Wednesday, August 5, 2009

یا اللہ خیر

کل کا دن تو بڑا ہی خوفناک تھا، پرسوں رات میں دفتر کا لیپ ٹاپ اپنے ساتھھ گھر لے آیا تھا۔ رات بجلی نے سونے نہیں دیا، گھنٹہ آتی اور گھنٹہ چلی جاتی۔ اس وجہ سے میں صبح جاگا دیر سے۔ بھاگم بھاگ میں لیپ ٹاپ گھر پہ چھوڑ کے ہی دفتر جا پہنچا۔ اپنے خالی ڈیسک پر نظر پڑتے ہی میں نے سر پکڑ لیا۔ سخت غصے کی حالت میں موٹر ساءیکل نکالی اور بھگا دی واپس گھر کی طرف۔ کیمپس والے انڈر پاس میں داخل ہوتے ہوءے میٹر پورے سو پر تھا، ایک ہنڈا سٹی اور کیری ڈبے کے درمیان سے نکالنے کی کوشش کی لیکن دھیان بٹا ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں کیسے میں عین کیری ڈبے کے پیچھے جا پہنچا۔ بڑی بریک لگاءی لیکن بالکل جگہ ہی نہیں ملی اور موٹر ساءیکل ٹھک سے سیدھی کیری ڈبے کے پچھلے بمپر میں جا لگی۔
میں ہینڈل کے اوپر سے اڑتا ہوا سڑک پہ جا گرا، دیکھنے والے بتا رہے تھے کہ تین چار قلابازیں کھا کے رُکا۔ خیر اللہ کا شکر ہے کہ پیچھے سے اور کوءی گاڑی نہیں آ رہی تھی ورنہ میرا تو قیمہ بن جاتا۔ سڑک پر ٹھرتے ہی میں اٹھا اور انڈر پاس کی دیوار کے ساتھھ ٹیک لگا کر بیٹھھ گیا۔ سینے پر ٹھیس لگنے کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ حادثے کا دھچکا بھی تھا کہ یہ کیا ہو گیا، اسکی وجہ سے میں نروس سا ہو رہا تھا۔ لمبے لمبے سانس لیے تو طبعیت کچھھ سنبھلی، دل کو دلاسہ دیا کہ یار حوصلہ کر خیر مہر ہے میں زندہ سلامت ہوں، ہوش حواس بھی سلامت ہیں۔ پیچھے آنے والے ایک اور موٹر ساءیکل سوار نے میری باءیک کو اٹھا کر ساءیڈ پر کھڑا کیا۔ ایک اور بندے نے ڈبل ون ڈبل ٹو والوں کو فون کر دیا۔ چوٹیں زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اُسے منع کر دیا کہ ریسکیو والوں کا وقت ضاءع ہو گا رہنے دو۔ اپنے ہاتھھ پاءوں ہِلا کر دیکھے، یہ جان کر خوشی ہوءی کہ کوءی ٹوٹ پھوٹ نہیں ہے۔ باءیں بازو پر کہنی کے قریب کافی بڑی خراش آءی ہے، لیکن صرف کھال چھلی ہے اس طرح کہ بال سلامت ہیں۔ بہر حال اس زخم کی جلن بہت ہے، اور آنے والی رات میں اسکی وجہ سے صحیح سو نہیں سکا۔
ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اس وجہ سے بڑی بچت ہو گءی، شکر ہے اللہ کا۔ قارءین اگر آپ موٹر ساءیکل چلاتے ہیں تو ہیلمٹ لازمی پہنا کریں۔ ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس مجھے کل ہوا، جب میں نے ہیلمٹ پر آءی خراشیں دیکھیں تو۔ سوچیں ذرا وہ ساری خراشیں اگرمیں منہ سر پہ ہوتی تو ستیا ہی ناس ہو جانا تھا۔ ہیلمٹ پر ایک نشان تو خاص جبڑے والی جگہ تھا، یعنی کہ بوتھا شریف ٹُٹ جانا سی۔ اٹھھ کر میں نے باءیک سٹارٹ کی، جو لوگ رُکے تھے اُنکا شکریہ ادا کیا اور گارڈن ٹاءون میں سے نکل کر فیروز پور روڈ پر آ گیا۔ کلمہ چوک کے پاس مسعود ہسپتال ہے وہاں جا کر فرسٹ ایڈ لی۔ ڈاکٹر نے ٹیکا ٹھوکا اور پورے ایک گرام کی آگمینٹن بھی دی۔ اتنی بڑی گولی، مجھے تو دیکھ کر ہی الجھن ہوتی ہے۔ لیڈی ڈاکٹر تھی اس لیے زخم کی صفاءی اور ٹیکہ لگتے وقت کوءی خاص تکلیف نہیں ہوءی، دھیان بٹا رہا۔
وہاں سے نکل کر میں اپنی آماجگاہ بمقام 94 ایچ ماڈل کالونی فردوس مارکیٹ آیا، لیپ ٹاپ اٹھا کر دفتر چلا گیا۔ وہاں لنچ ٹاءم تک رہا اور ٹیم مینیجر کے شدید اصرار پر لنچ کے بعد گھر آ گیا۔ ندیم بھاءی اس معاملے میں اچھے ہیں، بندے کا کافی خیال رکھتے ہیں۔ خیر گھر آ کے مجھے کونسا چین آ جانا تھا۔ گھنٹہ سوا سویا اسکے بعد دوبارہ باءیک اٹھا کر اکبر چوک سوزوکی کی ورکشاپ پہنچ گیا۔ ٹیوننگ وغیرہ کرواءی، باقی جو چیزیں ڈنگی چبی ہوءی تھیں انہیں ٹھیک کرنے سے مکینک نے انکار کر دیا، کہ یہ جا کر پروفیشنل ڈینٹر سے سیدھی کرواءیں۔
مجھے کہتا ہے کہ بھاءی ٹراءی لے آءیں، میں نے کہا کہ یار خود لے آءو لیکن کہتا ہے کہ نہیں یار آپ خود جاءیں۔ میں نے باءیک کوٹھے پنڈ جانے والی سڑک پر نکالی۔ اور تھوڑی کھینچی، ٹراءی جو تھی۔ بریکس وغیرہ چیک کر لی ٹھیک تھی اور انجن سے کوءی فالتو آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔ اچانک سامنے یو ٹرن سے ایک نوجوان لڑکا نکل آیا، اُسکے پیچھےدرمیانی عمر کی عورت بیٹھی ہوءی تھی۔ اللہ کا بندہ سڑک پر آ کے دیکھھ رہا ہے کہ پیچھے تو کوءی نہیں۔ پیچھے میں تھا، میں نے بریک لگاءی فُل میٹر سے زیرو پر آنے کے لیے وقفہ چاہیے ہوتا ہے باءیک سنبھال لی تھی لیکن شاید آنٹی کا پیر مجھے لگا اور موٹر ساءیکل گر گءی۔ باءیک کے آگے سیف گارڈ لگوایا ہوا ہے، باءیک اُس سیف گارڈ کے بل پر گھسٹتی چلی گءی۔ ایک مرتبہ میری باءیں ہتھیلی سڑک پر لگی لیکن شکر ہے اللہ کا سڑک پر کھڈانہیں تھا جس وجہ سے میں گری ہوءی موٹر ساءیکل پر بیلنس ہو گیا بالکل سانس روک کر۔
اس حادثے میں مجھے چوٹ تونہیں لگی لیکن میں ہِل کے رہ گیا۔ ایک دِن میں دو مرتبہ ایسے شدید حادثات، ایسا تو کبھی نہیں ہوا۔ بلکہ کم از چار پانچ سال میں میرا کوءی ایکسیڈنٹ سرے سے ہوا ہی نہیں۔ سیف گارڈ کی ستیا ناس ہو گءی، فٹنگ کے دو بولٹ ہوتے ہیں، ان میں سے ایک ٹوٹ گیا۔ سیف گارڈ دوہرا ہو کر ٹینکی کے ساتھھ جُڑ گیا تھا۔ اس کی وجہ سے ٹینکی پر بھی ڈینٹ پڑ گیا۔ ورکشاپ واپس آیا، وہاں سے سامان اٹھا کر ڈینٹر کے پاس چلا گیا۔ اُس نے موٹر ساءیکل کو سیدھا کیا۔ اور جناب آخر کار میں شام کو گھر واپس آ گیا۔ خیر خیریت کے ساتھھ، صحیح سلامت۔ ٹینکی والے ڈینٹ کا مجھے افسوس ہوا ہے، باقی ساءلینسر بالکل فریم کے ساتھ جُڑ گیا، دایاں فُٹ ریسٹ دوہرا گو گیا، اور اگلا مڈ گارڈ بھی سامنے سے چِبا ہو گیا۔
میں ایک بات کا تو قاءل ہوں کہ ہم بندے بڑی بڑہکیں مارتے ہیں، کءی اپنی بات کو پتھر پہ لکیر سمجھتے ہیں لیکن جناب بندے کی اوقات کچھھ نہیں ہے۔ کل کے دونوں حادثات میں اگر زندہ بچ گیا ہوں تو میری کوءی بہادری نہیں، اللہ کا کرم ہے جو اُس نے زندہ رکھھ لیا۔ زندگی بڑی ہی بے اعتباری چیز ہے، کچھھ پتہ نہیں کہاں کس طرح اچانک سانس کی ڈور ٹوٹ جاءے۔ بڑے بڑے سیانے دانا تیز چالاک لوگوں کے ساتھھ ایسا ہو جاتا ہے، ساری میں یہ میں وہ دھری کی دھری رہ جاتی صدقہ بندے کے سر آءی بلاءوں کو کھا جاتا ہے۔ عدنان کہہ رہا تھا تہ شب برات ہے، دعا وغیرہ کرنا۔ اسکےعلاوہ ایک اور صاحب نے مشورہ دیا کہ گھر جا کے شکرانے کے نفل پرہنا۔ میرے خیال میں یہ سب بڑے اچھے بالکل درست مشورے تھے۔
ہونی کو کوءی نہیں ٹال سکتا، پھر بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ جب سوچتا ہوں کہ اگر خدا نخواستہ مجھے کچھھ ہو جاتا تو میرے گھر والوں پر کیا گزرتی، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اللہ کا لاکھھ لاکھھ شکر ہے کہ اُس نے جان بچا لی، قارءین سے گزارش ہے کہ میرے لیے دعا ضرور کریں۔
فی امان اللہ۔۔۔

No comments:

Post a Comment

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer