Thursday, December 2, 2010

جلتے "کیوں"۔۔۔

کتھئی آنکھوں والا وہ کلین شیو نوجوان میرے سامنے آیا اور اس نے ہاتھ جوڑ دیئے۔ میں اُن آنکھوں میں بھری بےچارگی دیکھ کر بوکھلا سا گیا۔ وہ بولا بھائی اللہ کے واسطے مجھے بس کھانا کھلا دو، ایک انڈہ ایک پراٹھا اور ایک کپ چائے۔ کہاں خلیفتہ اللہ، اور کہاں ایک انڈہ ایک پراٹھا اور ایک کپ چائے، کیوں۔۔۔ آخر کیوں؟
آٹھ سو روپے، اس سے کم نہیں ہو سکتے۔۔۔ ستائیسویں رمضان المبارک ہے۔۔۔  کافی دیر سے سر ماری کر رہا ہوں لیکن اُسکی سوئی آٹھ سو پر آ کے اٹک ہی گئی ہے۔۔۔ "دیکھ پہلے ہی رمضان کی وجہ سے بہت بُرا حال ہے، پھر ساری رات ذلیل ہونا کوئی سوکھا کام نہیں ہے۔۔۔ دل کرتا ہے تو چل ورنہ جا اپنا کام کر"۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ شیطان تو سُنا تھا رمضان کا چاند طلوع ہوتے ہیں قید ہو جاتا ہے۔۔۔ تو پھر یہ آٹھ سو روپے پر بحث کرنے والوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟
جانوروں کو لگانے والا بڑا ٹیکا پکڑے وہ سامنے والے لکڑی کے بینچ پر لیٹی ہے۔ پیروں والی طرف ایک بارہ تیرہ سال کی بچی بیٹھی اپنے جوتے سے کھیل رہی ہے۔ ٹیکے کے ساتھ ایک سوئی گیس والا پائپ لگا ہے جو کہ اسکی میلی پرانی قمیض کے نیچے کہیں گم ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ خوراک کی نالی میں کینسر ہے، کچھ نگل نہیں سکتی۔ خوراک ٹیکے میں بھر کر سیدھی معدے میں انڈیلتی ہے۔ بارہ سال سے کم عمر کے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، خاوند چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ بہن بھائی ماں باپ کوئی نہیں ہے۔ گھر کرائے کا ہے، بیٹا محلے کے لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کرتا ہے اور لوگ۔۔۔ ترس کھا کے کچھ کھانے پہننے کو دے دیتے ہیں۔ میں نے اسکی مٹھی میں ایک نوٹ تھمایا، مٹھی کھول کر دیکھی اور میرے پیروں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے۔ میرا دِل چاہا زمین پھٹ جائے اور میں اس میں اتر جائوں۔ اس سے زیادہ پیسوں کا تو یہ جوتا ہے جو میں نے پہنا ہے۔
مٹی سے بال اٹے ہیں۔ قمیض اتری ہوئی ہے۔ چہرے پر خون اور مٹی سے بنا گارا لپا ہے۔ لوگ اسے مار رہے ہیں، ڈنڈے جوتے ٹھڈے مکے جسکو جو ملتا ہے اس سے مار رہے ہیں۔ ساتھ ہی ایک ننگے دھڑ والا ساکن جسم پڑا ہے، جان نکل گئی اسکی شاید۔ وہ اٹھتا ہے، ہاتھ جوڑتا ہے لیکن مجمع ایک نہیں سنتا۔ مار مار کے اسے زمین پر گرا دیتے ہیں۔ اسکے ناک سے خون بہہ رہا ہے، اسکا پنڈا چور چور ہو چکا ہے، اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ بھائی۔۔۔ اسکا بھائی جسکے ساتھ صبح وہ کرکٹ کھیلنے آیا تھا اسکے ساتھ بے سدھ پڑا یا شاید مر گیا ہے۔ دو ہی تو وہ بھائی تھے۔
ویر ویراں دا درد ونڈاندے، تے ویر ویراں دیا بانہواں
اُسکا ویر تو مر گیا۔۔۔ مار دیا ظالموں نے۔۔۔ اسکی بانہیں تو نوچ لی گئیں۔۔۔ پھر اسکی آنکھوں کے آگے بھی منظر دھندلا گیا۔۔۔ ایک ڈوبتی سی یاد ماں کی آئی۔۔۔ وہی ماں جو آج صبح کہہ رہی تھی کہ "جا پتر، رب راکھا" شاید وہ بھی مرنے والا تھا۔۔۔


میرے دِل میں ہول اٹھتے ہیں، میں پوچھتا ہوں ذوالجلال جبار قہار رزاق رحمان غفور رحیم یہ کیا ہے؟ تجھے تیری شان کریمی کا واسطہ مجھے سمجھا کہ یہ کیا ہے؟ تو قادر مطلق ہے، تو سمجھا سکتا ہے نا۔۔۔ کوئی ایک عذاب ہو تو میں اسکا رونا روئوں یہاں تو تا حد نظر عجائب پھیلے ہوئے ہیں۔۔۔ میں کمی کمین ہی سہی، تیرا بنایا ہی سہی، مطلق تیرا محتاج ہی سہی۔۔۔ تو مجھے بتا میں کیا کروں، کہاں جائوں؟ تو انہیں سکون کیوں نہیں دیتا؟ اتنی لاچارگی کیوں پھیلا رکھی ہے اس دنیا میں؟ اتنی بے رحمی کہاں سے آ گئی تیری تخلیق میں؟ تیرا خلیفہ تھوڑے سے پیسوں کے لئے ننگا کیوں ہو جاتا ہے؟ ہاتھ کیوں جوڑ دیتا ہے؟ پیر کیوں پکڑ لیتا ہے؟ لاشوں کے ساتھ کھڑا ہو کے تصویریں کیوں بنواتا ہے؟ زندہ ماس پر ڈنڈے مارتے ہوئے جب خون کے چھینٹے اڑتے ہیں تو اسکو تسکین ملی ہے، ہیں کیوں؟ کیا پاکھنڈ مچا رکھا ہے تو نے؟ تو کوئی بچہ ہے جس نے کھیل کھیل میں سب بنا ڈالا، اور اب ڈمیز کو کرتب کرتا دیکھ کر خوش ہو رہا ہے؟ یا تو کوئی حکیم تخلیق کار ہے، جسے اپنے ایک ایک شعر ایک ایک جملے اور ایک ایک مجسمے سے پیار ہوتا ہے؟ پیار ہے تو پھر میرے بادشاہ یہ کیسا پیار ہے؟
بے شک میں بڑا بے صبرا اور بڑا کم علم ہوں، تو ضرور مجھ پر کرم کرے گا۔۔۔ مجھے قرار بخش، ہدایت دے۔۔۔ تجھے مجھ سے سات مائوں جتنا پیار ہے۔۔۔ اور تو کسی پر اسکی برداشت سے زیادہ بوجھ بھی نہیں ڈالتا۔۔۔


نوٹ: سفرنامے کے سلسلے کی تیسری تحریر لکھنی تھی لیکن بس آمد شروع ہو گئی تو یہ تحریر سپرد قرطاس کر چھوڑی۔۔۔

8 comments:

  1. تحریر تو بہت زبردست ھے۔
    لیکن صبح سویرے پڑھی ھے۔
    اب سارا دن کیسا گذرے گا۔
    آپ کو معلوم ہی ہوگا۔

    ReplyDelete
  2. تحرير زبردست ہے ليکن ميں شايد آدھی صدی سے يہ سب کچھ بلکہ اس بڑھ کر ديکھ ديکھ کر بے حس ہو چکا ہوں ۔ دورِ حاضر کے گرويدہ مجھے پاگل کہتے ہيں

    ReplyDelete
  3. یاسر: صبح صبح اخبار بھی تو پڑھتے ہیںیار... اب میں کیا کرتا آدھی رات کو دورہ پر، تو بس لکھ مارا... ویسے آپکا پورا نام یاسر جاپانی پھل تو نہیں؟
    اجمل انکل: پرواہ نہی کرتے... ایسی باتوں کی... لوگ تو کمینے کسی حال میں خوش نہیں ہوتے
    اس تحریر میں سیالکوٹ والے اندھیر کے علاوہ باقی تمام آپ بیتیاں ہیں ... شائد نیا نیا ہوں اس لیے برا محسوس ہوا

    ReplyDelete
  4. نعیم آپ نئے نئے نہیں بلکہ حساس ہیں۔۔۔انسان عمر کے جس حصے میں بھی پہنچ جائے حساسیت اسے ہمیشہ تکلیف میں مبتلا رکھتی ہے۔۔۔۔لوگ صرف دیکھتے ہیں۔۔۔جبکہ حساس لوگ خود پر طاری کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسی آزمائش میں کسی کو نہ ڈالیں۔

    اچھی پوسٹ تھی۔

    ReplyDelete
  5. زندگی کی تلخ حقیقت کے لیئے یہ کہنا کہ اچھا لکھا ہے جچتا نہیں :( آپ کی شاعری اچھی ہوتی ہے ۔۔

    ReplyDelete
  6. @Aman: han je yeh tari krnay wala masla hy meray sath... Acha bura, khushi gham... Sub aasab py swar ho jatay hein
    @Hijab: yeh tu bus samjhein bharas nikali hy... shairi abhi seekh rha hon... Waysay tu nasr bhi dhang sy likhnay k liay boht cheezon ka dhyan rakhna parta hy, lekin khair... Jaysay taysay chal rha hy... Yeh koi bara fun-para nhi... Lekin kisi bhi takhleeq ka topic aur uski technical construction dfrnt things hein... Mozoo talkh b ho tu takhleeq kar ko tameer ki daad milni chahyay...
    Maslan agar koi badnuma pathron ko jor k aali shan mehl bana de tu hum mehal ki daad dein gy, pathron ko nazr andaz krein gy... Enough philosphy :p
    Ps: Cmntng frm mbl in Roman, as Urdu enabled pc iz far away...

    ReplyDelete
  7. عمدہ تحریر ہے
    بلاگ کا فونٹ وغیرہ تھوڑا بڑا اور نستعلیق کردیں تو چار چاند لگ جائیں گے۔

    ReplyDelete
  8. یار شازل بھائی، فانٹ غلطی سے بولڈ ہو گیا تھا۔ بعد میں بہت کوشش کی لیکن وہ صحیح ہی نہیں ہوا۔۔۔ اور نستعلیق اس لئے نہیں کرتا کہ بہرحال سب کے پاس فونٹ انسٹال نہیں ہوتا۔۔۔ تو بلاگ پوسٹ میرے پاس جیسی نظر آ رہی ہو گی ویسی قاری کے پاس اگر نہ دکھائی دے تو مزا کرکرا ہو جاتا ہے۔۔۔

    ReplyDelete

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer