Monday, August 1, 2011

اپر مڈل کلاس اور امارت کا دھوکا

پچاس ساٹھ یا ستر ہزار کمانے والی اپر مڈل کلاس آجکل عام ہے۔ گھر میں ایک سے زیادہ کمانے والے ہوں تو شاید یہ آمدن کافی ہو، لیکن ایک آدھے کمانے والا ہو تو حالات مختلف ہوتے ہیں۔ آجکل اس کلاس میں بہت سارے لوگ امارت کے الیوزن میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حالانکہ وہ ہرگز امیر نہیں ہیں۔ دیکھنے والوں کے لئے انکی تنخواہیں یا آمدنیاں پر کشش ہوتی ہیں لیکن بغور مشاہدہ   کریں تو سمجھ آتی ہے کہ پچاس ساٹھ یا ستر ہزار کمانے والی یہ مڈل کلاس لانگ رن میں غریب ہی ہوتی ہے۔
جو لوگ اس الیوزن سے جلدی چھٹکارہ نہیں پا سکتے انہیں سمجھ تب آتی ہے جب وہ کسی خطرناک صورتحال میں پھنس چکے ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اپر مڈل کلاس کی امارت بہت نازک ہوتی ہے، وہ کیا کہتے ہیں انگریزی میں فریجائل۔ بالکل نا پائیدار۔ احساس عام طور پر کسی حادثے کی صورت میں ہوتا ہے، جب اچانک آمدن کا واحد ذریعہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

دھوکے کی وجوہات
عام طور پر اس کلاس کے لوگ نیچے سے ترقی کر کے اوپر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر میرے ایک دوست کی تنخواہ آج سے صرف چار سال پہلے آٹھ ہزار روپے تھی، اب اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔  یہ اضافہ کافی تیزی سے ہوا، اور اسکی وجہ سے اُسے لگنے لگا کہ وہ بہت امیر ہو گیا ہے۔ کھانا پینا، کپڑا جوتا، اور کافی چیزیں اچھی قسم کی استعمال کرنے لگ گیا۔ ان میں سے اکثر ایسی چیزیں تھیں جو کہ آج سے چار سال پہلے وہ عیاشی سمجھا کرتا تھا۔
پتہ اُسے بھی تب ہی چلا جب اچانک ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو گیا، اسکے گھر والے موجود تھے سو انہوں نے اسکو سنبھال لیا۔ تب اُس نے سوچا کہ آج سے پچیس سال بعد جب میرے بچے جوان ہوں گے، اور میرے والدین اول تو حیات نہیں ہو گے اور اگر ہوئے بھی تو میری مالی امداد کرنے قابل نہیں ہوں گے۔ اگر تب میرے ساتھ کوئی ایسی صورتحال بن گئی تو میں کیا کروں گا؟
تنخواہ دار برادری سمجھ سکتی ہے، یہ دورہ تنخواہ آنے سے ایک دو دِن پہلے پڑتا ہے۔ تنخواہ آنے کے فوراً بعد پڑتا ہے ہاتھوں میں خارش کا دورہ جسکے نتیجے میں تنخواہ کا بڑا حصہ شُت کر کے خرچ ہو جاتا ہے۔ بہر حال اس وقت مجھے دورہ پڑ چکا ہے، اور میں لکھی جا رہا ہوں۔

مسئلے کا حل
کسی طریقے سے اپنے ذہن کو ریورس گیئر لگا کر غریبی والی حالت میں لے جانے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔ بیگمات اور امہات کو بھی چاہیئے کے اس سلسلے میں تعاون کریں۔ ورنہ بیس سال بعد سمجھ آتی ہے کہ عمر گزر گئی اور بچا کچھ بھی نہیں، سب کچھ کھا پی کے ہضم کر دیا۔
انشورنس کروا لیں، ایسے کم از کم کچھ پیسے بچتے رہتے ہیں۔
میں پروگرامر ہوں، اچھی تنخواہ لیتا ہوں۔ اگر دِن رات ایک کر دوں تو اس سے دوگنا کما لوں گا۔ لیکن ویسا کرنے سے  میری سوشل لائف تباہ ہو جائے گی۔ زیادہ کام کرنا، اور زیادہ پیسہ کمانا مسائل کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکتا۔ مسائل کے مکمل حل کے لئے وسائل کا سلیقہ مندہ سے استعمال زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
میں بخیلی کرنے کا مشورہ ہرگز نہیں دے رہا، جہاں ضرورت ہو وہاں پیسہ خرچ کریں۔ لیکن جہاں ضرورت نہ ہو وہاں عقلمندی سے کام لیتے ہوئے جو بچ جائے وہی بہتر ہے۔

11 comments:

  1. بہت اچھا تجزیہ کیا۔ اور اس کلاس کو ایک اور بخار بھی چڑھا تھا جو کہ اب شائد جم ہو رہا ہے اور وہ بینک سے لیزنگ کا بخار تھا۔

    ReplyDelete
  2. نعیم بھائی!
    اچھا تجزیہ ہے اور اپ بعد بڑی مدت کے دکھائی دیے ہیں ،، آخر وجہ کیا تھی؟

    بہر حال آپکی یہ تحریر خوب ہے۔

    ReplyDelete
  3. بہت اچھا تجزیہ کیا ہے۔
    منیر عباسی بھائی نے لیزنگ والی جو بات کی ہے وہ بھی سو فیصد درست ہے۔ اور اس لیزنگ نے اس کلاس کو قرضوں میں بری طرح جھگڑ لیا تھا۔

    ReplyDelete
  4. بہت عمدہ' اس موضوع پر مسلسل لکھنے کی ضرورت ہے

    احمر

    ReplyDelete
  5. بہت شکریہ دوستو۔ احمر بھائی ضرورت تو ہے، کوشش کروں گا مزید لکھنے کی۔ بلال اور منیر صاحب، لیزنگ کو بینک اسقدر آسان اور خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں کہ سادہ بندہ پھنس ہی جاتا ہے۔ لوگوں کی تو آدھی آدھی تنخواہ فالتو چیزیں خریدنے کی وجہ سے بندھی ہوتی تھی۔ کئی اللہ کے بندہ کریڈٹ کارڈ پر کیش تک نکلوا لیتے ہیں، اس پر بہت زیادہ سود پڑتا ہے۔
    گوندل صاحب مئی میں شادی ہو گئی، اس سے پہلے تن تنہا تھا جب دِل کیا کمپیوٹر کھولا اور شروع ہو گیا۔ دِل چاہا تو رات رات بھر لگا رہا، اب زوجہ محترمہ کو وقت دینا ہوتا ہے۔ اور پھر نگرانی بھی ہوتی ہے، "پھر اسکے سامنے بیٹھ گئے آپ" سنتے ہیں کان لپیٹ کر کمپیوٹر کو خیرباد کہنا پڑتا ہے ورنہ خاتون کے ناراض ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

    ReplyDelete
  6. نعیم بھائی!۔
    آپکو شادی ۔ خانہ آبادی مبارک ہو۔
    اتنا بڑا واقعہ ہوگیا ۔ اور آپ نے بتایا تک نہیں۔
    نعیم بھائی اسطرح چپکے سے شادی کرلی اور مٹھائی کے تقاضوں سے بچنا ٹھیک نہیں۔

    بہر حال ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی آپکو خوش وخرم آباد رکھے اور رنگ لگائے۔

    ReplyDelete
  7. بہت شکریہ گوندل صاحب، بس یارخانہ آبادی سادگی سے کی اسلئے کسی زیادہ شور شرابہ نہیں کیا۔ مٹھائی بھی حاضر ہو جائے گی، لیکن بارسلونا پہنچانا میری قدرت میں نہیں ہے سو جب کبھی جناب لاہور تشریف لائیں تو کر لیں گے بندوبست۔

    ReplyDelete
  8. آپ نے اس الیوزن کا جو علاج بتایا ہے
    وہ ہے تو تیر بہدف
    لیکن امہات اور بیگمات کی خاندانی ناک کا کیا کریں؟

    ReplyDelete
  9. یار بس یہ ناک تو لے کر بیٹھ گئی ہے۔۔۔ کسی حد تک کھنچائی وغیرہ کر کے قابو پایا جا سکتا ہے کم از کم نِری کھلی آزادی سے تو بہتر ہو گا۔۔۔

    ReplyDelete
  10. نعیم بھائی!

    کم ازکم آپ نے مٹھائی کا اقرار تو کیا۔ میں نے یوں
    سمجھا کہ جیسے منہ میٹھا ہوگیا ہے۔
    یہ "امہات و بیگمات" کے سلسلے بھی ساتھ ساتھ چلتے رہنا ضروری ہیں ۔ اس سے ہی تو زندگی کو ایک کامیاب رُخ اور ایک عنوان ملتا ہے۔

    اللہ تعالٰی آپکی ازدواجی زندگی کو پرسکون و کامیاب بنائے۔

    ReplyDelete

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer