منگل، 28 ستمبر، 2010

مائیکرو سافٹ لائیو سپیسز کی چھٹی

مائیکرو سافٹ سپیسز کی چُھٹی۔۔۔ ورڈ پریس ڈاٹ کام
 

سے ڈیل

تقریبًا چھے سال قبل مائیکروسافٹ نے اپنا بلاگنگ پلیٹ فارم ونڈوز لائیو سپیسز لانچ کیا تھا۔  اور اب اس پلیٹ فارم (اڈہ؟) کو باقاعدہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ لائیو سپیسز کے یوزرز کی خاطر مائیکرسافٹ نے ورڈپریس ڈاٹ کام کے ساتھ ساجھے داری کا اعلان کیا ہے۔ مائیکرسافٹ اور ورڈ پریس کی مالک کمپنی آٹومیٹک کے مابین ہونے والی ڈیل ریڈمنڈ والوں کا اپنی انٹرنیٹ پر موجودگی کو مضبوط کرنے کا حالیہ حربہ ہے۔ اس سے پہلے مائیکرسافٹ فیس بک، ٹوٹر، اور لنکڈ ان کے ساتھ مختلف محاظوں مسئلاً انٹرنیٹ سرچ میں گوگل کا مقابلہ پر مل کر کام کر رہا ہے۔
دونوں کمپنیوں نے یہ اعلان سانفرانسسکو میں ٹیک کرنچ ڈسرپٹ کانفرنس کے موقع پر کیا۔ دنیش مہتا ونڈوز لائیو پراڈکٹ مینیجمنٹ کے ڈائیرکٹراپنی بلاگ پوسٹ میں کہتے ہیں کہ"آٹومیٹک شاندار لوگوں سے بھری ہوئی کمپنی ہے، ان لوگوں کی تمام
توجہ بلاگنگ کو بہتر سے بہتر بنانے پر مرکوز ہے اس لئے بجائے ونڈوز لائیو اپنے وسائل بلاگنگ میں خرچ کرے، ہم نے فیصلہ کیا کہ گاہکوں کی بہتری کے لئے انہیں ورڈ پریس کے ذریعے ایک شاندار بلاگنگ پلیٹفارم مہیا کریں گے"۔ ٹیک کرنچ کے سٹیج پر بات کرتے ہوئے دنیش نے کہا کہ اس وقت
ونڈوز لائیو سپیسز پر تقریباً سات ملین بلاگ موجود ہیں۔
سپیسز استعمال کرنے والوں کے پاس ابھی ورڈ پریس پر جانے کے لئے چھے ماہ ہیں، اس کام کےلئے ایک خصوصی یوٹیلٹی تیار کی گئی ہے جو کہ تحریروں، تصویروں، اور دیگر مواد کی منتقلی میں معاون ثابت ہو گی۔ ہجرت کی وجہ سے یو آر ایل یا ویب ایڈریس میں ہونے والی تبدیلیوں کی ذمہ داری بھی دونوں کمپنیوں نے اٹھائی ہے۔ کمپنیاں مسنجر کنیکٹ کے نام سے ورڈ پریس کے یوزرز کے لئے ایک سہولت بھی متعارف کروائیں گی، جسے استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی تحریریں ونڈوز لائیو کے روابط کو دکھا سکیں گے۔
ونڈوز لائیو سپیسز پر بنائے جانے والے نئے بلاگ ورڈ پریس ڈاٹ کام کے بلاگ ہوں گے۔ اسکے علاوہ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اسکا ونڈوز لائیو رائٹر مستقبل میں ورڈ پریس ڈاٹ کوم کو اپنے بنیادی بلاگنگ سروس کے طور پر استعمال کرے گا، کمپنی یہ خصوصیت اسی سال کے آخری حصے میں ونڈوز لائیو اسنشلز دو ہزار گیارہ سافٹ ویئر پیکج میں متعارف کروائے گی۔
اس تحریر کا ماخذ
http://www.techflash.com/seattle/2010/09/microsoft_upgrades_spaces_to_wordpresscom_ends_its_blog_platform.html

بدھ، 7 جولائی، 2010

رنگ برنگی آوازیں

رنگ برنگی آوازیں

مختلف جگہوں پر مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں، اور لاہور کے محلوں میں سارا دِن بہت سی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ غریبوں مڈل کلاسیوں کے ہر محلے کا یہی سیاپا ہوتا ہے۔ صبح سے لے کر آدھی رات تک مکمل خاموشی شاذ ہی ہوتی ہے۔
صبح بچوں کے سکول جانے کے بعد ایک سو ایک پھیری والا آئے گا، آٹھ بجے ہی رنگ برنگی آوازیں۔۔۔ کدو لے لو، توری لے لو، پیاز پندرہ روپے کلو، ٹماٹر تی رپے دے پنج کلو۔ یہ آوازیں روز روز آتی ہیں اس لئے کافی حد تک بندے کو انکی عادت ہو جاتی ہے۔ لیکن ہر ہفتے ایک یوم العظیم آتا ہے جب کہ ماحول ہی بدل جاتا ہے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔۔۔ بڑے چلاک ہیں۔۔۔ میں جمعرات کی طرف ہی اشارہ کر رہا ہوں۔۔۔ جمعرات کو صبح سویرے ہی پروفیشنل بھکاریوں کے جھنڈ کے جھنڈ چلے آتے ہیں۔ انکے اپنے ہی راگ ہیں، اپنے ہی سُر۔ البتہ ایک خصوصیت تمام میں کامن ہے، گہری نیند سوئے ہوئے بندے کو جگا دینے کی خصوصیت۔ میں پہلے جس گھر میں رہتا تھا اسکے ساتھ مملکت بھکاریاں کو بڑا اُنس۔ کھڑکی کے عین نیچے تشریف فرما کے گھنٹوں (کم از کم مجھے ایسا ہی لگتا ہے ) صداکاری کرتے تھے۔ لاکھ تکیے کانوں پر رکھو، سر پیٹو لیکن جناب جان خلاصی نہیں ہو گی۔ بھکاریوں کے فنِ صداکاری پر میں انشاءاللہ پوری پوسٹ لکھوں گا۔ آج کا موضوع محلے میں دن بھر مجموعی طور پر گونجنے والی آوازیں ہیں۔
اکثر اوقات کسی ایسے وقت پر مانگنے والا صدا لگاتا ہے کہ بندہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اتنی رات گئے یہ کہاں آ گیا۔ ایسا ہی معاملہ فروٹ بیچنے والوں کا ہے، آپ خود حساب لگائیں سردیوں میں رات کے دس بچے کہیں سے آواز آئے "کیلے وی روپئے درجن" تو آپ کو حیرت نہیں ہو گی کیا؟ مجھے تو بہت حیرت ہوتی ہے۔ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ اِس بندے کی کیا ایسی مجبوری ہے جو یہ اس وقت گھر جا کے سونے کے بجائے گلیوں میں گھوم رہا ہے۔گرم آنڈے کی صدا ہو تو سینس بنتی ہے۔

بات ہو رہی تھی دن بھر محلے میں گونجنے والی کوئل کی کو کو اور کتوں کی بئو بئو کی۔ اسکے علاوہ کبھی کبھار محلے کی بلیاں بھی جذباتی ہو جاتی ہیں۔ بلیوں سے میری مراد چار ٹانگوں ایک دُم والی بلیاں ہے، کوئی اور مطلب نکالنے کی صورت میں قاری خود ذمہ دار ہو گا۔ تو جناب یہ بلیاں آمنے سامنے کھڑے ہو کے واہیات قسم کی آوازیں نکالا کرتی ہیں، اور نکالے ہی چلی جاتی ہیں، لاکھ آپ ڈرائیں جوتے ماریں مجال ہے جو بلی جاتی کے کان پر جوں بھی رینگے۔ البتہ ایک علاج میں نے کسی زمانے میں دریافت کیا تھا، چپ کر کے لوٹا پانی کا بھریں اور کسی ایک خرخراتے فریق پر اُنڈیل چھوڑیں۔ بھیگی بلی فٹا فٹ منظر سے غائب ہو جائے گی/گا۔ آزمائش شرط ہے۔

پھر محلے میں رکشے تو اکثر و بیشتر گزرتے ہیں۔ رکشہ کیا گزرتا ہے، یو لگتا ہے ٹرین گزر رہی ہو۔اگر کبھی گلی میں ذرا رش لگ جائے اور چند رکشہ جات ایک ساتھ آ جائیں تو پھر تو محلہ ایئر پورٹ بن جاتا ہے۔ ایئر پورٹ جہازوں کے انجن کے شور کی وجہ سے بنتا ہے، ایئر ہوسٹس کوئی نہیں نظر آتی۔ سال کے کافی مہینے کنسٹرکشن کا کوئی کام بھی شروع رہتا ہے، اسکا سامان اتارنے بھی ٹریکٹر ٹرالیاں گھاں گھاں کرتے آتے جاتے ہیں۔ یہاں اگر سائلنسر نکلی سیونٹیوں کا ذکر نہ کیا جائے تو بات مکمل نہیں ہو گی۔ ان عجوبوں پر عام طور پر نوجوان سوار ہوتے ہیں، اور اس سواری پر ٹرکوں والا ہارن لگانا یہ لوگ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

جب بچے سکول سے واپس آ جاتے ہیں تو کہانی کے ایک اور باب کا آغاز ہوتا ہے۔ خوش ہوں یا غصے بچے اپنے جذبات کا اظہار با آوازِ بلند ہی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرکٹ کھیلتے ہوئے کوئی آئوٹ ہو تو پورے محلے کو آواز جاتی ہے۔دو بہن بھائی دوکان سے کچھ لینے جاتے ہیں، بھائی بہن کو دو لگا دیتا ہے اور جناب بینڈ چالو ہو جاتا ہے۔ بچوں میں ایک اور طبقہ گلوکاروں کا ہے۔ گانا آتا ہو یا نا اونچی آواز میں گائیں گے اور اپنی ہی طرز میں گائیں گے۔ مثال کے طور پر ایک پٹاٹا دکھ نا کوئی، پیار نا وچھڑے، کسے دا یار نا وچھڑے۔
پورے شہر میں ایک محلہ ایسا بھی ہے جہاں دن کو مکمل خاموشی ہوتی ہے۔ لیکن رات کو ہنگامہ، سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔ بہر حال دن کو نیند ڈسٹرب ہونے سے بچانے کے لئے بندہ اُس بازار تھوڑی نا شفٹ ہو سکتا ہے۔

اتوار، 15 نومبر، 2009

کتھے گیا سی؟ مچھیاں پھڑن۔۔۔



ہمارے ہاں عام طور پرمچھلیاں پکڑنے کو بس ایویں پُھدو کھاتہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ کچھ دِن پہلے مجھے مسٹر کوڈ پہ فش اور چپس کھانے کا اتفاق ہوا۔ اسکے بعد خیال آیا کہ ہفتے اور اتوار والے دن بندہ مچھلی پکڑنے جا سکتا ہے،کافی آسان اور اچھا تفریحی آپشن لگا۔ اب میں ٹھہرا پروگرامر، دن کا زیادہ حصہ کمپیوٹر کی سکرین کے ساتھ نین لڑا کے گزارنے والا۔۔۔ پروگرامر۔۔۔ لہٰذا، فٹ سے گوگل کھولا اور سرچ شروع۔۔۔

Fishing In Lahore
یہ فقرہ تلاش کیا تو پہلے نمبر پہ درج ذیل لنک مِلا۔۔۔ یہاں لاہور کے گرد و نواح میں شوقیہ مچھلی پکڑنے والوں کے لیے کافی معلومات موجود ہیں۔

اسکے علاوہ پاکستان گیم فشنگ ایسوسی ایشن ایک فعال تنظیم ہے، انٹرنیٹ پہ اس تنظیم کے سترہ سو سے زیادہ ممبر ہیں۔ ممبر شپ بالکل مفت ہے، اور یہ میرے خیال میں کافی مفید ویب سائٹ ہے۔

اوپر دیے آرٹیکل میں لاہور کے نزدیک موجود مچھلی پکڑنے کے مقامات کے بارے میں مکمل معلومات ہیں۔ آرٹیکل میں ایس نبی بخش سنز، مال روڈ کا تذکرہ ہے۔ لاہور میں مچھلی پکڑنے کا سامان خریدنے کے لیے یہ بہترین جگہ ہے۔ البتہ اس دوکان کے بارے میں ایک راز کی بات بتاتا چلوں، ایسی بات جو کہ مجھے وہاں جا کر ہی پتہ چلی۔ راز کی بات یہ ہے جناب۔۔۔ کہ یہ دوکان شام ساڑھے چار بجے بند ہو جاتی ہے۔ میں سات بجے کے قریب وہاں گیا تھا۔ اچھی بات یہ ہے کہ دوکان صبح ساڑھے آٹھ بجے کھل بھی جاتی ہے۔
اسکے علاوہ میں نے ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کو استعمال کرتے ہوئے کافی لوگوں کو پیغامات بھی بھیجے۔
ان لوگوں میں سب سے پہلے دیے گئے آرٹیکل کے مصنف منیر احمد بھی شامل تھے۔ منیر صاحب کے علاوہ لاہور میں نو وارد حارث کا بھی جواب آیا، حارث کچھ عرصہ پہلے کراچی سے یہاں آئے ہیں اور نمکین پانی میں مچھلی پکڑتے رہے ہیں۔ منیر صاحب نے لکھا کہ ایس نبی بخش والوں کے پاس اچھا سامان ہے، لیکن اسکے مقابلے میں بہتر اور سستا سامان خریدنےکے لیے سیالکوٹ کا چکر لگا لینا۔ میں نے انہیںبتایا تھا کہ میرا ٹارگٹ منگلا ڈیم پہ جا کے مچھلیاں پکڑنا ہے، منیر صاحب کہتے ہیں کہ منگلا کی کلاس کا سامان سیالکوٹ سے ہی ملے گا۔ جیفری انٹرپرائز، ریلوے روڈ سیالکوٹ ایک اچھی دوکان ہے وہاں چیک کرنا۔
مچھلی پکڑنے کا بھی سیزن ہوتا ہے، اور یہ سیزن سردیوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ بقول منیر صاحب سردیوں کی آمد کے ساتھ سیزن ختم ہونے کو ہے، میرے پاس اپریل مارچ تک کا وقت موجود ہے، تب سیزن دوبارہ شروع ہو گا اور میں اطیمنان سے تیاری کر سکتا ہوں۔
اسکے علاوہ میں نے ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر کافی آرٹیکلز پڑہے، اور یو ٹیوب پر ویڈیوز بھی دیکھیں۔ آخر کار سوچا کہ کاغزی کارروائی بڑی ہو چکی اب کچھ نا کچھ پریکٹیکل بھی کرنا چاہیے، لہٰذا کل ہفتے کو صبح آٹھ بجے کے قریب میں نے اپنے گھوڑے کو تیار کیا اور نزدیک ترین "مقام المچھلی" سائیفن بی آر بی نہر کی طرف چل پڑا۔ شالامار گارڈن، داروغہ والا سے ہوتا ہوا تقریباً ایک گھنٹے میں سائیفن پر جا پہنچا۔ گزشتہ رات ہونے والی بارش کی وجہ سے سڑک پہ کافی کیچڑ تھا اور گھوڑا چالیس پچاس کی رفتار سے زیادہ بھگانا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میرے پاس کسی قسم کا کوئی سامان نہیں تھا۔ سوچا کہ چلو وہاں شاید اور لوگ آئے ہوں گے، چل یار ان کے ساتھ گپ شپ ہی سہی۔
سامان خریدنے کا سن کر فوراً ذہن میں آئے گا کہ جناب پہلی مرتبہ خرچہ کتنا ہو گا؟ یہ تو میں نے بھی کسی سے نہیں پوچھا، البتہ میرا اندازہ ہے کہ کم از کم آٹھ ہزار روپے تو ہونے چاہئیں۔ منگلہ میں مچھلی پکڑنے کے لیے آپکو سات سے نو کلو وزن برداشت کر سکنے والی ڈوری چاہیے ہو گی۔ اسکے علاوہ ایسی چرخیاں درکار ہوں گی جو کہ پچھتر سے ایک سو یارڈ، دوسرے لفظوں میں سوا دو سو سے لے کر تین سو فُٹ دور تک کنڈی پھینک سکیں۔
اچھا تو سائیفن پر جانے کی بات ہو رہی تھی، بارڈر کا علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر کافی فوج موجود ہے۔ سائیفن کے نزدیک پہنچنے کا راستہ پاک فوج نے بند کر رکھا ہے، اور عام آدمی کو آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ راقم بھی ایک عام سا آدمی ہے، اس لیے فوجی بھائی کے کہنے پہ کان لپیٹ کے واپس لاہور کی طرف چل پڑا۔
راستے میں ایک جگہ ایک رینجرز کا جوان موجود تھا، میں نے پوچھا کہ بھائی صاب سائیفن جانا تو منع ہے، کیا اس علاقے میں اور بھی کوئی مچھلی پکڑنے کی جگہ ہے؟ جواب آیا کہ آپ راوی کنارے چلے جائیں، وہاں کوئی منع نہیں کرتا۔ تقریباً چار پانچ کلو میٹر واپس گیا، اور پہلے والے فوجی بھائی سے پوچھا کہ یار سایفن پر تو نہیں جانے دیتے یہ ہی بتا دو کہ راوی کا کنارے کیسے پہنچوں؟ ان صاحب نے شناختی کارڈ وغیرہ دیکھ کر مجھے راوی کی طرف جانے والا راستہ سمجھا دیا۔
آجکل دریا کا پانی اتر چکا ہے، اور ہر طرف ریت ہی ریت ہے۔ دریاپار کرنے کے لیے بیڑا استعمال ہوتا ہے۔ ان بیڑوں پر فصل کے دنوں میں ٹریکٹر وغیرہ بھی لاد کر دوسری طرف لے جائے جاتے ہیں۔ بیڑا چپو سے نہیں چلتا، نہ ہی موٹر سے۔ بلکہ ایک بڑا سا بانس ہوتا ہے، تقریباً بیس فٹ لمبا، یہ بانس دریا کی تہہ تک پہنچتا ہے۔ ملاح بانس کو دریا کی تہہ تک ڈبو ڈبو کر بیڑے کو آگے دھکیلتے ہیں۔ اس سے پہلے ایک مرتبہ مجھے بیڑے پر دریا پار کا تجربہ ہو چکا ہے، میں نے خود بیڑے کو ڈرائیو کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کنارے کی سمت جانے جانے کے بجائے اور ہی طرف نکل گیا، ملاح تجربہ کار تھا اور تھوڑی کوشش کر کے ہمیں واپس کنارے تک لے آیا۔ اگر ملاح بھی کوئی پُھدو ہوتا تو بیڑے کا حشر ہمارے ملک اور اسکے اداروں جیسا ہو جانا تھا۔
وہاں موجود ملاحوں سے میں نے پوچھا کہ جناب یہاں شوقیہ مچھلی پکڑنے والے آتے ہیں کیا؟ تو جواب ملا کہ نویں مہینے کی پندرہ تاریخ کو دریا کا پانی اترتا ہے۔ اسکے فوراً بعد کچھ لوگوں نے کنڈی کی ذریعے یہاں سے پانچ پانچ کلو کی رہو مچھلیاں پکڑی تھیں۔ لیکن بعد میں زیادہ تر دریا میں جال پھر گیا، اور اب اینگلروچارے خالی ہاتھ ہی لوٹتے ہیں۔
میرا ارادہ ہے کہ اگلے سال جنوری یا فروری میں سیالکوٹ کا چکر لگاکے ضروری سامان خرید لائوں۔ کوشش کروں گا کہ ساتھ کوئی تجربہ کار دوست بھی چلے۔ استاد اور مرشد کے بغیر تو آپکو پتہ ہے کوئی بھی کام صحیح نہیں کرنے ہوتا۔ اور وہ فوری طور پہ دستیاب نہ ہوں تو کم از کم کوئی تجربہ کار دوست ہی سہی۔ ایک آخری بات، کہ جناب اینگلنگ یا کنڈی استعمال کر کے مچھلی پکڑنا ہر گز ہر گز آسان تفریح نہیں ہے۔ بہت صبر آزما اور توجہ طلب کام ہے، کسی کسی دن تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer