Thursday, September 29, 2011

وزیر خارجہ حنا ربانی کا الجزیرہ کو انٹرویو، ترجمہ اور ٹرانسکرپٹ

پاکستانی وزیر خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر کا امریکہ کو سیدھا جواب، اردو ترجمہ اور انگریزی ٹرانسکرپٹ


الجزیرہ: امریکی جائنٹ چیفس کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نے جمعرات کے روز بنیادی طور پر، بلاواسطہ آئی ایس آئی پر حقانی نیٹ ورک کی امداد کرنے کا یا اُنکا بازو ہونے کا، اور کابل میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا الزام لگایا۔ آپکی حکومت کا اس بارے میں کیا رد عمل ہے؟
:حِنا ربانی کھر
یہ ایک ایسی چیز ہے جو کہ ہماری طرف بہت بہت بہت ناپسندیدہ سمجھی جا رہی ہے۔ بالکل بے بنیاد ہے، ہمیں کوئی ثبوت نہیں دکھائے گئے۔ آپ رابطوں کی بات کرتے ہیں تو مجھے پورا یقین ہے سی آئی اے کے بھی دنیا میں بہت ساری دہشت 
گرد تنظیموں سے روابط ہیں۔ روابط سے سے ہماری مراد جاسوسی روابط ہیں۔ اور یہ مخصوص نیٹ ورک جسکے بارے میں مسلسل باتیں کی جا رہی ہیں ایسا نیٹ ورک ہے جو کہ برسوں امریکہ کی آنکھ کا تارا رہا ہے، مطلب اسکو تو بنایا ہی سی 
آئی اے نے تھا، ایک طرح سے۔

الجزیرہ: یہ بڑا گمبھیر الزام ہے، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر اسکا کیا اثر پڑے گا؟
:کھر
حصے دار، اتحادی۔۔۔ ایک دوسرے سے عوام کے ذریعے بات نہیں کرتے۔  یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہم نے امریکہ کے سامنے اٹھایا ہے، ہم یہ مسئلہ امریکہ کے سامنے پہلے بھی لے کر گئے تھے اور اگر اسی طرح چلتا رہا تو ہم واحد نتیجہ نکال
سکتے ہیں کہ یہ امریکہ کا پالیسی فیصلہ ہے اور اس صورت میں ہمیں بھی اپنا پالیسی فیصلہ کرنے کا پورا حق  حاصل ہے۔
ہم امریکہ کے ساتھ مِل کر کام کرنا چاہتے ہیں، ہم بارہا کہہ چُکے ہیں۔ 
مسئلہ پیچیدہ ہے، قربانی کے بکرے تلاش کرنے سے۔۔۔ الزام تراشیاں کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ مجھے امید ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کا موقع دیا جائے گا اور دروازے کھلے رہیں گے۔ کیونکہ اِس طرح کے بیان تقریباً دروازے بندے کرنے والی ہی بات ہو جاتی ہے۔
الجزیرہ:  ایڈمرل مولن کے تاثرات کو ایک طرح سے تیسرا وار بھی کہا جا سکتا ہے۔ آپکی انتظامیہ نے امریکی حکومت پر مغربی قبائلی علاقہ جات میں ڈرون حملوں پر تنقید کی ہے۔ اسکے علاوہ آپکی فوج یا انتظامیہ کے علم میں لائے بغیر اسامہ بِن لادن کو  پاکستانی سرزمین پر حملہ کر کے قتل کیا گیا۔ ایسا کیا ہو سکتا کہ 
جسکے بعد بالآخر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ٹوٹ جائیں گے؟

:کھر
میرے خیال میں ہماری برداشت سے بڑھ کر ہمارا صبر مت آزمایا جائے۔ آپکو زمینی حقائق پر نظر رکھنی پڑتی ہے، ہم بار بار کہہ چُکے ہیں کہ ڈرون حملوں کا استعمال نہ صرف ہماری سالمیت کے خلاف ہے بلکہ الٹا نقصان دہ ہے۔ اِس سے وہ لوگ 
غیر بن جاتے ہیں جنکو آپ دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی میں دوست بنانا چاہتے ہیں۔
صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کی حکومت نے پاکستانی عوام میں اس جنگ کو اپنی جنگ ماننے کے سلسلے میں بڑا اعلٰی کام کیا ہے۔
اب ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ بڑی جان جوکھم میں ڈال کر انہی لوگوں کو دشمن بنا 
رہا ہے۔
English Transcript of  Hina Rabbani Khar's Interview with AlJazeera TV
AlJazeera: The American Chairman of the Joint Chiefs Admiral Mike Mullen on Thursday essentially accused, indirectly accused the ISI of helping the Haqqani network or being an arm of Haqqani network and carrying out these attacks on US embassy in Kabul. How does your government responsd to that?

Hina Rabbani Khar: Its just something which is... obviously goes very very very unappreciated on our side. This is unsubstantiated, no evidence has been shared with us. If you talk about links I'm quite sure CIA also has links with many terrorist organizations around the world, by which we mean intelligence links.And this particular network that they continue to talk about is a network which is the blue eyed boy of CIA itself for many years, I mean it was created by the CIA it could be said.

AlJazeera: this accusation its very serious, how is it going to affect the relationship between Pakistan and Unites States.

Hina Rabbani Khar: Partners... Allies do not talk to each other through the public.this is something that we took up we have taken up with the US and if this continues the only way that we have to interpret this is that this is the policy decision of the US then we have the right to be able to take our own policy decisions. We want to partner with the US, we have said this repeatedly. This is a complex problem, looking for scape goats... blame games will not help. I just hope that we'd be give a chance to cooperate each other and the doors will remain open. Because statements like this are pretty much close to shutting those doors.

AlJazeera: The comments by Adm. Mullen can be seen almost as a third strike. Your administration has criticized the US gov for the drone strikes in western tribal areas. You have the attack that killed Osama Bin Ladin on Pakistani soil without knowledge of Pk military or Admin. What would it take to finally break that relationship between the Unites States and Pakistan.

Hina Rabbani Khar: I think we must not be tested more than we have the ability to bear.  You have to look at the ground realities, we have repeatedly said tha use of drone attacks is not against our sovereignty it is also counter productive. It alienates the people that you want to build as friends against this fight against terrorism. The gov of pres zar and pm gilani has done an excellent job in being able to develope ownership of this war from amongst the people of Pakistan.
Now it seems as if the US is going out of its way to alienate the same  been able to develope an ownership of this war for.

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer