Saturday, February 8, 2014

ایک سمجھدار مغوی اور ایک محنتی پولیس افسر اغوا کاروں تک جا پہنچے

تھانہ کڑیانوالہ کے ایس ایچ او انسپکٹر عدنان ملک ایک جفا کش اور ایماندار افسر ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک نشست میں انہوں نے کافی دلچسپ واقعات سنائے۔ اس واقعہ کو رقم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کسی مشکل صورتحال میں پھنس گئے ہیں تو اپنے حواس پر قابو رکھیں اور جسقدر نشانیاں ممکن ہوں یاد رکھیں۔ واردات ختم ہو جانے کے بعد بھی اگر آپ گزشتہ پندرہ دِن کا 
صحیح طور پر جائزہ لے سکیں تو عین ممکن ہے ڈور کا سرا آپکے ہاتھ آ جائے۔



ملک صاحب ان دنوں جی ٹی روڈ پر ایک شہر میں تعینات تھے۔ وہاں سے کچھ جرائم پیشہ افراد نے ایک نوجوان کو اغوا کر لیا۔ لڑکے کو چالیس دِن یرغمال رکھنے کے بعد انہوں نے گیارہ لاکھ روپے تاوان کے عوض اُسے رہا کیا۔
جب مغوی واپس گھر آیا تو ملک صاحب نے اسکے ساتھ ملاقات کی، انہوں نے اسے اپنے ذہن پر زور دینے کو کہا۔ ادھر ادُھر کی گپ شپ کے دورا ن مغوی جسکا فرضی نام طیب تھا بتایا کہ اسے ایک ڈیرا نما جگہ پر رکھا گیا تھا، اس ڈیرے پر چند دِن کسی تعمیراتی کام کے لئے اینٹیں منگوائی گئی تھیں جن پر کے ٹی ما مارکہ تھا۔ اسکے علاوہ وہاں سے ایک موبائل کا ٹاور نظر آتا تھا جس پر تین بتیاں جل رہی ہوتی تھیں۔
عام طور پرموبائل ٹاور کے اوپر دو بتیاں ہوتی ہیں، یہ تین بتیوں والا ٹاور ایسا تھا جس پر کوئی ٹی وی کا انٹینا بھی لگا ہوا تھا۔ ملک صاحب نے تین بتیوں والے اس ٹاور کی لوکیشن پتہ چلانے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کروا دی۔ اسکے علاوہ انہوں نے مغوی طیب کو اپنے ساتھ بٹھایا اور اس جگہ لے گئے جہاں مجرموں نے اس رہا کرنے کے بعد چھوڑا تھا۔
وہاں پہنچ کر موقع کا جائزہ لیتے لیتے طیب کو اچانک ایک کلیو یاد آیا۔ اس نے انسپکٹر صاحب کو بہت ایکسائٹمنٹ کے ساتھ بتایا کہ جن دنوں وہ اغوا کاروں کے ڈیرے پر تھا تو قریب گائوں کی مسجد میں چندہ اکٹھا کیا جا رہا تھا۔ چندہ اکٹھا کرتے وقت مولوی صاحب کہتے تھے "مالی پور والیو اپنے آپ اتے بڑا خرچ کردے او، کدی اللہ دے گھر اتے وی خرچ کر لیا کرو۔" یعنی کہ مالی پور والو خود پر تو بڑا خرچ کرتے ہو کبھی اللہ کے گھر پر بھی خرچ کر لیا کرو۔

یہ سنتے ہیں انسپکٹر صاحب نے فوری طور پر مزید نفری طلب کر لی اور اپنا رخ مالی پور گائوں کی طرف کر لیا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے گاڑی گائوں سے باہر روکی اور منظر کا جائزہ لیا تو تین بتیوں والا ٹاور انہیں قریب ہی نظر آ گیا۔ ایک دو اور چکر لگانے کے بعد انہیں مجرموں کے ڈیرے کا سراغ بھی مِل گیا۔ اسی اثنا میں مزید نفری بھی آن پہنچی۔
بہت پھرتی کے ساتھ کاروائی کرتے ہوئے مجرموں کو ڈیرے سے گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں تاوان کی رقم بھی مغوی کے ورثاء کو واپس دلوائی گئی۔
بے شک اس واقعے میں مغوی طیب کی حاضر دماغی کا بہت اہم کردار ہے، لیکن ہمیں انسپکٹر صاحب کی فرض شناسی کی بھی داد دینی چاہیئے۔ کیونکہ انہوں نے مغوی سے گفتگو کی، اسکے ساتھ موقع پر گئے، اور پھری ایک کامیاب ریڈ بھی کروائی۔
پنجاب پولیس میں کالی بھیڑیں بہت ہیں، البتہ سفید بھیڑیں بھی موجود ہیں اور ہمیں ان چند کملے لوگوں کے کارناموں کو ضرور سراہنا چاہیئے۔

2 comments:

  1. کہانی جلدی ختم کر دی آپ نے ۔ ۔ ۔ بلکہ سیدھا سیدھا واقعہ بیان کر دیا، کہانی بنانے کی تو کوشش ھی نہیں کی ۔ ۔ ۔ اتنی دلچسپ کرائم سٹوری اتنی سادگی سے ختم نہیں ھونی چاھیئے تھی ۔ ۔ ۔ ۔ خیر اب تو ھو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی لکھاری ھو تو اسے مزید دلچسپ بنا سکتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  2. صحیح کہہ رہے ہیں آپ، کہانیاں اور بھی بہت سی ہیں۔ انسپکٹر صاحب کو کتاب لکھنے پر آمادہ کر رہا ہوں، اگر میری باتوں میں آ گئے تو مزا آئیگے۔ کافی عرصہ ہو گیا ہے لکھتے پڑھتے ہوئے البتہ لکھنا چھوڑے بھی تین سال ہو چکے ہیں۔ تحریر کو بہتر بنانے کی کاوش کروں گا۔

    ReplyDelete

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer