آپ بیتی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آپ بیتی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 4 اگست، 2019

تھینک یو اللہ میاں



یہ قصہ ہے گرمیوں کی ایک دوپہر کا۔ بچے گرمیوں کی چھٹیاں منانے اپنی نانی اماں کے

 گھر گئے ہوئے تھے۔ 

ہمیں دفتر سے چُھٹی تھی، اور بجلی کو واپڈا سے۔ رات بھی ڈھنگ سے نیند پوری نہ ہوئی تھی

 اور اب تو سونے کا کوئی چانس ہی نہ تھا۔  بجلی کی طویل رخصت کی بدولت یو پی ایس

بے ہوش ہو چکا تھا

 اور پنکھے ساکت۔ اس پسِ منظر میں ہم نے دِن کا بقیہ حصہ نہر کنارے سو کرگزارنے کا فیصلہ کیا۔

 یوں ہم بوریا بستر یعنی کہ چٹائی اور پانی کا کولر وغیرہ اُٹھا کر نہر کیجانب چل نکلے۔ 

سامعین و حاضرین میں سے کئی کو نہر کے گندے ہونے پر اعتراض ہو گا۔ البتہ ہم اس قسم کی باتوں کی  پرواہ نہیں کرتے، کیونکہ "گندی ہے پر ٹھنڈی ہے"۔ 



پس اشنان کرنے کیبعد، طے شُدہ پروگرام کے مطابق قریب ہی ایک درخت کی چھائوں میں چٹائی بچھائی

 اور چاروں شانے چِت ہو کر لیٹ رہے۔ ارادہ تھا کہ تھوڑی دیر سولیا جائے۔

البتہ نہر پر برپا طوفانِ بد تمیزی اور ٹریفک کی پاں پاں کیوجہ سے سونے کی تمام کوششیں ناکام ٹھہریں۔

گھر واپس جانا بھی بیکار تھا۔ موسم البتہ ابر آلود ہو رہا تھا، سو نہر میں چند مزید ڈُبکیاں لگانے کیبعد

 ہم جلو پارک کیجانب عازمِ سفر ہوئے۔ سوچا کہ باغ کی خامشی میں کسی برگِ گُل کی چھائوں سے لُطف

اندوز ہوتے ہوتے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹیں گے۔ 

منزلِ مقصود پر پہنچنے کیبعد ہم نے پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق گھنے درختوں کی 

چھائوں میں استراحت کا انتظام کیا، یعنی چٹھائی بچھائی کر کولر کو پاس ہی ٹکایا  اور ایک مرتبہ پھر دراز

 ہو گئے۔ کچھ دیر بعد اسطرف تین چار بچے اپنے دو عدد والدین سمیت آ دھمکے۔ 

انہوں نے "شیطانوں کا کھیل" کرکٹ کھیلنا شروع کر دیا جسکی وجہ سے ماحول کا سکون پہلے جیسا نہ رہا۔


 البتہ یہ "تبدیلی" قابلِ برداشت تھی اور اسکے باوجود نیند کی دیوی ہم پر مہربان ہو ہی گئی۔ 

مگر قدرت کو ہمارا سونا منظور نہ تھا، کچی پکی نیند کو ایک بچے کی آواز نے کرچی کرچی کر دیا۔ 

"انکل، پانی ہے"

"ہاں ہے" میں نے اُکتائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ 

"پی لوں؟" اُسکا اگلا سوال تھا۔ 

"اوہ پی لے بھائی" جواب دیکرمیں نے آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔

لیکن پکچرابھی باقی ہے دوست۔ بچے کو ایک سوال اور پوچھنا تھا۔ 

"انکل گلاس کہاں ہے؟"

اتنے سوال اگر اب تک میرے اپنے بچے نے پوچھے ہوتے تو عین ممکن ہے معالمہ اسکی والدہ کی سپریم 

کورٹ تک جا چُکا ہوتا اور بچے کو پانی کے بجائے سوئے ہوئے والد کو سے حتی الامکان دور رہنے پر

 لیکچر مِل رہا ہوتا۔ لیکن افسوس یہ ممکن نہ تھا۔ لفافے سےگلاس نکالا اور خود ہی بھر کر اُسکی خدمت

 میں پیش کیا کہ جلدی سے پیئے اور جائے۔ 

بچے نے پانی پیا، گلاس واپس رکھا، اور جانے سے پہلے ایک مرتبہ پھر بوُل پڑا۔

"انکل تھینک یو"۔ 

اس مرتبہ اُس نے ایسی بات کی تھی کہ باوجود اکتاہٹ کے مجھے مسکرانا ہی پڑا۔ 

"یو آر ویلکم"اب  میں نے خوشدلی سے جواب دیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ 

بمشکل دو منٹ گُذرے ہونگے کہ ایک اور بچہ پانی پینے آ دھمکا۔ 



میں نے سوچا کہ کولر انہی کو دے دیتا ہوں کہ جائو جتنا مرضی پانی پیو، جاتے ہوئے کولر لوٹا جانا۔

 پانی پی کر یہ بچہ بھی "تھینک یو انکل" کہہ گیا۔ 

اسی طرح کچھ دیر بعد انکی ننھی بہن کو بھی پیاس لگی اور اسنے بھی آ کر پوچھا "انکل پانی پی لوں؟"

 جاتے جاتے اسنے بھی "انکل تھینک یو" کی پُھلجھڑی چلائی۔ 

اچھی تربیت کے اثرات صاف ظاہر تھے۔

اِن بچوں کیبعد اور بھی کئی لوگ پانی پینے آئے۔ گملے بھرنے والا لڑکا، بوُڑھا مالی، اور

 جوڑوں کے شکاری دو موٹرسائیکل سوار پولیس والے۔ ان سب نے پانی پیا،

لیکن بچوں جیسا تھینک یو کسی نے نہیں کہا۔ 

اُس روز مجھے اندازہ ہوا کہ زندگی میں شُکریہ ادا کرنے کی کیا اہمیت ہے۔ 

"تھینک یو"، "مہربانی"، "معذرت"، "پلیز"، کرشماتی الفاظ ہیں جو کہ اُکتائے ہوئے انسان کو بھی مُسکرانے

 پر مجبور کر دیتے ہیں۔ 

رہا سوال میرے سونے کا، تو جناب کُچھ ہی دیر بعد موسا دھار بارش شروع ہو گئی۔

 اس سے بھاگنا کُفرانِ نعمت ہوتا۔ پس ہم بارش میں خوب نہائے اور کئی مرتبہ بے اختیار منہ سے یہ الفاظ

 نکلے

"تھینک یو اللہ میاں"

منگل، 21 اپریل، 2015

ہزار روپے کا جعلی نوٹ، کیشیئر کی غلطی یا بے ایمانی؟

یہ رہا وہ "اصلی جعلی" نوٹ۔ واہ کیا اوکسی موران نکالی ہے آپکے بھائی نے۔

کہانی کا پس منظر

گاڑی کی تھوڑی مرمت درستگی کا کام ہونے والا تھا۔ گھر کے پاس سوزوکی کا شوروم ہے، جمعرات والے دن میں گاڑی وہاں لے گیا۔ کُل مِلا کر کوئی تین ہزار کے قریب بل بنا۔ میرے بٹوے میں پانچ ہزار کا ایک ہی نوٹ تھا، وہ کیشیئر خاتون کو دے دیا۔ دو ہزار ایک سو کچھ روپے بقایا آئے۔ نوٹوں پر موٹی سی نظر مار کے بٹوے میں ڈال لئے۔

شام کی شاپنگ

شام سات بجے کے قریب میٹرو لنک روڈ سے کچھ سامان خریدا۔ بِل ایک ہزار سے کچھ کم ہی تھا۔ صبح والے دو نوٹوں میں سے ایک نکال کر کیشیئر کو دیا۔ لڑکی نے نوٹ کو ہاتھ لگاتے ہی بتا دیا کہ جناب نوٹ جعلی ہے۔ ایک آدھے اور بندے کو دکھایا تو تصدیق بھی ہو گئی۔ دوسرا نوٹ دے کر جان بچائی۔

ورکشاپ بند

جمعے کی صبح پہلا کام یہ کیا کہ نو بجے کے قریب سوزوکی منی موٹرز والٹن روڈ چلا گیا۔ وہاں تمام دروازے بند تھے، گارڈ نے بتایا کہ آج چھٹی ہے آپ کل آنا۔
ہفتہ اور اتوار کو میں اپنے گائوں چلا جاتا ہوں۔ سوچا پیر والے دن دیکھی جائیگی۔

سوموار کی صبح

گائوں سے لاہور پہنچتے پہنچتے ساڑھے نو بج گئے۔ البتہ می سیدھا سوزوکی ورکشاپ چلا گیا۔ وہاں جا کر بات کی تو ایک صاحب مجھے کیشیئر کے سامنے لے گئے۔ کیشیئر نے صاف انکار کر دیا کہ نوٹ اس نے دیا ہی نہیں۔ 
اسکا کہنا تھا کہ مجھے رقم کائونٹر پر چیک کر لینی چاہیئے تھی۔ میں نے پیسے گنے تو تھے لیکن یہاں سے جعلی نوٹ ملنے کا خدشہ میرے وہم گمان میں نہ تھا۔
میں تھوڑ اونچا بول کر اوپر مین شوروم میں آ گیا۔
یہاں ایک اور صاحب کو سارا مسئلہ بتایا، انہوں نے بھی یہی کہا کہ جناب آپکی غلطی ہے ہم تو بے قصور ہیں۔

ملتا جُلتا ایک اور واقعہ، ہائپر سٹار

مجھے کسی نے بتایا کہ جب ہائپر سٹار نیا نیا بنا تھا تو انکا بھی ایک کیش ہینڈل کرنے والا بندہ پانچ سو ہزار کا جعلی نوٹ بینک جانیوالی کرنسی میں مکس کر دیا کرتا تھا۔
اصلی نوٹ نکال کر وہ آدمی اپنی جیب میں ڈال لیتا۔
چند ایک مرتبہ بینک سے شکایت آئی تو انتظامیہ نے چپکے سے چھان بین اور نگرانی شروع کر دی۔
آخر کار نوسرباز پکڑا گیا۔

کہیں سوزوکی منی موٹرز والٹن میں بھی تو ایسا نہیں؟

میری اس ورکشاپ والوں سے نہ کوئی دوستی ہے نہ دشمنی۔ ایک ہزار کا نقصان ہوا ہے، لیکن وقتی غصہ تھا اتر گیا۔ اب صرف معلومات عام کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں۔
عین ممکن ہے کہ سوزوکی والوں کے تالاب کو بھی کوئی ایک مچھلی گندا کر رہی ہو۔
شاید وہی کیشیئر جس نے مجھے بقایا دیا تھا، یا کوئی اور ملازم۔
ان لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے سٹاف کی نگرانی کریں اور اپنے معاملات درست کریں۔ 
دوسرا رُخ: اگر فرض کریں کہیں غلطی سے جعلی نوٹ آ ہی گیا ہو تو اسکو گاہکوں کے گلے مت ڈالیں۔

نتیجہ

کم از کم میں خود آئندہ کبھی بھی سوزوکی منی موٹرز والٹن پر گاڑی کا کام کروانے نہیں جائوں گا۔ اور نہ ہی میں کسی دوست کو وہاں جانے کا مشورہ دوں گا۔

بدھ، 27 اکتوبر، 2010

کچھ گم شدہ موبائلوں کے بارے میں۔۔۔

اسی سال کی بات ہے، تھوڑے ہی مہینے پہلے فاسٹ میں سافٹ ٹیک سالانہ نمائش لگی تھی۔ میں اور میرا ہائوس میٹ زبیر وہاں گھومنے پھرنے گئے۔ کافی رونق میلہ تھا۔ میرا بلیک بیری گُم ہوئے تھوڑے ہی دِن ہوئے تھے، اور مجھے فون کی ضرورت تھی۔ بھئی اسکا مطلب یہ مت نکال لینا کہ میں وہاں فون کا شکار کرنے گیا تھا۔ اس نمائش میں بچوں کے آئیڈیاز کا بھی ایک حصہ ہوتا ہے۔ گھوم گھام کر ہم لوگ اُس طرف نکل گئے، ماشاءاللہ کافی اچھے آئیڈیاز تھے بچوں کے، اور کافی خوبصورت اُستانیاں بھی۔ وہاں میری نظر روسٹرم پہ رکھے ایک عدد فون پر پڑی، جس کا کوئی والی وارث دکھائی نہیں دے رہا تھا۔


میں نے زوبی سے کہا کہ یار وہ دیکھ فون، اُسنے فون اٹھا لیا اور ایک دو مرتبہ ہوا میں لہرا کہ آواز لگائی کہ یہ کس کا ہے؟ ایک دو کوششوں کے بعد جب کوئی جواب نہ آیا تو زوبی کہتا ہے کہ یار جیب میں ہی ڈال لوں، ایویں ای کوئی اور آ کے کہہ دے گا کہ میرا ہے۔ اسکے بعد ہم لوگ باہر آ گئے، گھنٹہ بھرگھومے پھرے کھایا پیا اور گھر کی طرف آ گئے۔ فردوس مارکیٹ اتر کے میں نے زوبی سے کہاکہ یار موسم اچھا ہے، چل حفیظ سنٹر چلتے ہیں مجھے موبائل خریدنا ہے۔ ابھی ہم بس سٹاپ پر ڈیوو کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ فون بجا۔ زوبی نے اٹھایا تو کسی نے فون والی کا پوچھا، شاید کوئی لڑکا تھا۔
زوبی نے بتا دیا کہ ایسے ایسے مجھے فون ملا ہے اور آپ اُسے بتا دیں۔ ذرا دیر بعد فون کی مالکن نے فون کھڑکا دیا۔ کچھ ایسی گفتگو ہوئی

بچی: میرا فون آپکے پاس ہے۔
زوبی: ہاں جی بالکل۔
بچی: آپ کو ملا تھا تو آپ مجھے واپس دے کر جاتے۔
زوبی: آپ نے فون ہی نہیں کیا ورنہ ہم کافی دیر فاسٹ میں گھومتے رہے تھے۔
بچی: تو اب واپس کر کے جائیں۔
زوبی: فون آپکا ہی ہے، مجھے کوئی شوق نہیں رکھنے کا لیکن ابھی میں نہیں آ سکتا۔
بچی: وٹ دا ہیل میرے کنٹیکٹس ہیں اُس میں۔ آپ ابھی دے کر جائو۔
زوبی: وٹ دا ہیل والی اس میں کونسی بات ہے بی بی۔ تمیز سے بات کرو۔
بچی: وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
زوبی: اچھا تو میں اسے بند کر کے جیب میں ڈال رہا ہوں، لے سکتی ہو تو لے لو آ کے۔


اسکے بعد کیا ہوا۔۔۔ دیکھئے میری یہ والی پوسٹ
میرا موبائل گواچا
http://kehna.blogspot.com/2009/07/blog-post_02.html


نوٹ: اردو بلاگنگ شروع کرنے کے بعد یہ میری دوسری تحریر تھی، اور میرے خیال میں کافی دلچسپ تحریر تھی۔ اسوقت میں سیارہ اور ماورائی پر لسٹڈ نہیں تھا، اس لئے پوسٹ کو دوبارہ پبلش کر رہا ہوں۔۔۔

جمعرات، 2 جولائی، 2009

میرا موبائل گواچا

آج میں لکھوں گا کہ میرے کون کون سے موبائل فون گُم ہوئے اور کیسے گُم ہوَے۔ ابھی تک میں کُل تین فون گُم کر چکا ہوں۔ اِس کے علاوہ ایک ایسے فون کا قصہ بھی بیان کروں گا، جو کسی کا گواچاہوا مجھےملا تھا۔


Nokia 1100


یہ فون میں نے سن 2005 میں خریدا تھا، جب آتش جوان تھا۔ اُن دنوں میں فاسٹ میں "اعلٰ تعلیم" حاصل کر رہا تھا۔ شام کو کھانا کھانے نکلا، تو فون قمیض کی سامنے والی جیب میں تھا۔ ایک جگہ چلتے چلتے میں نے اپنے گھٹنے پر خارش کی اور چلتا چلا گیا۔ ہوٹل پہنچ کر کچھ کھانے کے لیے کہا، اور ٹی وی دیکھنے لگ پڑا۔ کسی کا فون بجا، رِنگ ٹون میرے فون والی ہی تھی۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا توجناب فون ندارد ۔ میں نے اُس بندے سے جا کر پوچھ لیا کہ "یار میرا فون آپکے پاس ہے" وہ بیچارہ میری شکل دیکھنا شروع۔ کہتا ہے کہ نہیں بھاَی جی، میرا اپنا فون ہے یہ دیکھ لیں۔ توجناب میں اسی بندے کے فون سے اپنا نمبر ملایا، رِنگ جا رہی تھی اور جاتی رہی لیکن کسی نے اٹھایا نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ ایک جگہ چلتے چلتے جھکا تھا وہیں نا گرگیا ہو۔ میں جی بھاگم بھاگ اُس جگہ پہنچ گیا۔ لیکن فون نہ ملنا تھا، نہیں مِلا۔ کمرے میں واپس آ کر بھی، میں ٹرا ئی پہ ٹرا ئی کرتا رہا۔ ایک مرتبہ کسی بندے نے فون اٹھایا لیکن کسی بات کاجواب نہیں دیا اور کاٹ دیا۔ دعا تو مانگی کہ کوئی بندے دا پُتر ہواورواپس کردے، لیکن کوئی چکر ہی نہیں۔ فون واپس نہیں مِلا۔


Nokia 6300



اُن دنوں یہ فون مارکیٹ میں نیا نیا آیا تھا۔ میرے ایک کزن نے مجھے گفٹ کیا، مجھے پسند بھی تھا۔ خیر جناب ایک سہانی شام کو میں اپنے کمرے کی گلی والی سیڑھیوں میں نیکر پہنے بیٹھا تھا، کہ میرا دوست عدنان آیا اور کہنے لگا "یار روٹی لے آ بازار سے جا کے، آج آنٹی نہیں آئی" ۔ میں خراماں خراماں تِکّوں والی دوکان کی طرف چل پڑا۔میں بیٹھا تھا سب سے اوپر والی سیڑھی پراور اترتے وقت بلاوجہ ہی گھسیٹ گھسیٹ کر سیڑھیاں اترا تھا۔ کھانا لے کر پیسے دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو پتہ چلا کہ موبائل تو ہے ہی کوئی نہیں۔ پیسے دے کر میں فٹا فٹ واپس گھر آیا اور پبلک
سے گمشدہ موبائل کے بارے میں تفتیش شروع کر دی۔ دوستوں کے موبائلز سے اپنے نمبر پر کال بھی کی پہلے رِنگ جاتی تھی بعد میں آپکے مطلوبہ نمبر سے فی الحال جواب موصول نہیں ہو رہا، یعنی کہ نتیجہ صفر۔ مجھے بڑا ہی غصہ آیا، خود پراپنی لاپرواہی کی وجہ سے اور اُس بھوتنی کے پر جسکی نیت ایک موبائل فون کو دیکھ کر خراب ہو گئی۔


Blackberry 7290




مارچ 2008 میں خریدا ہوا یہ فون بھی مجھے بہت پسند تھا۔ اس فون کا پورا کی پیڈ بڑی مزےدار چیز تھا۔ فون تھا بھی ذرا مختلف، کیونکہ اس میں اوپر نیچے مینو میں گھومنے کے لیے بٹن نہیں تھےبلکہ ایک ٹریک وہیل تھا۔ میں نے ڈبہ بند خریدا تھا اور ڈبے میں چارجر کے علاوہ ایک فون کے لیے ایک ہولسٹر بھی تھا۔ ہولسٹر خطرناک لفظ ہے، سن کر فوراً دھیان پستول کی طرف جاتا ہے۔ ویسے ہمارے یہاں موبائل فونز کے ساتھ اس قسم کے ششکے آتے نہیں ہی، بہر حال یہ ہولسٹر ڈبے میں سے نکل آیا تھا۔ گھوسٹ سافٹ ویئر سے ملازمت چھوڑنے کے بعد میں کوئی پندرہ دنوں کے لیے گھر گیا تھا۔ کام نہ ہونے کی وجہ سے یہ دِن ویسے بھی کافی پریشان کُن تھے۔ صبح اباّ جی کے لیے اخبار لینے موٹر سائیکل پر کڑیانوالہ گیا، واپسی پر کافی تیز آ رہا تھا۔ فون ہولسٹر میں ڈال کر شلوار کے ساتھ لگایا ہو تھا۔


واپس آ کر ہاتھ مارا تو فون غائب۔ میں واپس گیا، اس امید پر کہ شاید کہیں دکھائی دے جائے۔ کیونکہ یقیناً موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے ہی کہیں گِرا ہو گا۔ شام تک میں کال کرتا رہا، لیکن کسی نے اٹھایا نہیں۔ اس وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ فون کسی ایسی جگہ گرا تھا جہاں کسی کی نظر نہیں پری ہو گی۔ ایک اور بات، رات کو سوتے وقت میں عموماً فون کا گلا دبا دیتا ہوں۔ مطلب سائیلنٹ یعنی خاموش کر دیتا ہوں۔خیر، یہ فون تو اِس طرح گم گیا۔ اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ کسی کو ملا بھی نہیں ہو گا سڑک کے کنارے ہی جھاڑیوں میں پڑا ہو گا۔



اب باری آتی ہے اُس فون کی، جو کہ میرے ہتھے چڑھا تھا۔


Nokia 5300 Music Phone

   



اسی سال کی بات ہے، تھوڑے ہی مہینے پہلے فاسٹ میں سافٹ ٹیک سالانہ نمائش لگی تھی۔ میں اور میرا ہائوس میٹ زبیر وہاں گھومنے پھرنے گئے۔ کافی رونق میلہ تھا۔ میرا بلیک بیری گُم ہوئے تھوڑے ہیدِن ہوئے تھے، اور مجھے فون کی ضرورت تھی۔ بھئی اسکا مطلب یہ مت نکال لینا کہ میں وہاں فون کا شکار کرنے گیا تھا۔ اس نمائش میں بچوں کے آئیڈیاز کا بھی ایک حصہ ہوتا ہے۔ گھوم گھام کر ہم لوگ اُس طرف نکل گئے، ماشاءاللہ کافی اچھے آئیڈیاز تھے بچوں کے، اور کافی خوبصورت اُستانیاں بھی۔ وہاں میری نظر روسٹرم پہ رکھے ایک عدد فون پر پڑی، جس کا کوئی والی وارث دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

میں نے زوبی سے کہا کہ یار وہ دیکھ فون، اُسنے فون اٹھا لیا اور ایک دو مرتبہ ہوا میں لہرا کہ آواز لگائی کہ یہ کس کا ہے؟ ایک دو کوششوں کے بعد جب کوئی جواب نہ آیا تو زوبی کہتا ہے کہ یار جیب میں ہی ڈال لوں، ایویں ای کوئی اور آ کے کہہ دے گا کہ میرا ہے۔ اسکے بعد ہم لوگ باہر آ گئے، گھنٹہ بھرگھومے پھرے کھایا پیا اور گھر کی طرف آ گئے۔ فردوس مارکیٹ اتر کے میں نے زوبی سے کہاکہ یار موسم اچھا ہے، چل حفیظ سنٹر چلتے ہیں مجھے موبائل خریدنا ہے۔ ابھی ہم بس سٹاپ پر ڈیوو کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ فون بجا۔ زوبی نے اٹھایا تو کسی نے فون والی کا پوچھا، شاید کوئی لڑکا تھا۔
زوبی نے بتا دیا کہ ایسے ایسے مجھے فون ملا ہے اور آپ اُسے بتا دیں۔ ذرا دیر بعد فون کی مالکن نے فون کھڑکا دیا۔ کچھ ایسی گفتگو ہوئی

بچی: میرا فون آپکے پاس ہے۔
زوبی: ہاں جی بالکل۔
بچی: آپ کو ملا تھا تو آپ مجھے واپس دے کر جاتے۔
زوبی: آپ نے فون ہی نہیں کیا ورنہ ہم کافی دیر فاسٹ میں گھومتے رہے تھے۔
بچی: تو اب واپس کر کے جائیں۔
زوبی: فون آپکا ہی ہے، مجھے کوئی شوق نہیں رکھنے کا لیکن ابھی میں نہیں آ سکتا۔
بچی: وٹ دا ہیل میرے کنٹیکٹس ہیں اُس میں۔ آپ ابھی دے کر جائو۔
زوبی: وٹ دا ہیل والی اس میں کونسی بات ہے بی بی۔ تمیز سے بات کریں۔
بچی: وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
زوبی: اچھا تو میں اسے بند کر کے جیب میں ڈال رہا ہوں، لے سکتی ہو تو لے لو۔

ہم لوگ حفیظ سنٹر چلے گئے، وہاں جا کر زوبی نے فون آن کیا۔ ایک لڑکے کا فون آیا، زوبی نے مجھے پکڑا دیا۔ بات ہوئی، وہ کہتا ہے کہ آپ لوگ کہیں بھی ہییں میں خود آ کر فون لے جاتا ہوں۔ لیکن میں نےکہہ دیا کہ یار ہم لوگ لاہور سے باہر جا رہے ہیں، کل پرسوں واپس آئیں گے تو خود فون کریں گے تب لے جانا۔ میں نے نوکیا بارہ سو خریدنا تھا، اس دوران لڑکی کے والد کا فون آ گیا اور زوبی نے سنا۔ بابا جی سے زوبی نے کہا کہ جناب فون آپکا ہی ہے ہمارے قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ اگر ہوتا تو ملتے ہی سِم نکال کر پھینک دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ یار جانے دو غصہ، بچی ہے اور اب رو رہی ہے اُسکی کسی فرینڈ نے مجھے فون کیا تھا کہ یہ مسئلہ ہے۔ لڑکیاں تو ہوتی ہی بےوقوف ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دھیان رہے، یہ بابا جی نے کہا تھا میں تو صرف روایت کر رہا ہوں۔ خیر زوبی نے بابے کو گرین سگنل دے دیا کہ ہم حفیظ سنٹر ہیں آپ آ جائیں۔ دس منٹ میں وہ لوگ آ گئے، اپنی کمزور سی مہران میں۔ فرنٹ سیٹ پر ایک صحتمند سی آنٹی بھی تھیں، یقیناً بابا جی کی شریکِ حیات ہوں گی۔ زوبی نے فون بابے کو پکڑایا، اور کہا کہ جناب بچی کو تمیز بھی سکھائیں اور کہیں سے ہو سکے عقل بھی دلوا ہی دیں۔ بزرگ بڑے ممنون تھے، کہنے لگے کہ آئو کوئی ڈرنکس ہو جائیں۔ لیکن ہم لوگوں نے منع کر دیا۔
   

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer