Saturday, April 23, 2011

علی الصبح کا ایک خوشگوار نظارہ

 ایم ایم عالم روڈ لاہور کا یہ منظر یہاں سے روز صبح گزرنے والوں کو پہلی مرتبہ لازمی عجیب لگتا ہے۔ پہلی مرتبہ کوئی نومبر دسمبر میں صبح ساڑھے چھے پونے سات بجے ادھر سے گزر ہوا تو مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ اتنے سارے لوگ دھند میں اتنی تمیز سے قطار باندھ کر کیوں کھڑے ہیں۔ پاس آنے پر بحرحال ماجرہ سمجھ میں آ گیا، اور خوشگوار حیرت بھی ہوئی۔
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast


بڑے بزرک کہتے ہیں کہ اللہ دیتوں کو دیتا ہے، اور بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔ اس ایک جگہ سے بلا مبالغہ سیکڑوں لوگ روزانہ ناشتہ کر کے جاتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ یہ نیکی کرنے والوں کو اسکا بہترین اجر عطا فرمائے، اور ان لوگوں کو اس سے بھی بڑھ کر غریب پروری کی توفیق دے۔ میرا اپنا بڑا دِل کرتا ہے کہ ایسا ہی کوئی کام کروں، اب بھی الحمد للہ راہِ خدا خرچ کرتا ہوں لیکن وہ میرے خیال سے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast

تھوڑا آگے حسین چوک ہے، یہاں میں نے ایک اور اشتہار دیکھا۔ نیچے ملاحظہ فرمائیے
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast


ایک کنٹراسٹ، ایک تضاد دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف اتنے لوگ ہیں جنکے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اور دوسری طرف ایک اکیلے بندے کا کھانا چار سو پچانوے روپے میں۔  مجھے اس مخصوص ریسٹورانٹ سے کوئی بیر نہیں ہے۔ میں صرف ایک مثال دے رہا ہوں۔
یہ در حقیقت دو ذہنیتوں کا مقابلہ ہے، ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنے مال میں سے محروم غریب طبقے کا بھی حصہ رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایسا طبقہ ہے جو سب کچھ اپنے ہی پیٹ میں ڈال لینا چاہتا ہے۔  آپکو بھوک لگی ہے، سو دو سو روپے میں اچھا کھانا گھر بنوائیں اور کھائیں لیکن پانچ سو روپے ایک وقت کے کھانے پر خرچ کرنا ظلم نہیں ہے کیا؟
دلیل دی جا سکتی ہے کہ جناب کلاس کی بات ہے، جو زیادہ محنت کرتے ہیں انکا حق بنتا ہے اچھا کھائیں اور اچھا پہنیں۔ ٹھیک ہے بھئی، لیکن اگر کوئی ایسا "اچھا" کھانا روٹین ہی بنا لے تو زیادتی ہے۔


یہ ایک باندر صاحب اپنے سسرال جا رہے ہیں۔ پارک سے واپسی پر فردوس مارکیٹ کے مین بازار میں صبح سویرے ہی اس بندے نے تماشہ شروع کر رکھا تھا۔ آجکل یہ مناظر بھی مفقود ہوتے جا رہے ہیں، ورنہ سنا ہے بھلے وقتوں میں یہی انٹرٹینمنٹ ہوا کرتی تھی۔

15 comments:

  1. نعیم بھائی!

    آپ ہمیشہ اچھوتا موضوع ڈھونڈ کر لاتے ہیں اور نہائت سادگی سے بیان کر دیتے ہیں

    اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ اور جن لوگوں نے اسطرھ کے نیک کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئیے اور اپنے مال میں سے مسکین اور دیگر کے لئیے انکا حق نکالتے ہیں۔ یقینا ایسے لوگ تحسین کے قابل ہیں اور اللہ تعالٰی انکے رزق و فضل میں برکت عطا فرمائے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر ایک آدمی، ایک خاندان، یا چند لوگ مل کر خیر کا کام پاکستان کے سبھی شہروں میں کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ جو حکومت میں لوٹ مار کرتے ہیں۔اہنے منہ کی نچڑی ہوئی ہڈی بھی کسی کتے کے سامنے نہیں پھینکتے کہ کہیں اسکا پیٹ نہ بھر جائے۔انکو جو فنڈ ملتے ہین۔ جو خیرات ملتی ہے۔ اگر دو ارب دس کروڑ پچھتر پیسے انہیں عوام کی بہبود اور ترقی کے لئیے ملیں تو دو ارب دس کروڑ پچھتر پیسوں کو ہی دبانے کی چکر میں ہوتے ہیں یعنی یہ پچھتر پیسے تک غریب ملک اور قوم کے لئیے چھوڑنے کو تیار نہیں۔ مگر قوم کی بھوک اور دیگر مقاصد کے لئیے ملے مناصب سے بھروپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی بھوکی اور غریب عوام کے نام پہ قرضے خیرات صدقہ۔ بھیک نیز ہر شئے وصول کرتے ہیں اور قوم کے لئیے پچھتر پیسے خرچ کرنے کو تیار نہیں۔

    ابھی ایف ایم آئی اور ورلڈ بنک سے بات چیت جاری ہے۔ آکر ملک کو گروی رکھ کر وہ پیسہ کدھر جاتا ہے؟

    جب تک ہمارے ملک کے عوام اپنی عزت نفس پیس کر اور لائن میں لگ کر سوالیوں کی طرح روزی روٹی کے لئیے ہاتھ پھیلاتے رہیں گے اور انکے ہاتھ دنیا کی کرپٹ ترین بادشاہوں کے گریبان کے لئیے نہیں اٹھیں گے۔ ہماری عزت نفس کو رگڑے دینے کے تماشے یونہی جاری رہیں گے۔

    اللہ نیکی کرنے والوں کو اسکا اجر دے اور انکے رزق و فضل میں برکت دے۔

    ReplyDelete
  2. اچھی پوسٹ ہے ۔۔ میرا بھی بہت دل چاہتا ہے کہ میرے پاس اتنی دولت ہو کہ ہر اس گھرانے کو دوں جن کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے کام کرتے ہیں کہ پیسے لو اور بچوں سے کام نہ کرواؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شائد کبھی ایسا کرسکوں میں ۔۔۔۔

    ReplyDelete
  3. چھی پوسٹ ہے

    ReplyDelete
  4. اچھی پوسٹ کی ہے
    ہمیں بھی اپنے آس پاس رہنے والے غریب لوگوں کا خیال کرنا چاہیئے

    ReplyDelete
  5. یہ باندر صاحب بڑے سیریس لگ رہے ہیں!

    ReplyDelete
  6. ۔۔۔ گوندل صاحب میں نے جعلی کمنٹ ڈیلیٹ کر دیا ہے، آئندہ بھی اگر کسی دوست کو ایسی شکایت ہو تو بتا دیا کریں میں سدباب کر لوں گا۔
    ۔۔۔۔ جان من اگر شیطان کی فوج میں ایک ہزار مسلح جنگجو ہوں اور رحمان کی جانب تین سو تینتیس بے سر و سامان ایمان والے تو تاریخ گواہ ہے اللہ پاک ایمان والوں کو سرخرو کرتا ہے۔ آئی ایم ایف ورلڈ بینک وغیرہ تو بڑوں نے بنائے ہی اس لئے ہیں کہ کمی کمین ممالک کو تُن کے رکھیں۔ ہم سب کو اپنی اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیئے، خالی روٹی کھلانے سےکام نہیں چلے گا بلکہ علاج معالجے اور تعلیم و تربیت کے شعبوں میں بھی بڑا کام ہونے والا ہے۔
    ۔۔۔۔ حجاب بی بی میں نے بڑے بڑے بھوکے دولتمند بھی دیکھیے ہیں۔ جنکے دِل میں درد ہے انکے پاس اگر دو روٹیاں ہوں تو وہ ایک خیرات کر دیتے ہیں، اور دوسرے ٹولے کے پاس اگر دس من آٹا بھی ہے تو وہ اسکو افغانستان سمگل کر کے مزید مال بنانے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ ذہنیت، اور خمیر کی بات ہے۔
    ۔۔۔۔ راجپوت صاحب بلاشبہ ہر دولتمند شخص کو اپنے سے کمزوروں کا خیال رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ بطور مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ اقتدارِ اعلٰی اللہ کریم کی امانت ہے، اور اگر ہم اس میں خیانت کریں گے تو سزا کے علاوہ اللہ پاک ناراض بھی ہوں گے۔
    ۔۔۔۔ سعد بھائی تمام باندر سسرال جاتے ہوئے ایسے ہی سنجیدہ نظر آتے ہیں، یہی باندروں کا کمال ہوتا ہے۔ لُک بزی، ڈو نتھنگ۔
    جیسے مصور کو اپنی بنائی ہوئی تصویروں سے محبت ہوتی ہے، اس سے بھی بڑھ کر اللہ پاک کو اپنے بنائے ہوئے بندوں سے پیار ہے۔ نویں دسویں کی انگریزی میں ابو بن ادھم کے بارے میں ایک حکایت نظم کی شکل میں تھی، جس میں یہ درس دیا گیا ہے کہ جو بندے دوسرے بندوں کا خیال رکھتے ہیں اللہ میاں انکو عزیز جانتے ہیں۔

    ReplyDelete
  7. بہت اچھا کيا آپ نے لکھ کر ۔ ميں سوچتا ہی رہا کہ لکھوں لکھوں ۔ ايم ايم عالم روڈ پر ايسا ريستوراں بھی ہے جہاں ايک وقت کا کھانا 700 روپے سے زيادہ ميں ملتا ہے

    آپ نے جس ريستوراں کا حوالاديا ہے وہ زين ہَٹ يا ضيافت ہے جہاں آپ 2 اور 3 سو روپے کے درميان اچھا کھانا کھا سکتے ہيں ۔ ضيافت کے مالکان غُرباء کو صبح ناشتہ مُفت دينے کے ساتھ ساتھ دن ميں جو کھانا بچ جاتا ہے رات کو غرباء ميں تقسيم کر ديتے ہيں ۔ ريستوراں رات 10 بجے بند کر ديا جاتا ہے

    ميں نے کراچی ميں عالمگير ٹرسٹ والوں کو ديکھا تھا کہ غريبوں کو بالخصوص رمضان کے مہينے ميں مفت کھانا کھلاتے تھے ۔ لاہور ميں ٹرسٹ وغيرہ کا مجھے عِلم نہيں مگر تاجر لوگ يہ کام مختلف جگہوں پر کر رہے ہيں ۔ 28 ستمبر 2010ء کو حادثہ کے بعد مجھے بيہوشی ميں لاہور جنرل ہسپتال پہنچا ديا گيا تھا ۔ 2 دن بعد ميں ہوش ميں آيا تو ميری بيٹی نے نرس سے کہا "ابو نے 2 دن سے کچھ نہيں کھايا ۔ کيفيٹيريا کہاں ہے ؟" نرس نے کہا "ان کيلئے ابھی ناشتہ آ رہا ہے"۔ ناشتہ ميں اُبلا انڈا کيک ۔ جوس کی ڈبيہ اور چائے تھی ۔ بيٹی نے پوچھا "يہ سب ہسپتال والے ديتے ہيں ؟" تو نرس نے کہا "نہيں ۔ يہ مخيّر حضرات لاتے ہيں ۔ ايک صبح سب مريضوں کو ناشتہ ديتا ہے ۔ ايک دوپہر کا کھانا اور ايک رات کا کھانا"۔ بعد ميں معلوم ہوا کہ جو لوگ دور دراز سے مريضوں کے ساتھ آتے ہيں وہ کھلے ميدان ميں پڑے رہتے تھے ۔ پنجاب حکومت نے اُن کيلئے بند برآمدے بنا ديئے ہيں اور لوگ ديگيں پکا کر اُن کيلئے دے جاتے ہيں

    حضور ۔ يہ مُلک شايد انہی چند لوگوں کی وجہ سے قائم ہے ورنہ جس طرح عرصہ دراز سے يہاں لُوٹ مار مچی ہوئی ہے خدانخواستہ چل نہ پاتا

    ReplyDelete
  8. آج سے دو سال پہلے، فیملی کے ساتھ ین ہوئی میں ڈنر کیا تو بل تقریبا ساڑھے پانچ ہزار آیا۔۔۔ اور میں نے اس سے اچھا چائینیز کھانا کہیں اور نہیں کھایا۔۔۔ آج بھی میں اس زائقے کو ڈھونڈتا ہوں۔۔۔

    لیکن ین ہوئی کے مالکان کے اس پہلو سے میں پہلے آگاہ نہیں تھا۔۔۔ آج آپ کے بلاگ پر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔ اور اللہ کا بہت شکر ادا کیا کہ پاکستان میں اب بھی کچھ اشخاص ایسے ہیں، جن کے لیے پیسہ جوڑنا ہی سب کچھ نہیں۔۔۔ اور وہ غرباء کا خیال رکھنے میں بھی بہت آگے ہیں۔۔۔ اللہ انہیں جزا عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

    ReplyDelete
  9. افتخار صاحب آپ نے شاید بحریہ ٹائون والوں کا سیٹ اپ نہیں دیکھا۔ شملہ پہاڑی کے پاس پی ٹی وی والی روڈ پر ہے۔ وہاں بھی بہت لوگ روزانہ کھانا کھاتے ہیں۔ بلکہ وہ تو میرے خیال میں صبح دوپہر شام کھلا رہے ہیں۔ کافی اچھا انتظام ہے۔
    جنرل ہسپتال میں صبح کوئی ساڑھے پانچ بجے ہی ناشتہ آ جایا کرتا تھا۔ میں پچھلے سال جولائی میں وہاں ہفتہ دس دِن داخل رہا ہوں۔ تب ایک ابلا انڈا، ایک پیکٹ ہلہ دودہ، اور دو سلائس ڈبل روٹی دیا کرتے تھے بطور ناشتہ۔ بعد میں کچھ دِن ترنگ ٹی وائٹنر آتا رہا۔ دوپہر بغیر نمک مرچ کھانا بھی تقسیم ہوتا تھا، میرا تو آپریشن ہوا تھا اسلئے کبھی کھانے کا اتفاق نہیں ہوا۔
    عمران صاحب اب آپ بڑی فیملی کے ساتھ چلے گئے ہوں گے تو بِل کافی بن گیا ہو گا۔ ورنہ ین ہوئی کے ریٹس مناسب ہیں۔ اسکے علاوہ سنا ہے حلیب دودھ والے بھی کافی دیندار بندے ہیں، لیکن انکا رجحان تبلیغی جماعتوں کی سپورٹ کی طرف زیادہ ہے۔
    بہت اچھے لوگ موجود ہیں، اور بڑے اچھے کام کر رہے ہیں۔ بس اچھے کام کی کوئی پبلسٹی نہیں کرتا، یا شایدایسے لوگ خود ہی نمائش سے بھاگتے ہیں تو جناب سارا میڈیا مارا ماری سے اٹا ہوتا ہے۔

    ReplyDelete
  10. یه هاں ایسا هی هوتا تھا میرا پاکستان
    جس میں ناں کوئی بھوکا سوتا تھا اور ناں هی کوئی بے چھت تھا
    لیکن
    اب تو میرا پاکستان هی گم هو گیا هے

    ReplyDelete
  11. بھئی مزا آ گیا یہ تصویر ی تحریر پڑھ کر ۔۔۔شکریہ
    اللہ دیتوں کو دیتا ہے، اور بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔۔۔بہت خوبصورت لگیں یہ دونوں باتیں۔ صدقہ خیرات اور غریب پروری بلاشبہ اللہ کے ہاں بہت پسندیدہ اعمال ہیں۔
    تیسری تصویر میں قیمتوں سے زیادہ تو میں چکن کا نام پڑھ کر چونکا۔۔۔جرک چکن۔ لگا کہ شاید اس سے مراد جھٹکا چکن ہے جیسے جھٹکے والا گوشت ہوتا ہے ترقی یافتہ ممالک میں۔ لیکن پھر یہاں پڑھ کر معلوم ہوا یہ وہ تو نہیں ہے گو کہ اس مضمون میں پورک اور چکن ایک ہی سلوک سے مستفید ہوتے بتائے گئے ہیں:
    http://en.wikipedia.org/wiki/Jerk_chicken

    ReplyDelete
  12. کھوکھر صاحب اب بھی "ویسا" ہی ہو رہا ہے، لیکن اب ویسا" کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔"
    پسند کرنے کا شکریہ احمد عرفان صاحب، میرے خیال سے اتنا کھلے عام جھٹکے کا گوشت تو ہمارے ہاں کوئی نہیں بیچے گا۔ کیونکہ اس قسم کے ایڈونچر پسند گاہک کم ہی ہوتے ہیں، انکی خاطر اب کوئی مین سٹریم گاہکوں کو تھوڑی بھگائے گا۔
    یو آر ویلکم انکل ٹام، لیکن یہ شکریہ کس بات کا کہہ رہے ہیں؟

    ReplyDelete
  13. ميں نے اپنی بات کو محدود رکھنے کی کوشس کی تھی ۔ لاہور گورمے والے رات کو جو کچھ بچتا ہے اپنے چھوٹے ملازميں اور غرباء ميں تقسيم کر ديتے ہيں ۔ يہی راولپنڈی اور اسلام آباد ميں راحت بيکرز والے کرتے ہيں ۔ آپ بحريہ ٹاؤن کے حوالے سے رياض کی بات کر رہے ہيں ۔ وہ کسی ہسپتال ميں بھی دوپہر کا کھانا ديتے ہيں ۔ پھر بھی انجان لوگ جو خود کچھ کر نہيں سکتے پنجاب کو گالياں ديتے ہيں

    ReplyDelete
  14. گورمے والے انمول کینسر ہسپتال میں غرباء کو مفت ادویات بھی دیتے ہیں۔
    پنجاب کو گالی دینا تو فیشن ہے، یا شاید نیند کی گولی ہے جو بلوچستان، سندھ، اور سرحد کے سیاسی بازی گر اپنے معصوم عوام کو پھدو بنانے کے لئے دیئے رکھتے ہیں۔

    ReplyDelete

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer