Friday, January 18, 2019

زرعی انقلاب کا پھندا


لگ بھگ بارہ ہزار سال قبل رونما ھونے والا زرعی انقلاب، تاریخ کے متنازع ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ کُچھ طرفدار کہتے ہیں کہ اسنے بنی نوع انسان کو عروج اور ترقی کی راہ پر ڈال دِیا۔ البتہ مخالفین مُصر ہیں کہ اسکا نتیجہ مسلسل ابتلاء ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ یہی وہ موڑ تھا جب سیپینز یعنی انسانوں نے فطرت کے ساتھ اپنا قریبی ربط نوچ پھینکا اور سرپٹ لالچ و اجنبیت کی جانب دوڑ لگا دی۔ راہ جِس سمت بھی لے جاتی، واپس ناممکن تھی۔ 

کھیتی باڑی کی بدولت انسانی بستیاں اسقدر سرعت سے پھیلی کہ کوئی بھی پیچیدہ زراعتی معاشرہ اگر قدیم شکاری اور متلاشی طور طریقوں کی جانب لوٹتا تو قائم ہی نہ رہ پاتا۔
لگ بھگ دس ہزار سال قبلِ مسیح کو، زراعت پر منتقلی سے پہلے، زمین پر شکاری متلاشی انسانوں کی آبادی پچاس لاکھ سے اسی لاکھ کے درمیان تھی۔ پہلی صدی عیسوی آتے آتے انکی تعداد گھٹ کر دس لاکھ سے بیس لاکھ تک رہ گئی وہ بھی زیادہ تر آسٹریلیا، افریقہ، اور امریکہ میں۔ لیکن اُنکے مقابلے میں اُسوقت صفحۃ ہستی پر کسانوں کی تعداد پچیس کڑوڑ کے قریب پہنچ چُکی تھی۔ شکاری معدوم ہو رہے تھے۔

کِسانوں کی بڑی تعداد مُستقل آابادیوں میں رہتی تھی۔ ان میں کم ہی خانہ بدوش چرواہے تھے۔ ایک جگہ ٹِک جانے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا علاقہءِ عمل ڈرامائی طور پر سُکڑ گیا تھا۔
قدیم مُتلاشی شکاری عام طور پر سیکڑوں یا کبھی کبھار ہزاروں مربع میل پر مُحیط علاقے میں سرگرم رہتے تھے۔ سارے کا سارا علاقہ انکا گھر ہوتا تھا۔ پہاڑ، جھرنے، جنگلات، اور کُھلا آسمان۔ 
دوسری جانب کسان، زیادہ وقت نسبتا چھوٹے کھیت یا باغ میں کام کرتے رہتے۔ اُنکی روزمرہ زندگی لکڑی، پتھر، یا گارے کے ایک ٹھنسے ٹھنسائے ڈھانچے کے گِرد گھومتی تھی جو بمشکل چند میٹر پر مُحیط ہوتا تھا؛ یہ ڈھانچہ تھا اُنکا گھر۔ 

عام طور پر کِسان کو اِس ڈھانچے کیساتھ گہرا لگائو ہو جاتا تھا۔ یہ ایک دور رس انقلاب تھا جسکے اثرات جسقدر نفسیاتی تھے، اُسی قدر ہی عماراتی بھی تھے۔ اِسکے بعد سے "میراگھر" کی لگن اور پڑوسیوں سے علیحدگی ایک خود کفیل مخلوق کا خاصہ بن گئی۔
نئے زراعتی رقبے نہ صِرف قدیم مُتلاشی شکاریوں کے زیر استعمال علاقوں سے  کئی گُنا چھوٹے تھے، بلکہ بے حد بناوٹی بھی تھے۔



 آگ کے استعمال کے سے ہٹ کر، شکاری جس سرزمین میں گھومتے پھرتے تھے اُسمیں کم ہی کوئی بڑی تبدیلی کیا کرتے۔

لیکن کِسان، مصنوعی انسانی جزیروں میں رہتے، جنہیں وہ جفاکشی سے آس پاس کے جنگلات کو صاف کر کے تراشتے۔ جہاں پر وہ گھر تعمیر کرتے، ہل چلاتے، اور دیدہ زیب قطاروں میں پھلدار درخت لگاتے۔
 نتیجتاۤ رونما ہونے والا مصنوعی ماحول فقط انسانوں، اُنکے پودوں، اور پالتو جانوروں کیلئے بنا ہوتا۔ رہائش کے اردگرد عموما دیواروں یا باڑھوں کی مدد سے حد بندی کی جاتی۔ جنگلی جانوروں اور تیزی سے پھیلنے والی جڑی بوٹیوں کو باہر رکھنے کیلئے کِسان خاندان ہر مُمکن جتن کرتے۔

اگر ایسے گُھس بیٹھیئے اندر آ ہی جاتے تو انہیں نکال باہر کیا جاتا۔ اگر وہ ڈٹے رہتے، تو اُنکے مد مقابل انسان انہیں جان سے مارنے کے نت نئے طریقے اختیار کرتے۔

زراعت کی ابتدا سے لیکر آج تک اربوں کی تعداد میں انسان لاٹھیوں، کیڑے مار اوزاروں، جوتوں، اور زہریلی ادویات کیساتھ جفاکش چیونٹیوں، چُھپنے کے خوگر کاکروچوں، اور بھوُلے بسرے مکوڑوں کیخلاف برسرِ پیکار ہیں۔ مگر وہ بھی مُسلسل انسانوں کے رہائشی علاقوں میں در اندازی کی عادت پر قائم ہیں۔

تاریخ کے بیشتر حصے میں انسان کی تخلیق کردہ یہ آماجگاہیں بُہت چھوٹی رہی ہیں، انہیں ہمیشہ وحشی فطرت نے اپنے گھیرے میں لئے رکھا۔ زمین کی کُل سطح لگ بھگ اکیاون کڑوڑ مربع میل ہے، جسمیں سے ساڑھے پندرہ کڑوڑ مربع میل خُشکی ہے۔ سن چودہ سو عیسوی تک، کسانوں کی بڑی تعداد اپنے پودوں اور پالتو جانوروں سمیت، محض ایک کروڑ دس لاکھ مُربع میل پر مرکوز تھی۔ 

کُرہ ارض کی کُل سطح کا محض دو فیصد۔ باقی تمام جگہیں یا تو شدید سرد تھی، یا شدید گرم، انتہائی خُشک، بُہت گیلی، یا پھر ناقابلِ کاشت۔ کُرۃ ارض کا محض دو فیصد حصہ وہ سٹیج تھا جس پر تاحال معلوم تاریخ رقم ہوئی۔

اپنے مصنوعی جذائر کو چھوڑنا لوگوں کیلئے سخت دشوار تھا۔ اپنے گھر، کھیت، اور ذخیروں کو بغیر شدید نقصان کا خطرہ موُل لئے چھوڑنا ناممکن ہوتا۔ 

قدیم کسان ہمارے حساب سے تو شاید غریب لگتے ہوں۔ لیکن ایک عام گھرانے کی ملکیت میں اتنے زیادہ اوزار ہوتے ہوں گے جتنے شکاریوں کے پورے جتھے کے پاس نہ رہے ہوں گے۔

جوں جوں وقت گُزرتا گیا، انسان اپنے اردگرد مزید چیزیں اکٹھی کرتا گیا۔ ایسی چیزیں جنکو ساتھ لیکر گھومنا پھرنا آسان نہ تھا۔ ایسی چیزیں جنہوں نے اُسے باندھ کر رکھ دیا تھا۔

آزاد منش شکاری، اپنے کھیتوں، اوزاروں، اور گھر کا قیدی ہو گیا تھا۔ جھرنے، پہاڑ، اور آزادی پیچھے رہ گئے تھے۔

یہ تھا زرعی انقلاب کا پھندا۔

Monday, January 8, 2018

سی پیک اور پاکستان کی ایس ای زی بالیسی - صحیح، غلط، اور حل


سی پیک: ہمارے ایس ای زیز کو کیسےچلایا جائے؟
چین پاکستان معاشی راہداری کے سلسلے میں
ایک اور دلچسپ ویڈیو کے ساتھ آپکا بھائی نعیم ملک
حاضر ہے۔

جب سے سی پیک کا پراجیکٹ شروع ہوا، ایک اصطلاح
بار ہا سننے میں آ رہی ہے۔
یہ اصطلاح ہے، ایس ای زی یا سپیشل اکنامک زون ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایس ای زی ہوتی کیا چیز ہے
اور اس لفظ پر اتنا زور دینے کی وجہ کیا ہے؟
اِس ویڈیو میں ہم آپکو بتائیں گے کہ ایس ای زی کیا ہوتا
ہے، سی پیک میں کون کون سے ایس ای زی بنائے جا
رہے ہیں، اور پاکستان کے ایس ای زی منصوبوں میں کیا
مسائل موجود ہیں۔
دوستو ایس ای زی یعنی سپیشل اکنامک زون ایک خاص
علاقہ ہوتا ہے، اس علاقے میں کاروبار اور سرمایہ کاری
کو آسان بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔
اردو میں ہم اِسے خصوصی معاشی علاقہ بھی کہہ
سکتے ہیں۔
مُلک کی حکومت کسی بھی علاقے کو یہ درجہ دے سکتی
ہے۔ پاکستان، سی پیک کے سلسلے میں کئی اسپیشل اکنامک
زون بنانے جا رہا ہے۔ کیا آپکو پتہ ہے پاکستان میں کتنے نئے اسپیشل اکنامک
زون بننے جا رہے ہیں؟
کسی بھی معیشت میں سرمایہ کاروں کی آمد کو آسان بنانا
پاکستان میں ایک دو یا چار پانچ نہیں، پورے نو ایس ای
زی بنائےجائیں گے۔ List of Special Economic Zones (SEZ) created in Pakistan for CPEC ایس ای زی بنانے کے چند اہم مقاصد کچھ یوں ہوتے ہیں تجارت کو فروغ دینا عوام الناس کیلئے نوکریاں پیدا کرنا
ان پالیسیوں کا تعلق عام طور پر جن چیزوں کے ساتھ ہوتا
ہے وہ ہیں
سرمایہ کاری، صنعت، اور تجارت سے متعلقہ مختلف
انتظامی امور کو تیزی سے سر انجام دینا سرمایہ کاروں کو کسی بھی ایس ای زی کی جانب متوجہ
کرنے اور سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے لئے کئی پاپڑ
بیلے جاتے ہیں۔ اور خاص قسم کی مالی پالیسیاں لاگو کی جاتی ہیں۔ ٹیکسیشن سرمایہ کاری تجارت کوٹہ سسٹم کسٹمز اور لیبر کے قوانین وغیرہ
اب آپ ضرور سی پیک میں بننے والے نو ایس ای زیز کا
نام بھی جاننا چاہ رہے ہوں گے۔
اسکے علاوہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کمپینوں کو کچھ
عرصے کے لئے ٹیکس معاف کر دیئے جائیں یا کاروبار
لگانے سے کچھ عرصہ بعد تک ان سے کم ٹیکس وصول
کئے جائیں۔ پہلے سے موجود انڈسٹریل اسٹیٹس میں ایس ای زی بنانا
ایک کثرت سے استعمال ہونیوالی حکمت عملی ہے۔ البتہ
کسی جگہ پر نیا انفراسٹرکچر بنا کر اسے ایس ای زی
قرار دینا بھی عین ممکن ہے۔ ناموں کی لسٹ حکومت پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود
ہے۔ یہ ویڈیو بنانے کے وقت اس لسٹ میں موجودہ نام
آپکو بتاتا چلوں۔ رشکئی اکنامک زون، ایم ون، نوشہرہ
اس مقام سے آگے تمام معلومات اُس کالم کی بنیاد پر دی
جا رہی ہیں۔
چائنہ اسپیشل اکنامک زون، دھابے جی بوستان انڈسٹریل زون علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، ایم تھری، فیصل آباد آئی سی ٹی ماڈل انڈسٹریل زون، اسلام آباد ڈیولپمنٹ آف آنڈسٹریل پارک آن پاکستان سٹیل ملز لینڈ
پورٹ قاسم نئیر کراچی سپیشل اکنامک زون ایٹ میرپور اے جے کے مہمند ماربل سٹی موقپوندس ایس ای زی گلگت بلتستان پاکستان کی ایس ای زی پالیسیوں کے بارے میں ہمیں
روزنامہ ایکسپریس ٹرائیبیون میں حسان خاور کا ایک
مفید آرٹیکل پڑھنے کو مِلا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنے ایس ای زیز کو شین زین کی طرح بنانے کیلئے کام بھی کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر ہمیں اپنے ایس ای زیز کو شین زین جیسا کامیاب بنانا ہے تو پھر ہمیں اس مقصد کیلئے درست اقدامات بھی کرنے پڑیں گے۔
دُنیا کا پہلا جدید ایس ای زی انیس سو انسٹھ میں آئرلینڈ
میں بنایا گیا تھا۔ لیکن، اس تصور کو دُنیا میں مقبولیت اس
وقت حاصل ہوئی جب چین نے شین زین کی معمولی سی
مچھیرا بستی کو "چینی معجزے" کی مدد سے تبدیل کر
کے رکھ دیا۔ آج کے شین زین کی آبادی تو لاہور جتنی ہے لیکن اسکا
جی ڈی پی پورے پاکستان جتنا ہے۔ جی ہاں، سائز میں
چھوٹا لیکن کارکردگی میں چیتا۔ جیسا کہ میں نے آپکو بتایا کہ پاکستان سی پیک کے
ساتھ پورے نو ایس ای زی بنانے جا رہا ہے۔ انکا مقصد
چین اور باقی دُنیا سے سرمایہ کار کو پاکستان لانا اور
ہماری معشیت کا پہیہ تیزی سے گُھمانا ہے۔ ان میں سے
پانچ کی فیزیبلٹی سٹڈی مکمل ہو چُکی اور دو کی ابتدائی
فیزیبلٹی۔
سب سے پہلے، ایس ای زی اسلئے بنائے جاتے ہیں کہ
محدود پیمانے پر سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول
اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
لیکن، ایس ای زی بھی کامیابی کا کوئی مُجرب نسخہ نہیں
ہیں۔ دُنیا ایسے ناکام منصوبوں سے بھری پڑی ہے
جہاں بہترین انفراسٹرکچر بنایا تو لیا، لیکن اسکے استعمال
کی نوبت نہیں آئی۔ سری لنکن شہر ہم بن توٹا اس کی ایک مثال ہے۔ اگر یہ بات ہے، تو کہیں ہم پاکستان میں بھی کوئی غلطی
تو نہیں کر رہے۔ دُنیا بھر میں موجود لگ بھگ پانچ ہزار اسپیشل اکنامک
زونوں میں سے، بہت سارے کامیاب بھی ہیں۔ ہمارے ایس ای زی بھی ان میں شمار ہو سکتے ہیں۔ غور سے دیکھنے پر ہمیں ہمارے ایس ای زی کے
طریقوں میں کچھ اہم مسائل نظر آ جائیں گے۔ چلیں ان پر بات کرتے ہیں۔ یعنی کہ ایس ای زی ایک بلبلے یا انکیوبیٹر کی طرح
ہوتا
ہے جو کہ مُلک کے دیگر حصوں میں پائے جانے والے
مسائل سے حتیٰ ال وسع پاک ہوتا ہے۔
البتہ سی پیک میں بننے والے ایس ای زیز میں سرمایہ
کار کیلئے ہر طرح کے تحفظ، یعنی سیکورٹی، کا جاندار
انتظام کرنا لازمی ہو گا۔
اسی لئے، ہر مُلک کو یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اسُکے
سپیشل اکنامک زون، اسکے اپنے اندر پائے جانے والے
مسائل سے بالاتر ہو۔ سیدھا سیدھا چین یا کہیں اور دیئے جانے والے فوائد کی
نقل کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ ہمارے ایس ای زیز
ایسے ہونے چاہیئیں کہ وہ ہمارے یہاں پائے جانے والے
مسائل کا محدود پیمانے پر حل کر سکیں۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونیوالے ڈیٹا کے مطابق
پاکستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی
رکاوٹ ہے یہاں کی سیکورٹی صورتحال۔ یہاں سرمایہ
کار کو اپنے مال، جان، اور کاروبار کا خطرہ پڑا رہتا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی، اور قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر تک
رسائی نہ ہونا، مشکل ٹیکس نظام، کرپشن، اور طرح طرح
کے کرایئے مانگتے ادارے اسکے علاوہ ہیں۔ چلیں اب ان مسائل کے حل کے بارے میں بھی بات کرتے
ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے انفراسٹرکچر اور رابطوں کا نظام
تو ٹھیک ہو جائے گا۔
اسکے علاوہ، بہت سارے ایس ای زیز میں نیگیٹو لسٹوں
کا تصور بھی موجود ہے۔ یعنی کہ سرمایہ کاروں کیلئے
ایسی فہرستیں شائع کی جاتی ہیں جن میں صرف وہ کام
لکھے ہوتے ہیں جنکو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یعنی
جنکا جواب نیگیٹو ہوتا ہے۔ اِن لسٹوں میں دی گئی
ممنوعہ سرگرمیوں کے علاوہ باقی سب کچُھ پیدائشی
طور پر جائز سمجھا جاتا ہے۔
اسکے علاوہ، ٹیکس اور کمپلائنس کے قوانین کو سہل
بنانا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہو گا۔ کیونک، اس میں
صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومتت کو مِل کر کام
کرنا پڑے گا۔ دوسرے کئی مُلکوں نے اس بھول بُھلیاں میں سے راستے
تلاش کیا بھی ہے۔ انہوں نے ایسے قوانین بنائے ہیں جو
کہ ایس ای زیز کے منتظم اداروں کو اجازت نامے جاری
کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ اُنکے اداروں کو رنگ برنگی وزارتوں سے منظوریاں
نہیں لینی پڑتی۔ یو اے ای ۔۔۔ یعنی متحدہ عرب امارات نے، کئی زونز میں
پیش منظوری یعنی پری اپروول متعارف کروا رکھی ہے۔ سرمایہ کاروں کو اُس وقت تک ایک پیسہ بھی نہیں خرچ
کرنا پڑتا جب تک کہ اُنکے اجازت نامے مُکمل نہ ہو
جائیں۔ ایس ای زی سے اگلا مرحلہ ہے چارٹر سٹیز، یعنی خاص
مقصد کیلئے بسائے گئے شہر۔ ایسے شہر، ترقی یافتہ
مُلکوں میں رواج پا رہے ہیں۔ چین میں ہانگ کانگ اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں
سین ہوزے شہر جو کہ آئی ٹی انڈسٹری کا گڑھ ہے چارٹر
سٹی کی مثالیں ہیں۔
مثلن، ٹیان جن، جو کہ چین کا ایک بڑا انڈسٹریل زون ہے، پسماندہ ٹیکنالوجی یا پُرانے سامان کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے۔
یہاں پر لوکل گورنمنٹس کو بہت ساری معاشی پالیسیاں
بنانے کا اختیار دے دیا جاتا ہے، یعنی مرکز کا کِردار
کم کر کے غیر مرکزیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ہمارے
یہاں، بہرحال تمام معاملات میں شدید مرکزیت پسندی
موجود ہے۔ پاکستان کے ایس ای زی نظام میں ایک اور کمزوری
سرمایہ کاروں کو دیئے جانے والے فائدے ہیں۔ بے شک
ٹیکس سے چھوٹ محدود مُدت تک دی جا رہی ہے، لیکن
زیادہ تر فائدے بغیر کسی حساب کتاب کے ہیں۔ انکا تعلق
سرمایہ کار کی کارکردگی سے جُڑا ہوا نہیں ہے۔ حالانکہ
حکومت یہ فائدے صرف اُس صورت میں بھی دے سکتی
ہے جب کہ سرمایہ کار پہلے سے بتائے گئے اہداف تک
پہنچے۔ مثال کے طور پر، نئی پیدا کردہ نوکریوں کی تعداد کیا ہے؟ کس قدر سرمایہ استعمال میں لایا جا چُکا ہے؟ یا مُلک میں نئی ٹیکنالوجی مُنتقل کی جا رہی ہے یا نہیں؟ اگر چین میں دیکھا جائے تو، اُنہوں نے ایس زی زیز کو
استعمال کر کے ایڈوانس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا ہے۔ ٹیانجن، نئی صنعتوں، اور ٹیکنالوجی کے حساب سے
برتر کمپنیوں کو ترجیح دیتا ہے۔

یہی صحیح وقت ہے کہ اِس ویڈیو میں بتائے گئے اور
اسکے علاوہ بھی کئی اور اہم معاملات کے بارے میں
سوچا جائے۔ اور ایسی ایس ای زی حکمت عملی اپنائی
جائے کہ سی پیک اور کے ساتھ آنے والی غیر مُلکی
براہ راست سرمایہ کاری یعنی ایف ڈی آئی سے پیدا
ہونے والے مواقع کا بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ مُجھے امید ہے کہ آپکو ویڈیو پسند آئی ہو گی۔ ایکسپریس
ٹرائیبیون کے جس آرٹیکل کی بُنیاد پر یہ ویڈیو بنائی گئی، اُسکا لنک ڈسکرپشن میں موجود ہے۔ مُصنف حسان خاور ٹویٹر پر خآصے ایکٹو ہیں، اِنکو کو ٹویٹر پر فالو کرنے کیلئے آپ سکرین پر دیا گیا ہینڈل استعمال کر سکتے ہیں۔
اگر آپکو یہ ویڈیو پسند آئی ہے تو جناب اسے لائک کریں
اور اپنے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کریں۔ آئندہ ویڈیوز کی
اطلاع حاصل کرنے کیلئے میرا چینل ضرور سبسکرائب
کریں۔ بہت شکریہ، سلام علیکن۔


Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer