ایم ایم عالم روڈ لاہور کا یہ منظر یہاں سے روز صبح گزرنے والوں کو پہلی مرتبہ لازمی عجیب لگتا ہے۔ پہلی مرتبہ کوئی نومبر دسمبر میں صبح ساڑھے چھے پونے سات بجے ادھر سے گزر ہوا تو مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ اتنے سارے لوگ دھند میں اتنی تمیز سے قطار باندھ کر کیوں کھڑے ہیں۔ پاس آنے پر بحرحال ماجرہ سمجھ میں آ گیا، اور خوشگوار حیرت بھی ہوئی۔
بڑے بزرک کہتے ہیں کہ اللہ دیتوں کو دیتا ہے، اور بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔ اس ایک جگہ سے بلا مبالغہ سیکڑوں لوگ روزانہ ناشتہ کر کے جاتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ یہ نیکی کرنے والوں کو اسکا بہترین اجر عطا فرمائے، اور ان لوگوں کو اس سے بھی بڑھ کر غریب پروری کی توفیق دے۔ میرا اپنا بڑا دِل کرتا ہے کہ ایسا ہی کوئی کام کروں، اب بھی الحمد للہ راہِ خدا خرچ کرتا ہوں لیکن وہ میرے خیال سے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
بڑے بزرک کہتے ہیں کہ اللہ دیتوں کو دیتا ہے، اور بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔ اس ایک جگہ سے بلا مبالغہ سیکڑوں لوگ روزانہ ناشتہ کر کے جاتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ یہ نیکی کرنے والوں کو اسکا بہترین اجر عطا فرمائے، اور ان لوگوں کو اس سے بھی بڑھ کر غریب پروری کی توفیق دے۔ میرا اپنا بڑا دِل کرتا ہے کہ ایسا ہی کوئی کام کروں، اب بھی الحمد للہ راہِ خدا خرچ کرتا ہوں لیکن وہ میرے خیال سے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
تھوڑا آگے حسین چوک ہے، یہاں میں نے ایک اور اشتہار دیکھا۔ نیچے ملاحظہ فرمائیے
ایک کنٹراسٹ، ایک تضاد دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف اتنے لوگ ہیں جنکے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اور دوسری طرف ایک اکیلے بندے کا کھانا چار سو پچانوے روپے میں۔ مجھے اس مخصوص ریسٹورانٹ سے کوئی بیر نہیں ہے۔ میں صرف ایک مثال دے رہا ہوں۔
یہ در حقیقت دو ذہنیتوں کا مقابلہ ہے، ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنے مال میں سے محروم غریب طبقے کا بھی حصہ رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایسا طبقہ ہے جو سب کچھ اپنے ہی پیٹ میں ڈال لینا چاہتا ہے۔ آپکو بھوک لگی ہے، سو دو سو روپے میں اچھا کھانا گھر بنوائیں اور کھائیں لیکن پانچ سو روپے ایک وقت کے کھانے پر خرچ کرنا ظلم نہیں ہے کیا؟
دلیل دی جا سکتی ہے کہ جناب کلاس کی بات ہے، جو زیادہ محنت کرتے ہیں انکا حق بنتا ہے اچھا کھائیں اور اچھا پہنیں۔ ٹھیک ہے بھئی، لیکن اگر کوئی ایسا "اچھا" کھانا روٹین ہی بنا لے تو زیادتی ہے۔
یہ ایک باندر صاحب اپنے سسرال جا رہے ہیں۔ پارک سے واپسی پر فردوس مارکیٹ کے مین بازار میں صبح سویرے ہی اس بندے نے تماشہ شروع کر رکھا تھا۔ آجکل یہ مناظر بھی مفقود ہوتے جا رہے ہیں، ورنہ سنا ہے بھلے وقتوں میں یہی انٹرٹینمنٹ ہوا کرتی تھی۔
ایک کنٹراسٹ، ایک تضاد دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف اتنے لوگ ہیں جنکے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اور دوسری طرف ایک اکیلے بندے کا کھانا چار سو پچانوے روپے میں۔ مجھے اس مخصوص ریسٹورانٹ سے کوئی بیر نہیں ہے۔ میں صرف ایک مثال دے رہا ہوں۔
یہ در حقیقت دو ذہنیتوں کا مقابلہ ہے، ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنے مال میں سے محروم غریب طبقے کا بھی حصہ رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایسا طبقہ ہے جو سب کچھ اپنے ہی پیٹ میں ڈال لینا چاہتا ہے۔ آپکو بھوک لگی ہے، سو دو سو روپے میں اچھا کھانا گھر بنوائیں اور کھائیں لیکن پانچ سو روپے ایک وقت کے کھانے پر خرچ کرنا ظلم نہیں ہے کیا؟
دلیل دی جا سکتی ہے کہ جناب کلاس کی بات ہے، جو زیادہ محنت کرتے ہیں انکا حق بنتا ہے اچھا کھائیں اور اچھا پہنیں۔ ٹھیک ہے بھئی، لیکن اگر کوئی ایسا "اچھا" کھانا روٹین ہی بنا لے تو زیادتی ہے۔
یہ ایک باندر صاحب اپنے سسرال جا رہے ہیں۔ پارک سے واپسی پر فردوس مارکیٹ کے مین بازار میں صبح سویرے ہی اس بندے نے تماشہ شروع کر رکھا تھا۔ آجکل یہ مناظر بھی مفقود ہوتے جا رہے ہیں، ورنہ سنا ہے بھلے وقتوں میں یہی انٹرٹینمنٹ ہوا کرتی تھی۔
















