جمعرات، 26 فروری، 2015

انٹرنیٹ سے آمدن سوچ میں ہلکی سی تبدیلی کی ضرورت

Internet Income Dollar Rain Fall
انٹرنیٹ سے لاکھوں کمائیں، مگر کیسے؟

کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، انٹرنیٹ سے جائز اور حلال آمدنی حاصل کرنا ممکن ہے۔ البتہ خیال رہے کہ ایسا کرنے میں وقت اور محنت درکار ہے۔ چٹکی بجاتے ہی امیر ہونا ناممکن ہے، اور راتوں رات کڑوڑ پتی بنانے والی سکیمیں بھی جعلی ہوتی ہیں۔

انٹرنیٹ پراپرٹی بنانا

Small Colorful Beach Homesگوگل کسی بھی انٹرنیٹ ویب سائٹ یا بلاگ کے لئے "انٹرنیٹ پراپرٹی" کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر میرا یہ بلاگ ایک پراپرٹی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی ایک منزلہ عمارت، پانچ مرلے کا گھر، چار منزلہ عمارت یا ایک مرلے کی دوکان۔

یہ پراپرٹی اگر مناسب جگہ پر ہو گی تو آپکو کسی بڑے کاروبار سے اشتہار مل سکتے ہیں۔ ایسے ہی آپکی انٹرنیٹ پراپرٹی پر بھی گوگل کے ذریعے اشتہار لگائے جاتے ہیں۔ البتہ ان اشتہاروں کو جتنے زیادہ لوگ کلک گے اتنی زیادہ آمدنی ہو گی۔



"اگر سال بھر کی پارٹ ٹائم محنت کے بعد آپکو ایک ایسا ذریعہ آمدن مل جاتا ہے جو کہ ہر ماہ بغیر آپکے ہاتھ پائوں ہلائے پانچ ہزار روپے کی آمدن دے، تو اچھا سودا نہیں ہے؟

پھلا قدم

سب سے پہلے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس موضوع کے بارے میں معلوماتی اور دلچسپ موادجیسا کہ یہ تحریر یا ویڈیو وغیرہ تخلیق کر سکتے ہیں۔ ابتدا میں آپکی پراپرٹی کا سائز چھوٹا ہو گا اور اس پر آ کر اشتہار دیکھنے والے لوگ بھی بہت کم ہونگے۔ لیکن

پہلے سوچیں سمجھیں، اور پھر پراپرٹی بنائیں

موضوعات کی چند مثالیں


  • بیمہ پالیسی کی معلومات
  • بینک اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق موضوعات
  • تعلیم سے متعلق ویب سائٹ یا بلاگ
  • صحت سے متعلق تحریریں
  • سیاست - لاحول ولا قوۃ
  • سائنس اور ٹیکنالوجی پر معلومات
  • موبائل فون اور کمپیوٹر کے متعلق معلومات
  • سکول کالج کے اساتذہ کےلئے کوئی فورم
  • اکائونٹینسی کے معاملات
  • مذہب جیسا کہ قرآن و حدیث، یا بائبل وغیرہ

پہلی دوسری تیسری کوشش ناکام ہو سکتی ہے

تحریر کے شروع میں عرض کیا تھا کہ حوصلے والا کام ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ آپکی دو ایک ماہ کی محنت کارگر نہ ہو۔ البتہ نقصان ہونے سے اگر آپ سبق سیکھ لیں تو وہی آپکی اصل کمائی ہو گا۔

دوسرا قدم

لکھنا شروع کریں۔ مفت بلاگ بنانے کے لئے درج ذیل ویبسائٹ ملاحظہ فرمائیں


مصنف نے دانستہ طور پر ایس ای او وغیرہ کے مطالعہ سے اجتناب برتا ہے۔ ایک آدھی غلط ٹرائی مارنے سے آپ کافی سیکھیں گے۔ میں نے ہمیشہ اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا۔ "خراشیں تحفہ ہوتی ہیں، جو ہمیں ہماری غلطی یاد دلاتی ہیں۔" جی۔

گوگل اشتہارات تبھی دیتا ہے جب آپکی ویبسائٹ پر زیادہ مواد انگریزی میں ہو۔ میں نے انگریزی بلاگ الگ بنایا ہوا ہے اور یہ اردو بلاگ علیحدہ ہے۔ یہاں میں اپنے فقرے سیدھے کرنے کے لئے لکھتا ہوں، اسکے علاوہ بہت سارے اچھے دوست یہاں سے بنے۔

عملی اقدامات


  • تو قاری صاحب آپکو بھی میرا یہی مشورہ ہے کہ ایک بلاگ اردو اور ایک انگریزی بنائیں۔
  • تھوڑا لکھیں مگر خود لکھیں، ایمانداری سے ایک نمبر تحریر لکھیں اور کسی کا مواد چوری کرنے سے گریز کریں۔ 
  • ہفتے میں ایک پوسٹ اردو اور ایک انگریزی لکھیں۔ 
  • دو ڈھائی ماہ بعد آپکے پاس اتنا مواد ہو جائیگا کہ آپ گوگل کے اشتہاری پروگرام ایڈ سنس میں اپلائی کر سکیں گے۔ 
  • فرض کر لیں کہ آپ نے کسی دور دراز ہائوسنگ سکیم میں پلاٹ قسطوں پر لے لیا ہے اور ہر ہفتے لکھ کر آپ اسکی قسط ادا کر رہے ہیں۔ قبضہ دو سال بعد ملے گا اور تب آپکو چند ہزار روپے مستقل آمدنی ملنا شروع ہو جائیگی۔
  • LinkedIn, Facebook, Twitter بلاگ پر ٹریفک لانے کے لئے سوش میڈیا استعمال ہوتا ہے۔ البتہ اسکی فکر بعد میں کی جاسکتی ہے۔ پہلے کوئی تجرباتی مواد تخلیق کریں پھر اسکی تشہیر کے بارے میں سوچیں۔ 

اصل نقطہ: "گیدڑ سنگھی" ہماری سوچ

اگر فرض کریں کہ شروع میں آپکی تمام ویب سائٹ اور بلاگ ملا کر آپکو دس ڈالر ماہانہ آمدنی ہوتی ہے تو یوں سمجھیں کہ یہ آپکی ملکیت ایک دور دراز دوکان ہے جس سے بہت تھوڑا سا کرایہ آ رہا ہے۔ دس ڈالر کا مطلب ہوا لگ بھگ ایک ہزار 
روپیہ۔


Mindset for passive internet income
جیسی سوچ، ویسا نتیجہ

کچھ لوگوں کا دل یہ رقم سن کر ہی ٹوٹ جائیگا۔ البتہ "آہستہ آہستہ، اور آرام سے" کے اصول کو مدنظر رکھنا بہت اہم ہے۔

"اگر سال بھر کی پارٹ ٹائم محنت کے بعد آپکو ایک ایسا ذریعہ آمدن مل جاتا ہے جو کہ ہر ماہ بغیر آپکے ہاتھ پائوں ہلائے پانچ ہزار روپے کی آمدن دے، تو اچھا سودا نہیں ہے؟


گوگل کوئی بے وقوف نہیں ہے


زور زبردستی اپنے اشتہاروں پر جعلی کلک کر کے پیسے کمانے کا خیال دل سے نکال دیں۔ اول تو یہ فراڈ اور اسلامی تعلیمات کی رو سے حرام ہے۔ دوم گوگل وغیرہ نے اس چکر میں بڑا نقصان اٹھایا ہوا ہے اور اتنے سال بعد وہ خاصے ہوشیار ہو گئے ہیں۔ ذرا ہینکی پھینکی کرنے کی صورت میں آپکا اکائونٹ بلاک اور ساری محنت اکارت۔


مضمون کا نتیجہ

انٹرنیٹ کو اپنا بنیادی ذریعہ آمدن مت بنائیں بلکہ اسے ایک اضافی ذریعہ آمدن سمجھیں۔ یہ ایک ریٹائرمنٹ فنڈ ہے، بونس آمدنی جو کہ بُرے وقت میں آپکے کام آئیگی۔ لاکھوں کی آمدن ہو گی، البتہ چند سالوں میں۔

میری بلاگز اور ویبسائٹس کی چند مثالیں، خیال رہے کہ میں نے حال ہی میں ان چیزوں کو ثانوی ذریعہ آمدی کی حیثیت سے سنجیدہ لینا شروع کیا ہے۔ 



انتباہ: مصنف نے یہ تحریر خالص عوامی اور قومی فلاح کے جذبے سے لکھی ہے۔ تمام مواد معلوماتی ہے۔ کسی بھی فائدے یا نقصان کی صورت میں مصنف ذمہ دار نہ ہے۔

نوٹ: اردو بلاگر ساتھیوں سے درخواست ہے کہ کمنٹ کریں، اور جہاں مصنف غلط ہے درست فرمائیں۔

About this article

This article explains what is internet property, and how Google AdSense works. Why we should consider income from blogs and websites as a passive income source, a secondary income or a retirement plan that would help us in tough times. What are the steps that should be taken? What are suitable topics for creating a blog? Which websites can be used to create a blog. It is purely an informational post. Shared for the good of community.


بدھ، 18 فروری، 2015

پاکستانی معیشت میں انٹرنیٹ سے مزید سرمایہ لانے کے دو لوازمات

paypal_google_play_amazon_mturk

پاکستان خوش قسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوان ہے۔ ان نوجوانوں کی اکثریت پڑھی لکھی ہے اور انٹرنیٹ استعمال کرنا جانتی ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمارے یہاں انٹرنیٹ کو فقط برائی کا اڈا ثابت کرنے پر تلے دانشوروں کی کوئی کمی نہیں۔ اسوقت انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھڑی کڑوڑوں اربوں ڈالر کا سرمایہ گردش کر رہا ہے۔ آپکو بس ایسی صلاحیتیں اور آلات چاہیئں جنکو استعمال کر کے آپ بھی اس سرمائے میں سے اپنا  حلال، اور جائز حق کما سکیں۔

تصحیح 

گوگل پلے کے بارے میں میری معلومات غلط تھی، اب ہم گوگل پلے پر اپنی ایپس پیسوں کے عوض فروخت کر سکتے ہیں۔



Helping Pakistani Economy with PayPal, Google Play, Amazon mTurk from Naeem Akram on Vimeo.


پاکستان میں پے پال کی سروس

paypal_ppسالوں بیت گئے پاکستانی فری لانسر کمیونٹی سر پیٹ رہی ہے کہ کسی طریقے سے پے پال کی سروس پاکستان میں بھی چالو ہو جائے۔ اس ایک کام کے ہو جانے سے پاکستانی معیشت میں ہر ماہ لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ آیا کرے گا۔ میں کیونکہ خود فری لانسر ہوں اسلئے پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سروس کے آنے سے پاکستانی آئی ٹی محنت کش اپنی صلاحیتیں کئی ایسی جگہوں پر بھی بیچ سکیں گے جہاں سے پیسے منگوانے کے لئے پے پال لازمی ہے۔

امازون مکینیکل ترک

اسی موضوع پر میں ایک تحریر چار سال پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ نہ اسکا کوئی فائدہ ہوا تھا اور نہ اس کا شاید کوئی فائدہ ہو پر چلو، "تم اپنی کرنی کر گزرو"۔

مکینیکل ترک دنیا کی سب سے بڑی آنلائن دوکان ایمازون ڈاٹ کام  کی ملکیت ہے۔ یہاں مختلف چھوٹے چھوٹے کام کر کے دو سینٹ تا پانچ ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ یہ کام ایسے ہوتے ہیں جو فی الحال کمپیوٹر خودکار طریقے سے نہیں کر سکتا۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں
  1. مریض کی ڈاکٹر سے گفتگو کی آڈیو فائل کو سن کر ٹائپ کرنا
  2. کسی ویڈیو کو دیکھ اور سن کر اسمیں ہونے والی گفتگو کو ٹائپ کرنا
  3. بہت سی تصاویر کا مشاہدہ کرنا اور ان میں سے ایسی الگ کرنا جن میں آگ یا دھواں نظر آ رہا ہو
  4. ٹویٹ کو پڑھنا اور انکے بارے میں بتانا کہ ان سے کیسے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے
یہ ایسے کام ہیں جو کہ کمپیوٹر کا استعمال جاننے والے نوجوان آسانی سے کر سکتے ہیں۔

مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ مکینیکل ترک والے صرف انڈیا اور امریکہ سے ہی لوگوں کو کام کرنے دیتے ہیں۔ اگر منسٹری آف آئی ٹی، فنانس، اور ہیومن ریسورس والے مل جل کر امازون کے ساتھ کوئی ڈیل کر لیں تو بلاشبہ امازون پاکستان کو بھی ایک موقع تو دیگا۔ 
اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے یہاں بہت سے نوجوانوں کو روزگار کے باعزت ذرائع میسر آئیں گے۔ ایسا ہونے سے نہ صرف معیشت میں پیسہ آئیگا بلکہ بہت سارے لوگوں کی پریشانیاں بھی کم ہو جائینگی۔


elance-odesk-annual-impact-report-freelancer-countries
بونس: او ڈیسک ای لانس کے مطابق پاکستان دنیا میں فری لانسنگ سے پیسہ کمانے والے ملکوں کی فہرست میں پانچواں ملک ہے۔ 

What is this post about?
Helping Pakistani economy with introduction of several well known web based services. Paypal support in Pakistan will be very helpful in enabling freelancer community and bringing in more jobs along with money in Pakistan. Ability to sale paid apps on Google Play Store is second on the list. Last one is Amazon mTurk service in Pakistan. If it is working in India, then why not Pakistan? We got a good educated workforce that is hungry for work.



جمعہ، 13 فروری، 2015

سٹور شیلف میں کچن گارڈننگ

store-shelf-kitchen-gardening-cadbury-again

ایک آدھا دن پہلے سٹی سپر سٹور گیا تو وہاں پڑے بہت سارے شیلفوں کو دیکھ کر خیال آیا کہ یار ان میں تو بڑے اچھے طریقے سے سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ جب یہ شیلف ٹوٹ جاتے ہوں گے تو پتہ نہیں یہ کہاں جاتے ہوں گے؟ مثال کے طور پر یہ کیڈبری چالکیٹ کا شیلف ہی دیکھ لیں۔ 

اس شیلف میں کیا کیا اگایا جا سکتا ہے؟

اگر مارچ اپریل کا مہینہ ہے تو یہاں پودینہ اور دھنیا وغیرہ لگایا جا سکتا ہے۔ سب سے اوپر والے شیلف میں ہری مرچ اور بینگن وغیرہ بھی لگا سکتے ہیں۔ 
ستمبر اکتوبر کے مہینوں میں آپ لہسن اور پیاز بھی لگا سکتے ہیں۔ ان سبزیوں کی جڑی شاید بہت پھلیں پھولیں نہ لیکن تین چار مہینے کے لئے آپکو بہت سی تازہ سبز  لہسن، پیاز، اور پودینہ بھی مل جائے گا۔ ڈھیٹ سبزی پالک اگر کسی کو پسند ہے تو وہ بھی لگ جائیگی۔
اسکے علاوہ دیگر اور بھی کئی قسم کے چھوٹی پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ 

پانی کا صحیح استعمال

سب سے اوپر والی شیلف میں ڈالا گیا پانی نیچے والی شیلفوں تک لگتا جائیگا۔ اسطرح آپ تھوڑے پانی سے زیادہ پودوں کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ شہری مکانوں میں کم جگہ پر بھی ایسی چیزیں کامیاب ہیں۔

کچھ مزید شیلفیں

store-shelf-kitchen-gardening-lifebuoystore-shelf-kitchen-gardening-lays



لائف بوائے صابن اور لیئز چپس کی ان شیلفوں کو دیکھ دیکھ کر بھی میرا جی للچا
 رہا تھا۔ ان کا بھی کافی مفید استعمال ممکن ہے۔

یہ شیلفیں ملیں گی کہاں سے؟

یہی تو ہے سوال سوا لاکھ کا۔ آخر یہ شیلفیں حاصل کہاں سے کی جائیں؟
میں سوچ رہا تھا کہ جب یہ ٹوٹ پھوٹ جاتی ہونگی تب انکو جہاں لیجایا جاتا ہو گا وہاں سے شاید پتہ چل سکے۔ یا پھر اگر کوئی پراڈکٹ ڈسٹریبیوشن والا واقف ہو تو اسکی دوستی کا بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔
البتہ مجھے خود نہیں پتہ کہاں سے ملیں گی یہ شیلفس اسلئے کوئی پکی بات نہیں کر سکتا۔

 اگر آپ میں سے کسی کو بھی ایسی شیلفس حاصل کرنے کا کوئی مناسب ذریعہ پتہ چلے تو ضرور مطلع فرمائیں۔ نامناسب ذرائع والے خواتین و حضرات بھی شرمائیں مت۔



Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer