اتوار، 13 نومبر، 2016

فیس بُک کی بُری عادت کو چھوڑنے کا طریقہ

Urdu splash, how to quit Facebook bad habit





فیس بُک بہت سارے لوگوں کے لئے درد سر بن چکی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ لوگ اس پر روزانہ کئی گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں۔
لیکن "اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیا چُگ گئی کھیت" کے مصداق بعد میں افسوس کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔

اچھی بات یہ ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے آپ اس بُری عادت پر قابو پا سکتے ہیں۔ اس عادت سے چھٹکارہ پانے کے لئے میں نے جو انتہارئی کارگر تدابیر اختیار کی وہ آپکی پیش خدمت ہیں۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سے آپکو فائدہ ہو گا۔ 

ہر اتوار نعیم اکرم ملک شو کی نئی قسط آپکی خدمت میں پیش کی جائیگی۔ اگر آپ کوئی خاص مسئلہ زیر بحث لانا چاہتے ہیں تو براہ کرم ویڈیو پر کمنٹ کریں۔

گزارش

براہ کرم چینل کو سبسکرائب ضرور کریں تاکہ آپکو نئی ویڈیوز کی اطلاع فوری طور پر مل سکے۔


اردو بلاگر

خواتین و حضرات سے گزار ہے کہ چینل ضرور سبسکرائب کریں۔ اپنی ویڈیوز بنانے کے لئے کسی قسم کی مدد چاہیئے ہو تو مجھ سے بلا جھجھک رابطہ کریں۔

بدھ، 12 اکتوبر، 2016

Morning Journal 1 - فرنگیا

ہم یہ جرنل اسلئے لکھ رہے ہیں کہ ایسا کرنے سے تخلیقی گرہ کھلتی ہے۔
  جولی کیمرون کی شہرہ آفاق کتاب اس خیال کا ماخذ ہے۔ The Artis's Way

Thug Behram - Wikipedia


ایک خیال ہے کہ فرنگیا ٹھگ(انیسویں صدی) کے بارے فلم بننی چاہیئے جس میں فرنگیا ولن ہو گا۔ اس فلم میں اُس دور کے حالات و واتعات دکھائے جائیں گے۔ ایسا کرنے پر اچھا خاصہ خرچہ ہوگا۔ لیکن اگر فلم عالمی سطح پر کامیاب ہو جائے تو عین ممکن ہے کہ خوب منافع بھی ہو۔

فرنگیا 

فرنگیا کا ذکر علی رضا عابدی کی کتاب "پرانے ٹھگ" میں ملتا ہے۔ عابدی صاحب البتہ اُن کتابوں کا بھی حوالہ دیتے ہیں جن سے انہوں نے ٹھگوں کے بارے معلومات اخذ کی۔

اسی آئیڈیا پر مزید سوچنے سے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس فلم میں قدیم اور جدید دو ٹائم لائنز ساتھ ساتھ چلائی جائیں۔ ایک فرنگیا ٹھگ کی اور ایک فوجی اشتہاری کی۔ 
فرق یہ ہو گا کہ فرنگیا آخر میں گورے حاکموں کی گرفت میں آ کر سولی چڑھے گا جبکہ فوجی اپنے زمیندار سربراہوں کے ساتھ قہقہے لگاتا ہوا موٹر سائیکل پر بیٹھ کر نکل جائیگا۔

وجہ تسمیہ

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مصنف کے والد صاحب پر دو ہزار تیرہ میں خوفناک ڈکیتی ہوئی جسکے نتیجے میں لاکھوں کا نقصان اور شدید صدمہ اٹھانا پڑا۔
ذاتی طور پر جرم کا شکار ہونے اور تھائوں کے چکر لگانے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ پرانے دور کے ٹھگوں اور آج کے ڈکیتوں میں کئی قدریں مشترک ہیں۔

پرانے دور کے ٹھگوں نے بڑا اندھیر مچایا، خاندانوں کے خاندان قتل کر کے گاڑ دیئے لیکن آخر انکا یومِ حساب آ ہی گیا۔
اللہ بہتر جانتا ہے دورِ حاضر کے سفاک ڈکیتوں کی گردن کب شکنجے میں آئیگی۔

بدھ، 28 ستمبر، 2016

Moses and Ant, lesson about financial wisdom [Urdu]

موسیٰ علیہ السلام اور چیونٹی کی کہانی مختصر ہے البتہ اس میں ایک انتہائی اہم سبق موجود ہے۔ دور حاضر میں بہت سارے لوگ کریڈٹ کارڈ کے غلط یا غیر ضروری استعمال کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ 
اسکے علاوہ لوگوں نے بینکوں سے بہت سارے قرضے بھی اٹھا رکھے ہیں۔
اس کہانی کی وجہ سے ہم یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم کونسی چیونٹی ہیں؟ وہ جو ایک دانہ کھا کر ایک برے وقت کے لئے بچاتی ہے یا وہ جو دونوں دانے قبل از وقت اُڑا کر کریڈٹ کارڈ پر ادھار لینے چل پڑتی ہے۔
شکریہ

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer