Saturday, October 29, 2011

رِم جھم اور کمینے لوگ۔۔۔

کہنے کو تو چھے بجے چھٹی ہو جاتی ہے لیکن، نہ نہ کرتے بھی دفتر سے نکلتے ساڑھے چھے بج ہی جاتے ہیں۔ بہر حال ایسے بھی سافٹ ویئر ہائوس ہیں جہاں رات دس بجے تک جان نہیں چھوٹتی، شکر ہے یہاں اسطرح نہیں ہوتا۔ باجوہ نے فٹا فٹ دروازہ کھولا، بٹوہ اور دونوں موبائل فرنٹ سیٹ پر پھنیکے، گاڑی سٹارٹ کی، اور کیٹی پیری کے گانے لگا لئے۔ اُسکے سارے دوست شغل لگاتے تھے کہ کیٹی پیری تو لڑکیاں سنتی ہیں، اور آئی فون کمپیوٹر سے ناواقف لوگوں کا کھلونا ہے لیکن اُسے دونوں چیزیں اچھی لگی تھیں سو وہ پرواہ نہیں تھا کرتا۔
گاڑی بیسمنٹ سے باہر آتے ہی اُسکا دِل خوش ہو گیا، بھئی شام کا وقت جمع رِم جھم رِم جھم پڑے پھوار، اُس نے اے سی بند کر کے دونوں شیشے نیچے کئے اور گانوں کی آوازمزید اونچی کر دی۔ بیچارہ کنوارا بندہ اب ایسے ہی انجوائے کر سکتا ہے۔
گلبرگ کے مین بلیوارڈ پر اُسکی توقع کے مطابق آج خوب رش تھا، عوام الناس ٹھنڈے موسم کا کا مزا لینے کے لئے گھروں سے نکلے ہوئے تھے۔ اکثریت کا رُخ ایم ایم عالم روڈ، اور قذافی سٹیڈیم والے ریسٹورانٹس کی طرف ہی تھا۔ لاہوریوں کو تو بس روٹی کھانے کا بہانہ چاہئیے، ذرا موقع مِل جائے سہی۔
مین مارکیٹ والا اشارہ بند تھا، اُس نے درمیان والی لین میں گاڑی لگا دی، چند سیکنڈ میں پیچھے بھی رش لگ گیا۔ گجرے بیچنے والے چُن چُن کر جوڑوں کی ۔ گاڑیوں موٹرسائیکلوں کے پاس جا رہے تھے، اور دھڑا دھڑ مال بیچ رہے تھے۔ بھکاریوں کی بھی موجیں لگی تھیں۔
اچانک بائیں جانب کھٹکا سا ہوا، کھلے شیشے میں سے ایک ہاتھ جانے کب اندر آ گیا اُسے پتہ ہی نہیں چلا البتہ باہر نکلتے اُسکی شرٹ کا بٹن شیشے پر لگنے کی وجہ سے آواز پیدا ہو ہی گئی۔ باجوہ کو یہ نہیں پتہ چلا کہ چور نے اُٹھایا کیا تھا، بس اُسے اتنا پتہ تھا کہ کوئی ہینڈ ہو گیا ہے۔ اُس نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور پوری قوت سے اچکے کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔  دِن دیہاڑے ہونے والی اس واردات نے اُسکا تو میٹر ہی آئوٹ کر دیا تھا، وہ سوچ رہا تھا کہ بس یہ بندہ پکڑا جائے توٹانگیں توڑ دوں سالے کی۔
چور اب تک سڑک کے بائیں جانب سروس لین میں پہنچ چُکا تھا۔۔۔
"اوئے رُک کُتے۔۔۔ تیری ماں کی ****** ۔۔۔" 

مین مارکیٹ کا اشارہ، جدھر گاڑیاں کھڑی ہیں باجوہ اُدھر سے آ رہا تھا
باجوہ چیخا لیکن چور کو بھی پتہ تھا کہ آج پکڑا گیا تو بہت بُری ہو گی، باجوہ کو اپنی ٹانگوں پر بھروسا تھا، لیکن چور اُسکی توقعات سے زیادہ کمینہ ثابت ہوا۔ اُسکی اگلی حرکت باجوہ کے لئے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی۔
چور ایک پہلے سے سٹارٹ کھڑے موٹر سائیکل پر بیٹھا، اور اُسکے منتظر موٹر سائیکل سوار نے دستی موٹر سائیکل بھگا دی۔ باجوہ۔۔۔ بیچارہ۔۔۔ ماتھے پر ہاتھ رکھے وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔
سگنل کھل چُکا تھا اور سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی اُسکی گاڑی کی وجہ سے خاصہ اُدھم مچا ہوا تھا۔ اُس نے شکر کیا کہ گاڑی وہیں سٹارٹ کھڑی تھی، ورنہ اگر چوروں کا کوئی تیسرا ساتھی گاڑی بھی بھگا لے جاتا تو وہ فوراً کچھ نہ کر پاتا۔ سیٹ پر پڑا بٹوہ اور نیا سیم سنگ گلیکسی جیو موبائل پڑا دیکھ کر اُس نے سکھ کا سانس لیا۔  البتہ آئی فون تھری جی ایس کو غائب پا کر اُسے بڑا افسوس ہوا اور نقصان کا اندازہ بھی۔ اُس نے سیٹ کے نیچے اور آس پاس دیکھا، لیکن آئی فون ندارد۔ چور نے اندھا دھند ہاتھ مارا، اور جو اُسکو مِلا وہ لے کر بھاگ گیا۔
یہ ایک سچے واقعے کی رودار ہے، اور باجوہ میرا دوست ہے۔ شہر میں آجکل اس قسم کے واقعات عام ہیں۔ اللہ کا شکر ہے یہاں کراچی جیسی موبائل سنیچنگ نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی کافی کچھ ہو جاتا ہے۔ اگر اگلی مرتبہ آپ خوشگوار موسم میں ڈرائیونگ کر رہے ہوں تو جناب احتیاط کیجئے گا، ورنہ بعد میں افسوس کرتے  پھریں گے۔ اسکے علاوہ رش والی جگہوں پر عورتوں کے پرس جھپٹ کر دوڑ جانے والے گرگے بھی کافی ہیں، بیگم کی ایک سہیلی کو چھوٹی عید کے دِنوں میں چونا لگا تھا۔

No comments:

Post a Comment

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer