جمعہ، 11 نومبر، 2011

پاکستان، ہندوستان اور Amazon Mechanical Turk

amazon-mechanical-turk-mturk-home

 امازون ڈاٹ کام امریکہ کا بہت بڑا آنلائن شاپنگ سٹور ہے۔ اس سٹور کا نام شمالی امریکہ کے دوسرے بڑے دریا امازون کے نامر پر ہے۔ امازون ڈاٹ کام حالیہ سالوں میں صرف شاپنگ سٹور سے بڑھ کر ایک بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے، انہوں نے کِنڈل نامی ای بک ریڈر بنا کر کتاب پڑھنے والوں کی دنیا تبدیل کر دی ہے، اور اسکے علاوہ یہ مختلف خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں۔

امازون مکینکل ترک کیا ہے؟
ایم ترک پر مختلف لوگ ایسے ہیومن انٹیلیجنس ٹاسک فروخت کے لئے رکھتے ہیں جو کہ کمپیوٹر سر انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر
کسی تحریر کا خلاصہ لکھنا -
انگریزی آڈیو بیان کو سن کر ٹائپ کرنا، یا ٹرانسکرپشن -
انگریزی ویڈیو کی ٹرانسکرپشن -
دی گئی تصاویر میں سے ایسی کی نشاندہی کرنا جن میں آگ یا دھواں ہو -
عربی، ہسپانوی، یا کسی اور زبان میں لکھے جملوں کوبول کر ریکارڈ کرنا -
دیئے گئے ٹویٹس کی درجہ بندی کرنا -

ایم ترک پر برائے فروخت کاموں کی اجرت انکی پیچیدگی کے حساب سے ہوتی ہے، یہ اجرت ایک سینٹ سے لے کر دس ڈالرتک ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی فرد ایم ترک پر رجسٹر ہو کے ہیومن انٹیلی جنس ٹاسک مکمل کر سکتا ہے، اگر آجر آپکے کام سے مطمئن ہو گا تو وہ کام کو مکمل تسلیم کر کے اجرت ادا کر دے گا۔

میرے اندازے میں ایم ترک پر چار سے چھے گھنٹے کام کر کے کوئی بھی پڑھا لکھا فرد ماہانہ تین سے پانچ سو ڈالر با آسانی کما سکتا ہے۔ میں نے تجرباتی طور پر چار دِن ایک گھنٹہ روزانہ کام کیا، چار اعشاریہ تیس ڈالر اجرت اور تیس سینٹ بونس   میں آئے۔ اس وقت ایم ترک پر دو لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھوٹے بڑے ٹاسک موجود 
ہیں۔
ہارڈ کور کمپیوٹر پروفیشنلز کی اکثریت اوڈیسک اور ای لانس جیسی ویب ساٹئس پر فری لانس کام کر رہی ہے، لیکن ایم ترک ایسے لوگوں کے لئے ہے جو صرف کمپیوٹر استعمال کر کے ترجمہ، خلاصہ وغیرہ جیسے کام کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اس کہانی کے ٹریجک ڈراپ سین کی طرف۔
امازون ایم ترک پر کئے گئے کام کے پیسے صرف امریکہ اور ہندوستان میں ہی ٹرانسفر کئے جاتے ہیں، پاکستان یا دنیا کے کسی اور ملک سے کام کرنے والے لوگوں کو نقد پیسے نہیں دیئے جاتے بلکہ کئے گئے کام کے بدلے آپ صرف امازون سے شاپنگ کر سکتے ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہندوستان والے امازون کو منا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
میاں شہباز شریف صاحب کی ٹیکسی روزگار سکیم سے جتنے پڑھے لکھے لوگوں کو روزگار مِلے گا، لگ بھگ اتنے ہی لوگوں کو امازون ایم ترک پر بھی کام مِل سکتا ہے۔ خیال رہے کہ ایسا کرنے پر خرچہ برائے نام آئے گا، جو پیسے خرچ ہوں گے وہ ہمارے بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کے امریکہ دوروں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہائش، اور دھواں دھار پبلسٹی پر ہی خرچ ہوں گے۔
المختصر، امازون ایم ترک پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا یک بڑا موثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے اگر کوئی کوشش کرے تو۔


تجاویز
حکومتی سطح پر امازون کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، اور انہیں پاکستان کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
اس مقصد کے لئے وطن کارڈ کی طرز پر خصوصی اے ٹی ایم کارڈ بھی جاری کئے جاسکتے ہیں۔
گورنمنٹ اگر چاہے تو ان کارڈز میں آنے والے پیسے میں سے پانچ فیصد ٹیکس بھی کاٹ سکتی ہے۔
یہ کارڈ ایشو کرنے والے بینک یا پاکستان پوسٹ ڈھائی فیصد تک انتظامی اخراجات کاٹ سکتے ہیں، یا پھر سالانہ پانچ سو روپے فِکس کر لیں۔

نوٹ: کچھ ایسا ہی معاملہ پے پال کا بھی ہے، انہوں نے پاکستان آنے کی کوشش تو کی تھی لیکن ہمارا بینکنگ نظام انکی سمجھ میں نہیں آیا۔
نوٹ: اس امر میں پاشا اور پی سیب جیسی تنظیموں سے کوئی امید رکھنا فضول ہے، کیونکہ اُن لوگوں کا کوئی براہ راست مفاد وابستہ نہیں ہے۔

پیر، 7 نومبر، 2011

قصائی کی تلاش



پونے گیارہ بج چکے ہیں اور قصائی بھائی ابھی تک نہیں پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شیراز میرے چچا زاد کزن سے قصائی نے سات ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی تھی، جبکہ شیراز نے اُسے پانچ ہزار پر منا لیا تھا۔ البتہ اتفاق سے اُسی شام وہ بکرا خریدنے ہمارے گائوں آ گیا، بکرا اور بیل ایک ہی حویلی میں بندھے تھے۔ بیل کودیکھ کر قصائی نے تو رونا ہی شروع کر دیا، کہ یار یہ ہٹا کٹا جانور تو نو ہزار سے کم میں نہیں ذبح کروں گا۔ بعد میں بہرحال چھے ہزار روپے پر مان گیا۔
ابھی تک قصائی نہیں آیا، فون کرتے ہیں تو فون نہیں اٹھاتا۔ تھوڑی دیر قبل شیراز کی طلبی ہوئی تھی، اور وہ بچیارہ بزتی سے بچنےکی خاطر منظر سے غائب ہو گیا تھا۔
کل رات ہم لوگوں نے بزرگوں سے کہا بھی تھا کہ عید کی نماز ساڑھے آٹھ بجے رکھیں لیکن اُنہوں نے ضد کر کے نماز آٹھ بجے کروا لی، اور ابھی تک قصائی کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔
البتہ جو لوگ خود بکرے وغیرہ ذبح کر رہے ہیں، یا جنکے خوش قسمتی سے قصائی جلدی آ گئے ہیں سکون میں ہیں۔
ہمارے گائوں میں جانور پالنے کے لئے عام طور پر علیحدہ عمارت بنائی جاتی ہے، اور اس عمارت کو حویلی کہا جاتا ہے۔ اکثر حویلیوں میں ایک کمرہ بھوسے کے لئے، اور ایک سردیوں میں بھینس باندھنے کے لئے بنایا جاتا ہے۔ اسکے علاہ چارہ کترنے والی مشین لگانے کے لئے بھی جگہ مختص ہوتی ہے۔ گرمیوں میں بھینس اور دیگر مویشی کھلے صحن میں باندھے جاتے ہیں۔
میں نے تو سوچا تھا کہ بلاگ لکھتا ہوں، اتنی دیر میں قصائی آ جائے گا لیکن وہ الو کا کان ابھی تک نہیں آیا، میرے خیال سے مجھے جا کر اُسکا پتہ کرنا چاہیئے۔ قارئین کو عید مبارک۔۔۔ میں تو چلا۔۔۔ قصائی کی تلاش میں۔۔۔


ہفتہ، 29 اکتوبر، 2011

رِم جھم اور کمینے لوگ۔۔۔

کہنے کو تو چھے بجے چھٹی ہو جاتی ہے لیکن، نہ نہ کرتے بھی دفتر سے نکلتے ساڑھے چھے بج ہی جاتے ہیں۔ بہر حال ایسے بھی سافٹ ویئر ہائوس ہیں جہاں رات دس بجے تک جان نہیں چھوٹتی، شکر ہے یہاں اسطرح نہیں ہوتا۔ باجوہ نے فٹا فٹ دروازہ کھولا، بٹوہ اور دونوں موبائل فرنٹ سیٹ پر پھنیکے، گاڑی سٹارٹ کی، اور کیٹی پیری کے گانے لگا لئے۔ اُسکے سارے دوست شغل لگاتے تھے کہ کیٹی پیری تو لڑکیاں سنتی ہیں، اور آئی فون کمپیوٹر سے ناواقف لوگوں کا کھلونا ہے لیکن اُسے دونوں چیزیں اچھی لگی تھیں سو وہ پرواہ نہیں تھا کرتا۔
گاڑی بیسمنٹ سے باہر آتے ہی اُسکا دِل خوش ہو گیا، بھئی شام کا وقت جمع رِم جھم رِم جھم پڑے پھوار، اُس نے اے سی بند کر کے دونوں شیشے نیچے کئے اور گانوں کی آوازمزید اونچی کر دی۔ بیچارہ کنوارا بندہ اب ایسے ہی انجوائے کر سکتا ہے۔
گلبرگ کے مین بلیوارڈ پر اُسکی توقع کے مطابق آج خوب رش تھا، عوام الناس ٹھنڈے موسم کا کا مزا لینے کے لئے گھروں سے نکلے ہوئے تھے۔ اکثریت کا رُخ ایم ایم عالم روڈ، اور قذافی سٹیڈیم والے ریسٹورانٹس کی طرف ہی تھا۔ لاہوریوں کو تو بس روٹی کھانے کا بہانہ چاہئیے، ذرا موقع مِل جائے سہی۔
مین مارکیٹ والا اشارہ بند تھا، اُس نے درمیان والی لین میں گاڑی لگا دی، چند سیکنڈ میں پیچھے بھی رش لگ گیا۔ گجرے بیچنے والے چُن چُن کر جوڑوں کی ۔ گاڑیوں موٹرسائیکلوں کے پاس جا رہے تھے، اور دھڑا دھڑ مال بیچ رہے تھے۔ بھکاریوں کی بھی موجیں لگی تھیں۔
اچانک بائیں جانب کھٹکا سا ہوا، کھلے شیشے میں سے ایک ہاتھ جانے کب اندر آ گیا اُسے پتہ ہی نہیں چلا البتہ باہر نکلتے اُسکی شرٹ کا بٹن شیشے پر لگنے کی وجہ سے آواز پیدا ہو ہی گئی۔ باجوہ کو یہ نہیں پتہ چلا کہ چور نے اُٹھایا کیا تھا، بس اُسے اتنا پتہ تھا کہ کوئی ہینڈ ہو گیا ہے۔ اُس نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور پوری قوت سے اچکے کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔  دِن دیہاڑے ہونے والی اس واردات نے اُسکا تو میٹر ہی آئوٹ کر دیا تھا، وہ سوچ رہا تھا کہ بس یہ بندہ پکڑا جائے توٹانگیں توڑ دوں سالے کی۔
چور اب تک سڑک کے بائیں جانب سروس لین میں پہنچ چُکا تھا۔۔۔
"اوئے رُک کُتے۔۔۔ تیری ماں کی ****** ۔۔۔" 

مین مارکیٹ کا اشارہ، جدھر گاڑیاں کھڑی ہیں باجوہ اُدھر سے آ رہا تھا
باجوہ چیخا لیکن چور کو بھی پتہ تھا کہ آج پکڑا گیا تو بہت بُری ہو گی، باجوہ کو اپنی ٹانگوں پر بھروسا تھا، لیکن چور اُسکی توقعات سے زیادہ کمینہ ثابت ہوا۔ اُسکی اگلی حرکت باجوہ کے لئے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی۔
چور ایک پہلے سے سٹارٹ کھڑے موٹر سائیکل پر بیٹھا، اور اُسکے منتظر موٹر سائیکل سوار نے دستی موٹر سائیکل بھگا دی۔ باجوہ۔۔۔ بیچارہ۔۔۔ ماتھے پر ہاتھ رکھے وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔
سگنل کھل چُکا تھا اور سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی اُسکی گاڑی کی وجہ سے خاصہ اُدھم مچا ہوا تھا۔ اُس نے شکر کیا کہ گاڑی وہیں سٹارٹ کھڑی تھی، ورنہ اگر چوروں کا کوئی تیسرا ساتھی گاڑی بھی بھگا لے جاتا تو وہ فوراً کچھ نہ کر پاتا۔ سیٹ پر پڑا بٹوہ اور نیا سیم سنگ گلیکسی جیو موبائل پڑا دیکھ کر اُس نے سکھ کا سانس لیا۔  البتہ آئی فون تھری جی ایس کو غائب پا کر اُسے بڑا افسوس ہوا اور نقصان کا اندازہ بھی۔ اُس نے سیٹ کے نیچے اور آس پاس دیکھا، لیکن آئی فون ندارد۔ چور نے اندھا دھند ہاتھ مارا، اور جو اُسکو مِلا وہ لے کر بھاگ گیا۔
یہ ایک سچے واقعے کی رودار ہے، اور باجوہ میرا دوست ہے۔ شہر میں آجکل اس قسم کے واقعات عام ہیں۔ اللہ کا شکر ہے یہاں کراچی جیسی موبائل سنیچنگ نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی کافی کچھ ہو جاتا ہے۔ اگر اگلی مرتبہ آپ خوشگوار موسم میں ڈرائیونگ کر رہے ہوں تو جناب احتیاط کیجئے گا، ورنہ بعد میں افسوس کرتے  پھریں گے۔ اسکے علاوہ رش والی جگہوں پر عورتوں کے پرس جھپٹ کر دوڑ جانے والے گرگے بھی کافی ہیں، بیگم کی ایک سہیلی کو چھوٹی عید کے دِنوں میں چونا لگا تھا۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer