Tuesday, April 21, 2015

ہزار روپے کا جعلی نوٹ، کیشیئر کی غلطی یا بے ایمانی؟

یہ رہا وہ "اصلی جعلی" نوٹ۔ واہ کیا اوکسی موران نکالی ہے آپکے بھائی نے۔

کہانی کا پس منظر

گاڑی کی تھوڑی مرمت درستگی کا کام ہونے والا تھا۔ گھر کے پاس سوزوکی کا شوروم ہے، جمعرات والے دن میں گاڑی وہاں لے گیا۔ کُل مِلا کر کوئی تین ہزار کے قریب بل بنا۔ میرے بٹوے میں پانچ ہزار کا ایک ہی نوٹ تھا، وہ کیشیئر خاتون کو دے دیا۔ دو ہزار ایک سو کچھ روپے بقایا آئے۔ نوٹوں پر موٹی سی نظر مار کے بٹوے میں ڈال لئے۔

شام کی شاپنگ

شام سات بجے کے قریب میٹرو لنک روڈ سے کچھ سامان خریدا۔ بِل ایک ہزار سے کچھ کم ہی تھا۔ صبح والے دو نوٹوں میں سے ایک نکال کر کیشیئر کو دیا۔ لڑکی نے نوٹ کو ہاتھ لگاتے ہی بتا دیا کہ جناب نوٹ جعلی ہے۔ ایک آدھے اور بندے کو دکھایا تو تصدیق بھی ہو گئی۔ دوسرا نوٹ دے کر جان بچائی۔

ورکشاپ بند

جمعے کی صبح پہلا کام یہ کیا کہ نو بجے کے قریب سوزوکی منی موٹرز والٹن روڈ چلا گیا۔ وہاں تمام دروازے بند تھے، گارڈ نے بتایا کہ آج چھٹی ہے آپ کل آنا۔
ہفتہ اور اتوار کو میں اپنے گائوں چلا جاتا ہوں۔ سوچا پیر والے دن دیکھی جائیگی۔

سوموار کی صبح

گائوں سے لاہور پہنچتے پہنچتے ساڑھے نو بج گئے۔ البتہ می سیدھا سوزوکی ورکشاپ چلا گیا۔ وہاں جا کر بات کی تو ایک صاحب مجھے کیشیئر کے سامنے لے گئے۔ کیشیئر نے صاف انکار کر دیا کہ نوٹ اس نے دیا ہی نہیں۔ 
اسکا کہنا تھا کہ مجھے رقم کائونٹر پر چیک کر لینی چاہیئے تھی۔ میں نے پیسے گنے تو تھے لیکن یہاں سے جعلی نوٹ ملنے کا خدشہ میرے وہم گمان میں نہ تھا۔
میں تھوڑ اونچا بول کر اوپر مین شوروم میں آ گیا۔
یہاں ایک اور صاحب کو سارا مسئلہ بتایا، انہوں نے بھی یہی کہا کہ جناب آپکی غلطی ہے ہم تو بے قصور ہیں۔

ملتا جُلتا ایک اور واقعہ، ہائپر سٹار

مجھے کسی نے بتایا کہ جب ہائپر سٹار نیا نیا بنا تھا تو انکا بھی ایک کیش ہینڈل کرنے والا بندہ پانچ سو ہزار کا جعلی نوٹ بینک جانیوالی کرنسی میں مکس کر دیا کرتا تھا۔
اصلی نوٹ نکال کر وہ آدمی اپنی جیب میں ڈال لیتا۔
چند ایک مرتبہ بینک سے شکایت آئی تو انتظامیہ نے چپکے سے چھان بین اور نگرانی شروع کر دی۔
آخر کار نوسرباز پکڑا گیا۔

کہیں سوزوکی منی موٹرز والٹن میں بھی تو ایسا نہیں؟

میری اس ورکشاپ والوں سے نہ کوئی دوستی ہے نہ دشمنی۔ ایک ہزار کا نقصان ہوا ہے، لیکن وقتی غصہ تھا اتر گیا۔ اب صرف معلومات عام کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں۔
عین ممکن ہے کہ سوزوکی والوں کے تالاب کو بھی کوئی ایک مچھلی گندا کر رہی ہو۔
شاید وہی کیشیئر جس نے مجھے بقایا دیا تھا، یا کوئی اور ملازم۔
ان لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے سٹاف کی نگرانی کریں اور اپنے معاملات درست کریں۔ 
دوسرا رُخ: اگر فرض کریں کہیں غلطی سے جعلی نوٹ آ ہی گیا ہو تو اسکو گاہکوں کے گلے مت ڈالیں۔

نتیجہ

کم از کم میں خود آئندہ کبھی بھی سوزوکی منی موٹرز والٹن پر گاڑی کا کام کروانے نہیں جائوں گا۔ اور نہ ہی میں کسی دوست کو وہاں جانے کا مشورہ دوں گا۔

9 comments:

  1. ہمیں متنبہ کرنے کا بہت بہت شکریہ۔
    ویسے آپس کی بات ہے، غلطی آپ ہی کی ہے۔ چور اچکے تو اچھی سے اچھی دکانوں میں بھی ملتے ہیں، ہمیں خود ہی اپنا دامن بچا کر چلنا ہوتا ہے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. یہی اصل بات ہے۔ پہلی غلطی اکثروبیشتر ہماری ہی ہوتی ہے دوسرے صرف موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

      Delete
  2. یہاں تو لوگ مسجد کے فنڈ میں بھی جعلی نوٹ دے دیتے ہیں۔ ویسے بے شک کیشیئر کی ہیراپھیری ہو مگر سیدھا سا اصول ہے کہ آپ کو رقم (یقایاجات) کی وصولی پر ہی نوٹ چیک کرنا چاہیئے تھا۔ بعد میں شکایت کا کوئی جواز نہیں۔ البتہ اگر آپ کو یقین تھا کہ اسی کیشیئر نے جعلی نوٹ دیا تھا تو پھر بعد میں بس متعلقہ ادارے (منی موٹرز) کو اطلاع کر دیتے کہ فلاں دن بقایاجات میں آپ کے کیشیئر نے مجھے جعلی نوٹ دیا ہے۔
    میں پانچ چھ سال تک منی موٹرز لاہور کا گاہک رہا ہوں۔ اب چونکہ گاڑی ٹیوٹا کی ہے تو اس لئے منی موٹرز جانا نہیں ہوتا۔ مزے کی بات ہے کہ منی موٹرز والے بعد میں جب کال کر کے پوچھتے ہیں کہ ہماری سروسز کیسی تھیں تو تب ہر دفعہ یہی کہتا کہ تم لوگوں نے جب سے ورکشاپ اینڈ شوروم اپڈیٹ کیا اور کیش کاؤنٹر پر لڑکی بیٹھائی ہے تب سے تم لوگ کچھ زیادہ ہی چول ہو گئے ہو۔ہاہاہا :-D
    پھر جب گاڑی لے کر جاتا تو سپیشل آفس میں جا کر کہتا کہ وہ جس نے فون پر یہ سب کہا تھا وہ میں ہی ہوں۔ :-D

    ReplyDelete
    Replies
    1. اس کو کہتے ہیں چھٹی حس۔ لیکن آڑے وقت پر یہ بھی کبھی دھوکا دے دیتی ہے۔

      Delete
    2. چھٹی حس بھی بعض اوقات چُھٹی پر چلی جاتی ہے

      Delete
  3. مجھے میری غلطی کا جرمانہ بھرنا پڑ گیا۔ البتہ بلاگ لکھنے کا ایک موضوع مل گیا اسی بہانے۔

    ReplyDelete
  4. بلال بھائی انکے کال سنٹر سے فون آیا تھا اور میں نے شکایت بھی لگائی لیکن فون کرنے والی بینی نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔

    ReplyDelete
  5. دوستو۔ غیر متعلق سا سوال پوچھنے کی اجازت چاہتا ہوں۔۔۔۔ گاڑی کو سوزوکی کی ورکشاپ لے جانا زیادہ فائدہ مند رہتا ہے یا کسی عام مکینک کے پاس۔ میرے پاس 1996 ماڈل کی مہران ہے۔ جب ضرورت پڑے دفتر کے قریبی مکینک کو دے دیتا ہوں، دفتر سے واپسی پر لے لیتا ہوں۔ آپ احباب مشورہ دیں کیا سوزوکی ورکشاپ والے زیادہ بہتر کام کریں گے؟

    ReplyDelete
  6. عمیر صاحب پرانی گاڑی کو غیر سوزوکی مکنیکوں کے پاس ہی لے جائیں۔ سوزوکی جینون پارٹ کافی مہنگے ہوتے ہیں اور انکی مزدوری بھی عام مکینک سے زیادہ ہوتی ہے۔

    ReplyDelete

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer