Wednesday, March 25, 2015

بٹوے کی واپسی - بھلے لوگ آج بھی موجود ہیں


شام کا وقت تھا اور ہلکی ہلی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ آفس چیئر مہران کی ڈگی میں رکھنا تھی میں نے کرسی کو جھٹکے سے سر کے اوپر رکھا اور بائیں جیب میں سے چابی نکال کر ڈگی کھولی۔ کرسی اندر رکھ کر ایڈجسٹ کر دی۔ اتنی دیر میں ڈاکٹر زبیر باقی سامان بھی لے کر آ گیا جسے ہم نے کرسی کے ساتھ ہی رکھ دیا۔ 
کمرشل مارکیٹ والے برسا مال کے سامنے گاڑی کھڑی تو یاد آیا کہ چاندنی چوک والی اے ٹی ایم سے پیسے تو نکلوائے ہی نہیں، یہ سوچ کر کوفت ہوئی کہ دوبارہ چکر لگے گا۔
 لیکن میرا بٹوہ کہاں ہے؟ گاڑی کا ڈیش بورڈ دیکھا، سیٹوں کے نیچے جھانکا، کرسی کے پاس دیکھا مگر بٹوہ ندارد۔
"وہیں گرا ہو گا جہاں کرسی لوڈ کی تھی" 
یہ سوچتے ہی میں نے گاڑی واپس مڈ سٹی مال کی طرف بھگا دی۔ وہاں بھی کافی چھان پھٹک کی، جس دفتر سے سامان اٹھایا تھا ادھر بھی دیکھ لیا۔ پلازہ کے گارڈ اور منیجر وغیرہ نے بھی پورا تعاون کیا۔ ایک گارڈ نے تو پانی کی چھپڑی میں بھی ہاتھ مار لیا کہ چلو بعد میں دھو لوں گا۔
بٹوہ نہ ملا، آٹھ ہزار سات سو کچھ روپے نقد، شناختی کارڈ، اور اے ٹی ایم کارڈ کا نقصان خاصہ تکلیف دہ تھا۔
اگلی صبح میں لاہور واپس آ گیا۔ 

ٹیلیفون بجتا ہے

"ہیلو، نعیم اکرم پئے بولنے او"
میں نے اس پہلے کشمیری لہجہ نہیں سنا تھا، میں سمجھا کوئی پوٹھواری آدمی ہے۔ ان صاحب نے میرا حدود اربعہ وغیرہ پوچھا۔ مجھے شک ہو گیا کہ انکو میرا بٹوہ مل گیا ہے۔ میرے پوچھنے پر الٹا سوال آیا کہ بٹوے میں تھا کیا کچھ؟
میں نے چیزوں کی تفصیل بتادی۔ 
"ٹھیک اے، آ کے لے جائو۔"
"لیکن میں تو لاہور میں ہوں، اپنے کزن کو بھیجتا ہوں اسے دے دیں۔"
"نہیں بھائی آپکی چیز ہے، آپکو ہی دونگا۔"
"چلیں کوئی فکر کی بات نہیں، آپ اپنے پاس امانت کر کے رکھ لیں میں اگلے ہفتے آ کر لے لونگا۔ آپ نے کھانا ہوتا تو مجھے فون ہی کیوں کرتے۔"۔
"ہلا ٹھیک اے۔"
میں نے فون نمبر اور نام وغیرہ پوچھ کر نوٹ کر لئے، اور فون بند ہو گیا۔
دفتر آ کے میں نے کافی ساتھیوں کو حیرت کے ساتھ یہ بات بتائی۔


اسکی نیت کبھی بھی خراب ہو سکتی ہے

ایک ساتھی نے اس خیال کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ایک واقعہ بھی سنا دیا جب اسکی کسی کزن کا فون گم ہوا تھا۔ جسے فون ملا تھا اس نے پہلے تو کہا کہ آ کر فون لے جائیں، جب یہ لوگ فون لینے گئے تو دوسرا بندہ فون دینے نہ آیا۔ اسے فون کیا تو نمبر بند۔
میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ میں سوائے مثبت سوچ رکھنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔

احتیاط کا دامن، شک کا سانپ

اپنی چیزیں لینے اکیلے جانا غیر محفوظ ہوگا۔ کیا پتہ آگے چار بندے بیٹھے ہوں، جو کچھ میرے پاس ہو وہ بھی لے لیں۔  گھٹیا بات معلوم ہو گی، لیکن احتیاط لازم ہے۔
دوسرا خیال یہ آیا کہ کارڈ وغیرہ وقتی طور پر بند کروا دیتا ہوں کہیں کوئی غلط استعمال نہ ہو۔ پھر سوچا کہ رہنے دو کچھ نہیں ہوتا۔
ویسے بہتر ہوتا اگر بند کروا ہی دیتا، برے وقت کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔

ہفتہ اکیس مارچ، موبائل سروس بند

میں راولپنڈی تو پہنچ گیا، لیکن تئیس مارچ پریڈ کی فل ڈریس ریہرسل کی وجہ سے شہر میں موبائل سروس بند تھی۔ دوپہر دو بجے تک کافی کوشش کی لیکن بات نہ ہو پائی۔
دو بجے شہزاد صاحب سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ تو راولا کوٹ آزاد کشمیر میں ہیں۔ میرا بٹوہ اور کارڈ وغیرہ پنڈی میں ہی اپنے چھوٹے بھائی کے حوالے کر کے گئے ہیں، نقدی البتہ انکے اپنے پاس ہے۔


صدر پوڑھی پل، العمر ہوٹل

میں اور ڈاکٹر زبیر فوری طور پر صدر کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ اس علاقے میں کشمیری برادری کے بہت سارے ہوٹل ہیں جن کے مالکان اور عملہ وغیرہ زیادہ تر کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ 
لڑکا تو ہوٹل پر نہیں تھا، لیکن اسنے کائونٹر پر بیٹھے ہوئے بندے سے بات کروانے کو کہا۔
اس بندے نے بات سن کر مجھ سے دو ایک سوال کئے اور پھر مجھے بٹوہ دے دیا۔ بٹوے میں میرے تمام کارڈ وغیرہ موجود تھے جنہیں دیکھ کر میری جان میں جان آئی۔


لیکن کیش کا کیا ہوا؟

بٹوہ واپس لینے سے اگلے دن مجھے شہزاد صاحب کا فون آیا، میں نے بتایا کہ بٹوہ مل گیا ہے۔ کہنے لگے کہ پیسے میرے پاس ہیں اور وہ میں آپکوچند دن تک پنڈی واپس آ کر دے دوں گا۔ 
بھلے مانس آدمی شہزاد صاحب راولا کوٹ سے آگے تولی پیر کے علاقے بیٹھک کے رہنے والے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ کیش بھی مجھے واپس مل ہی جائیگا۔


نتیجہ

ہمارا معاشرہ بالکل دودھ کا دھلا نہ سہی، لیکن اچھے لوگ پھر بھی موجود ہیں۔ بہت سی بری باتیں برے لوگوں نے پھیلائی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر "چوروں کو تالے اور ٹریکر کیا کہتے ہیں؟" چوروں کا پھیلایا ہوا فقرہ ہے۔  "اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا" وہ کہتے ہیں جو اس ملک کا کچھ ہونا نہیں دیکھنا چاہتے۔ 

No comments:

Post a Comment

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer