Saturday, February 7, 2015

ماریشس میں اردو - از سمیرا حمید


al-aqraba-Mauritius-oct-dec-2014


عربی رسم الخط کی انفرادیت کے ساتھ اردو برصغیر کے مسلمانوں کی زبان کے طور پر ابھری جو بعد میں پاکستان کی قومی زبان کے طور پر جانی گئی۔ عام بول چال میں اردو اور ہندی یکساں تاثر پیش کرتی ہیں تاہم ہندی رسم الخط(دیوانگری ) اور گرائمر کے قواعد و ضوابط اردو سے کافی مختلف ہیں۔ زبان کسی بھی قوم کا تہذیبی ورثہ ہوتا ہے۔ ایک پاکستانی اور اردو کی ترویج و ترقی کے نمائندے کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ اس بات کی پریشانی لاحق رہی کہ ہمارا انگریزی زبان سیکھنے اور اپنے بچوں کو سکھانے کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہماری قومی زبان اردو کی بقاء کے لئے بے انتہا نقصاندہ ثابت ہوگا۔
ہندی کی موجودگی میں اردو زبان کے بولنے اور سمجھنے والے تو مستقبل قریب میں موجود ہونگے لیکن اردو کا رسم الخط اور اسکی سمجھ بوجھ اور استعمال کا تحفظ ایک مشکل امر ثابت ہوگا۔ قطع نظر اس بات سے کہ اردو کے مصنفین بھارت میں زبان کی ترویج اور اسکے عربی رسم الخط کے تحفظ کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ماریشس میں اردو

خوش قسمتی سے ماریشس کے مسلمان جو ہمارے آبائو اجداد کی ماریشس ہجرت کی وجہ سے گویا اپنا ہی خون معلوم ہوتے ہیں، جغرافیائی طور پر تو ہم سے بہت زیادہ فاصلے پر ہیں لیکن تہذیب و تمدن، مذہب اور زبان کے لحاظ سے ہم پاکستانیوں کے ساتھ کافی مماثلت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے مجھے اور اردو زبان کے دیگر رفقاء کو اطیمنان ہے کہ ہماری زبان کا تحفظ ہمارے علاوہ کہیں اور بھی کیا جا رہا ہے۔ جب سے ہمارے آبائو اجداد ماریشس ہجرت کر کے گئے اسوقت سے ہی ارد زبان سے متعلق تحقیق، تربیت، تعلیم، تحریر، ترویج اور تحفظ زبان کا سلسلہ ایک تہذیبی ورثے کے طور پر جاری و ساری ہے۔
ماریشس میں بہت سارے ادارے، تنظیمیں، کلب، اور گروپ اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مختلف ادیب انفرادی طور پر شاعری، ادب، اور تھیٹر ڈراموں کے ذریعے ہماری زبان کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جو بلاشبہ ہماری امیدوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اردو خصوصاّ موریشس کے ان مسلمانوں کی مادری زبان ہے جنکی جڑیں برصغیر کے مسلمانوں سے جا ملتی ہیں اور تمام مسلمانوں کی عمومی زبان کے طور پر جانی جاتی ہے۔
ماریشس کے بہت سے ادیب ہمارے پاکستانی مصنّفین  سے اپنی تحقیق و تحریر کے ذریعے رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔ انجمن فروغ اردو، اردو زبان کے فروغ کی سوسائٹی، اسلامک کلچرل سینٹر اور دی نیشنل اردو انسٹیٹیوٹ وغیرہ ایسے ادارے ہیں جو موریشس میں اردو زبان کے لئے کئے جانے والے کام پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔

ماریشس کے اردو ڈرامہ نگار

سینتیس سے بھی زیادہ ڈرامہ نگار اپنی تحریر سے تہذیب و زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے تحریر کردہ ڈرامے تھیٹر میں فخریہ طور پر پیش کئے جاتے ہیں اور انھیں سراہا بھی جاتا ہے۔ پاکستان میں تعینات موریشس کے سفیر میجر جنرل (ر) الفت حسین   نے جب مجھے افریقی براعظم میں موجود موریشس کے مصنفین کے کام سے آگاہ کیا تو یہ میرے لئے حیرانی  اور سرخوشی کا باعث تھا کہ وہاں چالیسواں اردو ڈرامہ فیسٹول( 1974 ۔ 2014 ) منایا جا رہا تھا۔
ہر پاکستانی اردو زبان سے محبت رکھتا ہے اور موریشس کے مسلمان اردو کی ترویج کے لیے کام کر کے پاکستان کی مدد کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کراچی آرٹ کونسل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسنے موریشس کا اردو ڈرامہ "آہ کی گونج" موریشس کے اداکاروں کے ذریعے ہی پیش کیا۔ پہلے یہ ڈرامہ موریشس میں پیش کیا گیا تھا۔ 
ڈرامہ ایک نہایت اہم صنف ہے لیکن اسے اردو ادب میں کافی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ موریشس کے اردو ادب میں بہت سارے مکمل ڈراموں کے ساتھ ساتھ "یک بابی ڈرامے" یا ون ایکٹ پلے بھی موجود ہیں۔  1974 سے لے کر 2014 تک 88  تنظیموں اور 50 کالجوں نے بےشمار اداکاروں کے ساتھ "اردو ڈرامہ فیسٹیول" میں حصہ لیا۔ ہر سال بہترین اداکار، بہترین اداکارہ، بہترین ہدایتکار اور بہترین ڈرامہ کی مد میں ایوارڈ دیئے جاتے ہیں۔
ایم-بی-سی ریڈیو نے ڈرامہ کی ترویج میں خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ موریشس میں اردو ڈرامہ نے بہت ترقی کی ہے۔ ڈراموں کے دس مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں چھ ڈرامہ نگاروں کے ستر ڈرامے شامل کئے گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ ہمارے پڑھنے والے خصوصی طور پر ادبی لوگ اسے ایک معمولی کاوش سمجھیں۔ لیکن اگر ماریشس کی آبادی کو دیکھا جائے جو کہ 296 ملین یا سادہ لفظوں میں دو کڑوڑ چھیانوے لاکھ ہے اور مسلمان اس آبادی کا محص 3۔17 فیصد ہیں جن میں عربی ماخذ سے تعلق رکھنے والے وار بعد میں اسلام قبول کرنے والے دونوں طرح کے مسلمان شامل ہیں تو یہ بہت بڑی کاوش نظر آتی ہے۔
مزید برآں جغرافیائی طور پر ہم سے انتہائی مختلف حیثیت رکھنے والا خطہ ہماری زبان کی محبت میں مبتلا ہو کر اسکی ترویج اور تحفظ میں مصروف ہے۔ میں اور دیگر رفقاء اپنی پوری کوشش کریں گے کہ موریشس میں اردو ادب کے لیے ہماری لائبریریوں اور کتابوں کی دوکانوں پر مخصوص حصے مختص کر دیئے جائیں۔ اسکے علاوہ ہم یہ کوشش بھی کریں گے کہ سرحدوں کے آرپار تھیٹر ڈراموں اور مصنفین کا تبادلہ اور آمدورفت ممکن بنائی جائے۔ مقتدرہ قومی زبان، نیشنل بک فائونڈیشن و اکیڈمی آف لیٹرز، پاکستان آرٹس کونسل، نظریہ پاکستان ٹرسٹ، آئینہ اور انسانیت ویلفیئر نیٹورک وغیرہ کےہہ کے ذریعے موریشس کے اردو ادب کی کتابوں کا سلسلہ وار تعارف ممکن بنایا جائے۔

پاکستان کا تحقیقی رسالہ "الاقرباء" میرے علم کے مطابق برصغیر کا واحد تحقیقی رسالہ ہے جسے موریشس کے اردو  معلماتی دائرے میں باقاعدگی سے پڑھایا جاتا ہے۔ اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کی راہنمائی کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان موریشس فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے ذریعے مختلف اداروں کی مدد سے اردو زبان کی ترویج کے لیے ترقیاتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

Sumera-Hameed-Pakistan-Mauritius-Friendship-Association

مصنفہ: سمیرا حمید، وائس پریذیڈنٹ پاکستان ماریشس فرینڈشپ ایسوسی ایشن، ممتاز بیوروکریٹ۔

3 comments:

  1. ماریشس میں اردو اور اس کا مستند تاریخی حوالہ جاننے کے لیے جناب رضا علی عابدی کی کتاب "جہازی بھائی" بہت اہم ہے۔
    جہازی بھائی۔۔۔
    سفر::ستمبر 1994۔۔۔۔مصنف نوٹ::26 دسمبر1995
    افریقہ کے ساحل سے لگے چھوٹے سے جزیرے ماریشس کا سفرنامہ۔ جہاں آج بھی اردو زبان کا راج ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  2. ماریشس میں اردو
    خوش قسمتی سے ماریشس کے مسلمان جو ہمارے آبائو اجداد کی ماریشس ہجرت کی وجہ سے گویا اپنا ہی خون معلوم ہوتے ہیں، جغرافیائی طور پر تو ہم سے بہت زیادہ فاصلے پر ہیں لیکن تہذیب و تمدن، مذہب اور زبان کے لحاظ سے ہم پاکستانیوں کے ساتھ کافی مماثلت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے مجھے اور اردو زبان کے دیگر رفقاء کو اطیمنان ہے کہ ہماری زبان کا تحفظ ہمارے علاوہ کہیں اور بھی کیا جا رہا ہے۔ جب سے ہمارے آبائو اجداد ماریشس ہجرت کر کے گئے اسوقت سے ہی ارد زبان سے متعلق تحقیق، تربیت، تعلیم، تحریر، ترویج اور تحفظ زبان کا سلسلہ ایک تہذیبی ورثے کے طور پر جاری و ساری ہے۔
    ۔۔۔۔
    جہازی بھائی کا مطلعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ماریشس جانا ہمارے آباؤاجداد کی "خوش قسمتی" نہیں بلکہ اس وقت انتہا درجے کی ذلت اور بدقسمتی تھی ۔جس کے اثرات آج بھی وہاں کے مقامی۔۔۔ رہنے والوں کے ناموں میں جھلکتے ہیں ۔

    ReplyDelete
  3. آپ نے تو مجھے مجبور ہی کر دیا ہے، ضرور پڑھوں گا ۔ ماڈل ٹائون لائبریری کا کارڈ کہیں سے ڈھونڈتا ہوں یا پھر اپنی کاپی خریدوں گا۔ ویسے عابدی صاحب کی دیگر کتب جرنیلی سڑک اور شیر دریا بھی بہت دلچسپ معلوم ہوتی ہیں۔ جرنیلی سڑک سے تو آئے دن واسطہ پڑتا ہے۔

    ReplyDelete

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer