگوں کی بھوک کم ہو جاتی ہے، وزن کم ہو جاتا ہے، بےچینی رہتی ہے، ہیضہ اور کمزوری  ہو جاتے ہیں۔
آنتوں کے کیڑوں کا علاج دوایوں سے ممکن ہے۔ البتہ اگر کسی نے چپٹے کیڑوں کے انڈے کھا لئے تو حالات کافی  خراب ہو سکتے ہیں۔ یہ انڈے آنتوں کی دیواروں سے گزر کر دورانِ خون میں شامل ہو سکتے ہیں اور نشونما پانا شروع کر دیتے ہیں۔ اسکے بعد یہ جسم میں سفر کرتے رہتے ہیں حتٰی کہ یہ کہیں جا پھنستے ہیں، اور رسولی بنا دیتے ہیں، بقول لوئیس اوسٹروسکی ایسوسی ایٹ پروفیسر میڈیسن یونیورسٹی آف ٹیکساس میڈیکل سکول ہیوسٹن۔ دھیان رہے کہ ٹیومر یا کینسر کی وجہ سے بھی رسولی ہی بنتی ہے لیکن وہ اور چیز ہے۔ جس رسولی کی میں بات کر رہا ہوں اسکی لئےسی وائے ایس ٹی سسٹ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ نتیجے کے طور پر پیدا ہونے والی علامات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ رسولی ہے کس جگہ پر، مثلاً  دماغ میں، جو کہ خاص طور پر نازک جگہ ہے۔ اگر ایسا ہو جائے توسر درد، دماغی صلاحیت میں کمی، دورے پڑنے کی شکایت، یا موت تک واقع ہو سکتی ہے۔

 مزید بدتمیز کیڑے
چمونے جسامت میں بہت بڑے نہیں ہوتے لیکن ان میں تنگ کر  دینے کی صلاحیت وافر ہوتی ہے۔ چمونوں کے انڈے انسانی جسم میں آلودہ خوراک یا گندے ہاتھوں کے راستے پہنچتے ہیں۔ ایک  مرتبہ آپ نے کھا لئے تو یہ آنتوں میں پہنچ جاتے ہیں، وہاں ان سے بچے نکل آتے ہیں، اور جلد ہی چھیل چھبیلے نوجوان بن جاتے ہیں۔ اسکے بعد جب بندہ سوتا ہے، مادہ چمونیوں کے گروہ پوٹی والی جگہ پر اکٹھے ہو کر آس پاس کی جلد پر انڈے دے جاتی ہیں۔ کافی لوگوں میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتی، لیکن کچھ کو پوٹی والی جگہ پر خارش ہوتی ہے، یا نیند ٹھیک سے نیند نہیں آتی۔ بچوں میں چمونے پڑ جانا عام بیماری ہے۔ کیونکہ چھوٹے چھوٹے انڈے تقریباً کسی بھی چیز پر چپک سکتے ہیں۔۔۔ کھلونے، تولیے،  باتھ روم، چادریں۔۔۔ اور ان جگہوں پر یہ دو ہفتے تک زندہ رہ سکتے ہیں بقول اناتولی بیلیووسکی، ماہر امراض بچگان نیویارک۔  خوش قسمتی سے اس انفیکشن کا علاج ادویات سے ممکن ہے۔ بلکہ عام طور پر بار بار ہاتھ دھونا بھی اس مصیبت سے بچا سکتا ہے۔

پیٹ میں حمل
حمل کی صحیح اور محفوظ جگہ بچہ دانی ہوتی ہے۔ البتہ تقریباً دو فیصد کیسز میں بیج کہیں اور جا پہنچتا ہے۔ زیادہ تر غلط جگہ پر ہونے والے حمل پیٹ کے فیلوپین ٹیوب نامی حصے میں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار البتہ یہ پیٹ کے دوسرے حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں، ایسی صورتحال کو پیٹ کا حمل کہتے ہیں۔ ایسا حمل ماں اور بچے دونوں کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا  ہے۔ اگر پہلے پتہ چلا جائے، تو ایسے حمل کو ادویات سے یا سرجری کر کے ساقط کر دیا جاتا ہے۔ چند مواقع پر بہرحال حمل کی مدت پوری ہونے کے بعد سیسارین آپریش کر کے ایسے بچے پیدا بھی کئے گئے ہیں۔ لیکن یہ بہت دشوار کام ہے۔ بچے کو پیٹ میں زندہ رکھنے والے دیگر لوازمات کا کچھ حصہ عام طور پر پیٹ کے اندر ہی رہ جاتا ہے، جسے کہ مکمل طور پر صاف کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

یہ تحریرایم ایس این ہیلتھ کے درج ذیل آرٹیکل کا ترجمہ ہے
 http://health.msn.com/health-topics/slideshow.aspx?cp-documentid=100264049&imageindex=1

منگل، 28 ستمبر، 2010

مائیکرو سافٹ لائیو سپیسز کی چھٹی

مائیکرو سافٹ سپیسز کی چُھٹی۔۔۔ ورڈ پریس ڈاٹ کام
 

سے ڈیل

تقریبًا چھے سال قبل مائیکروسافٹ نے اپنا بلاگنگ پلیٹ فارم ونڈوز لائیو سپیسز لانچ کیا تھا۔  اور اب اس پلیٹ فارم (اڈہ؟) کو باقاعدہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ لائیو سپیسز کے یوزرز کی خاطر مائیکرسافٹ نے ورڈپریس ڈاٹ کام کے ساتھ ساجھے داری کا اعلان کیا ہے۔ مائیکرسافٹ اور ورڈ پریس کی مالک کمپنی آٹومیٹک کے مابین ہونے والی ڈیل ریڈمنڈ والوں کا اپنی انٹرنیٹ پر موجودگی کو مضبوط کرنے کا حالیہ حربہ ہے۔ اس سے پہلے مائیکرسافٹ فیس بک، ٹوٹر، اور لنکڈ ان کے ساتھ مختلف محاظوں مسئلاً انٹرنیٹ سرچ میں گوگل کا مقابلہ پر مل کر کام کر رہا ہے۔
دونوں کمپنیوں نے یہ اعلان سانفرانسسکو میں ٹیک کرنچ ڈسرپٹ کانفرنس کے موقع پر کیا۔ دنیش مہتا ونڈوز لائیو پراڈکٹ مینیجمنٹ کے ڈائیرکٹراپنی بلاگ پوسٹ میں کہتے ہیں کہ"آٹومیٹک شاندار لوگوں سے بھری ہوئی کمپنی ہے، ان لوگوں کی تمام
توجہ بلاگنگ کو بہتر سے بہتر بنانے پر مرکوز ہے اس لئے بجائے ونڈوز لائیو اپنے وسائل بلاگنگ میں خرچ کرے، ہم نے فیصلہ کیا کہ گاہکوں کی بہتری کے لئے انہیں ورڈ پریس کے ذریعے ایک شاندار بلاگنگ پلیٹفارم مہیا کریں گے"۔ ٹیک کرنچ کے سٹیج پر بات کرتے ہوئے دنیش نے کہا کہ اس وقت
ونڈوز لائیو سپیسز پر تقریباً سات ملین بلاگ موجود ہیں۔
سپیسز استعمال کرنے والوں کے پاس ابھی ورڈ پریس پر جانے کے لئے چھے ماہ ہیں، اس کام کےلئے ایک خصوصی یوٹیلٹی تیار کی گئی ہے جو کہ تحریروں، تصویروں، اور دیگر مواد کی منتقلی میں معاون ثابت ہو گی۔ ہجرت کی وجہ سے یو آر ایل یا ویب ایڈریس میں ہونے والی تبدیلیوں کی ذمہ داری بھی دونوں کمپنیوں نے اٹھائی ہے۔ کمپنیاں مسنجر کنیکٹ کے نام سے ورڈ پریس کے یوزرز کے لئے ایک سہولت بھی متعارف کروائیں گی، جسے استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی تحریریں ونڈوز لائیو کے روابط کو دکھا سکیں گے۔
ونڈوز لائیو سپیسز پر بنائے جانے والے نئے بلاگ ورڈ پریس ڈاٹ کام کے بلاگ ہوں گے۔ اسکے علاوہ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اسکا ونڈوز لائیو رائٹر مستقبل میں ورڈ پریس ڈاٹ کوم کو اپنے بنیادی بلاگنگ سروس کے طور پر استعمال کرے گا، کمپنی یہ خصوصیت اسی سال کے آخری حصے میں ونڈوز لائیو اسنشلز دو ہزار گیارہ سافٹ ویئر پیکج میں متعارف کروائے گی۔
اس تحریر کا ماخذ
http://www.techflash.com/seattle/2010/09/microsoft_upgrades_spaces_to_wordpresscom_ends_its_blog_platform.html

اتوار، 18 اکتوبر، 2009

مغل اشرافیہ کی ابتری


یہ تحریر ڈاکٹر مبارک علی کی ایک تحریر کا اردو ترجمہ ہے، جو کہ انگریزی روزنامہ ڈان میں اٹھارہ اکتوبر دو ہزار نو کو چھپی تھی۔
قرونِ وسطٰی میں ہندوستان کا معاشرہ بُرے طریقے سے تقسیم کا شکار اور دو طرح کے گروہوں میں تقسیم تھا۔: مراعات یافتہ لوگ، اور عام لوگ۔ جن کا تعلق امیر طبقے سے تھا وہ خود کو برتر اور قانون سے بالاتر تصور کرتے تھے۔ جاگیرداروں کو اپنی جاگیروں میں رعایا پر مکمل اختیار حاصل تھا اور اُنہیں معمولی جرم یا نافرمانی پر سزا دیتے تھے۔ اپنی رعایا کو فرمانبراد اور وفادار رکھنے کے لیے وہ ہر طرح کے خوفزدہ کرنے والے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے، اور تشدد، قید کرنے کو، اور پھانسی تک دینےکو اپنا حق سمجھتے تھے۔

اُنکی رعایا اُنکے رحم و کرم پہ تھی اور اُنکے وحشیانہ سلوک پر احتجاج کے طور پہ بول بھی نہیں سکتے تھے۔ مثلاً شجاع الدولہ اودھ کا کا نواب وزیر اور ایک طاقتور مقتدر تھا، اُسکے حرم میں عورتوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ ایک مرتبہ اُسنے ایک خوبصورت کھتری عورت کو اغواء کر لیا، اُسکے ساتھ زیادتی کی، اور اپنے محل سے باہر پھینک دیا۔ کھتری برادری نے اس حادثے کے خلاف احتجاج کیا لیکن بے سود، کیونکہ طاقتور لوگوں کے خلاف عام لوگوں کی کہیں سُنی نہیں جاتی تھی۔

اشرافیہ، اپنے حلقوں میں بھی ایک دوسرے کے خلاف جراءم کرتے رہتے تھے۔ جنکے پاس وساءل ہوتے تھے اُنکو کوءی سزا نہیں ملتی تھی۔ احمد شاہ کے دورِ حکومت میں(1748 - 1754) می اُسکا دِل پسند خواجہ سرا جاوید خان بہت با اثر ہو گیا تھا، اور یہ بات کچھھ امراء کو پسند نہیں تھی۔ ایک دِن ایک مقتر صفدر جنگ نے اُسے رات کے کھانے پہ بُلایا اور قتل کر دیا۔ بادشاہ اِس بات پر خاءف ہوا لیکن کمزور ہونے کی وجہ سے کچھ بھی نہ کر سکا۔

جیسے جیسے ادارے ٹوٹتے گءے اور بادشاہ کمزور ہوتے گءے، مغل اشرافیہ اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے اور خود کو مستحکم کرنے کے لیے سازشوں کا سہارا لیتے۔ اُنکے مخالفین کو انعامات اور اعلٰی مقام ملنا اُنکے لیے ناقابلِ برداشت تھا، اور ایسا ہونے سے روکنے کے لیے وہ تمام ذراءع استعمال کر کے کوششیں کرتے رہتے تھے۔ مثال کے طور پہ احمد شاہ کے دورِ حکومت میں سعادت خان بُرہان الُلک امیر الاُمراء بننے کا امیدوار تھا لیکن جب عہدہ نظام المُلک کو دے دیا گیا تو وہ نادر شاہ کے پاس گیا، جو کہ مغل بادشاہ کے ساتھ امن معاہدہ کر کے واپس جانے کیا تیاری کر رہا تھا۔ سعادت خان نے نادر شاہ کو بتایا کہ دو کڑوڑ روپے کی رقم جو کہ اُسے امن معاہدے کے نتیجے میں ملی تھی اُسکے شایانِ شان نہیں تھی، اور وہ، بطور مغیہ رءیس یہ چھوٹی سی رقم اُسکے خزانے کے لیے دے سکتا تھا۔ اُسنے نادر شاہ کو شہر پہ قبضہ کرنے اور شاہی خزانے کو لوٹنے پہ اُکسایا۔ نادر شاہ نے، اُسکے مشورے پر عمل کرتے ہوءے، دہلی پر قبضہ کر لیا اور صدیوں پُرانے خزانے کو ایران لے گیا۔

جیسے جیسے اشرافیہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتی گءی، اُنکی بلند بانگ خطابات حاصل کرنے کی خواہش بڑہتی گءی۔۔۔ شاید اپنے کھوکھلے پن پہ پردہ ڈالنے کے لیے۔ ان خطابات کا اختتام خان، بہادر، دولہ، جنگ، اور مُلک پر ہوتا تھا۔ جن امراء کو یہ خطابات دیے جاتے تھے اُن میں ایسی کوءی خصوصیت نہیں ہوتی تھی جسکا اظہار یہ خطابات کرتے تھے۔ جنہیں بہادر یا جنگ کا خطاب دیا جاتا تحا وہ اس قابل نہیں تھے کہ میدانِ جنگ میں افواج کی قیادت کریں یا بہادری سے لڑسکیں۔ جنکے ناموں کے ساتھ امین یا اعتماد کے خطاب لگے تھے وہ ذاتی مفادات کے لیے دھوکہ دینے کی تاک میں ہوتے تھے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ جیسے جیسے مغل سلطنت کمزور ہوتی جا رہی تھی، اشرافیہ کے خطابات اور بڑے اور شاندار ہوتے جا رہے تھے۔

جیسے جیسے اشرافیہ کی کارکردگی خراب ہوتی گءی، معاشرے میں اُنکی عزت ختم ہو گءی۔ بہر حال معاشرے میں عزت حاصل کرنے کے لیے وہ اپنی طاقت اور دولت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ بڑے اہتمام سے ریشم اور مہنگے کپڑے سے بنے ملبوسات پہنتے تھے۔ اپنے عماموں میں چمکدار ہیرے لگاتے تھے، اور اپنے جسموں کو خوبصورت بنانے کے لیے مختلف زیورات سے سجاتے تھے۔ جب بھی باہر جاتے، ہاتھی یا پالکی کو سواری کے لیے استعمال کرتے۔ اُنکے جلوس کے سامنے خادموں کی بڑی تعداد اُنکا راستہ صاف کرتی، حالانکہ اُن بیچاروں کو باقاعدگی سے تنخواہیں بھی نہیں ملتی تھیں۔

اِس سے پتہ چلتا ہے کہ اشرافیہ کو اپنے مقام کا بڑا خیال تھا اور وہ لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے دکھاوے کے تمام ذراءع استعمال کرتے تھے۔ بہرحال لوگوں کا نقطہ نظر کافی مختلف تھا۔ وہ نہ تو بلند بانگ خطابات سے متاثر تھے، اور نہ ہی دولت سے، اور اشرافیہ کو ناپسند کرتے تھے اُنہیں بدکردار، بے ایمان، سُست، اور بدچلن لوگ سمجھتے ہوءے۔ جعفر زطالی ایک شاعر تھا جسے فرخ سیار(1713 - 1719) کے دور میں قتل کر دیا گیا تھا، کیونکہ اُس نے بادشاہ کی تاجپوشی پر طنزیہ شاعری لکھی تھی، اُس نے نہ صرف بادشاہ پر تنقید کی تھی بلکہ اشرافیہ کو بھی اُنکی قابلِ شرم کردار پہ ہدفِ تنقید بنایا تھا۔

اگر ہم آج کے دور کا موازنہ ماضی سے کریں، تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے امیر طبقات بھی مغلیہ سلطنت کے زوال کے دنوں کی اشرافیہ جیسی حرکات کر رہے ہیں۔ وہ خود کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں، اپنی کمزوریاں چھپانے کے لیے دولت کا استعمال کرتے ہیں، اور عام لوگوں کو وی وی آءی پی کلچر سے دور رکھتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ عوام میں اُنکی کوءی عزت نہیں ہے بلکہ صرف ناراضگی ہے۔

ہمارے جاگیر داروں کا رویہ اپنے کسانوں کے ساتھ ویسا ہی ہے جیسا قرونِ وسطٰی جاگیر داروں گا تھا؛ وہ اُنکے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے ہیں، انہیں ذاتی جیلوں میں رکھتے ہیں، اور چھوٹے موٹے جراءم پر اُنہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

پیر، 13 جولائی، 2009

طاقت کا تنزل


یہ ڈاکٹر مبارک علی کی ایک تحریر کا ترجمہ ہے، جو کہ بارہ جولاءی ۲۰۰۹ بروز اتوار انگریزی روزنامہ ڈان میں چھپی تھی۔

طاقت کا تنزل
کسی سلطنت کے گرنے کی تاریخ پڑھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تباہی بالکل اچانک نہیں آتی بلکہ آہستہ اور بتدریج ہوتی ہے، جوکہ سیاسی، سماجی، اور معاشی بنیادوں کو اتنا کمزور کر دیتی ہے کہ گرتی ہوءی دیوار کو کسی معمولی حادثے یا سانحے کا دھکا ہی کافی ہوتا ہے۔
ایسی ایک مثال مغل سلطنت ہے جس کی بنیاد بابر نے (1526 - 30) رکھی تھی۔ اس سلطنت کو اکبر نے (1556 - 1605) پھیلایا اور مضبوط کیا، اکبر نے ریاست کے ادارے بڑے مکمل طریقے سے ترتیب دیے۔ ان اداروں کی تفصیلات اور انکے بناءے جانے کی روداد ابوالفضل کی کتاب "عنایہ اکبری" میں لکھی ہیں، اور ان سے اکبر کی عقلمندی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ ادارے شاندار طریقے سے کام کرتے رہے جب تک کہ صورتحال ان کے کام کرنے کے لیے ٹھیک تھی۔ بہرحال، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نءے مساءل پیدا ہوءے اور نءی طاقتیں وجود میں آءیں جن سے نمٹنے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت تھی۔
مغل ریاست ایسی تبدیلیاں لانے میں ناکام رہی اور پرانے نظام کو جاری رکھنے پر ہی زور دیتی رہی کیونکہ یہ نظام "منصب داروں" کو فاءدے اور سہولتیں مہیا کرتا تھا، منصب دار بیورو کریٹس یا سرکاری افسر تھے جو کہ حکومت میں اونچے مرتبے اور مقام کے مزے لوٹ رہے تھے۔ اُن کی ملکیت میں زمینیں تھیں، وہ دولت رکھتے تھے، اور انہیں بڑے خطابات دیے گءے تھے جن کی وجہ سے معاشرے میں انکا مقام اونچا سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں آنے والے وقتوں میں زیادہ تر منصب داروں میں وہ معیار، عقلمندی، اور فرض شناسی نہیں تھی جو کہ ان سے پہلے والوں کا خاصہ تھی۔ افسر شاہی کے اس نظام میں انتطامی مساءل کو ٹھیک طرح سے تقسیم نہ کیا جا سکا اور اسکے نتیجے میں ریاست کمزور ہوءی اور اپنی رِٹ کھو بیٹھی۔
درباری بھی نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو چکے تھے مثلاً تورانی (وسط ایشیاء کے لوگ) ، ایرانی اور راجپوت، اس وجہ سے خانہ جنگی اور گروہی فسادات ہوءے، جنکی وجہ سے شاہ اور درباریوں کے تعلقات خراب ہو گءے۔ ہر آنے والا بادشاہ کسی نہ کسی گروہ کے ہاتھوں کھلونا بن جاتا اور انکے مفادات کے لیے استعمال ہوتا رہتا۔ مثال کے طور پر سید برادران اتنے طاقتور تھے کہ بادشاہ بنانے والے مانے جاتے تھے۔
بعد میں آنے والے وقتوں کی سب سے بڑی خاصیت علاقاءی طاقتوں کا اٹھ کھڑے ہونا تھا جن میں کہ مرہٹے، راجپوت، سکھھ، جاٹ، اور روہیلے شامل تھے۔ مغل سلطنت اور درباری ایسے وطن پرست جذبات کو نہیں مانتے تھے اور انہیں قطعاً کوءی جگہ دینے کو تیار نہیں تھے۔ جب ان قوتوں نے بغاوت کی، مغل سلطنت نے اسے اپنی طاقت کے خلاف ایک سنجیدہ خطرہ سمجھا اور بجاءے ان سے مذاکرات کرنے کے یا انکو حکومتی نظام میں شامل کرنے کے انہیں کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ سلطنت کے خلاف بغاوت کو بڑا جرم سمجھا جاتا تھا اور اس سے نمٹنے کا صرف ایک ہی حل، فوج کا استعمال تھا۔
نتیجے کے طور پر ریاست لڑاءیوں کے ایک تسلسل میں پھنس کے رہ گءی اور اسے فوجی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، اٹھارویں صدی کے اختتام تک اسکے پاس یہ خرچے پورے کرنے کے لیے وساءل ہی نہیں تھے۔ ریاست کا فوجی نظام اب قوم پرست جذبات سے لبریز علاقاءی فوجوں کا سامنا کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔ اسکے علاوہ اعلانِ جنگ نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر کے فریقین کے درمیان شدید نفرت پیدا کر دی تھی۔
مغل فوجوں نے "بندہ بیراگی" کو شکست دی، جس نے کہ فرخ سیار (1713 - 19) کے دور میں پنجاب میں بغاوت کا معیار بہتر بنایا۔ اسے قیدی بنا کر 1716 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ سکھھ برادری اسی بنیاد پر اُسے اپنا ہیرو سمجھتی تھی، اور انہوں نے مغل سلطنت سے جنگ جاری رکھی۔ بھرت پور کا سورج مل جاٹ (1707 - 1763) اس قدر طاقتور تھا کہ دارالحکومت کے گرد و نواح میں چھاپے مارتا اور لوٹ مار کرتا جبکہ مغل سلطنت اسکا مقابلہ کرنے سے قاصر تھی۔ ان مخالفتوں کے نتیجے میں لوگوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کر لی اور علاقاءی حکمرانوں کے ساتھ لگ گءے، مغل بادشاہ اور ریاست باکل بے اختیار ہو گءے۔
ماضی کا مقابلہ حال سے کریں تو ہم تاریخ سے کچھ سبق سیکھ سکتے ہیں۔ پاکستانی افسر شاہی اپنے اختیارات اور رعایتوں کی وجہ سے ریاست کے خزانے پر ایک مالی بوجھھ بن چکی ہے۔ معاشرے کے نت نءے مساءل کا سامنہ کرنے کے لیے بالکل نا موزوں ہو چکی ہے اور بے ایمانی نے اسکی دیانت اور صلاحیت کو بالکل مغل منصبداری نظام کی طرح متاثر کیا ہے۔ حکومت کرنا ایک مسءلہ بن چکا ہے جسے کہ یہ افسر شاہی حل کرنے میں ناکام ہے۔
سیاسی جماعتوں میں طاقت اور اختیارات حاصل کرنے کے لیے گروہی اختلافات نے بدنظمی اور انارکی پھیلا رکھی ہے۔ یہ سب دیکھھ کر مغل درباریوں کی تمام اخلاقی حدود سے گری ہوءی سازشیں یاد آتی ہیں۔
بلوچستان، سندھ، اور سرحد میں علاقاءی تحریکوں کا اٹھھ کھڑے ہونا نظر انداز کیا جا رہا ہے اور مقتدر طبقہ اسے حکارت کی نظر سے دیکھتا ہے، بالکل مغل ریاست کی طرح۔ جو افراد ریاست کی زور آوری پر مزاحمت کرتے ہیں انہیں گرفتار کر کے تکالیف پہنچاءی جاتی ہیں اور پھر بندہ بیراگی کی طرح قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ ہے کہ اُن علاقوں کے لوگ ملک سے وفاداریاں تبدیل کر کے علاقے سے نبھا رہے ہیں۔ علاقاءی پہچان اب ملکی پہچان کے مقابلے میں برتر ہے اور غیرت کا مسءلہ بن چکی ہے۔
صوبہ سرحد میں حالیہ جنگ نے فوج کو ایک ایسی صورتحال میں پھنسا دیا تھا جو کہ آسانی سے حل نہیں ہو سکتی تھی بالکل سورج مل جاٹ کی طرح، جس نے کہ اپنی ایک الگ ریاست بنا لی تھی، مغلوں سے آزاد۔
نتیجے کے طور پر پاکستانی ریاست اور اسکے ادارے اپنا بھروسہ اور وقار کھو چکے ہیں۔ سیاسی اور مالی طور پر ریاست اس قدر کمزور ہے کہ اسکی زندگی اپنے وساءل کے بجاءے بیرونی امداد کی مرہونِ منت ہے۔ یہ بھی ایک کٹھھ پتلی ریاست بنتی جا رہی ہے مغلوں کی طرح سے جنہوں نے کہ پہلے مرہٹوں کی اور پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کی طاقت کا سہارا لیا تھا۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer