Thursday, February 26, 2015

انٹرنیٹ سے آمدن سوچ میں ہلکی سی تبدیلی کی ضرورت

Internet Income Dollar Rain Fall
انٹرنیٹ سے لاکھوں کمائیں، مگر کیسے؟

کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، انٹرنیٹ سے جائز اور حلال آمدنی حاصل کرنا ممکن ہے۔ البتہ خیال رہے کہ ایسا کرنے میں وقت اور محنت درکار ہے۔ چٹکی بجاتے ہی امیر ہونا ناممکن ہے، اور راتوں رات کڑوڑ پتی بنانے والی سکیمیں بھی جعلی ہوتی ہیں۔

انٹرنیٹ پراپرٹی بنانا

Small Colorful Beach Homesگوگل کسی بھی انٹرنیٹ ویب سائٹ یا بلاگ کے لئے "انٹرنیٹ پراپرٹی" کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر میرا یہ بلاگ ایک پراپرٹی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی ایک منزلہ عمارت، پانچ مرلے کا گھر، چار منزلہ عمارت یا ایک مرلے کی دوکان۔

یہ پراپرٹی اگر مناسب جگہ پر ہو گی تو آپکو کسی بڑے کاروبار سے اشتہار مل سکتے ہیں۔ ایسے ہی آپکی انٹرنیٹ پراپرٹی پر بھی گوگل کے ذریعے اشتہار لگائے جاتے ہیں۔ البتہ ان اشتہاروں کو جتنے زیادہ لوگ کلک گے اتنی زیادہ آمدنی ہو گی۔



"اگر سال بھر کی پارٹ ٹائم محنت کے بعد آپکو ایک ایسا ذریعہ آمدن مل جاتا ہے جو کہ ہر ماہ بغیر آپکے ہاتھ پائوں ہلائے پانچ ہزار روپے کی آمدن دے، تو اچھا سودا نہیں ہے؟

پھلا قدم

سب سے پہلے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس موضوع کے بارے میں معلوماتی اور دلچسپ موادجیسا کہ یہ تحریر یا ویڈیو وغیرہ تخلیق کر سکتے ہیں۔ ابتدا میں آپکی پراپرٹی کا سائز چھوٹا ہو گا اور اس پر آ کر اشتہار دیکھنے والے لوگ بھی بہت کم ہونگے۔ لیکن

پہلے سوچیں سمجھیں، اور پھر پراپرٹی بنائیں

موضوعات کی چند مثالیں


  • بیمہ پالیسی کی معلومات
  • بینک اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق موضوعات
  • تعلیم سے متعلق ویب سائٹ یا بلاگ
  • صحت سے متعلق تحریریں
  • سیاست - لاحول ولا قوۃ
  • سائنس اور ٹیکنالوجی پر معلومات
  • موبائل فون اور کمپیوٹر کے متعلق معلومات
  • سکول کالج کے اساتذہ کےلئے کوئی فورم
  • اکائونٹینسی کے معاملات
  • مذہب جیسا کہ قرآن و حدیث، یا بائبل وغیرہ

پہلی دوسری تیسری کوشش ناکام ہو سکتی ہے

تحریر کے شروع میں عرض کیا تھا کہ حوصلے والا کام ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ آپکی دو ایک ماہ کی محنت کارگر نہ ہو۔ البتہ نقصان ہونے سے اگر آپ سبق سیکھ لیں تو وہی آپکی اصل کمائی ہو گا۔

دوسرا قدم

لکھنا شروع کریں۔ مفت بلاگ بنانے کے لئے درج ذیل ویبسائٹ ملاحظہ فرمائیں


مصنف نے دانستہ طور پر ایس ای او وغیرہ کے مطالعہ سے اجتناب برتا ہے۔ ایک آدھی غلط ٹرائی مارنے سے آپ کافی سیکھیں گے۔ میں نے ہمیشہ اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا۔ "خراشیں تحفہ ہوتی ہیں، جو ہمیں ہماری غلطی یاد دلاتی ہیں۔" جی۔

گوگل اشتہارات تبھی دیتا ہے جب آپکی ویبسائٹ پر زیادہ مواد انگریزی میں ہو۔ میں نے انگریزی بلاگ الگ بنایا ہوا ہے اور یہ اردو بلاگ علیحدہ ہے۔ یہاں میں اپنے فقرے سیدھے کرنے کے لئے لکھتا ہوں، اسکے علاوہ بہت سارے اچھے دوست یہاں سے بنے۔

عملی اقدامات


  • تو قاری صاحب آپکو بھی میرا یہی مشورہ ہے کہ ایک بلاگ اردو اور ایک انگریزی بنائیں۔
  • تھوڑا لکھیں مگر خود لکھیں، ایمانداری سے ایک نمبر تحریر لکھیں اور کسی کا مواد چوری کرنے سے گریز کریں۔ 
  • ہفتے میں ایک پوسٹ اردو اور ایک انگریزی لکھیں۔ 
  • دو ڈھائی ماہ بعد آپکے پاس اتنا مواد ہو جائیگا کہ آپ گوگل کے اشتہاری پروگرام ایڈ سنس میں اپلائی کر سکیں گے۔ 
  • فرض کر لیں کہ آپ نے کسی دور دراز ہائوسنگ سکیم میں پلاٹ قسطوں پر لے لیا ہے اور ہر ہفتے لکھ کر آپ اسکی قسط ادا کر رہے ہیں۔ قبضہ دو سال بعد ملے گا اور تب آپکو چند ہزار روپے مستقل آمدنی ملنا شروع ہو جائیگی۔
  • LinkedIn, Facebook, Twitter بلاگ پر ٹریفک لانے کے لئے سوش میڈیا استعمال ہوتا ہے۔ البتہ اسکی فکر بعد میں کی جاسکتی ہے۔ پہلے کوئی تجرباتی مواد تخلیق کریں پھر اسکی تشہیر کے بارے میں سوچیں۔ 

اصل نقطہ: "گیدڑ سنگھی" ہماری سوچ

اگر فرض کریں کہ شروع میں آپکی تمام ویب سائٹ اور بلاگ ملا کر آپکو دس ڈالر ماہانہ آمدنی ہوتی ہے تو یوں سمجھیں کہ یہ آپکی ملکیت ایک دور دراز دوکان ہے جس سے بہت تھوڑا سا کرایہ آ رہا ہے۔ دس ڈالر کا مطلب ہوا لگ بھگ ایک ہزار 
روپیہ۔


Mindset for passive internet income
جیسی سوچ، ویسا نتیجہ

کچھ لوگوں کا دل یہ رقم سن کر ہی ٹوٹ جائیگا۔ البتہ "آہستہ آہستہ، اور آرام سے" کے اصول کو مدنظر رکھنا بہت اہم ہے۔

"اگر سال بھر کی پارٹ ٹائم محنت کے بعد آپکو ایک ایسا ذریعہ آمدن مل جاتا ہے جو کہ ہر ماہ بغیر آپکے ہاتھ پائوں ہلائے پانچ ہزار روپے کی آمدن دے، تو اچھا سودا نہیں ہے؟


گوگل کوئی بے وقوف نہیں ہے


زور زبردستی اپنے اشتہاروں پر جعلی کلک کر کے پیسے کمانے کا خیال دل سے نکال دیں۔ اول تو یہ فراڈ اور اسلامی تعلیمات کی رو سے حرام ہے۔ دوم گوگل وغیرہ نے اس چکر میں بڑا نقصان اٹھایا ہوا ہے اور اتنے سال بعد وہ خاصے ہوشیار ہو گئے ہیں۔ ذرا ہینکی پھینکی کرنے کی صورت میں آپکا اکائونٹ بلاک اور ساری محنت اکارت۔


مضمون کا نتیجہ

انٹرنیٹ کو اپنا بنیادی ذریعہ آمدن مت بنائیں بلکہ اسے ایک اضافی ذریعہ آمدن سمجھیں۔ یہ ایک ریٹائرمنٹ فنڈ ہے، بونس آمدنی جو کہ بُرے وقت میں آپکے کام آئیگی۔ لاکھوں کی آمدن ہو گی، البتہ چند سالوں میں۔

میری بلاگز اور ویبسائٹس کی چند مثالیں، خیال رہے کہ میں نے حال ہی میں ان چیزوں کو ثانوی ذریعہ آمدی کی حیثیت سے سنجیدہ لینا شروع کیا ہے۔ 



انتباہ: مصنف نے یہ تحریر خالص عوامی اور قومی فلاح کے جذبے سے لکھی ہے۔ تمام مواد معلوماتی ہے۔ کسی بھی فائدے یا نقصان کی صورت میں مصنف ذمہ دار نہ ہے۔

نوٹ: اردو بلاگر ساتھیوں سے درخواست ہے کہ کمنٹ کریں، اور جہاں مصنف غلط ہے درست فرمائیں۔

About this article

This article explains what is internet property, and how Google AdSense works. Why we should consider income from blogs and websites as a passive income source, a secondary income or a retirement plan that would help us in tough times. What are the steps that should be taken? What are suitable topics for creating a blog? Which websites can be used to create a blog. It is purely an informational post. Shared for the good of community.


Wednesday, February 18, 2015

پاکستانی معیشت میں انٹرنیٹ سے مزید سرمایہ لانے کے دو لوازمات

paypal_google_play_amazon_mturk

پاکستان خوش قسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوان ہے۔ ان نوجوانوں کی اکثریت پڑھی لکھی ہے اور انٹرنیٹ استعمال کرنا جانتی ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمارے یہاں انٹرنیٹ کو فقط برائی کا اڈا ثابت کرنے پر تلے دانشوروں کی کوئی کمی نہیں۔ اسوقت انٹرنیٹ کے ذریعے ہر گھڑی کڑوڑوں اربوں ڈالر کا سرمایہ گردش کر رہا ہے۔ آپکو بس ایسی صلاحیتیں اور آلات چاہیئں جنکو استعمال کر کے آپ بھی اس سرمائے میں سے اپنا  حلال، اور جائز حق کما سکیں۔

تصحیح 

گوگل پلے کے بارے میں میری معلومات غلط تھی، اب ہم گوگل پلے پر اپنی ایپس پیسوں کے عوض فروخت کر سکتے ہیں۔



Helping Pakistani Economy with PayPal, Google Play, Amazon mTurk from Naeem Akram on Vimeo.


پاکستان میں پے پال کی سروس

paypal_ppسالوں بیت گئے پاکستانی فری لانسر کمیونٹی سر پیٹ رہی ہے کہ کسی طریقے سے پے پال کی سروس پاکستان میں بھی چالو ہو جائے۔ اس ایک کام کے ہو جانے سے پاکستانی معیشت میں ہر ماہ لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ آیا کرے گا۔ میں کیونکہ خود فری لانسر ہوں اسلئے پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سروس کے آنے سے پاکستانی آئی ٹی محنت کش اپنی صلاحیتیں کئی ایسی جگہوں پر بھی بیچ سکیں گے جہاں سے پیسے منگوانے کے لئے پے پال لازمی ہے۔

امازون مکینیکل ترک

اسی موضوع پر میں ایک تحریر چار سال پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ نہ اسکا کوئی فائدہ ہوا تھا اور نہ اس کا شاید کوئی فائدہ ہو پر چلو، "تم اپنی کرنی کر گزرو"۔

مکینیکل ترک دنیا کی سب سے بڑی آنلائن دوکان ایمازون ڈاٹ کام  کی ملکیت ہے۔ یہاں مختلف چھوٹے چھوٹے کام کر کے دو سینٹ تا پانچ ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ یہ کام ایسے ہوتے ہیں جو فی الحال کمپیوٹر خودکار طریقے سے نہیں کر سکتا۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں
  1. مریض کی ڈاکٹر سے گفتگو کی آڈیو فائل کو سن کر ٹائپ کرنا
  2. کسی ویڈیو کو دیکھ اور سن کر اسمیں ہونے والی گفتگو کو ٹائپ کرنا
  3. بہت سی تصاویر کا مشاہدہ کرنا اور ان میں سے ایسی الگ کرنا جن میں آگ یا دھواں نظر آ رہا ہو
  4. ٹویٹ کو پڑھنا اور انکے بارے میں بتانا کہ ان سے کیسے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے
یہ ایسے کام ہیں جو کہ کمپیوٹر کا استعمال جاننے والے نوجوان آسانی سے کر سکتے ہیں۔

مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ مکینیکل ترک والے صرف انڈیا اور امریکہ سے ہی لوگوں کو کام کرنے دیتے ہیں۔ اگر منسٹری آف آئی ٹی، فنانس، اور ہیومن ریسورس والے مل جل کر امازون کے ساتھ کوئی ڈیل کر لیں تو بلاشبہ امازون پاکستان کو بھی ایک موقع تو دیگا۔ 
اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے یہاں بہت سے نوجوانوں کو روزگار کے باعزت ذرائع میسر آئیں گے۔ ایسا ہونے سے نہ صرف معیشت میں پیسہ آئیگا بلکہ بہت سارے لوگوں کی پریشانیاں بھی کم ہو جائینگی۔


elance-odesk-annual-impact-report-freelancer-countries
بونس: او ڈیسک ای لانس کے مطابق پاکستان دنیا میں فری لانسنگ سے پیسہ کمانے والے ملکوں کی فہرست میں پانچواں ملک ہے۔ 

What is this post about?
Helping Pakistani economy with introduction of several well known web based services. Paypal support in Pakistan will be very helpful in enabling freelancer community and bringing in more jobs along with money in Pakistan. Ability to sale paid apps on Google Play Store is second on the list. Last one is Amazon mTurk service in Pakistan. If it is working in India, then why not Pakistan? We got a good educated workforce that is hungry for work.



Friday, February 13, 2015

سٹور شیلف میں کچن گارڈننگ

store-shelf-kitchen-gardening-cadbury-again

ایک آدھا دن پہلے سٹی سپر سٹور گیا تو وہاں پڑے بہت سارے شیلفوں کو دیکھ کر خیال آیا کہ یار ان میں تو بڑے اچھے طریقے سے سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ جب یہ شیلف ٹوٹ جاتے ہوں گے تو پتہ نہیں یہ کہاں جاتے ہوں گے؟ مثال کے طور پر یہ کیڈبری چالکیٹ کا شیلف ہی دیکھ لیں۔ 

اس شیلف میں کیا کیا اگایا جا سکتا ہے؟

اگر مارچ اپریل کا مہینہ ہے تو یہاں پودینہ اور دھنیا وغیرہ لگایا جا سکتا ہے۔ سب سے اوپر والے شیلف میں ہری مرچ اور بینگن وغیرہ بھی لگا سکتے ہیں۔ 
ستمبر اکتوبر کے مہینوں میں آپ لہسن اور پیاز بھی لگا سکتے ہیں۔ ان سبزیوں کی جڑی شاید بہت پھلیں پھولیں نہ لیکن تین چار مہینے کے لئے آپکو بہت سی تازہ سبز  لہسن، پیاز، اور پودینہ بھی مل جائے گا۔ ڈھیٹ سبزی پالک اگر کسی کو پسند ہے تو وہ بھی لگ جائیگی۔
اسکے علاوہ دیگر اور بھی کئی قسم کے چھوٹی پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ 

پانی کا صحیح استعمال

سب سے اوپر والی شیلف میں ڈالا گیا پانی نیچے والی شیلفوں تک لگتا جائیگا۔ اسطرح آپ تھوڑے پانی سے زیادہ پودوں کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ شہری مکانوں میں کم جگہ پر بھی ایسی چیزیں کامیاب ہیں۔

کچھ مزید شیلفیں

store-shelf-kitchen-gardening-lifebuoystore-shelf-kitchen-gardening-lays



لائف بوائے صابن اور لیئز چپس کی ان شیلفوں کو دیکھ دیکھ کر بھی میرا جی للچا
 رہا تھا۔ ان کا بھی کافی مفید استعمال ممکن ہے۔

یہ شیلفیں ملیں گی کہاں سے؟

یہی تو ہے سوال سوا لاکھ کا۔ آخر یہ شیلفیں حاصل کہاں سے کی جائیں؟
میں سوچ رہا تھا کہ جب یہ ٹوٹ پھوٹ جاتی ہونگی تب انکو جہاں لیجایا جاتا ہو گا وہاں سے شاید پتہ چل سکے۔ یا پھر اگر کوئی پراڈکٹ ڈسٹریبیوشن والا واقف ہو تو اسکی دوستی کا بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔
البتہ مجھے خود نہیں پتہ کہاں سے ملیں گی یہ شیلفس اسلئے کوئی پکی بات نہیں کر سکتا۔

 اگر آپ میں سے کسی کو بھی ایسی شیلفس حاصل کرنے کا کوئی مناسب ذریعہ پتہ چلے تو ضرور مطلع فرمائیں۔ نامناسب ذرائع والے خواتین و حضرات بھی شرمائیں مت۔



Thursday, February 12, 2015

بلاگ کا پرما لنک کیسے بنایا جائے؟

home-office



How to change permalink in blogger and benefits of a good post name from Naeem Akram on Vimeo.

علی حسن صاحب نے کچھ دن پہلے فلورنس کی سیر کا احوال بڑی بہترین بلاگ پوسٹ میں عوام الناس تک پہنچایا۔ کمنٹ میں انکو مشورہ دیا کہ پرما لنک  ذرا اچھا بنایا کریں اور نہیں پتہ تو میں بتا دونگا۔ کہنے لگے کہ بتا ہی دیں۔ میں نے ایک مختصر سی ویڈیو بنائی ہے، بلاگر پر پرما لنک بنانے کا طریقہ سمجھانے کے لئے۔ اسکے علاوہ خودکار پرمالنک کے مقابلے میں آپکی مرضی کے پرما لنک کے فوائد پر بھی مختصر روشی ڈالی ہے۔
ملاحظہ فرمائیں اور اپنا قیمتی فیڈ بیک بھی دیں۔
اگر آپکو لگتا ہے کہ کسی مخصوص موضوع پر مزید ویڈیوز ہونی چاہیئں تو بھی بتائیں۔ میں کوشش کروں گا۔

Saturday, February 7, 2015

ماریشس میں اردو - از سمیرا حمید


al-aqraba-Mauritius-oct-dec-2014


عربی رسم الخط کی انفرادیت کے ساتھ اردو برصغیر کے مسلمانوں کی زبان کے طور پر ابھری جو بعد میں پاکستان کی قومی زبان کے طور پر جانی گئی۔ عام بول چال میں اردو اور ہندی یکساں تاثر پیش کرتی ہیں تاہم ہندی رسم الخط(دیوانگری ) اور گرائمر کے قواعد و ضوابط اردو سے کافی مختلف ہیں۔ زبان کسی بھی قوم کا تہذیبی ورثہ ہوتا ہے۔ ایک پاکستانی اور اردو کی ترویج و ترقی کے نمائندے کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ اس بات کی پریشانی لاحق رہی کہ ہمارا انگریزی زبان سیکھنے اور اپنے بچوں کو سکھانے کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہماری قومی زبان اردو کی بقاء کے لئے بے انتہا نقصاندہ ثابت ہوگا۔
ہندی کی موجودگی میں اردو زبان کے بولنے اور سمجھنے والے تو مستقبل قریب میں موجود ہونگے لیکن اردو کا رسم الخط اور اسکی سمجھ بوجھ اور استعمال کا تحفظ ایک مشکل امر ثابت ہوگا۔ قطع نظر اس بات سے کہ اردو کے مصنفین بھارت میں زبان کی ترویج اور اسکے عربی رسم الخط کے تحفظ کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ماریشس میں اردو

خوش قسمتی سے ماریشس کے مسلمان جو ہمارے آبائو اجداد کی ماریشس ہجرت کی وجہ سے گویا اپنا ہی خون معلوم ہوتے ہیں، جغرافیائی طور پر تو ہم سے بہت زیادہ فاصلے پر ہیں لیکن تہذیب و تمدن، مذہب اور زبان کے لحاظ سے ہم پاکستانیوں کے ساتھ کافی مماثلت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے مجھے اور اردو زبان کے دیگر رفقاء کو اطیمنان ہے کہ ہماری زبان کا تحفظ ہمارے علاوہ کہیں اور بھی کیا جا رہا ہے۔ جب سے ہمارے آبائو اجداد ماریشس ہجرت کر کے گئے اسوقت سے ہی ارد زبان سے متعلق تحقیق، تربیت، تعلیم، تحریر، ترویج اور تحفظ زبان کا سلسلہ ایک تہذیبی ورثے کے طور پر جاری و ساری ہے۔
ماریشس میں بہت سارے ادارے، تنظیمیں، کلب، اور گروپ اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مختلف ادیب انفرادی طور پر شاعری، ادب، اور تھیٹر ڈراموں کے ذریعے ہماری زبان کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جو بلاشبہ ہماری امیدوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اردو خصوصاّ موریشس کے ان مسلمانوں کی مادری زبان ہے جنکی جڑیں برصغیر کے مسلمانوں سے جا ملتی ہیں اور تمام مسلمانوں کی عمومی زبان کے طور پر جانی جاتی ہے۔
ماریشس کے بہت سے ادیب ہمارے پاکستانی مصنّفین  سے اپنی تحقیق و تحریر کے ذریعے رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔ انجمن فروغ اردو، اردو زبان کے فروغ کی سوسائٹی، اسلامک کلچرل سینٹر اور دی نیشنل اردو انسٹیٹیوٹ وغیرہ ایسے ادارے ہیں جو موریشس میں اردو زبان کے لئے کئے جانے والے کام پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔

ماریشس کے اردو ڈرامہ نگار

سینتیس سے بھی زیادہ ڈرامہ نگار اپنی تحریر سے تہذیب و زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے تحریر کردہ ڈرامے تھیٹر میں فخریہ طور پر پیش کئے جاتے ہیں اور انھیں سراہا بھی جاتا ہے۔ پاکستان میں تعینات موریشس کے سفیر میجر جنرل (ر) الفت حسین   نے جب مجھے افریقی براعظم میں موجود موریشس کے مصنفین کے کام سے آگاہ کیا تو یہ میرے لئے حیرانی  اور سرخوشی کا باعث تھا کہ وہاں چالیسواں اردو ڈرامہ فیسٹول( 1974 ۔ 2014 ) منایا جا رہا تھا۔
ہر پاکستانی اردو زبان سے محبت رکھتا ہے اور موریشس کے مسلمان اردو کی ترویج کے لیے کام کر کے پاکستان کی مدد کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کراچی آرٹ کونسل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسنے موریشس کا اردو ڈرامہ "آہ کی گونج" موریشس کے اداکاروں کے ذریعے ہی پیش کیا۔ پہلے یہ ڈرامہ موریشس میں پیش کیا گیا تھا۔ 
ڈرامہ ایک نہایت اہم صنف ہے لیکن اسے اردو ادب میں کافی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ موریشس کے اردو ادب میں بہت سارے مکمل ڈراموں کے ساتھ ساتھ "یک بابی ڈرامے" یا ون ایکٹ پلے بھی موجود ہیں۔  1974 سے لے کر 2014 تک 88  تنظیموں اور 50 کالجوں نے بےشمار اداکاروں کے ساتھ "اردو ڈرامہ فیسٹیول" میں حصہ لیا۔ ہر سال بہترین اداکار، بہترین اداکارہ، بہترین ہدایتکار اور بہترین ڈرامہ کی مد میں ایوارڈ دیئے جاتے ہیں۔
ایم-بی-سی ریڈیو نے ڈرامہ کی ترویج میں خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ موریشس میں اردو ڈرامہ نے بہت ترقی کی ہے۔ ڈراموں کے دس مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں چھ ڈرامہ نگاروں کے ستر ڈرامے شامل کئے گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ ہمارے پڑھنے والے خصوصی طور پر ادبی لوگ اسے ایک معمولی کاوش سمجھیں۔ لیکن اگر ماریشس کی آبادی کو دیکھا جائے جو کہ 296 ملین یا سادہ لفظوں میں دو کڑوڑ چھیانوے لاکھ ہے اور مسلمان اس آبادی کا محص 3۔17 فیصد ہیں جن میں عربی ماخذ سے تعلق رکھنے والے وار بعد میں اسلام قبول کرنے والے دونوں طرح کے مسلمان شامل ہیں تو یہ بہت بڑی کاوش نظر آتی ہے۔
مزید برآں جغرافیائی طور پر ہم سے انتہائی مختلف حیثیت رکھنے والا خطہ ہماری زبان کی محبت میں مبتلا ہو کر اسکی ترویج اور تحفظ میں مصروف ہے۔ میں اور دیگر رفقاء اپنی پوری کوشش کریں گے کہ موریشس میں اردو ادب کے لیے ہماری لائبریریوں اور کتابوں کی دوکانوں پر مخصوص حصے مختص کر دیئے جائیں۔ اسکے علاوہ ہم یہ کوشش بھی کریں گے کہ سرحدوں کے آرپار تھیٹر ڈراموں اور مصنفین کا تبادلہ اور آمدورفت ممکن بنائی جائے۔ مقتدرہ قومی زبان، نیشنل بک فائونڈیشن و اکیڈمی آف لیٹرز، پاکستان آرٹس کونسل، نظریہ پاکستان ٹرسٹ، آئینہ اور انسانیت ویلفیئر نیٹورک وغیرہ کےہہ کے ذریعے موریشس کے اردو ادب کی کتابوں کا سلسلہ وار تعارف ممکن بنایا جائے۔

پاکستان کا تحقیقی رسالہ "الاقرباء" میرے علم کے مطابق برصغیر کا واحد تحقیقی رسالہ ہے جسے موریشس کے اردو  معلماتی دائرے میں باقاعدگی سے پڑھایا جاتا ہے۔ اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کی راہنمائی کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان موریشس فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے ذریعے مختلف اداروں کی مدد سے اردو زبان کی ترویج کے لیے ترقیاتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

Sumera-Hameed-Pakistan-Mauritius-Friendship-Association

مصنفہ: سمیرا حمید، وائس پریذیڈنٹ پاکستان ماریشس فرینڈشپ ایسوسی ایشن، ممتاز بیوروکریٹ۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer