آن لائن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آن لائن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 11 نومبر، 2011

پاکستان، ہندوستان اور Amazon Mechanical Turk

amazon-mechanical-turk-mturk-home

 امازون ڈاٹ کام امریکہ کا بہت بڑا آنلائن شاپنگ سٹور ہے۔ اس سٹور کا نام شمالی امریکہ کے دوسرے بڑے دریا امازون کے نامر پر ہے۔ امازون ڈاٹ کام حالیہ سالوں میں صرف شاپنگ سٹور سے بڑھ کر ایک بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے، انہوں نے کِنڈل نامی ای بک ریڈر بنا کر کتاب پڑھنے والوں کی دنیا تبدیل کر دی ہے، اور اسکے علاوہ یہ مختلف خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں۔

امازون مکینکل ترک کیا ہے؟
ایم ترک پر مختلف لوگ ایسے ہیومن انٹیلیجنس ٹاسک فروخت کے لئے رکھتے ہیں جو کہ کمپیوٹر سر انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر
کسی تحریر کا خلاصہ لکھنا -
انگریزی آڈیو بیان کو سن کر ٹائپ کرنا، یا ٹرانسکرپشن -
انگریزی ویڈیو کی ٹرانسکرپشن -
دی گئی تصاویر میں سے ایسی کی نشاندہی کرنا جن میں آگ یا دھواں ہو -
عربی، ہسپانوی، یا کسی اور زبان میں لکھے جملوں کوبول کر ریکارڈ کرنا -
دیئے گئے ٹویٹس کی درجہ بندی کرنا -

ایم ترک پر برائے فروخت کاموں کی اجرت انکی پیچیدگی کے حساب سے ہوتی ہے، یہ اجرت ایک سینٹ سے لے کر دس ڈالرتک ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی فرد ایم ترک پر رجسٹر ہو کے ہیومن انٹیلی جنس ٹاسک مکمل کر سکتا ہے، اگر آجر آپکے کام سے مطمئن ہو گا تو وہ کام کو مکمل تسلیم کر کے اجرت ادا کر دے گا۔

میرے اندازے میں ایم ترک پر چار سے چھے گھنٹے کام کر کے کوئی بھی پڑھا لکھا فرد ماہانہ تین سے پانچ سو ڈالر با آسانی کما سکتا ہے۔ میں نے تجرباتی طور پر چار دِن ایک گھنٹہ روزانہ کام کیا، چار اعشاریہ تیس ڈالر اجرت اور تیس سینٹ بونس   میں آئے۔ اس وقت ایم ترک پر دو لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھوٹے بڑے ٹاسک موجود 
ہیں۔
ہارڈ کور کمپیوٹر پروفیشنلز کی اکثریت اوڈیسک اور ای لانس جیسی ویب ساٹئس پر فری لانس کام کر رہی ہے، لیکن ایم ترک ایسے لوگوں کے لئے ہے جو صرف کمپیوٹر استعمال کر کے ترجمہ، خلاصہ وغیرہ جیسے کام کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اس کہانی کے ٹریجک ڈراپ سین کی طرف۔
امازون ایم ترک پر کئے گئے کام کے پیسے صرف امریکہ اور ہندوستان میں ہی ٹرانسفر کئے جاتے ہیں، پاکستان یا دنیا کے کسی اور ملک سے کام کرنے والے لوگوں کو نقد پیسے نہیں دیئے جاتے بلکہ کئے گئے کام کے بدلے آپ صرف امازون سے شاپنگ کر سکتے ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہندوستان والے امازون کو منا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
میاں شہباز شریف صاحب کی ٹیکسی روزگار سکیم سے جتنے پڑھے لکھے لوگوں کو روزگار مِلے گا، لگ بھگ اتنے ہی لوگوں کو امازون ایم ترک پر بھی کام مِل سکتا ہے۔ خیال رہے کہ ایسا کرنے پر خرچہ برائے نام آئے گا، جو پیسے خرچ ہوں گے وہ ہمارے بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کے امریکہ دوروں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہائش، اور دھواں دھار پبلسٹی پر ہی خرچ ہوں گے۔
المختصر، امازون ایم ترک پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا یک بڑا موثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے اگر کوئی کوشش کرے تو۔


تجاویز
حکومتی سطح پر امازون کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، اور انہیں پاکستان کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
اس مقصد کے لئے وطن کارڈ کی طرز پر خصوصی اے ٹی ایم کارڈ بھی جاری کئے جاسکتے ہیں۔
گورنمنٹ اگر چاہے تو ان کارڈز میں آنے والے پیسے میں سے پانچ فیصد ٹیکس بھی کاٹ سکتی ہے۔
یہ کارڈ ایشو کرنے والے بینک یا پاکستان پوسٹ ڈھائی فیصد تک انتظامی اخراجات کاٹ سکتے ہیں، یا پھر سالانہ پانچ سو روپے فِکس کر لیں۔

نوٹ: کچھ ایسا ہی معاملہ پے پال کا بھی ہے، انہوں نے پاکستان آنے کی کوشش تو کی تھی لیکن ہمارا بینکنگ نظام انکی سمجھ میں نہیں آیا۔
نوٹ: اس امر میں پاشا اور پی سیب جیسی تنظیموں سے کوئی امید رکھنا فضول ہے، کیونکہ اُن لوگوں کا کوئی براہ راست مفاد وابستہ نہیں ہے۔

جمعرات، 6 اکتوبر، 2011

Facebook Login Approval Functionality

فیس بُک کی سالانہ ڈویلپر کانفرنس ایف ایٹ حال ہی میں ختم ہوئی، اس کانفرنس میں فیس بُک نے کئی نئی چیزیں متعارف کروائیں۔ مثال کے طور پر ٹائم لائن، جو کہ ابھی عام اسعتمال کے لئے دستیاب نہیں ہے، البتہ اگر آپ شوقین ہیں تو تھوڑی محنت کر کے ٹائم لائن والا نیا پروفائل حاصل بھی کر سکتے ہیں۔ میرے پروفائل کی تصویر نیچے دی ہوئی ہے۔
facebook_timeline_snapshot

ٹائم لائن بنانا سیکھنے کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں
http://mashable.com/2011/09/22/how-to-facebook-timeline/
اس پوسٹ میں البتہ میں جلدی جلدی دوستوں کے ساتھ ایک بڑی اعلٰی اور سادہ سی 
خصوصیت پر بات کروں گا۔ لاگ اِن اپرول، یا لاگ اِن کی اجازت فیس بُک کے ذریعے فیس بُک میں لاگ اِن کےلئے اب خالی خولی پاس ورڈ ہی کافی نہیں ہو گا۔ بلکہ اگر آپ کسی ایسے کمپیوٹر سے لاگ اِن کرتے ہیں جِس سے آپ نے پہلے کبھی لاگ اِن نہیں کیا تو جناب فیس بُک آپکو بھیجے گی آپکے موبائل نمبر پر ایک ایس ایم ایس، اگر اِس ایس ایم ایس میں دیئے گئے چھے ہندسوں کے سیکورٹی کوڈ کو فیس بُک میں ڈالا جائے گا تب ہی آپ یا کوئی اور لاگ اِن کر سکیں گے۔
 کہتے ہیں صرف پاس ورڈ کے ذریعے لاگ ان کرنے کو۔Something you know 
کہتے ہیں لاگ اِن کے لئے کسی ایسی چیز کو  استعمال کرنا جو کہ آپ کے پاس ہو۔Some thing you have 
مثال کے طور پر آپکا موبائل فون۔
فیس بُک پر یہ خصوصیت یا آپشن عام طور پر بند ہوتی ہے، اور اسے استعمال کرنے کے لئے اِسکو آن کرنا پڑتا ہے۔ اپنا فیس بُک پیج کھولیں اور مائوس کو دائیں جانب اوپری کونے پر موجود ہوم بٹن کے ساتھ موجود ننھے تیر کے اوپر لے جائیں۔ ایسا کرنے سے ایک مینو کھلے گا جو کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔
facebook_account_settings_menu_item


  اسکے بعد بائیں طرف موجود سیکورٹی نامی لِنک پر کلک کرنے سے دائیں سیاہ رنگ میں لاگ اِن اپروول لکھا ہے، اسکے سامنے لکھے ایڈٹ نامی لِنک پر کلک کریں۔
facebook_security_main_page


 اب آپ کے سامنے پیج پر یہ تحریر نظر آ رہی ہو گی
Require me to enter a security code each time an unrecognized computer or device tries to access my account.
اس تحریر کے ساتھ بائیں ہاتھ پر ایک چیک بٹن ہے، اسکو ایک مرتبہ کلک کر کے سلیکٹ کر لیں۔  اب عین اس فقرے کے نیچے دیئے نیلے رنگ کے سیو سیٹنگ نامی بٹن پر کلک کر دیں۔ 
facebook_account_seurity_login_approval


 اگلے چند لمحات میں فیس بُک آپکو ایک چھے ہندسوں کا سیکورٹی کوڈ بھیجے گی، اسکو ذیل میں دکھائے گئے پیج میں ڈال دیں۔
facebook_security_code_page


اگر آپکو تھوڑی دیر تک سیکورٹی کوڈ نہیں مِلتا تو جناب سیکورٹی کوڈ ڈالنے والے ٹیکسٹ باکس کے دائیں جانب موجود نیلے رنگ کے لنک پر کلک کریں، اس لنک کی تحریر ہے
I can't get my code
اب آکے سامنے آجائے گا ایک اور پیج، جو کہ ذیل میں دیا گیا ہے
facebook_resent_security_code_page


اس پیج پر اپنا کوڈ ڈال دیں۔
بس دو اور اقدامات کے بعد آپکا فیس بُک کھاتہ مزید محفوظ ہو جائے گا۔۔۔ اگر فقرہ عجیب لگا ہو تو اقدامات کی جگہ سٹپ اور ،  کھاتے کی جگہ اکائونٹ لگا لیں، افاقہ ہو گا۔ اگلے قدم پر فیس بُک آپ سے گُزارش کرے گی کہ جس کمپیوٹر یا دوسری کمیپوٹنگ ڈیوائس سے بھی آپ اسوقت فیس بُک استعمال کر رہے ہیں اُسکا کوئی نام ڈال دیں۔ ذیل میں دکھائے گئے پیج پر نام ڈالیں اور اسکے بعد دھمال ڈالیں۔ ارے بھئی کوئی زبردستی نہیں ہے، دِل نہیں مانتا تو نا ڈالیں دھمال۔
facebook_security_add_device


مجھے تو ذاتی طور پر یہ آپشن بڑا پسند آیا ہے، اس سے مِلتا جُلتا آپشن گوگل نے جی میل کا پاس ورڈ تبدیل کرنے کے لئے بھی دیا ہوا ہے۔ مزید معلومات، سوالات، اور بیانات کے لئے بلا جھجھک کمنٹ فرمائیں۔ اسکے علاوہ بھی اگر فیس بُک، ٹوئٹر، یا کسی اور سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعے کے بارے میں معلومات درکار ہوں تو پوچھنے کی اجازت ہے، اگر مجھے جواب پتہ ہوا تو جواب دوں گا ورنہ گولی شولی دے کر کام چلائوں گا۔ کمپیوٹر پروگرامنگ سے متعلقہ سوالات اور جوابات کا بھی خیر مقدم ہے۔

منگل، 8 فروری، 2011

سانپ سیڑھی کا کھیل

کافی دنوں سے کچھ لکھ نہیں پایا، وجہ یہ بنی کہ میں کام کر رہا ہوں ایک گیم پر۔ لڈو کے پیچھے جو سانپ سیڑھی والی گیم ہوتی ہے اس گیم پر کام کر رہا ہوں میں آجکل۔ یہ میرا ذاتی پراجیکٹ ہے۔ یہ گیم بنیادی طور پر فیس بک پر ہی کھیلی جا سکے گی۔ فیس بک پر آپ یہ گیم اپنے دوستوں کے ساتھ بھی کھیل سکیں گے۔ سوشل ہونا ہی اس گیم کا بنیادی نقطہ ہے۔ فیس بک پر پہلے سے موجود سانپ سیڑھی والی گیمز میں ملٹی پلیئر کی فنکشنیلٹی موجود نہیں ہے۔ میں اسی پر کام کر رہا ہوں۔
اس وقت میرے پاس کافی حد تک مکمل گیم موجود ہے، نمائشی ویڈیو عنقریب آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کروں گا۔
ملٹی پلیئر کے لئے سرور میں نے بنا لیا ہوا ہے، گیم کی منطق یا لاجک مکمل ہو چکی ہے اور ان دونوں چیزوں کو میں نے آپس میں جوڑ بھی دیا ہوا ہے۔ اب چند چھوٹے موٹے سقم یا تکنیکی زبان میں بگ ہیں جن پر کام کر رہا ہوں۔
اسکے علاوہ فیس بک کے ساتھ انٹگریشن والا کام بھی ابھی رہتا ہے، لیکن وہ میں دیکھ چکا ہوں کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔
گرافکس کا کام ایک اور دوست کروا کے دے رہے ہیں۔ جب ان سے گرافکس مل جائیں گے، میں گیم میں ڈال دوں گا۔ اور گیم میں گرافکس ڈالنے کے تھوڑے عرصے بعد انشاءاللہ فیس بک انٹگریشن کا کام کر کے گیم کو فیس بک پر لائیو کر دوں گا۔ امید ہے کہ یہ کام پندرہ مارچ تک ہو جائے گا۔
میں نے گیم ہوسٹ کرنے کے لئے ایک ویب ایڈریس اور ہوسٹنگ بھی خرید لی ہوئی ہے۔
دعا کیجئے گا۔۔۔

جمعہ، 15 اکتوبر، 2010

ویلوٹ راکٹ۔۔۔ میکسیکو میں

میں نے یہ تحریر اکتوبر دو ہزار دس کو لندن میں لکھی۔
یہ واقعات جون انیس سو چھیانوے کو میکسیکو کے پیسیفک ساحلی علاقے میں پیش آئے تھے۔
پچھلی مرتبہ جب میں کیلیفورنیا گیا، تو میری نظر چند تصاویر پر پڑی، جو کہ میں نے انیس سو چھیانیوے میں میکسیکو کے ایک دورے پر کھینچی تھی۔ پہلے تو میں یہ تحریر عام جگہوں کے سفر کٹیگری میں ڈالنے لگا تھا، لیکن پھر میں نے اُس دورے کی صورتحال اور میکسیکو کی آجکل کے حالات کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ میں نے حساب لگایا کہ ویلوٹ راکٹ آج سے دس سال قبل میدانِ کار زار میں تھا، اور میکسیکو میں منشیات کے کاروبار پر تحقیقات کر رہا تھا، میکسیکو میں منشیات کے کاروبار کے عروج پر آنے سے بہت بہت پہلے۔ اب یہ "عمومی جگہوں" والی چیزیں تو بہرحال نہیں ہیں۔
کوئی بڑی بات تو نہیں، لیکن یہ دورہ میرے چند حالیہ دوروں سے متعلقہ تھا۔ صومالیہ اور افغانستان جیسی جگہیں میرے لئے کوئی غیر معمولی بات نہیں، بمشکل چل سکنے کی عمر میں کتابوں والی الماری پر چڑہ جانا، سائیکل لے کے اُلٹ پُلٹ جگہوں پر چلے جانا، تیز گاڑی چلانا، وغیرہ وغیرہ واقعات کا ایک تسلسل سا ہے۔ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے میرے ساتھ؟
بہرحال، میکسیکو پہنچنے کے بعد جلد ہی میں چند نئے میکسیکن جان پہچان والے لوگوں کے ساتھ پرانی کشتی میں تھا۔ ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کشتی کا انجن چنگھاڑ رہا تھا، شراب خانوں، ساحلوں، اور قحبہ خانوں سے بڑھ کر کسی دلچسپ چیز کی تلاش میں۔۔۔ بے چین ہو جاتا ہوں۔۔۔
دلچسپ چیزوں کی تلاش میں ہیں میں اس تصویر میں دکھائے گئے گائوں میں جا پہنچا


بھلے اس گائوں میں سڑکیں نہ ہوں، بجلی، ، پانی نہ ہو "ما سوائے گائوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے چشمے کے" ، یہاں بکریاں، اور بے تکلف لوگ بہت تھے۔ میرے خیال میں یہ ساحل پر بیٹھ کے جوس پینے سے لاکھ درجے بہتر ہے۔

گائوں والوں میں گھلنا ملنا گائوں کے چند لڑکوں کی وجہ سے اور بھی آسان ہو گیا تھا، ان لڑکوں سے میری کچھ دیر قبل واقفیت بنی تھی۔ کافی سارے تعارفوں، زبردست کھانے، تھوڑی سرویزا، اور بہت دیر بیٹھے رہنے کے بعد کسی نے مشورہ دیا کہ مجھے گائوں کی پچھلی جانب موجود پہاڑیوں کی سیر کروائی جائے۔ لڑکے تو گائوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی رہ گئے، لہٰذا میں چند دیہاتیوں کے ساتھ چل نکلا۔ ہمارے ساتھ ایک انگریزی بولنے سمجھنے والی لڑکی بھی تھی۔۔۔ آٹھ سال کی بچی۔۔۔
بہت خوبصورت منظر تھا۔ پہاڑیوں کو جنگل نے ڈھانپ رکھا تھا، اور سیدھی انکا اختتام سیدھے جا کے سمندر پر ہوتا تھا۔ ان پہاڑیوں پر یہ لوگ چرس کے وسیع کھیت بھی کاشت کرتے تھے۔ شاید لڑکوں کے کہنے کی وجہ سے، مجھے نفع بخش کاروباری موقع خیال کیا جا رہا تھا۔ چرس کے کھیتوں میں گھومتے گھومتے مجھ  سے ڈھیروں سوالات پوچھے گئے۔ اور یقین مانو مجھے آٹھ سال کے بچے سے اس موضوع پر بات کرنا بڑا عجیب لگا۔

میں کچھ خریدنا چاہوں گا؟انکا سودا زبردست ہے۔۔۔ اور حساب کتاب لگا لیں گے وغیرہ۔۔۔
تو پھر کیا میں اُنکے ساتھ کاروبار کروں گا؟ امریکی شہریوں کے لئے سرحد کے اس پار آنا جانا ہمیشہ سے بہت آسان رہا ہے نا۔
پھر میں نے بھی اُن سے ایک سوال پوچھا۔۔۔ تصویریں بنا لوں؟ نہ نہ تصویر مت بنانا امیگو۔۔۔


بالآخر جب انہیں اندازہ ہو گیا کہ میں کوئی نوخیز پابلو ایسکوبار یا کارلوس لیہڈر   نہیں ہوں ، انہوں نے مال بیچنے والی بات کا پیچھا تو چھوڑ دیا، لیکن پھر بھی وہ کافی بے تکلف تھے۔ مجھے جنگل کے بیچوں بیچ ایک آبشار بھی دکھائی گئی۔ پانی صاف اور ٹھنڈا تھا، دیکھ کر میرا دِل تو چاہ رہا تھا کہ ڈُبکی لگائوں تاکہ پسینہ اور دھول اُتر جائے۔

رات میں نے گائوں میں گزاری اور اگلے دن آگے بڑھ گیا۔


گائوں نیچے تصویر میں دکھائے گئے ساحل کے کنارے ہے۔۔۔ کٹائیوں کے دنوں میں، چرس کے گٹھے خچروں پر لاد کر پہاڑی سےنیچے لائے جاتے ہیں، اور پھر ان ماہی گیر کشتیوں پر لاد دیئے جاتے ہیں جہاں سے ان قیمتی گٹھوں کا شمال میں امریکہ کی طرف سفر شروع ہوتا ہے۔



اس گھر کے بارے میں مجھے بتایا گیا کہ یہ علاقے کے بڑے سمگلر کا ہے۔ اور اس گھر میں چلتا پانی، اور بجلی موجود تھی۔۔۔ جنریٹر کے ذریعے۔ جرائم سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کم از کم اس گائوں میں اس بات کے معنی مختلف ہوں گے۔



کافی دلچسپ اور معلوماتی دورہ تھا۔۔۔ میکسیکو کے لڑائی میں مصروف منشیات فروش گروہوں کے حالیہ پر تشدد واقعات اور بد اعتمادی کی باعث شاید آجکل تو ایسی سیر ناممکن ہو گی۔۔۔
یہ تحریر جسٹن ایمس کی درج ذیل بلاگ کا ترجمہ ہے

جمعہ، 8 اکتوبر، 2010

انسانی جسم میں پلنے والی عجوبہ چیزیں

آپ کے بدن میں کیا پرورش پا رہا ہے؟
 شاید آپکو نہ پتہ ہو لیکن۔۔۔ ہو سکتا ہے آپ کافی سارے جانداروں کی میزبانی کر رہے ہوں مثال کے طور پر سنڈیاں، پسو، مگٹ کیڑے، یا کبھی کبھار کوئی پودا۔ اور تو  اور حاملہ عورتیں جو یہ سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ انہیں معلوم ہے انکے جسم میں کیا ہے بھی نہیں جانتیں کہ انکے پیٹ میں دراصل کیا پرورش پا رہا ہے۔ اس پوسٹ میں کچھ غیر معمولی چیزوں کا تذکرہ  ہے، جو کہ آپ میں پرورش پا سکتی ہیں۔

 پھیپھڑوں کے پودے
مساچوسٹس کا ران سویڈن پچھلے سال ہسپتال بدترین خبر کی توقع  لے کر آیا تھا۔ بیمار تو وہ کافی عرصے سے تھا، لیکن تھوڑے دنوں سے اسکی صحت مزید خراب ہو رہی تھی۔ ایکسرے کے  مطابق اسکے بائیں پھیپھڑے میں کافی بڑا سیاہ دھبا تھا، لیکن  نمونے لینے کے بعد پتہ چلا کہ کم از کم کینسر تو نہیں ہے۔ پھر جب ڈاکٹروں  نے چیر پھاڑ کی تو انہیں ملا آدھا انچ لمبا کا مٹر کا پودا، بندے کے  پھیپھڑے میں اُگا ہوا۔ شاید کوئی کچا مٹر خوراک کی بجائے سانس کی نالی میں گھس گیا  تھا، اور پھیپھڑے کے گرم مرطوب ماحول کی وجہ سے اُگ پڑا۔ ایسا کم کم ہوتا ہے، لیکن بہرحال ہو سکتا ہے بقول مارک سیگل ایسوسی ایٹ  پروفیسر نیو یارک سکول آف میڈیسن۔

مگٹ موٹل
جو لوگ کچھ عرصہ قبل کسی بارانی جنگلاتی علاقے سے ہو کر آئے ہیں  ہو سکتا ہے وہ کیڑا نوشی کا شکار ہو چکے ہوں۔ عام طور پر، بارانی جنگلاتی مکھی کسی مچھر یا سوکھنے ڈالے گئے کپڑوں پر انڈے دے جاتی ہے۔ اب جب یہ مچھر، کیڑا، یا چیز کسی بندے کی جلد سے ٹکراتا ہے تو لاروے منتقل ہو جاتے ہیں، بقول جیمز نارڈلنڈ ڈرماٹالوجی  پروفیسر رائٹ سٹیٹ سکول آف میڈیسن ڈیٹن اوہائیو۔
یہ انڈے کیڑوں جیسے لارووں عرف مگٹ کو جنم دیتے ہیں۔ جو  کہ جلد میں دبے پڑے رہتے ہیں، اور چھوٹا سا ابھار بنا دیتے ہیں۔


یہ ابھار مگٹوں کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا ہے، حتٰی کہ مگٹ ایک انچ تک لمبے ہو جاتے ہیں۔ یہ ابھار دردناک بھی ہو سکتا ہے، اور اس میں سے مواد بھی رِس سکتا ہے، اس میں کلبلاہٹ بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھار تو لاروے نظر تک آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر تو آپ انتظار کر سکتے ہیں تو ایک سے تین ماہ میں لاروے جلد پھاڑ کر باہر نکل آئیں گے۔ لیکن نارڈلنڈ کا کہنا ہے کہ، ویسلین لگا  کر مگٹوں کا سانس بند کریں تو انہیں جلدی بار نکلنے پر مجبور کیا  جا سکتا ہےیا ڈاکٹر کی مدد سے بھی انہیں نکالا جا سکتا ہے۔


 دماغ میں مگٹ 
جلد میں رہائش پذیر ہونے کے علاوہ، برساتی مکھیاں کبھی کبھار کان، ناک، یا آنکھ میں بھی انڈے دے جاتی ہیں۔ اور ان جگہوں پر جب انڈے سے لاروا، کیڑا، یا مکھی بننے کا مطلب ہے بڑی مصیبت۔ ڈیوڈ ایزمین کے مطابق یہ غلط فہمی ہے کہ  مگٹ صرف جسم  کے مردہ ریشے کھاتے ہیں، بلکہ یہ تو صحیح سلامت ریشوں کو بھی  صحیح سلامت کھا جاتے ہیں۔ کان کے اندر، دبے ہوئے لاروے کی وجہ سے ہو سکتا ہے بدبودار  مادہ رسے، یا بھنبھناہٹ کی آواز آئے، بقول احمد میساحل سرجن سائوتھ مانچسٹر یونیورسٹی ہسپتال انگلستان۔ وہ کہتے ہیں، ناک میں  مگٹ ہو تو ناک بند ہو سکتا ہے، ناک سے خون آ سکتا ہے، یا بدبودار مادہ رس سکتا ہے۔ خود سوچیں جس بندے کے ناک سے بدبودار مادہ رسے گا اسکی حالت کیا ہو گی، رومال رکھ کر ناک بند بھی نہیں کر سکے گا۔ البتہ سب سے خطرناک لیکن نادر صورت وہ ہوتی ہے جب بھوکا لاروا ریشے کھاتا کھاتا دماغ تک جا پہنچے، وہاں یہ خاصہ نقصان کر سکتا ہے۔آنکھ کے اردگرد، مساحل کہتے ہیں، لاروا کی وجہ سے درد، خارش، آنکھوں سے پانی بہنا، اور پپوٹوں کا سوج جانا ممکن ہے۔ اور اگر لاروا آنکھ کی گولی میں جا پہنچے تو تاخیر کی صورت میں مریض کو اندھا بھی کر سکتا ہے۔

ساحل کے شیطان
ساحل پر ننگے پائوں چلنے سے ہو سکتا ہے آپکی جلد میں کُتوں  اور بلیوں پر پائے جانے والے ننھے کیڑوں کے بچے گھس جائیں۔  اسکے بعد یہ شتونگڑے جلد کے نیچے بے مقصد گھومتے پھرتے ہیں۔ اس وجہ سے جلد پر آڑھی ترچھی خارش ہو جاتی ہے، اور ہر گھنٹے بعد تقریباً ایک سینٹی میٹر مزید پھیل جاتی ہے۔ 
سکے علاوہ ایک اور قسم کا کیڑا عام طور پر پائوں کی جلد میں گھس کر سفید رنگ  کا درمیان سے کالا ابھار بنا دیتا ہے۔ علاج کے طور پر ڈاکٹر کو جلد کاٹ کر کیڑا نکالنا پڑتا ہے۔

 فیتے جیسے کیڑے
بڑی عجیب بات ہے۔۔۔ لیکن ٹیپ ورم یا چپٹے کیڑے کی عمر بیس سال تک ہو سکتی ہے، اور اس عرصے میں اسکی لمبائی پچاس فٹ تک جا سکتی ہے۔ عام طور پر چپٹے کیڑوں کا بیج لاروے کی شکل میں خوراک کے راستے جسم میں پہنچتا ہے۔ لاروے آنتوں میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں میں انکی موجودگی کی علامات ظاہر نہیں ہوتی، لیکن کچھ لوگوں کی بھوک کم ہو جاتی ہے، وزن کم ہو جاتا ہے، بےچینی رہتی ہے، ہیضہ اور کمزوری  ہو جاتے ہیں۔
آنتوں کے کیڑوں کا علاج دوایوں سے ممکن ہے۔ البتہ اگر کسی نے چپٹے کیڑوں کے انڈے کھا لئے تو حالات کافی  خراب ہو سکتے ہیں۔ یہ انڈے آنتوں کی دیواروں سے گزر کر دورانِ خون میں شامل ہو سکتے ہیں اور نشونما پانا شروع کر دیتے ہیں۔ اسکے بعد یہ جسم میں سفر کرتے رہتے ہیں حتٰی کہ یہ کہیں جا پھنستے ہیں، اور رسولی بنا دیتے ہیں، بقول لوئیس اوسٹروسکی ایسوسی ایٹ پروفیسر میڈیسن یونیورسٹی آف ٹیکساس میڈیکل سکول ہیوسٹن۔ دھیان رہے کہ ٹیومر یا کینسر کی وجہ سے بھی رسولی ہی بنتی ہے لیکن وہ اور چیز ہے۔ جس رسولی کی میں بات کر رہا ہوں اسکی لئےسی وائے ایس ٹی سسٹ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ نتیجے کے طور پر پیدا ہونے والی علامات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ رسولی ہے کس جگہ پر، مثلاً  دماغ میں، جو کہ خاص طور پر نازک جگہ ہے۔ اگر ایسا ہو جائے توسر درد، دماغی صلاحیت میں کمی، دورے پڑنے کی شکایت، یا موت تک واقع ہو سکتی ہے۔

 مزید بدتمیز کیڑے
چمونے جسامت میں بہت بڑے نہیں ہوتے لیکن ان میں تنگ کر  دینے کی صلاحیت وافر ہوتی ہے۔ چمونوں کے انڈے انسانی جسم میں آلودہ خوراک یا گندے ہاتھوں کے راستے پہنچتے ہیں۔ ایک  مرتبہ آپ نے کھا لئے تو یہ آنتوں میں پہنچ جاتے ہیں، وہاں ان سے بچے نکل آتے ہیں، اور جلد ہی چھیل چھبیلے نوجوان بن جاتے ہیں۔ اسکے بعد جب بندہ سوتا ہے، مادہ چمونیوں کے گروہ پوٹی والی جگہ پر اکٹھے ہو کر آس پاس کی جلد پر انڈے دے جاتی ہیں۔ کافی لوگوں میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتی، لیکن کچھ کو پوٹی والی جگہ پر خارش ہوتی ہے، یا نیند ٹھیک سے نیند نہیں آتی۔ بچوں میں چمونے پڑ جانا عام بیماری ہے۔ کیونکہ چھوٹے چھوٹے انڈے تقریباً کسی بھی چیز پر چپک سکتے ہیں۔۔۔ کھلونے، تولیے،  باتھ روم، چادریں۔۔۔ اور ان جگہوں پر یہ دو ہفتے تک زندہ رہ سکتے ہیں بقول اناتولی بیلیووسکی، ماہر امراض بچگان نیویارک۔  خوش قسمتی سے اس انفیکشن کا علاج ادویات سے ممکن ہے۔ بلکہ عام طور پر بار بار ہاتھ دھونا بھی اس مصیبت سے بچا سکتا ہے۔

پیٹ میں حمل
حمل کی صحیح اور محفوظ جگہ بچہ دانی ہوتی ہے۔ البتہ تقریباً دو فیصد کیسز میں بیج کہیں اور جا پہنچتا ہے۔ زیادہ تر غلط جگہ پر ہونے والے حمل پیٹ کے فیلوپین ٹیوب نامی حصے میں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار البتہ یہ پیٹ کے دوسرے حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں، ایسی صورتحال کو پیٹ کا حمل کہتے ہیں۔ ایسا حمل ماں اور بچے دونوں کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا  ہے۔ اگر پہلے پتہ چلا جائے، تو ایسے حمل کو ادویات سے یا سرجری کر کے ساقط کر دیا جاتا ہے۔ چند مواقع پر بہرحال حمل کی مدت پوری ہونے کے بعد سیسارین آپریش کر کے ایسے بچے پیدا بھی کئے گئے ہیں۔ لیکن یہ بہت دشوار کام ہے۔ بچے کو پیٹ میں زندہ رکھنے والے دیگر لوازمات کا کچھ حصہ عام طور پر پیٹ کے اندر ہی رہ جاتا ہے، جسے کہ مکمل طور پر صاف کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

یہ تحریرایم ایس این ہیلتھ کے درج ذیل آرٹیکل کا ترجمہ ہے
 http://health.msn.com/health-topics/slideshow.aspx?cp-documentid=100264049&imageindex=1

منگل، 28 ستمبر، 2010

مائیکرو سافٹ لائیو سپیسز کی چھٹی

مائیکرو سافٹ سپیسز کی چُھٹی۔۔۔ ورڈ پریس ڈاٹ کام
 

سے ڈیل

تقریبًا چھے سال قبل مائیکروسافٹ نے اپنا بلاگنگ پلیٹ فارم ونڈوز لائیو سپیسز لانچ کیا تھا۔  اور اب اس پلیٹ فارم (اڈہ؟) کو باقاعدہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ لائیو سپیسز کے یوزرز کی خاطر مائیکرسافٹ نے ورڈپریس ڈاٹ کام کے ساتھ ساجھے داری کا اعلان کیا ہے۔ مائیکرسافٹ اور ورڈ پریس کی مالک کمپنی آٹومیٹک کے مابین ہونے والی ڈیل ریڈمنڈ والوں کا اپنی انٹرنیٹ پر موجودگی کو مضبوط کرنے کا حالیہ حربہ ہے۔ اس سے پہلے مائیکرسافٹ فیس بک، ٹوٹر، اور لنکڈ ان کے ساتھ مختلف محاظوں مسئلاً انٹرنیٹ سرچ میں گوگل کا مقابلہ پر مل کر کام کر رہا ہے۔
دونوں کمپنیوں نے یہ اعلان سانفرانسسکو میں ٹیک کرنچ ڈسرپٹ کانفرنس کے موقع پر کیا۔ دنیش مہتا ونڈوز لائیو پراڈکٹ مینیجمنٹ کے ڈائیرکٹراپنی بلاگ پوسٹ میں کہتے ہیں کہ"آٹومیٹک شاندار لوگوں سے بھری ہوئی کمپنی ہے، ان لوگوں کی تمام
توجہ بلاگنگ کو بہتر سے بہتر بنانے پر مرکوز ہے اس لئے بجائے ونڈوز لائیو اپنے وسائل بلاگنگ میں خرچ کرے، ہم نے فیصلہ کیا کہ گاہکوں کی بہتری کے لئے انہیں ورڈ پریس کے ذریعے ایک شاندار بلاگنگ پلیٹفارم مہیا کریں گے"۔ ٹیک کرنچ کے سٹیج پر بات کرتے ہوئے دنیش نے کہا کہ اس وقت
ونڈوز لائیو سپیسز پر تقریباً سات ملین بلاگ موجود ہیں۔
سپیسز استعمال کرنے والوں کے پاس ابھی ورڈ پریس پر جانے کے لئے چھے ماہ ہیں، اس کام کےلئے ایک خصوصی یوٹیلٹی تیار کی گئی ہے جو کہ تحریروں، تصویروں، اور دیگر مواد کی منتقلی میں معاون ثابت ہو گی۔ ہجرت کی وجہ سے یو آر ایل یا ویب ایڈریس میں ہونے والی تبدیلیوں کی ذمہ داری بھی دونوں کمپنیوں نے اٹھائی ہے۔ کمپنیاں مسنجر کنیکٹ کے نام سے ورڈ پریس کے یوزرز کے لئے ایک سہولت بھی متعارف کروائیں گی، جسے استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی تحریریں ونڈوز لائیو کے روابط کو دکھا سکیں گے۔
ونڈوز لائیو سپیسز پر بنائے جانے والے نئے بلاگ ورڈ پریس ڈاٹ کام کے بلاگ ہوں گے۔ اسکے علاوہ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اسکا ونڈوز لائیو رائٹر مستقبل میں ورڈ پریس ڈاٹ کوم کو اپنے بنیادی بلاگنگ سروس کے طور پر استعمال کرے گا، کمپنی یہ خصوصیت اسی سال کے آخری حصے میں ونڈوز لائیو اسنشلز دو ہزار گیارہ سافٹ ویئر پیکج میں متعارف کروائے گی۔
اس تحریر کا ماخذ
http://www.techflash.com/seattle/2010/09/microsoft_upgrades_spaces_to_wordpresscom_ends_its_blog_platform.html

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer