Thursday, July 2, 2009

میرا موبائل گواچا

آج میں لکھوں گا کہ میرے کون کون سے موبائل فون گُم ہوئے اور کیسے گُم ہوَے۔ ابھی تک میں کُل تین فون گُم کر چکا ہوں۔ اِس کے علاوہ ایک ایسے فون کا قصہ بھی بیان کروں گا، جو کسی کا گواچاہوا مجھےملا تھا۔


Nokia 1100


یہ فون میں نے سن 2005 میں خریدا تھا، جب آتش جوان تھا۔ اُن دنوں میں فاسٹ میں "اعلٰ تعلیم" حاصل کر رہا تھا۔ شام کو کھانا کھانے نکلا، تو فون قمیض کی سامنے والی جیب میں تھا۔ ایک جگہ چلتے چلتے میں نے اپنے گھٹنے پر خارش کی اور چلتا چلا گیا۔ ہوٹل پہنچ کر کچھ کھانے کے لیے کہا، اور ٹی وی دیکھنے لگ پڑا۔ کسی کا فون بجا، رِنگ ٹون میرے فون والی ہی تھی۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا توجناب فون ندارد ۔ میں نے اُس بندے سے جا کر پوچھ لیا کہ "یار میرا فون آپکے پاس ہے" وہ بیچارہ میری شکل دیکھنا شروع۔ کہتا ہے کہ نہیں بھاَی جی، میرا اپنا فون ہے یہ دیکھ لیں۔ توجناب میں اسی بندے کے فون سے اپنا نمبر ملایا، رِنگ جا رہی تھی اور جاتی رہی لیکن کسی نے اٹھایا نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ ایک جگہ چلتے چلتے جھکا تھا وہیں نا گرگیا ہو۔ میں جی بھاگم بھاگ اُس جگہ پہنچ گیا۔ لیکن فون نہ ملنا تھا، نہیں مِلا۔ کمرے میں واپس آ کر بھی، میں ٹرا ئی پہ ٹرا ئی کرتا رہا۔ ایک مرتبہ کسی بندے نے فون اٹھایا لیکن کسی بات کاجواب نہیں دیا اور کاٹ دیا۔ دعا تو مانگی کہ کوئی بندے دا پُتر ہواورواپس کردے، لیکن کوئی چکر ہی نہیں۔ فون واپس نہیں مِلا۔


Nokia 6300



اُن دنوں یہ فون مارکیٹ میں نیا نیا آیا تھا۔ میرے ایک کزن نے مجھے گفٹ کیا، مجھے پسند بھی تھا۔ خیر جناب ایک سہانی شام کو میں اپنے کمرے کی گلی والی سیڑھیوں میں نیکر پہنے بیٹھا تھا، کہ میرا دوست عدنان آیا اور کہنے لگا "یار روٹی لے آ بازار سے جا کے، آج آنٹی نہیں آئی" ۔ میں خراماں خراماں تِکّوں والی دوکان کی طرف چل پڑا۔میں بیٹھا تھا سب سے اوپر والی سیڑھی پراور اترتے وقت بلاوجہ ہی گھسیٹ گھسیٹ کر سیڑھیاں اترا تھا۔ کھانا لے کر پیسے دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو پتہ چلا کہ موبائل تو ہے ہی کوئی نہیں۔ پیسے دے کر میں فٹا فٹ واپس گھر آیا اور پبلک
سے گمشدہ موبائل کے بارے میں تفتیش شروع کر دی۔ دوستوں کے موبائلز سے اپنے نمبر پر کال بھی کی پہلے رِنگ جاتی تھی بعد میں آپکے مطلوبہ نمبر سے فی الحال جواب موصول نہیں ہو رہا، یعنی کہ نتیجہ صفر۔ مجھے بڑا ہی غصہ آیا، خود پراپنی لاپرواہی کی وجہ سے اور اُس بھوتنی کے پر جسکی نیت ایک موبائل فون کو دیکھ کر خراب ہو گئی۔


Blackberry 7290




مارچ 2008 میں خریدا ہوا یہ فون بھی مجھے بہت پسند تھا۔ اس فون کا پورا کی پیڈ بڑی مزےدار چیز تھا۔ فون تھا بھی ذرا مختلف، کیونکہ اس میں اوپر نیچے مینو میں گھومنے کے لیے بٹن نہیں تھےبلکہ ایک ٹریک وہیل تھا۔ میں نے ڈبہ بند خریدا تھا اور ڈبے میں چارجر کے علاوہ ایک فون کے لیے ایک ہولسٹر بھی تھا۔ ہولسٹر خطرناک لفظ ہے، سن کر فوراً دھیان پستول کی طرف جاتا ہے۔ ویسے ہمارے یہاں موبائل فونز کے ساتھ اس قسم کے ششکے آتے نہیں ہی، بہر حال یہ ہولسٹر ڈبے میں سے نکل آیا تھا۔ گھوسٹ سافٹ ویئر سے ملازمت چھوڑنے کے بعد میں کوئی پندرہ دنوں کے لیے گھر گیا تھا۔ کام نہ ہونے کی وجہ سے یہ دِن ویسے بھی کافی پریشان کُن تھے۔ صبح اباّ جی کے لیے اخبار لینے موٹر سائیکل پر کڑیانوالہ گیا، واپسی پر کافی تیز آ رہا تھا۔ فون ہولسٹر میں ڈال کر شلوار کے ساتھ لگایا ہو تھا۔


واپس آ کر ہاتھ مارا تو فون غائب۔ میں واپس گیا، اس امید پر کہ شاید کہیں دکھائی دے جائے۔ کیونکہ یقیناً موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے ہی کہیں گِرا ہو گا۔ شام تک میں کال کرتا رہا، لیکن کسی نے اٹھایا نہیں۔ اس وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ فون کسی ایسی جگہ گرا تھا جہاں کسی کی نظر نہیں پری ہو گی۔ ایک اور بات، رات کو سوتے وقت میں عموماً فون کا گلا دبا دیتا ہوں۔ مطلب سائیلنٹ یعنی خاموش کر دیتا ہوں۔خیر، یہ فون تو اِس طرح گم گیا۔ اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ کسی کو ملا بھی نہیں ہو گا سڑک کے کنارے ہی جھاڑیوں میں پڑا ہو گا۔



اب باری آتی ہے اُس فون کی، جو کہ میرے ہتھے چڑھا تھا۔


Nokia 5300 Music Phone

   



اسی سال کی بات ہے، تھوڑے ہی مہینے پہلے فاسٹ میں سافٹ ٹیک سالانہ نمائش لگی تھی۔ میں اور میرا ہائوس میٹ زبیر وہاں گھومنے پھرنے گئے۔ کافی رونق میلہ تھا۔ میرا بلیک بیری گُم ہوئے تھوڑے ہیدِن ہوئے تھے، اور مجھے فون کی ضرورت تھی۔ بھئی اسکا مطلب یہ مت نکال لینا کہ میں وہاں فون کا شکار کرنے گیا تھا۔ اس نمائش میں بچوں کے آئیڈیاز کا بھی ایک حصہ ہوتا ہے۔ گھوم گھام کر ہم لوگ اُس طرف نکل گئے، ماشاءاللہ کافی اچھے آئیڈیاز تھے بچوں کے، اور کافی خوبصورت اُستانیاں بھی۔ وہاں میری نظر روسٹرم پہ رکھے ایک عدد فون پر پڑی، جس کا کوئی والی وارث دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

میں نے زوبی سے کہا کہ یار وہ دیکھ فون، اُسنے فون اٹھا لیا اور ایک دو مرتبہ ہوا میں لہرا کہ آواز لگائی کہ یہ کس کا ہے؟ ایک دو کوششوں کے بعد جب کوئی جواب نہ آیا تو زوبی کہتا ہے کہ یار جیب میں ہی ڈال لوں، ایویں ای کوئی اور آ کے کہہ دے گا کہ میرا ہے۔ اسکے بعد ہم لوگ باہر آ گئے، گھنٹہ بھرگھومے پھرے کھایا پیا اور گھر کی طرف آ گئے۔ فردوس مارکیٹ اتر کے میں نے زوبی سے کہاکہ یار موسم اچھا ہے، چل حفیظ سنٹر چلتے ہیں مجھے موبائل خریدنا ہے۔ ابھی ہم بس سٹاپ پر ڈیوو کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ فون بجا۔ زوبی نے اٹھایا تو کسی نے فون والی کا پوچھا، شاید کوئی لڑکا تھا۔
زوبی نے بتا دیا کہ ایسے ایسے مجھے فون ملا ہے اور آپ اُسے بتا دیں۔ ذرا دیر بعد فون کی مالکن نے فون کھڑکا دیا۔ کچھ ایسی گفتگو ہوئی

بچی: میرا فون آپکے پاس ہے۔
زوبی: ہاں جی بالکل۔
بچی: آپ کو ملا تھا تو آپ مجھے واپس دے کر جاتے۔
زوبی: آپ نے فون ہی نہیں کیا ورنہ ہم کافی دیر فاسٹ میں گھومتے رہے تھے۔
بچی: تو اب واپس کر کے جائیں۔
زوبی: فون آپکا ہی ہے، مجھے کوئی شوق نہیں رکھنے کا لیکن ابھی میں نہیں آ سکتا۔
بچی: وٹ دا ہیل میرے کنٹیکٹس ہیں اُس میں۔ آپ ابھی دے کر جائو۔
زوبی: وٹ دا ہیل والی اس میں کونسی بات ہے بی بی۔ تمیز سے بات کریں۔
بچی: وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
زوبی: اچھا تو میں اسے بند کر کے جیب میں ڈال رہا ہوں، لے سکتی ہو تو لے لو۔

ہم لوگ حفیظ سنٹر چلے گئے، وہاں جا کر زوبی نے فون آن کیا۔ ایک لڑکے کا فون آیا، زوبی نے مجھے پکڑا دیا۔ بات ہوئی، وہ کہتا ہے کہ آپ لوگ کہیں بھی ہییں میں خود آ کر فون لے جاتا ہوں۔ لیکن میں نےکہہ دیا کہ یار ہم لوگ لاہور سے باہر جا رہے ہیں، کل پرسوں واپس آئیں گے تو خود فون کریں گے تب لے جانا۔ میں نے نوکیا بارہ سو خریدنا تھا، اس دوران لڑکی کے والد کا فون آ گیا اور زوبی نے سنا۔ بابا جی سے زوبی نے کہا کہ جناب فون آپکا ہی ہے ہمارے قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ اگر ہوتا تو ملتے ہی سِم نکال کر پھینک دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ یار جانے دو غصہ، بچی ہے اور اب رو رہی ہے اُسکی کسی فرینڈ نے مجھے فون کیا تھا کہ یہ مسئلہ ہے۔ لڑکیاں تو ہوتی ہی بےوقوف ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دھیان رہے، یہ بابا جی نے کہا تھا میں تو صرف روایت کر رہا ہوں۔ خیر زوبی نے بابے کو گرین سگنل دے دیا کہ ہم حفیظ سنٹر ہیں آپ آ جائیں۔ دس منٹ میں وہ لوگ آ گئے، اپنی کمزور سی مہران میں۔ فرنٹ سیٹ پر ایک صحتمند سی آنٹی بھی تھیں، یقیناً بابا جی کی شریکِ حیات ہوں گی۔ زوبی نے فون بابے کو پکڑایا، اور کہا کہ جناب بچی کو تمیز بھی سکھائیں اور کہیں سے ہو سکے عقل بھی دلوا ہی دیں۔ بزرگ بڑے ممنون تھے، کہنے لگے کہ آئو کوئی ڈرنکس ہو جائیں۔ لیکن ہم لوگوں نے منع کر دیا۔
   

1 comment:

  1. اچھی کہانی سنائی ہے۔ بلیک بیری کا تو سرور سے بھی پتہ چل جاتا اگر آپ انکی سروس استعمال کر ہرے تھے۔ باقی فونز کا علاقہ کم از کم پتہ چل سکتا ہے اگر آپ کے پاس آئی ایم ای آئی نمبر ہو تو۔ ورنہ کمپنی سے کہہ کر بلاک تو کروایا ہی جا سکتا ہے۔
    آپ بھی ایک ایس ایم ایس کے ذریعے ایسا فون بلاک کر سکتے ہیں لیکن یہ آپشن اگر پہلے سے سیٹ کیا ہو تب۔

    ReplyDelete

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer