Sunday, January 25, 2015

میرے قصبے کڑیانوالہ کی سڑکوں پر بکھرا کیچڑ


tanda-road-karianwala-qaisar-medical

 یوں تو میرا گائوں اعوان پورہ ہے جو کہ کڑیانوالہ سے ڈھائی کلومیٹر مغرب کی جانب واقع ہے۔ لیکن پینتیس گھروں کی آبادی میں سیکنڈری اور ہائی سکول نہیں ہیں، اتنے کم لوگوں کے لئے بنائے بھی نہیں جا سکتے۔ چھٹی سے لے کر دسویں جماعت تک کی تعلیم ہم نے کڑیانوالہ سے حاصل کی۔ سردیاں گرمیاں سائیکل پر سکول جانا ایک ایسا تجربہ تھا جو کئی تحریروں کا متقاضی ہے۔
خط و کتابت کے لئے ڈاکخانہ بھی کڑیانوالہ (گجرات) استعمال ہوتا ہے اور روز مرہ کی خریداری کے لئے بھی مشرق کا ہی رخ کرنا پڑتا ہے۔ اب توپھر گائوں میں ایک آدھی دوکان کھل گئی ہے ورنہ پندرہ سال پہلے تو کڑیانوالہ کا راستہ بھی کچا تھا اور گائوں میں دوکان بھی کوئی نہیں تھی۔ ماچس کی ڈبیا تک لینے کے لئے ڈھائی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا، یا پھر پاس پڑوس میں بچہ دوڑایا جاتا۔

ٹانڈہ روڈ کا کالا کیچڑ


tanda-road-karianwala-slurry

اگر کہا جائے کہ ٹانڈہ روڈ کڑیانوالہ کی ریڑھ کی ہڈی ہے، تو بے جا نہ ہو گا۔ مرکزی اڈہ چوک سے مشرق کی جانب نکلنے والی اس سڑک پر سیکڑوں دوکانیں ہیں، درجنوں ذیلی گلیاں اور بازار انکے علاوہ ہیں۔
یہ بارانی علاقہ ہے اور فصلوں کی نگہداشت کا زیادہ دارومدار بارش پر ہے۔ یہی باران رحمت البتہ ٹانڈہ روڈ کے تاجروں اور خریداروں کے لئے وبال جان بن جاتی ہے۔
بارش کے بعد نکاسی آب اور صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پوری ٹانڈہ روڈ کیچڑ سے لبالب ہو جاتی ہے۔ لوگ گِر گِر کے زخمی ہوتے ہیں، نمازیوں کے کپڑے ناپاک ہوتے ہیں، لیکن سالہسال سے صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

tanda-road-karianwala-long-shot-east-west

نوابزادہ حیدر مہدی اور نوابزادہ مظہر علی سے اپیل

کڑیانوالہ قومی اسمبلی کے گجرات والے حلقہ این اے ایک سو چار اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی ایک سو آٹھ کی حدود میں واقع ہے۔ یہاں سے ممبر قومی اسمبلی ممتاز سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے نوازادہ مظہر علی ہیں جب کہ ممبر صوبائی اسمبلی نوابزادہ حیدر مہدی ہیں۔
حال ہی میں حاجیوالہ روڈ از سر نو تعمیر کی گئی جو کہ ایک احسن اقدام ہے۔ اسکے علاوہ اور بھی بہت سی سڑکوں کی مرمت اور تعمیر نو کی گئی۔
کڑیانوالہ کا دِل ٹانڈہ روڈ البتہ ارباب اختیار کی توجہ کا ہنوز منتظر ہے۔
اس بلاگ کے توسط سے مصنف نے ایک اہم مسئلے پر روشنی ڈالنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے۔
نوابزادہ صاحبان سے گزارش ہے کہ براہ کرم ٹانڈہ روڈ اور کڑیانوالہ کی دیگر سڑکوں کو صاف بنائیں اور اپنی عوامی خدمت کے کاموں کی فہرست میں ایک اور گرانقدر اضافہ کریں۔

بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل
اطلاع ہے کہ آپکے چار کڑوڑ کی کوٹھی بنانے کی وجہ سے آپکے "شریک" جل ، کر کوئلہ ہو چکے ہیں، مبارک ہو۔ براہ کرم عوام الناس کی بھلائی پر بھی کچھ خرچہ کرنے کا سوچیں۔ نہ صرف آپکی نیک نامی ہو گی بلکہ اللہ اور اسکا رسولﷺ بھی خوش ہوں گے۔
جزاک اللہ خیر

Saturday, January 24, 2015

Sim verification in 5 minutes پانچ منٹ میں سم ویری فائی کروانے کا طریقہ

sim-verification-telenor-rawalpindi


موبائل سم کی ویری فکیشن کی صورتحال، اہم تفصیلات، اور ایک ترکیب


اس تحریر میں آپکو جلدی سم ویری فائی کرنے کا ایک آسان طریقہ بتایا جائے گا۔ پڑھتے جائیے۔
دو سال سے کم پرانی موبائل سم کی تصدیق کے لئے بائیو میٹرک نظام کا استعمال ایک احسن اقدام ہے البتہ، لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ سم ویری فائی کرنا کوئی چھوٹا موٹا کام نہیں۔
اوپر تصویر میں راولپنڈی صدر میں واقع ٹیلی نار کے دفتر کا ایک منظر ہے۔ دفتر میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی، اور صبح سے ابھی تک ایک ہزار سے زیادہ لوگ سم تصدیق کروا چکے تھے۔ یہ اندازہ میں نے دائیں جانب لگے باری والے کائونٹر سے لگایا۔

اصل شناختی کارڈ ساتھ لے کر جائیں، ایک فوٹو کاپی بھی ہمراہ رکھیں


دو گھنٹے کا وقفہ

دفتر میں لگا ایک نوٹس
اگر آپ کے پاس ایک سے زیادہ سم ہیں اور آپ ان سب کو ایک ہی دن میں ویریفائی کروانا چاہتے ہیں تو آرام سے بیٹھ جائیں، پی ٹی اے نے اس قسم کے چالاک بندوں کا بندوبست کر رکھا ہے۔
کسی ایک کمپنی کی سم ویری فائی کروانے کے بعد دو گھنٹے تک آپکے شناختی کارڈ پر کسی دوسری کمپنی کی سم ویری فائی نہیں ہو گی۔

اگر آپکو نہیں پتہ کہ سم کس کے نام پر ہے

فرینچائز والے آپکو یہ تو بتا دیتے ہیں کہ آپکے شناختی کارڈ پر کتنی سم چل رہی ہیں۔ وہ آپکو یہ بھی بتا دیں گے کہ کون سی سم آپکے نام پر ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسی سم ہو جوکہ آپ سمجھ رہے ہوں کہ آپکے نام پر ہے لیکن ہو کسی اور کے نام پر تو وہ آپکو صرف اتنا بتائیں گے کہ جناب سم آپکے نام نہیں ہے یہ نہیں بتائیں گے کہ سم کس کے نام پر ہے۔
 ایسی صورت میں اگر آپکے پاس سم ہے یا آپکی بیگم کے پاس سم ہے تو بیگم، اسکا اصل شناختی کارڈ، اور ایک کاپی شناختی کارڈ کی ساتھ لے کر فرینچائز پر جائیں۔ سم آپکے نام ٹرانسفر کر دی جائیگی۔


چاندنی چوک، کمرشل مارکیٹ والا فرنچائز بند ہو چکا ہے

کمرشل مارکیٹ سے چاندنی چوک کی طرف جاتے ہوئے کافی ٹیلیفون کمپینیوں کے دفاتر ہیں۔ ٹیلی نار کا دفتر بھی ہوتا تھا لیکن وہ اب بند ہو چکا ہے۔ اسکے بجائے اب صدر میں اے ڈبلیو ٹی پلازہ کی بغل میں واقع ٹیلی نار کے دفتر میں جانا پڑے گا۔
راولپنڈی صدر میں واقع ٹیلی نار کا سیلز سروس سینٹر

حالات کو بہتر بنانے کے لئے ایک تجویز

تمام ٹیلیکام کمپنیاں چند خصوصی ویریفکیشن دفاتر بڑے شہروں میں قائم کریں۔ یہ دفاتر فقط سم ویریفیکیشن کا کام کریں۔ ان دفاتر میں نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے لئے قطاریں بنوانے کا خصوصی بندوبست ہونا چاہیئے۔ 
جو کمپنی بھی اس طرح کے سنٹر بنانے میں پہل کرے گی، اسکے گاہک یقینی طور پر اس سے بہت خوش ہوں گے کیونکہ دوسری جانب دوسری کمپینوں کے گاہک پریشان اور بے یار و مددگار ہوں گے۔




پانچ منٹ میں سم ویریفائی کروانے کا طریقہ
اپنے موبائل فون پر صبح آٹھ بجے کا الارم لگائیں۔ صبح جب الارم بجے تو اسکو سنوز مت کریں بلکہ چھلانگ مار کے گرم رضائی سے باہر نکلیں۔ حوائج ضروریہ سے فارغ ہوں، ہاتھ منہ دھو لیں اور نو بجنے سے دس منٹ پہلے اپنی مطلوبہ کمپنی کے دفتر کے سامنے جا پہنچیں۔
موسم سرد ہے، اور عوام کی اکثریت سست اسلئے پکی بات ہے صبح کے وقت دو چار ہی سیانے بندے آپ سے پہلے آئے ہوئے ہوں گے۔ پانچ یا سات منٹ میں آپکی باری آ جائے گی اور سم ہو جائے گی ویری فائی۔


Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer