Friday, December 19, 2014

Poetry Dedicated To Innocent Victims of Peshawar Massacre


سکول گئے تھے، پھر نہ آئے
دِل کے ٹکڑے، ماں کے جائے
گولی کھا کر رویا ہو گا
نکلی ہو گی منہ سے ہائے
امی امی چیخے ہونگے
امی ساری صدقے جائے

نعیم اکرم

یہ تین شعر قتل عام والے سیاہ تر دِن میں لکھے گئے، اسکے بعد کچھ اضافہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ دِل سے نکلی کھری بات میں کوئی کھوٹ نہ مِل جائے۔ خدا شاہد ہے کہ دوسرے اور تیسرے شعر لکھتے وقت میرا سانس بند ہو رہا تھا اور آنکھوں میں آنسو بھرے تھے۔

بلاشبہ اُس روز جان سے ہاتھ دھونے والوں کے ساتھ زیادتی ہوئی، اور انکا مقام جنت ہی ہو گا۔ البتہ ہمیں فکر اپنے اعمال کی کرنی چاہیئے کہ ہم حالات کو بدلی کرنے کے لئے دامے درہمے سخنے جو کچھ کر سکتے ہوں ضرور کریں۔

Thursday, December 18, 2014

محترمہ طاہرہ قاضی کی عظمت کو سلام Salute Mrs. Tahira Qazi

APS-principal-Tahira-Qazi-Peshawar-Attack
چھوٹی سی خبر میں لپٹی تھی ایک بڑی داستان۔ اخباروں کے صفحوں کی شہہ سرخیاں تھیں ننھے پھولوں پر ہونے والا وحشیانہ حملہ۔ البتہ چھوٹی سی خبر بھت اہم تھی۔

ماں کا دل، شیر کا جگر
سکول کی پرنسپل محترمہ طاہرہ قاضی کو بہت جلد بحفاظت سکول سے نکال لیا گیا تھے۔ انہیں پتہ تھا کہ اندر دہشت گرد درندے موجود ہیں لیکن پھر بھی انہیں چین نہ آیا کہ معصوم بچے ظالموں کے رحم و کرم پر تھے۔
 شاید انہوں نے سوچا ہو گا کہ جنگلی جانوروں کو شفقت سے سمجھا بجھا لیں گی۔ آخر وہ بھی تو کسی ماں کے جائے ہوں گے۔


 ایسا نہ ہو سکا، ظالموں نے مہربان خاتون کو بے دردی سے قتل کیا اور انکے جسم  کو آگ لگا دی۔ بڑی دیر بعد انکی لاش زیورات کی مدد سے پہچانی گئی۔

محترم خاتون کے حوصلے کو میرا سلام، بلاشبہ وہ ایک ماں کا دل اور شیر کا جگر رکھتی تھیں۔

پاکستان اتنا بھی برا نہیں
مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی شرم نہیں محسوس ہوتی کہ پرسوں سے اب تک میں کئی مرتبہ رو چکا ہوں۔ مرد نہیں روتے؟ بکواس ہے۔ چوٹ لگتی ہے تو آواز آتی ہے، اور میں نے اپنے کئی دوسرے دوستوں کو بھی روتے دیکھا۔

پاکستان افغانستان کی نسبت سو درجے بہتر ملک ہے
ہم انگولا اور نائجیریا سے ہزار درجے بہتر ہیں
یہ ملک شام، عراق، اور مصر سے کہیں اچھا ہے

جان لیں کہ ہمارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو ہمیں کہتے ہیں کہ "اوہو اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا"۔
اگلی مرتبہ جب کوئی ایسی بات کرے تو اُسکا 
منہ توڑ دو
کیونکہ یہ ملک اور اس ملک کے لوگ ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کے وارث ہیں۔
ہمارے خون میں مہر گڑھ، ٹیکسلا، ہڑپہ، اور عرب کی تہذیبوں کے عناصر ابھی تک باقی ہیں۔ 
حوصلہ رکھو۔۔۔ کوئی ہمارا کچھ نہیں اکھاڑ سکتا۔۔۔ 
پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی جوانوں پر مشتمل ہے
ہم اپنا مستقبل خود سنوار لیں گے
پاکستان ایسا بھی بُرا نہیں ہے، اہم اتنے بھی گھٹیا نہیں ہیں


یہ پاکستان طاہرہ قاضی کا پاکستان ہے

یہ نوجوان طاہرہ قاضی کے بچے ہیں


پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد



Friday, December 12, 2014

فیڈرل اردو یونیورسٹی کا مشاعرہ، وی آئی پی، اور بدمعاشی

بارہویں مہینے کی گیارہ تاریخ شام پانچ بجے فیڈرل اردو یونیورسٹی میں مشاعرے کی خبر ایک دوست شاعر شہزاد نیئر صاحب سے ملی۔ مصروفیت تو تھی مگر میں جیسے تیسے شام پانچ بجے دفتر سے اٹھ کھڑا ہوا اور مری روڈ کی ٹریفک میں سے گاڑی چلاتا چلاتا کوئی آدھے گھنٹے میں اسلام آباد کی وفاقی اردو یونیورسٹی میں جا پہنچا۔
اندھیرا ہو چکا تھا، موسم ٹھنڈا تو تھا ہی پاس موجود جنگل اور کھلی جگہ کی وجہ سے سردی کی شدت اور بھی دوبالا ہوئی جاتی تھی۔

Islamabad-Federal-Urdu-University


گاڑی مین روڈ پر پارک کرنے کے بعد لیپ ٹاپ والا بیگ کاندے پر ڈالے میں یونیورسٹی کے صدر دروازے پر گیا اور وہاں کھڑے گارڈ حضرات سے کہا کہ "جناب اندر مشاعرہ ہے آج، ادھر جانا ہے۔"
 انہوں نے سوال کیا کہ "آپکو کس نے بلایا ہے۔" میں نے کہا کہ ایک دوست نے مشاعرہ پڑھنا ہے اور انکی مخبری پر میں ادھر چلا آیا۔
 س نے بلایا ہے اس سے بات کروا دیں یا ڈاکٹر فلاں اور ڈاکٹر ڈھمکاں صاحب کو فون کریں وہ آ کر خود لے جائیں گے۔
 اچھا جی؟

تھوڑا سا حوصلہ ذرا سی ڈھٹائی

نوشی گیلانی اپنے دور کی معروف شاعرہ ہیں، آجکل اور بہت سے ٹیلنٹڈ لوگوں کی طرح وہ بھی پاکستان چھوڑ کر کنیڈا جا بسی ہوئی ہیں البتہ ان دنوں پاکستان میں ہیں اور مشاعروں وغیرہ میں شرکت بھی کر رہی ہیں۔ خاتون اس مشاعرے کی مہمان خصوصی تھیں، جلیل عالی کے ساتھ۔ انکے علاوہ اور بھی اچھے شعرا مثال کے طور پر انعام الحق جاوید اور میرے دوست شہزاد نیئر شامل تھے۔ اسلئے میں نے ذرا ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے کی ٹھانی۔
وہیں مین گیٹ پرایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا، اس امید میں کہ شاید کوئی شناسا مِل جائے جسکے ساتھ میں اندر سلپ ہو جائوں۔ گیٹ پر کھڑے سٹوڈنٹس کے ساتھ بھی گپ شپ ہوئی جو کہ خاصے پریشان اور غصے میں دکھائی دے رہے تھے۔
یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ ان نوجوانوں کو بھی اندر نہیں جانے دے رہے تھے۔ 
تھوڑی دیر بعد میں نے نوٹ کیا کہ ایک انکل گیٹ سے اندر باہر آ جا رہے ہیں۔ میں نے  انہیں جا کر کہا کہ جناب اسطرح میں بے وقوف آدمی اپنا کام کاج چھوڑ کر مشاعرے کے چکر میں ادھرکھجل ہو رہا ہوں، مہربانی کرکے مجھے اندر جانے دیں۔
 یہ میرے پاس لیپ ٹاپ اور موبائل وغیرہ کے علاوہ اور کوئی مشکوک چیز نہیں ہے۔ انہوں نے مشکوک نظروں سے میرا جائزہ لیا اور "اچھا میں پوچھتا ہوں" کہہ کر ایک طرف چلے گئے۔

ہاں جی کیا تکلیف ہے؟

پانچ منٹ بعد ایک کراچی سٹائل اردو سپیکنگ صوفی صاحب نے مجھے آواز دیکر بلایا۔ میرے جانے پر انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ "ہاں جی، کیا تکلیف ہے؟" الفاظ یہ نہیں تھے البتہ انداز یہی تھا۔ میں نے دوبارہ بتایا کہ اسطرح ایک دوست شاعر نے مشاعرے کی خبر دی اور میں چلا آیا، دوست کا فون نمبر نہیں ہے میرے پاس ورنہ آپکی بات کروا دیتا۔ 

اندر کوئی جہاں پناہ ایم این اے پاک تشریف لا رہے ہیں

"
اسلئے کسی کو بھی جانے نہیں دے رہے۔ ہمیں اجازت نہیں ہے۔ سارے سٹوڈنٹ باہر
 کھڑے ہیں۔" میں نے کہا کہ میرے پاس میرا شناختی کارڈ وغیرہ ہے، لیپ ٹاپ اور موبائل کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں آپ مہربانی کریں۔ لیکن صوفی نے روکھا پھیکا نہیں بھائی کہہ کر میرا دِل ہی توڑ دیا۔ بھائی کا میٹر گھوم گیا، اور کنپٹیوں میں دھک دھک شروع ہو گئی۔ ہائی بلڈ پریشر کا دورہ شروع ہو رہا تھا۔ 
ایسی صورتحال میں اگر میں منہ کھل جائے تو پھر بات مارا ماری تک جاتی ہے۔ میں غصے میں ابلتا ابلتا بغیر کچھ بولے گاڑی میں واپس آ گیا، سیٹ کے نیچے سے پانی کی بوتل نکالی اور تھوڑا پانی پیا کہ حوصلہ ہو۔

بے وقوف، مشاعرے کا ماما

ہاں جی، بالکل یہی خیال تھا میرا اپنے بارے میں۔ بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے، اپنا کام کاج چھوڑ کر پلے سے تین چار سو کا پٹرول پھونک کر مشاعرہ سننے آ گیا۔ یہاں تو کوئی ظل الہٰی تشریف لا رہے ہیں، جناب ایم این اے پاک۔ کمی کمین انسانوں کا اندر داخلہ منع ہے۔ دھت تیرے کے۔۔۔ لعنت ہے بھئی۔۔۔ 
بس ایسی ہی خرافات سوچتا سوچتا میں جیسے تیسے گھر کی طرف چل نکلا۔

آدھا سیر خون، اور چند سو کا پٹرول جلا کر لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔


فیڈرل اردو یونیورسٹی کے بارے فیڈ بیک


یونیورسٹی کے معیار، اور اسکی ترجیحات کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ سٹونٹ سردی میں سڑک پر تھے اور افسران اندر سے کنڈی لگا کر موج کر رہے تھے۔ میرے خیال میں ایسے ادارے میں اپنے بچوں کو بھیجنا بےوقوفی ہو گی۔ کم از کم کسی کو کیفے ٹیریا یا لائبریری تک جانے دیتے لیکن یہاں تو قانون ہی نرالا تھا۔


Thursday, November 20, 2014

صدرالدین ہاشوانی کی کتاب سچ کا سفر کی تقریب رونمائی

پندرہ نومبر بروز ہفتہ مجھے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں صدرالدین ہاشوانی صاحب کی کتاب "سچ کا سفر" کی تقریب رونمائی میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ تقریب دی 
انڈس انٹرپرینیور نامی تنظیم کے زیر انتظام منعقد ہوئی تھی۔

Now 's home delivery is available,order at Hashwanimemoir@gmail.com 
Cash on delivery.

صدرالدین ہاشوانی ایک کامیاب بزنس مین ہیں، ہاشو گروپ کے زیر انتظام پاکستان میں پی سی ہوٹل، میریٹ ہوٹل، ہوٹل ون جیسے کامیاب ہوٹل چل رہے ہیں۔ اسکے علاوہ ہاشو فائونڈیشن اب تک ہزاروں لوگوں کو تعلیمی سکالر شپ بھی دے چکی ہے۔
hashwani-memoir-truth-prevails-cover-Urdu

مصروفیت کی بنا پر کتاب پڑھنے میں کچھ دیر لگ گئی۔ ٹی وی نہیں دیکھتا اس لئے آج ایک دوست سے یہ سن کر  مسرت ہوئی کہ سندھ حکومت نے کراچی وغیرہ میں یہ کتاب اٹھا لی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس کتاب میں ایسی کوئی بات موجود ہے  جو "کسی" کو بری لگی۔

کیا یہ ایک "اینٹی زرداری" کتاب ہے؟

دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار تیرہ تک ساڑھے چار سال ہاشوانی نے دبئی میں گزارے۔ واپس آنے پر انکا "خود کش" رویہ قابل فہم ہے کیونکہ ایک تو آدمی ہیں جو اپنی کرنی کر چکے ہیں۔ آج یا کل انہیں فوت ہو ہی جانا ہے سو انہوں نے "سیدھے فائر" کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسکے علاوہ حالیہ سالوں میں ہاشو گروپ کی جڑیں پاکستان سے نکل کر دیگر بہت سے ممالک میں پھیل چکی ہیں اور آئل اینڈ گیس کے شعبے میں یہ لوگ ٹھیک ٹھاک ترقی کر رہے ہیں۔

 سابق صدر پاکستان پر کھلی تنقید کے علاوہ اس کتاب میں ہاشوانی صاحب کے کاروباری سفر اور ابتدائی زمانہ کے احوال بھی موجود ہیں اور خاصے دلچسپ ہیں۔ ہاشوانی صاحب کسی زمانے میں اپنے بہنوئی کے ساتھ اناج کی ترسیل کا کام کیا کرتے تھے اور ہر پندرہ دن بعد کوئٹہ قلات تک جایا کرتے تھے۔ سفر کے دوران انکے ساتھ کاغذات کا ایک ٹرنک اور ایک بستر ہوا کرتا، انکا کہنا ہے کہ قلات کی سرد راتیں بہت مشکل سے کٹتی تھیں۔ اس کتاب میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جنہیں پڑھ کر نوجوانوں میں کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہو گا۔
hashwani-memoir-tie-book-launch

کاروبار ایک جنگ

ہاشوانی صاحب کہتے ہیں کہ پاکستان میں کاروبار کرنا بالکل جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ یہاں کے کرپٹ سیاستدان اور کاروبار کی الف بے سے ناواقف افسرشاہی پوری جانفشانی سے  کاروباری لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ہر کوئی آپکے راستے بند کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، ضیاءالحق اور جونیجو، محترمہ بینظیر اور آصف زرداری، نواز شریف، جنرل پرویز مشرف تمام کے ادوار میں سے مثالیں سامنے رکھیں ہیں کہ کس کس نے کیسے کیسے انکے لئے مشکلات کھڑی کی۔

لڑنے کا حوصلہ

"I am a born fighter, and I will die fighting."
سفید بالوں والا بوڑھا سیٹھ جب یہ بات  کہتا ہے تو اسکی آواز میں یقین محکم کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ انکا یہ کہنا ہے کہ آخر سب نے چھے فٹ کی قبر میں ہی جانا ہے اور انہیں سوائے اللہ کے کسی کا کوئی ڈر نہیں۔ 

کم و بیش ڈیڑھ گھنٹہ حاضرین کے سوالات کے جواب دینے کے بعد شاندار کھانے کا بھی بندوبست تھا۔ 

hashwani-memoir-lunch

بارہ جماعتیں فیل ارب پتی

بےشمار دیگر کامیاب لوگوں کی طرح صدرالدین ہاشوانی بھی کالج کی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ انکی والدہ انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں لیکن موصوف بارہویں جماعت کا امتحان نہ پاس کر پائے۔ ناکامی پر دل سخت دکھا اور تہیہ کیا کہ اپنی غلطی کا ازالہ کریں گے۔ اس سے قبل ہاشوانی صاحب کراچی میں آغا خان جمخانہ کی طرف سے کرکٹ کھلیتے تھے اور فاسٹ بائولر تھے۔ انکی بائونسر مارنے کی عادت ابھی تک نہیں گئی۔
ہاشوانی صاحب بھلے کالج سے بارہ جماعتیں بھی نہ پاس کر سکے ہوں، انکے کاروباری تجربہ اور جہانبانی کی بنیاد پر انہیں بلاشبہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی جانی چاہیئے۔ خود تعلیم مکمل نہ کر پانے والے بزرگ بزنس مین نے اب تک لاکھوں لوگوں کی تعلیم کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ اس تقریب میں بھی "ہاشو سکالرز" کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

لعنت بھیجو

سوال جواب کے دوران ایک نوجوان نے پوچھا کہ اگر کسی شخص کو اسکی کمپنی اسکی محنت کا صلہ نہیں دیتی، بلکہ سست اور نا اہل لوگوں کو نوازتی رہتی ہے تو ایسے میں اس شخص کو کیا کرنا چاہیئے؟
لعنت بھیجو اس آرگنائزیشن پر
بابے کا سیدھا سا جواب۔

sadrudin-hashwani-sara-hashwani-book-launch

گوادر، نو سو کلومیٹر پھیلے مواقع

دبئی کے پاس کل پچاس کلومیٹر ساحلی پٹی کا علاقہ ہے اور وہ تیل کے پیسے کو سلیقہ مندی سے استعمال کر کے آج مشرق وسطٰی پر چھائے ہوئے ہیں۔ اسکے مقابلے میں پاکستان کے پاس نو سو کلومیٹر کی ساحلی پٹی ہے۔ گوادر میں اسوقت پی سی ہوٹی کی ایک برانچ کام کر رہی ہے جو کہ مسلسل خسارے میں جا رہی ہے۔
ہاشوانی صاحب کہتے ہیں کہ یہ ہوٹل انہوں نے جنرل مشرف کی درخواست پر فقط پاکستان کے روشن مستقبل کی خاطر بنایا۔ انہیں امید ہے کہ آنے والے سالوں میں گوادر ایک مصروف بندرگاہ ہو گی جسکے ذریعے نہ صرف بلوچوں کو روزگار ملے گا بلکہ پورے پاکستان کی معشت کا پہیہ تیزی سے گھومے گا۔


Demo TCP/IP Sockets Read and Write in C#, Free Udemy Course from Naeem Akram on Vimeo.

جوانوں کو مری آہ سحر دے

نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے ہاشوانی صاحب واضح طور پر جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے بار بار کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ تقریب کے اختتام پر جب ان سے کہا گیا کہ نوجوانوں کے لئے آپ کچھ کہنا چاہیں گے تو ایک لمحہ توقف کئے بغیر بولے
"They are all Sadr-ud-Din Hashwani."


کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے اس زمانے میں کسی کی کتاب کو دوکانوں سے اٹھا لینا بےوقوفی ہے۔ ہفتے والی تقریب میں کم و بیش چھے سو لوگ موجود تھے اور اتنے ہی لوگوں کو کتاب مفت تقسیم کی گئی۔
hashwani-memoir-sach-ka-safar-give-away

ستر کی دہائی سے آج تک پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک حوصلہ شکن اور بے ایمان حکومت آتی رہی۔ مجھے امید ہے کہ اگر جمہوری عمل آگے چلتا رہا، اور عالمی طاقتیں پاکستان کو لیبیا یا مصر کی طرح خانہ جنگی میں دھکیل کر لوٹ نہ سکی تو آہستہ آہستہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔
پاکستان بہرحال افریقہ کے بہت سے ممالک سے تو ہزار درجے بہتر جگہ ہے۔
میں کوشش کروں گا کہ ہاشوانی صاحب کی کتاب کے کچھ اقتسابات آنے والے دنوں میں قارئین کی نظر کروں۔ کتاب تو میں نے پڑھ لی ہے۔
tie-projector
The Indus Eentrepreneur TIE
ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، اسکا اسلام آباد چیپٹر گزشتہ چند سالوں سے دنیا بھر میں ٹائی کے بیسویں چیپٹرز میں سے ترقی پسندی کے لحاظ سے سب سے آگے مانا جاتا ہے۔ اس تقریب کا بہترین انتظام و انصرام جہاں میریٹ کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولا ثبوت ہے وہیں ٹائی کی شاندار کارکردگی کا بھی مظہر ہے۔

English version about the Hashwani book "Truth Always Prevails" can be found here
http://freelancetime.blogspot.com/2014/11/truth-prevails-hashwani.html 

Friday, September 26, 2014

ماریشس، اردو بولنے والا افریقی ملک اور پاکستان ماریشس دوستی

Mauritius

بہت سے احباب کو میری طرح یہ جان کر حیرت ہو گی کہ براعظم افریقہ میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں اردو زبان بولی جاتی ہے۔ مملکت ماریشس افریقہ کے جنوب مغربی ساحل سے بارہ سو کلومیٹر کی مسافت پر واقع جزیروں پر مشتمل آزاد ملک ہے۔ میرا ماریشس سے تعارف "پاکستان ماریشس فرینڈشپ ایسوسی ایشن" کے توسط ہوا۔ حال ہی میں اس ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس میں شرکت کا موقع بھی مِلا۔

pakistan-mauritius-friendship-association-panel-standing-ambassador
یہ تقریب چودہ اگست کے آس پاس ہونا تھی لیکن اسلام آباد کی گمبھیر سیاسی صورتحال کے باعث کافی دیر ہو گئی۔ ستمبر کے مہینے میں ماریشس کے بابائے قوم ایس ایس رامگولام (رام غلام) کا یوم ولادت ہوتا ہے،اس سلسلے میں ہونے والی تقریب کو پاکستان کے یومِ آزادی کی تقریب کے ساتھ مِلا کر ایک ہی فنکشن بنا لیا گیا۔

ماریسش میں اردو پہنچی کیسے؟

لگ بھگ ڈیڑھ سو سال پہلے ہندوستان سے بہت سے خاندان تلاش معاش میں ماریشس کے جزیرے پر پہنچے۔ جگہ اتنی دور تھی کہ اکثریت واپس نہ آ سکی۔ جزیرے کی آب و ہوا اچھی تھی، اور قسمت نے بھی یاوری کی۔ آج ماریشس میں اردو اور ہندی بولنے والوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ ان زبانوں کے علاوہ ماریشس میں انگریزی، فرانسیسی، اور کریول زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔

ماریشس کس طرح کا ملک ہے؟

والد صاحب کو ستر کی دہائی میں پاکستان نیوی کے جہاز کے ساتھ ماریشس جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ اس زمانے میں ماریشس زرعی ملک تھا، اور گنا بے تحاشہ پیدا ہوتا تھا۔ تب پاکستان میں بھٹو صاحب کی حکومت تھی اور چینی کوٹہ سسٹم کے تحت ملتی تھی، ابا جی بتاتے ہیں کہ انکے بہت سے ساتھیوں نے بیس بیس کِلو چینی خریدی کیونکہ پچیس پیسہ فی کلو چینی اس زمانے میں بھی بہت کم نرخ تھا۔
ماریشس کو افریقہ کا دروازہ کہا جاتا ہے، جو کردار ایشیا میں سنگاپور اور ہانگ  کانگ ادا کر رہے ہیں اور مشرق وسطٰی میں دبئی وہی کردار ماریشس کے جزائر افریقہ کے لئے ادا کر رہے ہیں۔
waleed-mushtaq-ceo-roots-schoolماریشس میں علامہ اقبال کا یومِ ولادت، اور عید میلاد النبی جیسی تقریبات جوش و خروش سے منائی جاتی ہیں۔ ولید مشتاق، سی ای او روٹس انٹرنیشنل سکولز کے مطابق ماریشس میں ہونے والی عید میلاد النبی کی تقریب میں ایک لاکھ کے قریب حاضرین موجود تھے، جن میں ماریشس کے وزیر اعظم بھی شامل تھے۔ وزیر اعظم اور شرکاء کی بڑی تعداد ہندو مذہب کی پیروکار ہے، اور اس تقریب سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ماریشس میں ایک دوسرے کے  عقیدے کا کس قدر احترام کیا جاتا ہے۔

پاکستان کا کرکٹ مستقبل اور ماریشس

Pakistan Cricket Mauritius

فی زمانہ پاکستان کے پاس مشرق وسطٰی اور سری لنکا کے علاوہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے مواقع بہت کم ہیں۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان میں عالمی کرکٹ دس بیس سال کے لئے دفن ہو چکی۔ اس صورتحال میں پاکستان اور ماریشس کی حکومتوں میں باہمی تعاون کی بات چیت چل رہی ہے۔ عین ممکن ہے آنیوالے چند سالوں میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اکثر میچ ماریشس میں ہوا کریں۔ پاکستانی حکومت نے ماریشس کو اس سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اسکے علاوہ رفاہ یونورسٹی بھی ماریشس میں جدید سہولیات سے لیس ایک زبردست کیمپس کھولنے جا رہی ہے۔

پاکستان ماریشس فرینڈشپ ایسوسی ایشن


پاکستان ماریشس تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ایسوسی ایشن بہت کام کر رہی ہے۔ ایسوسی ایشن کے سربراہ میجر جنرل صدیق(ر) صاحب ماریشس میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں، وائس پریزیڈنٹ سمیرا حمید کے ماریشن شاہی خاندان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، جنرل سیکرٹری فرحان ہاشمی چودہ سال ماریشس کی ایمبیسی میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ یہ تمام لوگ پرجوش پاکستانی ہیں، اور ماریشس کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
 انکے علاوہ ایسوسی ایشن کے ممبران میں بہت سے طبقات کے لوگ شامل ہیں۔ شعبوں اور طبقات کی تفصیل درج ذیل ہے

  • کاروباری طبقہ
  • تعلیمی شعبہ
  • سفارتکار
  • ادیب، شاعر
  • کھیل اور نوجوان
  • عام شہری
تمام قارئین سے گزارش ہے کہ ایسوی ایشن کا فیس بک پیج ضرور لائک کریں۔ 
Pakistan Mauritius friendship association

مجھے امید ہے کہ پاکستان اور ماریشس کی دوستی دونوں ملکوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو گی، خاص طور پر پاکستان میں نظریاتی و مذہبی عدم برداشت کے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہم ماریشس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

Tuesday, September 16, 2014

کچن گارڈننگ پائپ کے بے ٹکڑے کو ننھے کھیت میں بدلیں

گھر پر پائپ کا ایک بے کار ٹکڑا پڑا تھا سو میں نے سوچا اسکا کوئی استعمال ہی کیا جائے۔
پائپ کو کاٹ کوٹ کر مٹی سے بھرا تھوڑی محنت سے جناب دو فٹ کا کھیت تیار ہو گیا۔
مزید تفصیلات ویڈیو میں ملاحظہ فرمائیں۔



Preparing a useless PVC pipe for gardening, growing turnips and garlic - اردو from Naeem Akram on Vimeo.

Friday, April 4, 2014

Rawalpindi Metro Bus منصوبے پر کام شروع


rawalpindi-metro-murree-road-giant-drill

pindi-metro-bus-big-drill

کل مجھے چاندنی چوک سے ناز سینما روڈ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ دور سے ہی  ٹیکنالوجی کا شاہکار جہازی ڈرل مشین دکھائی دے رہی تھی، میں نے کہا سبحان اللہ۔
سب سے مزے کی بات مجھے یہ لگی کہ مشین کے آس پاس کافی مقامی لوگ اکٹھے ہو کر اسے چلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
ڈرل کے ورمے کے سائز کا اندازہ اوپر سے دوسری تصویر کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ ورمے نے ہمارے بلاگ کے لئے خصوصی پوز بھی دیا، تصویر ملاحظہ ہو
the-big-drill-rawalpindi-metro

اوپر والی ڈرل کے مقابلے میں عام طور پر بڑی لگنے والی کرین مشینیں چھوٹی دکھائی دے رہی تھیں۔ سر نیہوڑائے یہ مشین ٹھکا ٹھک سڑک میں سوراخ کئے جا رہی تھی۔


بڑے تعمیراتی پراجیکٹ کا ایک فائدہ، عوام الناس کو مزدوری مِل جاتی ہے۔

تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والی مشینیں بلاشبہ زبردست ہیں، ایک شاول کرین میٹرو بس سروس کی تعمیر میں مصروف ہے۔

بڑی ڈرل مشین کی ایک اور تصویر
ٹریفک کی صورتحال تھوڑی خراب ہے، البتہ فیروز پور روڈ لاہور والی ستیا ناس ابھی نہیں ہوئی۔



میٹرو بس مکمل ہوجانے کے بعد سواریاں ڈھونے والی ان سوزوکیوں کا کام تو 
بہرحال ٹھپ ہو ہی جائیگا۔ 











Monday, February 24, 2014

دو منٹ کا نسخہ Two minute rule

سستی اور کاہلی کے حل کے لئے کچھ دنوں سے میں ایک بڑا آسان نسخہ استعمال کر رہا ہوں، جسکی وجہ سے اچھی عادتیں اختیار کرنا اور  لٹکے کام مکمل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ نسخہ بڑا آسان سا ہے اور مجھے امید ہے کہ بہت سے احباب اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔
two-minutes-rule

دو منٹ والا نسخہ

دو منٹ والے نسخے کا مقصد ہے فالتو کاموں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے ان چیزوں پر توجہ دی جائے جو آپکی کامیابی کے لئے اہمیت رکھتی ہیں۔
بہت سے ایسے کام جو ہم سستی کی وجہ سے شروع ہی نہیں کر پا رہے ہوتے درحقیقت ایسے مشکل نہیں ہوتے، آپکو کام کرنے کا طریقہ پتہ ہوتا ہے، لیکن پھر بھی آپ کسی نہ کسی وجہ سے ٹال مٹول کری جا رہے ہوتے ہیں۔ دو منٹ والا نسخہ استعمال کرنے سے آپ سستی اور آج کا کام کل پر ڈالنے سے جان چھڑا سکتے ہیں، اسکی مدد سے آپ کام کی ابتدا کرنا آسان ترین بنا دینگے۔ دو منٹ والے نسخے کے دو حصے ہیں۔

پہلا حصہ، اگر کسی کام میں دو منٹ سے کم لگتے ہیں تو ابھی ختم کرو

اس حصے کا ماخذ ہے۔"Getting Things Done" ڈیوڈ ایلن کی کتاب 
آپکو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ بہت سارے کام فقط دو منٹ یا اس سے کم مکمل کیئے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی پرنٹ نکالنا، ای میل بھیجنا، کسی بندے کو فون کرنا، یا اپنی ٹیبل پر چیزوں کو ترتیب سے رکھنا۔ اب اگر کوئی کام دو منٹ سے کم میں کیا جا سکتا ہے تو فٹا فٹ اس سے جان چھڑائیں۔

دوسرا حصہ، جس کام کی بھی عادت ڈالنی ہے اسکو دو منٹ سے کم وقت دینا

کیا بندے کے سارے کام دو منٹ سے کم وقت میں ختم ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں جناب۔
البتہ ہر اہم ہدف کے حصول پر کارروائی دو منٹ یا اس سے کم میں شروع کی جا سکتی ہے۔ کام شروع کرنا ہی اس تکنیک کا بنیادی مقصد ہے۔ آپکو لگے گا کہ زندگی کے بڑے بڑے مقاصد حاصل کرنے کیلئے یہ طریقہ بہت سادہ ہے۔ لیکن جناب یہ طریقہ سادہ ہرگز نہیں ہے، اسکی وجہ ہے اسحاق کا قانون حرکت۔
isaac-newton-apple

اسحاق کا قانون حرکت اور ہماری زندگی

سبھوں نے بابے اسحاق کا قانون تو میٹرک میں پڑھ رکھا ہو گا۔ کونسا بابا اسحاق؟ اوہو وہی جسے انگریز سر آئزک نیوٹن کہتے ہیں۔ قانون کچھ یوں ہے،
رُکی ہوئی چیزیں ہمیشہ رُکا ہوا رہنا چاہتی ہیں، اور حرکت کرتی ہوئی چیزیں ہمیشہ حرکت میں رہنا چاہتی ہیں۔

دو منٹ کا نسخہ بھی اسی وجہ سے کامیاب ہے، ایک مرتبہ کوئی کام شروع کر دیں کر لیں پھر اسکو جاری رکھنا آسان ہو گا۔ چند ایک مثالیں چیک کریں۔

مثالیں
ملازمت کے ساتھ ساتھ فری لانس پروفائل بنانا چاہتے ہیں؟ فقط دو منٹ نکالیں شروع میں پروفائل بنانے کے لئے اور اسکے بعد پراجیکٹس پر بولیاں لگانے یا بڈنگ کرنے کے لئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپکا پروفائل بھی بن جائیگا اور پہللا آن لائن پراجیکٹ بھی مِل جائیگا۔
بہتر لکھاری بننا چاہتے ہیں؟ صرف دو منٹ نکالیں اور دو فقرے لکھنے سے ابتدا کریں، گھنٹے بعد ہوش آئیگی تو دو صفحے کالے ہو چکے ہونگے۔

امتحان میں دو مہینے رہتے ہیں، پڑھائی شروع کرنی ہے؟ بیٹا صرف دو منٹ کے لئے پڑھنے بیٹھ جائو، دِن میں ایک آدھی کوشش کر لیا کرو انشاءاللہ چیپٹر کے چیپٹر پھڑکا دو گے۔

میں نے گھر میں کچھ سبزیاں لگائی تھیں، اب گھاس بہت زیادہ ہے کیا کروں؟
بس دو منٹ دیتاہوں، آہستہ آہستہ جڑی بوٹیوں کی ایسی تیسی ہو جائیگی۔

صحت بخش غذا کو عادت بنانا ہے؟ بس دو منٹ نکلیں، اور فٹا فٹ ایک آدھا کیلا یا مالٹا چھیل کے رگڑ جائیں۔ رفتہ رفتہ عادت بن جائیگی۔
 کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالنی ہے؟ صرف دو منٹ نکالیں، ایک آدھا صفحہ پڑھنے کے لئے۔ پتہ بھی نہیں چلنا اور آدھا گھنٹا گزر جائے گا۔
ھفتے میں تین دِن ورزش کرنی ہے؟ ہر سوموار، بدھ، اور جمعے کو بس جاگر پہنیں اور جیسے تیسے گھر سے باہر نکلیں، نتیجہ پتہ چلے گا کہ جناب نے تین میل دوڑ لگا لی ہے۔

کوئی بھی نئی عادت ڈالنے کے لئے بسم اللہ کرنا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ نہ صرف پہلی بار، بلکہ بار بار۔ دیکھا جائے تو کام کو کامیابی سے سرانجام دینے سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کام کو شروع تو کیا جائے۔ نئی اچھی عادتیں ڈالتے وقت یہ حقیقت اور بھی اہمیت رکھتی ہے، دیکھیں آج کام شروع کریں گے تو کل اسمیں مہارت بھی حاصل کر لیں گے۔ شروع ہی نہیں کرنا تو مہارت کا میم بھی حاصل نہیں ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ دومنٹ کا نسخہ اچھے یا برے نتائج سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ اسکا تعلق کسی کام کو کس حد تک سرانجام دینے اور نئی عادتیں ڈالنے سے ہے۔
سارا زور حرکت کرنے اور پھر اسکے نتیجے میں معاملات کے آگے چل نکلنے پر ہے۔
تو پھر کریں ایک کوشش؟
میں اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ دو منٹ کا نسخہ آپکے لئے کارگر ہو گا یا نہیں۔ البتہ یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ کبھی کوشش ہیں نہیں کریں گے تو یہ کبھی کارگر نہیں ہوگا۔
ہم کتنی تحریریں پڑھتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، اور لیکچر سنتے ہیں لیکن ان تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال میں نہیں لاتے۔
میری خواہش اور گزارش ہے کہ اس تحریر کے ساتھ آپ مختلف طریقے سے پیش آئیں۔ 
ہے کوئی ایسا کام جو آپ کرنا تو چاہتے ہوں مگر کاہلی کی وجہ سے کر نا پا رہے ہوں؟ ابھی دو منٹ دیں یار۔ سارے ایک سو بیس سیکنڈ کی تو بات ہے۔ 
چلو شروع ہو جائو۔۔۔
Source: http://www.entrepreneur.com/article/230591

Friday, February 21, 2014

سی ای او نے اپنی اوقات یاد رکھی WhatsApp

 چند روز قبل فیس بک والوں نے مشہور زمانہ موبائل میسجنگ سسٹم واٹس ایپ کو انیس بلین ڈالر کے عوض خرید لیا۔ واٹس ایپ کی کل ٹیم اس وقت پچاس لوگوں پر مشتمل ہے۔
اس خریداری کی کاغذی کاروائی کو حتمی شکل دینے کے لئے واٹس ایپ کے سی ای او جین کوم نے چند دستاویزات پر دستخط کرنے تھے۔ موصوف نے دستخط کرنے کے لئے ایک نرالی جگہ کا انتخاب کیا۔
جین کوم کا تعلق یوکرائن سے ہے، اسکا بچپن کسمپرسی کی حالت میں گزرا اور جب جین کی عمر کوئی پندرہ سولہ برس تھی تو گھر والوں کے ساتھ وادیء سلیکون، یا سلیکون ویلی کے علاقے میں آن بسیرا کیا۔
ان لوگوں کی رہائش چھوٹے سے حکومتی فلیٹ میں تھی؛ کوم کی والدہ چار پیسے کمانے کے لئے لوگوں کے بچے سنبھالتی تھی۔



اسکے علاوہ، انکا گزارہ فوڈ سٹیمپ کی ٹکٹوں پر بچت کر کر کے ہوتا۔

تو میں آپکو بتا رہا تھا کہ جب فروخت کے معاہدے پر دستخط کرنے کا وقت آیا تو کوم کو پکا پتہ تھا کہ اسکے حساب سے بہترین جگہ کونسی بنتی ہے۔
فوربز میگزین کی پالمی اولسن لکھتی ہیں
کوم، اسکے ساتھ مل کر کام شروع کرنے والا برائن ایکٹن سیکویا سے سرمایہ دار جم گویٹز گاڑیوں پر واٹس ایپ کے دفتر سے چند فرلانگ دور چلے گئے، ایک پرانی متروک سفید رنگ کی عمارت میں، جہاں کسی زمانے میں نارتھ کائونٹی کا سوشل سیکورٹی دفتر ہوا کرتا تھا۔ کوم جسکی عمر اب سینتیس سال ہے، کبھی اس جگہ کھڑے ہو کر راشن رعایت ٹکٹیں لیا کرتا تھا۔ اور اسی جگہ کھڑے ہو کر ان تینوں نے فروخت کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔
جین کوم فروخت کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے۔
"Koum, cofounder Brian Acton and venture capitalist Jim Goetz of Sequoia drove a few blocks from WhatsApp’s discreet headquarters in Mountain View to a disused white building across the  railroad tracks, the former North County Social Services office where Koum, 37, once stood in line to collect food stamps. That’s where the three of them inked the agreement to sell their messaging phenom..."

بندے کو اپنی اوقات کسی بھی حال میں نہیں بھولنی چاہیئے۔ عاجزی ایک بیش قیمت اثاثہ ہے، بڑے لوگ بہت عظیم کام کر لینے کے بعد بھی شوخے نہیں ہوتے۔ چھوٹے بندے ذرا سی کامیابی حاصل کر لیں تو انکی گردن میں سریا آ جاتا ہے جو کہ بے تکی بدمعاشی کی وجہ سے گردن سے نکل کر گاف الف گا ڈیش ڈیش میں منتقل ہوتے دیر نہیں لگتی۔

Source: trove.com/me/content/EZRd4?chid=144757&utm_source=editorial&utm_medium=social&utm_campaign=srfan

Wednesday, February 12, 2014

Best Call Blocker الحمدللہ میری اینڈرائڈ ایپ پانچ سو مرتبہ ڈائنلوڈ ہو گئی

عزیزان من، نوکری چھوڑ کر اپنا کام شروع کیا تو اکثر کرنے کو کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ فرصت کے لمحات میں مجھے ایک آئیڈیا سوجھا کہ جب میرا بیٹا میرے اینڈرائڈ موبائل کے ساتھ کھیل رہا ہوتا ہے تو اکثر وہ الٹے پلٹے نمبروں پر کالیں ملا چھوڑتا ہے۔ کیوں نہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے۔
مارکیٹ کا جائزہ لیا تو اس کام کے لئے موجود مفت سافٹ ویئر یا تو بیٹری بہت کھاتے تھے یا اشتہارات دکھانے کے لئے انٹرنیٹ سے منسلک ہو جاتے تھے، اسکے علاوہ فون کی کنٹکٹ بک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا چاہتے تھے۔ میں نے سوچا یہ تو بری بات ہے۔ تو جناب میں نے ایک سادہ، صاف ستھرا، اور آسان سا سافٹ ویئر بنایا جس کی مدد سے آپکے فون سے کال کرنا ناممکن ہو جاتا ہے جب تک آپ چاہیں۔ اسکے علاہ کال ملانے کے لئے پاسورڈ بھی درکار ہوتا ہے۔
 گزشتہ چھے ماہ میں پانچ سو تیرہ مرتبہ ڈائنلوڈ ہو چکی ہے۔ Best Call Blocker میری اس اپلیکیشن 
اپلیکیشن سے متعلقہ شماریات کا ایک سکرین شاٹ نیچے دیا ہوا ہے۔
best-call-blocker-statistics-overview

اپلیکشن ڈائونلوڈ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=bestcallblocker.honestitconsultancy.com

موبائل فون سے گوگل پلے سٹور استعمال کرتے ہوئے اگر آپ اس ایپ کو تلاش کرنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل فقرہ لکھ کر ڈھونڈیں
"Best Call Blocker"
خیال رہے کہ دائیں بائیں کوٹیشن مارکس لگانا لازمی ہے۔
best-call-blocker-500

براہ کرم ایپ کو ڈائونلوڈ کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
آپ کے خیال میں اس ایپ کو بہتر بنانے کے لئے کیا کرنا چاہیئے؟ براہ کرم مشورہ دیں۔

Saturday, February 8, 2014

ایک سمجھدار مغوی اور ایک محنتی پولیس افسر اغوا کاروں تک جا پہنچے

تھانہ کڑیانوالہ کے ایس ایچ او انسپکٹر عدنان ملک ایک جفا کش اور ایماندار افسر ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک نشست میں انہوں نے کافی دلچسپ واقعات سنائے۔ اس واقعہ کو رقم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کسی مشکل صورتحال میں پھنس گئے ہیں تو اپنے حواس پر قابو رکھیں اور جسقدر نشانیاں ممکن ہوں یاد رکھیں۔ واردات ختم ہو جانے کے بعد بھی اگر آپ گزشتہ پندرہ دِن کا 
صحیح طور پر جائزہ لے سکیں تو عین ممکن ہے ڈور کا سرا آپکے ہاتھ آ جائے۔



ملک صاحب ان دنوں جی ٹی روڈ پر ایک شہر میں تعینات تھے۔ وہاں سے کچھ جرائم پیشہ افراد نے ایک نوجوان کو اغوا کر لیا۔ لڑکے کو چالیس دِن یرغمال رکھنے کے بعد انہوں نے گیارہ لاکھ روپے تاوان کے عوض اُسے رہا کیا۔
جب مغوی واپس گھر آیا تو ملک صاحب نے اسکے ساتھ ملاقات کی، انہوں نے اسے اپنے ذہن پر زور دینے کو کہا۔ ادھر ادُھر کی گپ شپ کے دورا ن مغوی جسکا فرضی نام طیب تھا بتایا کہ اسے ایک ڈیرا نما جگہ پر رکھا گیا تھا، اس ڈیرے پر چند دِن کسی تعمیراتی کام کے لئے اینٹیں منگوائی گئی تھیں جن پر کے ٹی ما مارکہ تھا۔ اسکے علاوہ وہاں سے ایک موبائل کا ٹاور نظر آتا تھا جس پر تین بتیاں جل رہی ہوتی تھیں۔
عام طور پرموبائل ٹاور کے اوپر دو بتیاں ہوتی ہیں، یہ تین بتیوں والا ٹاور ایسا تھا جس پر کوئی ٹی وی کا انٹینا بھی لگا ہوا تھا۔ ملک صاحب نے تین بتیوں والے اس ٹاور کی لوکیشن پتہ چلانے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کروا دی۔ اسکے علاوہ انہوں نے مغوی طیب کو اپنے ساتھ بٹھایا اور اس جگہ لے گئے جہاں مجرموں نے اس رہا کرنے کے بعد چھوڑا تھا۔
وہاں پہنچ کر موقع کا جائزہ لیتے لیتے طیب کو اچانک ایک کلیو یاد آیا۔ اس نے انسپکٹر صاحب کو بہت ایکسائٹمنٹ کے ساتھ بتایا کہ جن دنوں وہ اغوا کاروں کے ڈیرے پر تھا تو قریب گائوں کی مسجد میں چندہ اکٹھا کیا جا رہا تھا۔ چندہ اکٹھا کرتے وقت مولوی صاحب کہتے تھے "مالی پور والیو اپنے آپ اتے بڑا خرچ کردے او، کدی اللہ دے گھر اتے وی خرچ کر لیا کرو۔" یعنی کہ مالی پور والو خود پر تو بڑا خرچ کرتے ہو کبھی اللہ کے گھر پر بھی خرچ کر لیا کرو۔

یہ سنتے ہیں انسپکٹر صاحب نے فوری طور پر مزید نفری طلب کر لی اور اپنا رخ مالی پور گائوں کی طرف کر لیا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے گاڑی گائوں سے باہر روکی اور منظر کا جائزہ لیا تو تین بتیوں والا ٹاور انہیں قریب ہی نظر آ گیا۔ ایک دو اور چکر لگانے کے بعد انہیں مجرموں کے ڈیرے کا سراغ بھی مِل گیا۔ اسی اثنا میں مزید نفری بھی آن پہنچی۔
بہت پھرتی کے ساتھ کاروائی کرتے ہوئے مجرموں کو ڈیرے سے گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں تاوان کی رقم بھی مغوی کے ورثاء کو واپس دلوائی گئی۔
بے شک اس واقعے میں مغوی طیب کی حاضر دماغی کا بہت اہم کردار ہے، لیکن ہمیں انسپکٹر صاحب کی فرض شناسی کی بھی داد دینی چاہیئے۔ کیونکہ انہوں نے مغوی سے گفتگو کی، اسکے ساتھ موقع پر گئے، اور پھری ایک کامیاب ریڈ بھی کروائی۔
پنجاب پولیس میں کالی بھیڑیں بہت ہیں، البتہ سفید بھیڑیں بھی موجود ہیں اور ہمیں ان چند کملے لوگوں کے کارناموں کو ضرور سراہنا چاہیئے۔

Thursday, February 6, 2014

منظر پاکستان کے


travel-in-pakistanstudents-travel-pakistan
سردیوں کے موسم میں سکول جانا کوئی آسان کام نہیں۔ بائیں طرف دی گئی تصویر ملاحظہ فرمائیں، بس کی چھت پر بیٹھے سکولئے بچے دسمبر کی سرد صبح میں ٹھروں ٹھروں کرتے سکول جاتے ہیں۔
دائیں طرف والا نوجوان چیک کریں، دیسی سپائیڈر مین۔


 make-shift-truck
اور یہ جگاڑ تو اکثر دیہاتی علاقوں میں نظر آتا ہے۔ شہروں میں ٹریفک پولیس کا تھوڑا ڈر ہوتا ہے۔ چھتوں پر لنٹر ڈالنے والی پارٹیاں اس انجن کو استعمال کر کے کنکریٹ بلندی پر چڑھانے والی لفٹ چلاتے ہیں۔

hand-pump-pakistangoat-and-son-pakistan

بائیں جانب دکھائی دینے والا ہینڈ پمپ المعروف نلکہ اب تو دیہات میں بھی شاذ و نادر دکھائی دیتا ہے۔ اور دائیں جانب والی بکری اور اسکا میمنا یا میمنی بس ایویں ای۔۔۔

loaves-on-koloh-pakistan pro-makes-loaves-kaloh-pakistan
کولوہ ایک نڑا سا توا ہوتا ہے۔ چند روز پہلے پھوپھو مرحومہ مغفورہ کے چالیسویں کے سلسلے میں ہمارے ہاں روٹیاں پکانے کے لئے کولوہ لگائی گئی۔ اسکو لگانے کے لئے ماہرین ایک دن پہلے آن پہنچے۔ انہوں نے ایک مورچہ نما چولہا بنایا اور پھر اسکے اوپر توا سیٹ کیا۔ اگلی صبح آٹھ بجے ہی اپنا کام شروع کر دیا۔ یہ بڑی بڑی روٹیاں، ۔۔۔

making-of-a-tower-pakistan


ایک بجلی کا کھمبا بنتے دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ بھئی واپڈا والے بھی کیا تکلف کر رہے ہیں۔ گرمیاں آنے والی ہیں تو بھلا اس کھمبے کا کیا کام؟

wooden-legpakistan-army-mortar-gun

حال ہی میں جی ٹی روڈ پر سفر کے دوران پاکستان آرمی کا ایک قافلہ مِلا۔ بڑی بڑی شاندار قسم کی مارٹر گنز کو کہیں لے جایا جا رہا تھا۔
اور دائیں طرف ایک سائیکل سوار جو چند ماہ قبل لاہور میں دکھائی دیا۔ لکڑی کی ٹانگ پر سائیکل چلاتا ہوا۔ شاباش ہے بھئی۔۔۔

writings-in-sky-pakistan
چند روز قبل شام کے وقت  کہیں جانے کا اتفاق ہوا، آسمان پر یوں محسوس ہوتا تھا بادلوں سے کچھ لکھا ہو۔ اور سورج چاچو ڈوب رہے تھے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer