گرد و نواح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
گرد و نواح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 12 جون، 2015

Suzuki Wagon R Test Drive

Suzuki Wagon-R Test Drive

گاڑی ورکشاپ سے واپس لینی تھی، سہ پہر کو سوزوکی ٹائون شپ موٹرز گیا۔ وہاں ایک سوزوکی ویگن آر پر نظر پڑی، اس
 پر بڑا بڑا لکھا تھا ٹیسٹ ڈرائیو می۔
یہاں انوائس وغیرہ کلیئر کروانا جوائے نامی صاحب کی ذمہ داری تھی۔ میں نے انہیں کہا کہ جناب میرے دو کام کریں، پہلا تو میری گاڑی کا بِل کلیئر کروائیں اور دوسرا ویگن آر کی ٹیسٹ ڈرائیو لے کر دیں۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

لائسنس کا مسئلہ

نوجوان سیلز مین ہاتھ میں ویگن آر کی چابی لئے میرے پاس آیا، سلام دعا کے بعد پوچھنے لگا کہ بھائی آپکے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے؟ میں نے کہا کہ یار اسوقت تو دفتر میں پڑا رہ گیا، اسکے بغیر کام نہیں چلے گا؟ جواب مِلا کہ نہیں جناب لائسنس ضروری ہے۔
 میں سمجھا شاید کمپنی کی ریکوائرمنٹ ہو گی۔ لیکن اتنی دیر میں نوجوان نے جوائے صاحب سے کہا کہ "پہلے علی بھائی نے دو مرتبہ اپنے شناختی کارڈ پر چالان کروایا ہے۔" مجھے سمجھ آ گئی کہ کیا چکر ہے۔
"کوئی مسئلہ نہیں یار، اس مرتبہ میں اپنے شناختی کارڈ پر چالان کروا لوں گا"
میں نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے پیشکش کر دی۔ اس پر نوجوان مسکرا کر کہنے لگا کہ چلیں سر جیسے آپکی مرضی اور مجھے چابی تھما دی۔

100% discount on my socket and network programming course using C#

مہران اور ویگن آر میں فرق

مہران کی بریک بالکل چنگ چی رکشے جیسی ہے، پورے زور سے دبائو تو لگتی ہے۔ ویگن آر کی بریک تو بس اشارے سے ہی لگی جا رہی تھی ٹھک کر کے۔
پاور سٹیئرنگ کی وجہ سے گاڑی کا سٹیئرنگ انگلی کے اشارے پر گھومتا ہے۔
گیئر بالکل مکھن کی طرح نرم اور ملائم لگتے ہیں۔
اسکے علاوہ سائیڈ ویو مرر یعنی بغلی نظارے والا شیشہ بھی کافی بڑا ہے۔
گاڑی کا اے سی بھی بہترین ہے۔

مجھے ذاتی طور پر یہ گاڑی پسند آئی ہے۔ سوزوکی سوئفٹ بھی اچھی ہے لیکن اسکی قیمت بہت زیادہ ہے۔ جب کبھی مہران بیچی تو امید ہے کہ میں خود ویگن آر ہی خریدوں گا۔

ہفتہ، 29 اکتوبر، 2011

رِم جھم اور کمینے لوگ۔۔۔

کہنے کو تو چھے بجے چھٹی ہو جاتی ہے لیکن، نہ نہ کرتے بھی دفتر سے نکلتے ساڑھے چھے بج ہی جاتے ہیں۔ بہر حال ایسے بھی سافٹ ویئر ہائوس ہیں جہاں رات دس بجے تک جان نہیں چھوٹتی، شکر ہے یہاں اسطرح نہیں ہوتا۔ باجوہ نے فٹا فٹ دروازہ کھولا، بٹوہ اور دونوں موبائل فرنٹ سیٹ پر پھنیکے، گاڑی سٹارٹ کی، اور کیٹی پیری کے گانے لگا لئے۔ اُسکے سارے دوست شغل لگاتے تھے کہ کیٹی پیری تو لڑکیاں سنتی ہیں، اور آئی فون کمپیوٹر سے ناواقف لوگوں کا کھلونا ہے لیکن اُسے دونوں چیزیں اچھی لگی تھیں سو وہ پرواہ نہیں تھا کرتا۔
گاڑی بیسمنٹ سے باہر آتے ہی اُسکا دِل خوش ہو گیا، بھئی شام کا وقت جمع رِم جھم رِم جھم پڑے پھوار، اُس نے اے سی بند کر کے دونوں شیشے نیچے کئے اور گانوں کی آوازمزید اونچی کر دی۔ بیچارہ کنوارا بندہ اب ایسے ہی انجوائے کر سکتا ہے۔
گلبرگ کے مین بلیوارڈ پر اُسکی توقع کے مطابق آج خوب رش تھا، عوام الناس ٹھنڈے موسم کا کا مزا لینے کے لئے گھروں سے نکلے ہوئے تھے۔ اکثریت کا رُخ ایم ایم عالم روڈ، اور قذافی سٹیڈیم والے ریسٹورانٹس کی طرف ہی تھا۔ لاہوریوں کو تو بس روٹی کھانے کا بہانہ چاہئیے، ذرا موقع مِل جائے سہی۔
مین مارکیٹ والا اشارہ بند تھا، اُس نے درمیان والی لین میں گاڑی لگا دی، چند سیکنڈ میں پیچھے بھی رش لگ گیا۔ گجرے بیچنے والے چُن چُن کر جوڑوں کی ۔ گاڑیوں موٹرسائیکلوں کے پاس جا رہے تھے، اور دھڑا دھڑ مال بیچ رہے تھے۔ بھکاریوں کی بھی موجیں لگی تھیں۔
اچانک بائیں جانب کھٹکا سا ہوا، کھلے شیشے میں سے ایک ہاتھ جانے کب اندر آ گیا اُسے پتہ ہی نہیں چلا البتہ باہر نکلتے اُسکی شرٹ کا بٹن شیشے پر لگنے کی وجہ سے آواز پیدا ہو ہی گئی۔ باجوہ کو یہ نہیں پتہ چلا کہ چور نے اُٹھایا کیا تھا، بس اُسے اتنا پتہ تھا کہ کوئی ہینڈ ہو گیا ہے۔ اُس نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور پوری قوت سے اچکے کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔  دِن دیہاڑے ہونے والی اس واردات نے اُسکا تو میٹر ہی آئوٹ کر دیا تھا، وہ سوچ رہا تھا کہ بس یہ بندہ پکڑا جائے توٹانگیں توڑ دوں سالے کی۔
چور اب تک سڑک کے بائیں جانب سروس لین میں پہنچ چُکا تھا۔۔۔
"اوئے رُک کُتے۔۔۔ تیری ماں کی ****** ۔۔۔" 

مین مارکیٹ کا اشارہ، جدھر گاڑیاں کھڑی ہیں باجوہ اُدھر سے آ رہا تھا
باجوہ چیخا لیکن چور کو بھی پتہ تھا کہ آج پکڑا گیا تو بہت بُری ہو گی، باجوہ کو اپنی ٹانگوں پر بھروسا تھا، لیکن چور اُسکی توقعات سے زیادہ کمینہ ثابت ہوا۔ اُسکی اگلی حرکت باجوہ کے لئے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی۔
چور ایک پہلے سے سٹارٹ کھڑے موٹر سائیکل پر بیٹھا، اور اُسکے منتظر موٹر سائیکل سوار نے دستی موٹر سائیکل بھگا دی۔ باجوہ۔۔۔ بیچارہ۔۔۔ ماتھے پر ہاتھ رکھے وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔
سگنل کھل چُکا تھا اور سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی اُسکی گاڑی کی وجہ سے خاصہ اُدھم مچا ہوا تھا۔ اُس نے شکر کیا کہ گاڑی وہیں سٹارٹ کھڑی تھی، ورنہ اگر چوروں کا کوئی تیسرا ساتھی گاڑی بھی بھگا لے جاتا تو وہ فوراً کچھ نہ کر پاتا۔ سیٹ پر پڑا بٹوہ اور نیا سیم سنگ گلیکسی جیو موبائل پڑا دیکھ کر اُس نے سکھ کا سانس لیا۔  البتہ آئی فون تھری جی ایس کو غائب پا کر اُسے بڑا افسوس ہوا اور نقصان کا اندازہ بھی۔ اُس نے سیٹ کے نیچے اور آس پاس دیکھا، لیکن آئی فون ندارد۔ چور نے اندھا دھند ہاتھ مارا، اور جو اُسکو مِلا وہ لے کر بھاگ گیا۔
یہ ایک سچے واقعے کی رودار ہے، اور باجوہ میرا دوست ہے۔ شہر میں آجکل اس قسم کے واقعات عام ہیں۔ اللہ کا شکر ہے یہاں کراچی جیسی موبائل سنیچنگ نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی کافی کچھ ہو جاتا ہے۔ اگر اگلی مرتبہ آپ خوشگوار موسم میں ڈرائیونگ کر رہے ہوں تو جناب احتیاط کیجئے گا، ورنہ بعد میں افسوس کرتے  پھریں گے۔ اسکے علاوہ رش والی جگہوں پر عورتوں کے پرس جھپٹ کر دوڑ جانے والے گرگے بھی کافی ہیں، بیگم کی ایک سہیلی کو چھوٹی عید کے دِنوں میں چونا لگا تھا۔

بدھ، 7 جولائی، 2010

رنگ برنگی آوازیں

رنگ برنگی آوازیں

مختلف جگہوں پر مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں، اور لاہور کے محلوں میں سارا دِن بہت سی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ غریبوں مڈل کلاسیوں کے ہر محلے کا یہی سیاپا ہوتا ہے۔ صبح سے لے کر آدھی رات تک مکمل خاموشی شاذ ہی ہوتی ہے۔
صبح بچوں کے سکول جانے کے بعد ایک سو ایک پھیری والا آئے گا، آٹھ بجے ہی رنگ برنگی آوازیں۔۔۔ کدو لے لو، توری لے لو، پیاز پندرہ روپے کلو، ٹماٹر تی رپے دے پنج کلو۔ یہ آوازیں روز روز آتی ہیں اس لئے کافی حد تک بندے کو انکی عادت ہو جاتی ہے۔ لیکن ہر ہفتے ایک یوم العظیم آتا ہے جب کہ ماحول ہی بدل جاتا ہے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔۔۔ بڑے چلاک ہیں۔۔۔ میں جمعرات کی طرف ہی اشارہ کر رہا ہوں۔۔۔ جمعرات کو صبح سویرے ہی پروفیشنل بھکاریوں کے جھنڈ کے جھنڈ چلے آتے ہیں۔ انکے اپنے ہی راگ ہیں، اپنے ہی سُر۔ البتہ ایک خصوصیت تمام میں کامن ہے، گہری نیند سوئے ہوئے بندے کو جگا دینے کی خصوصیت۔ میں پہلے جس گھر میں رہتا تھا اسکے ساتھ مملکت بھکاریاں کو بڑا اُنس۔ کھڑکی کے عین نیچے تشریف فرما کے گھنٹوں (کم از کم مجھے ایسا ہی لگتا ہے ) صداکاری کرتے تھے۔ لاکھ تکیے کانوں پر رکھو، سر پیٹو لیکن جناب جان خلاصی نہیں ہو گی۔ بھکاریوں کے فنِ صداکاری پر میں انشاءاللہ پوری پوسٹ لکھوں گا۔ آج کا موضوع محلے میں دن بھر مجموعی طور پر گونجنے والی آوازیں ہیں۔
اکثر اوقات کسی ایسے وقت پر مانگنے والا صدا لگاتا ہے کہ بندہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اتنی رات گئے یہ کہاں آ گیا۔ ایسا ہی معاملہ فروٹ بیچنے والوں کا ہے، آپ خود حساب لگائیں سردیوں میں رات کے دس بچے کہیں سے آواز آئے "کیلے وی روپئے درجن" تو آپ کو حیرت نہیں ہو گی کیا؟ مجھے تو بہت حیرت ہوتی ہے۔ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ اِس بندے کی کیا ایسی مجبوری ہے جو یہ اس وقت گھر جا کے سونے کے بجائے گلیوں میں گھوم رہا ہے۔گرم آنڈے کی صدا ہو تو سینس بنتی ہے۔

بات ہو رہی تھی دن بھر محلے میں گونجنے والی کوئل کی کو کو اور کتوں کی بئو بئو کی۔ اسکے علاوہ کبھی کبھار محلے کی بلیاں بھی جذباتی ہو جاتی ہیں۔ بلیوں سے میری مراد چار ٹانگوں ایک دُم والی بلیاں ہے، کوئی اور مطلب نکالنے کی صورت میں قاری خود ذمہ دار ہو گا۔ تو جناب یہ بلیاں آمنے سامنے کھڑے ہو کے واہیات قسم کی آوازیں نکالا کرتی ہیں، اور نکالے ہی چلی جاتی ہیں، لاکھ آپ ڈرائیں جوتے ماریں مجال ہے جو بلی جاتی کے کان پر جوں بھی رینگے۔ البتہ ایک علاج میں نے کسی زمانے میں دریافت کیا تھا، چپ کر کے لوٹا پانی کا بھریں اور کسی ایک خرخراتے فریق پر اُنڈیل چھوڑیں۔ بھیگی بلی فٹا فٹ منظر سے غائب ہو جائے گی/گا۔ آزمائش شرط ہے۔

پھر محلے میں رکشے تو اکثر و بیشتر گزرتے ہیں۔ رکشہ کیا گزرتا ہے، یو لگتا ہے ٹرین گزر رہی ہو۔اگر کبھی گلی میں ذرا رش لگ جائے اور چند رکشہ جات ایک ساتھ آ جائیں تو پھر تو محلہ ایئر پورٹ بن جاتا ہے۔ ایئر پورٹ جہازوں کے انجن کے شور کی وجہ سے بنتا ہے، ایئر ہوسٹس کوئی نہیں نظر آتی۔ سال کے کافی مہینے کنسٹرکشن کا کوئی کام بھی شروع رہتا ہے، اسکا سامان اتارنے بھی ٹریکٹر ٹرالیاں گھاں گھاں کرتے آتے جاتے ہیں۔ یہاں اگر سائلنسر نکلی سیونٹیوں کا ذکر نہ کیا جائے تو بات مکمل نہیں ہو گی۔ ان عجوبوں پر عام طور پر نوجوان سوار ہوتے ہیں، اور اس سواری پر ٹرکوں والا ہارن لگانا یہ لوگ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

جب بچے سکول سے واپس آ جاتے ہیں تو کہانی کے ایک اور باب کا آغاز ہوتا ہے۔ خوش ہوں یا غصے بچے اپنے جذبات کا اظہار با آوازِ بلند ہی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرکٹ کھیلتے ہوئے کوئی آئوٹ ہو تو پورے محلے کو آواز جاتی ہے۔دو بہن بھائی دوکان سے کچھ لینے جاتے ہیں، بھائی بہن کو دو لگا دیتا ہے اور جناب بینڈ چالو ہو جاتا ہے۔ بچوں میں ایک اور طبقہ گلوکاروں کا ہے۔ گانا آتا ہو یا نا اونچی آواز میں گائیں گے اور اپنی ہی طرز میں گائیں گے۔ مثال کے طور پر ایک پٹاٹا دکھ نا کوئی، پیار نا وچھڑے، کسے دا یار نا وچھڑے۔
پورے شہر میں ایک محلہ ایسا بھی ہے جہاں دن کو مکمل خاموشی ہوتی ہے۔ لیکن رات کو ہنگامہ، سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔ بہر حال دن کو نیند ڈسٹرب ہونے سے بچانے کے لئے بندہ اُس بازار تھوڑی نا شفٹ ہو سکتا ہے۔

پیر، 7 ستمبر، 2009

جعلی بحرانوں کی سر زمین



پچھلے کچھ دنوں سے ہر طرف "ہاءے چینی ہاءے چینی" کا ایک شور سا مچا ہوا ہے۔ بڑے بڑے لوگ چینی کے "بحران" کے بارے میں بڑے بڑے بیانات دے رہے ہیں۔ اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ یار چینی اتنی اہم کب سے ہو گءی؟ بحران تو اُن چیزوں کا ہوتا ہے جن کے بغیر بندے کا زندہ رہنا دشوار ہو جاءے۔ مثال کے طور پہ آٹا، صاف پانی، اور بجلی۔ انگریزی میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے "میک بی لیو"، مطلب ایویں ہی کسی بات کو چُک دینا۔ دوسرے لفظوں میں کسی عام سے معاملے میں ہوا بھر کے اُسے بحران بنا دینا۔

ذاتی طور پہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مِل مالکان چینی سستی نہیں کرتے تو عوام کو اینٹ کا جواب چنگے وڈے پتھر سے دینا چاہیے۔ ہم چینی خریدیں ہی نہ تو وہ کیا ساری چینی اپنے گھر لے جاءیں گے؟ رمضان شریف کے مہینے میں اگر ہر بندہ اپنے چاءے کے کپ میں چینی نہ ڈالے تو سحری اور افطاری میں ہی لاکھوں چمچ چینی بچاءی جا سکتی ہے۔ اور اگر عام لوگ حوصلہ کریں تو چینی کا استعمال بالکل ہی ترک کیا جا سکتا ہے۔

شوگر ملز کے کسی بڑے کا بیان تھا کہ اگر ملز بند ہوءی تو بیس لاکھ لوگ بے روزگار ہو جاءیں گے، بندہ پوچھے کہ آپ کو ان لوگوں کی کبھی کوءی پرواہ رہی بھی ہے؟ یہ تو کیڑے مکوڑے، آلاتِ جنگ ہیں جنکی مجبوریوں کا فاءدہ ہمیشہ سرمایہ دار طبقہ اٹھاتا ہے۔ یہ مل مالکان وہی طبقہ ہے جو عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین کر ملک سے باہر بیچ دیا کرتا ہے۔

آج کا اخبار بتا رہا تھا کہ کراچی میں صرف ایک ہفتے کا سٹاک رہ گیا ہے۔ مجھے شک پڑا کہ شاید کوءی جنگ چھڑ گءی جس میں اسلحے کے طور پہ چینی استعمال ہو رہی ہے، اور اگر ایک ہفتے تک مزید چینی فراہم نہ کی گءی تو پاکستان جنگ ہار جاءے گا۔ ویسے یہ جو بحران کا رونا رو رہے ہیں، انکو سرکاری ہسپتالوں کی دگرگوں حالت بحران کبھی نہیں لگی۔ "جس تن لاگے وہ تن جانے" مجھے یہ محاورہ بہت پسند ہے۔ چینی کے معاملے میں مجھے لگ رہا ہے کہ "اہلِ بحران" کے تن من پہ شدید چوٹیں آءیں ہیں، جبھی تو بیچارے بلبلا رہے ہیں۔

پانچ تاریخ کا اخبار بتاتا ہے کہ چینی افغانستان اسمگل کی جا رہی ہے، میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر افغانستان امریکہ کا ہمسایہ ہوتا تو آج امریکہ کا حشر بھی پاکستان جیسا ہی ہونا تھا۔ اچھا خاصا ملک ہے "پاکستان"، افسوس اسے "بحرانستان" بنانے کی سازش تو ہو رہی ہیں۔ ہماری سرزمین کو بحرانوں کی سر زمین بنایا جا رہا ہے اور ہم چپ بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے میں آنے والا یہ تیسرا بحران ہے، ہم اس سے پہلے بجلی اور آٹے کا بحران جھیل چُکے ہیں۔ میرا دِل کہہ رہا ہے کہ یہ سارے کے سارے بحران دو نمبر، جعلی، غبارہ مارکہ بحران ہیں۔ اور ہمارے معاشرے کے کرتا دھرتا عوام کو سستی تفریح فراہم کرنے کے لیے اس قسم کے بندوبست کرتے رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عوام کی اس دل پشوری کا بندوبست کرتے کرتے اُنکی جیبیں بھر اور توندیں بڑھ جاتی ہیں، اسکےعلاوہ غریب بندہ مرنے والا ہو جاتا ہے۔ اللہ میاں سےدعا ہے کہ وہ ہمیں بحرانوں کی کاشت کرنے والے وڈے وڈیروں سے نجات دلاءے، اور کسی بندے دے پُتر کے پلے باندھے۔

اس سارے کالم کا نتیجہ، جناب عالی چینی کھانا چھوڑ دیں۔ یا کم ضرور کر دیں۔

ہفتہ، 5 ستمبر، 2009

قصہ ایک قطار کا



ان دنوں ٹی وی وغیرہ والے آٹے کی قطاروں میں لگا کر عوام کی تذلیل کا کافی چرچا ہے۔ اول تو جی غریب بندے کی کیا تذلیل اور کیا اُسکی توقیر، پاک سرزمین کے غرباء میں "عزت نفس" کے جراثیم تو ساٹھ سال کی مستقل"چھترویکسینشن" کی وجہ سے کب کے مر چُکے۔ خیر یہ تو ایک لمبا رونا ہے بقول حبیب جالب

ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا، اس غم کو نیا کیا لکھنا

آج مجھے بھی ایک قطار میں لگ کے آٹا لینے کا اتفاق ہوا، دس کلو والا توڑا صرف ایک سو روپے کا۔ کہاں پچیس اور کہاں دس روپے کلو، اللہ معاف کرے اس معاشرے کے خلیفے شاید اگلے جہان جا کے حساب دینے پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ یہاں میں نے لوگوں کی باتیں بھی سنیں۔ کوءی کچھ بھی کہے، لوگ میاں شہباز شریف سے بڑے خوش ہیں اور انہیں بہت دعاءیں دیتے ہیں۔ آٹا اور چینی کی فراہمی کے لیے باقاعدہ شامیانے لگاءے گءے ہیں، اور قطار بنوانے کے لیے لوہے کی گرلیں آپکو تصاویر میں نظر آ رہی ہوں گی۔

جب میں وہاں پہنچا تو آٹے والا ایک ٹرک پانچ دس منٹ پہلے ہی خالی ہو کر گیا تھا، اکا دُکا لوگ پارک میں بیٹھ کر اگلے ٹرک کا انتظار کر رہے تھے۔ وہاں ایک خان صاحب بھی تھے جو ایک دن پہلے ہی سرحد کے کسی شہر سے آءے تھے۔ بقول خان صاحب، وہاں بیس کلو آٹا پانچ سو ستر روپے کا مل رہا ہے۔ اب سرحد والے بھی تو اپنے ساتھ خود ہی ظلم کرتے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ جو آٹا یہاں سے جاتا ہے اُسے زیادہ پیسوں میں افغانستان اسمگل کر دیتے ہیں، اور خود ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ کام عام آدمی تو کر ہی نہیں سکتا، وہاں کےمگر مچھ ہی عوام کہ ہاتھ سے نوالہ چھین کر اسمگل کرتے اور اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ مگرمچھ تو بہرحال ہمارے ہاں بے تحاشہ پاءے جاتے ہیں، ہر شعبے میں ہر ساءز کے۔


لوگ کہہ رہے تھے کہ اللہ زندگی دے بابے شہباز کو، بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔ ظاہری سی بات ہے، ایک طرف ایس ایم ایس پہ ٹیکس لگانے والے، پیٹرول کی قیمتیں آسمان پہ چڑہانے والے، عوام کو جون جولاءی کی گرمی میں بجلی بند کر کے بیڑہ غرق کرنے والے، نسل در نسل حکومت کرنے والے فرعون ہیں۔ جو کہ عوام کو ہر قیمت پہ "تھلے لگا" کے رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ایک بندے کا پُتر لوگوں کو روٹی کھلا رہا ہے تو بھوکے ننگے پیٹوں سے دعاءیں ہی نکلیں گی۔ لوگ کہہ رہے تھےکہ مِل سےآٹے کا بیس کلو والا توڑا تین سو کا نکلتا ہے، عوام کو یہ توڑا دو سو روپے کا دیا جاتا ہے اور ایک سو روپے فی توڑا حکومتِ پنجاب دے رہی ہے۔

شروع شروع میں تو لوگوں کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ مملکتِ خداداد میں ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ بے یقینی کے مارے ہوءے آٹا حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ پلاننگ کر کے آتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ پارک کے بینچ پہ ایک عورت بیٹھی ہے اور اسکے ساتھ تین چار توڑے آٹا پڑا ہے، اندازہ ہوتا تھا کہ آنٹی کے ساتھ کوءی اور بھی ہے جو کہ دھڑا دھڑ آٹا خرید رہا ہے۔

آج کے اخبار میں جماعت اسلامی کے ایک مظاہرے کی تصویر دیکھی، جس میں آٹے دال چینی قسم کی چیزوں کا رونا رویا جا رہا تھا۔ بندہ پوچھے کہ ابھی اگلے دن آپکا "سنہری" دورِ حکومت ختم ہوا ہے، آپ نے اس سلسلے میں کونسے تیر مار لیے تھے بس ایل ایف او کا طواف کرتے کرتے پانچ سال گزار دیے۔

اچھی خاصی لمبی لاءن تھی، میں خوش قسمتی سے ٹرک آنے سے پہلے ہی وہاں جا پہنچا تھا اس لیے پانچ سات منٹ میں ہی مجھے آٹا مل گیا۔

ایک اور مزے کی بات ، جب ہم لوگ سامنے سے فوٹو لینے گءے تو غریب عوام نے کیمرہ کو دیکھ کے پوز ہی بنانے شروع کر دیے۔ ہمارے لوگ بھی بیچارے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتے ہیں۔ خیر ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ جیو بابا شہباز شریف۔۔۔

جمعرات، 20 اگست، 2009

بے حس لوگ، بے رحم گڑھے

حادثے تو ہوتے ہیں، ان پر غصہ بھی آتا ہے، کوءی بڑی بات نہیں۔ البتہ جب حادثہ کسی کی سیدھی سیدھی لاپرواہی کی وجہ سے ہو تو جناب بات زبانی کلامی غصے سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک لاپرواہی کا مظاہرہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا نقصان میں نے کل شام دیکھا۔ نہر والی سڑک سے اتر کر گارڈن ٹاءون کی طرف آیا، تھوڑا سا ہی آگے ٹریفک رُکی ہوءی تھی اور ایک بیچارہ موٹر ساءیکل والا نوجوان سا لڑکا سڑک پہ پڑا تھا۔ لوگوں نے آگے بڑھ کر اُسے اٹھایا اور ایک طرف لے جا کے بٹھایا پانی وغیرہ پلایا، ریسکیو والوں کو فون کیا۔
اس حادثے کی وجہ واسا ایل ڈی اے والوں کا بنایا ہوا کھڈا تھا، کوءی پاءپ ٹوٹا جسے ٹھیک کرنے کے لیے واسا نے دن میں کسی وقت سڑک کھودی تھی۔ اپنا کام ختم کر کے گڑھے میں "مٹی ڈال" کر وہ لوگ چلے گءے۔ دوطرفہ سڑک کے سڑک کے بالکل بیچ میں کھڈا تھا۔ لگتا تھا واسا کے انجینیر حضرات نے پوری پیماءیش کر کے زبردست مہلک گڑھا تیار کیا، تاکہ عوام الناس کی زیادہ سے زیادہ تعداد "چنگی" طرح سے فیض یاب ہو سکے۔
پاس کھڑا چوکیدار بتا رہا تھا کہ گڑھا کھودے جانے کہ بعد اس جگہ پیش آنے والا ساتواں حادثہ تھا۔ جب میں تازہ حادثے میں گرنے والے لڑکے کو دیکھنے گیا تو پتہ چلا وہاں پہلے سے ہی دو نوجوان زخمی بیٹھے تھے۔ کُل ملا کر تین لوگ، ایک کا منہ ایک طرف سے چھیلا گیا تھا، دوسرے کو کافی چوٹیں لگی تھی کپڑے پھٹے تھے بندے بیچارے کی صحت بھی پوری سی تھی۔ پاس کے اشارے پر سٹی پولیس والے کھڑے تھے کوءی جا کر اُن کو بُلا لایا کہ یہاں کوءی فیتہ وغیرہ لگواءیں یا کونیں ہی رکھوا دیں۔ وارڈن نے واءرلیس پر کافی شورمچایا لیکن کوءی خاطر خواہ جواب نہیں ملا، پیٹی بھاءی کے موباءل پر کال بھی کی لیکن اُس نے اٹھاءی ہی نہیں۔
دو آدمی جو شاید کہیں آس پاس رہتے یا کام کرتے ہوں گے ایک چادر نما کپڑا اور ایک ڈنڈا سا اٹھا لاءے۔ گڑھا بنانے والے لوگ اُس میں ایک شاخ پھینک گءے تھے، جو کہ دور سے نظر بھی نہی آ رہی تھی کیونکہ گڑھا کافی بڑا تھا۔ لوگوں نے چادر کو ذرا پھیلا کرشاخ اور ڈنڈے کے ساتھ باندھ دیا تاکہ آنے والوں کو دور سے نظر آ جاءے۔ آج صبح جب میں اُسی راستے سے دفتر جا رہا تھا تو دیکھا وہاں ذرا بہتر انداز میں بینر لگے ہوءے تھے۔ کل رات ایک وارڈن بینر لانے کا کہ کر گیا تھا کہ فلاں جگہ پر بینر لگے ہیں میں اتار لاتا ہوں۔
کہتے ہیں کہ جو کسی کے لیے گڑھا کھودتا ہے آپ ہی اُس میں گرتا ہے۔ میرے دل سے بد دعا نکلتی ہے کہ یا اللہ جو لوگ اس طرح کے گڑھے کھودتے ہیں ان کو کبھی نہ کبھی ان گڑہوں میں ضرور گرا۔ غیر ذمہ داری کی حد ہے، راہ چلتے اچھا خاصا بندہ زخمی ہو کر بیٹھ جاءے بغیر کسی قصور کے۔ جو تن لاگے سو تن جانے۔ جب تک ایسی لاپرواہیوں کے ذمہ داروں کے اپنے منہ نہ چھلیں، انکی ہڈیاں پسلیاں نہ ٹوٹیں، انکو کسی کے درد کا احساس ہو ہی نہیں سکتا۔ آج شام واپس آتے وہاں واسا کا ٹریکٹر ٹرالی موجود تھے، گڑہے میں مٹی اتار چکے تھے۔ بندہ پوچھے کہ ظالمو یہ کام کل ہی کر جاتے تو کیا تھا۔
کہتے ہیں کہ ہمارے عوام بے حس ہیں، میرا خیال ہے کہ ایسی کوءی بات نہیں ہے عوام اتنےبُرے بھی نہیں۔ کوءی اگر کام شروع کر لے تو لوگ اُسکے ساتھھ چل ہی پڑتے ہیں۔ مسءلہ پہلے قطرے، پہلے قدم کا ہے۔ عمران خان کا ہسپتال ہو یا میاں صاحب کی کشکول توڑ مہم عوام ہمیشہ ساتھھ دیتے ہیں۔ عوام میں ابھی کرنٹ ہے، بس کوءی کھرا عوامی لیڈر ملنے کی دیر ہے۔
کچھھ پڑہنے والے سوچ رہے ہوں گے کہ کسی کو بد دعا نہیں دینی چاہیے، لیکن یار کیا کریں اور کہیں بس نہیں نا چلتا۔ سیف الملوک کے ایک شعر سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے

بس وے ساڈا وس نہیوں چلدا، تے کی تو ساڈا کھونا؟
لِسے دا کی زور محمد، نس جانا یا رونا


لِسا پنجابی میں کمزور کو کہتے ہیں۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer