Wednesday, August 3, 2011

کیا عشق بھی ایک بلاوجہ بڑھایا چڑھایا نظریہ ہے؟

کتابوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں، ساٹھ ستر سالوں میں لاکھوں فلمیں بن گئیں، بےشمار گیت لکھے گئے۔ سب کا مرکزی خیال صرف ایک، عشق۔ عشق ایک قابلِ قدر جذبہ ہے لیکن آج کی دنیا میں لگتا ہے مختلف دوکانداروں نے اپنا اپنا سامان بیچنے کی خاطر اس جذبے میں کچھ زیادہ ہی ہوا بھر دی ہے۔ غبارے کی طرح، اسکا اپنا جسم چھوٹا سا ہی ہوتا ہے، لیکن اندر بھری ہوا کی وجہ سے وہ بہت بڑا دکھائی دیتا ہے۔
فلم بنانی ہو، گانا لکھنا ہو، ڈرامہ بنانا ہو، ناول یا کہانی لکھنی ہو، سیدھا سا فارمولا ہے۔ ایک ہیروئن پکڑیں، ایک ہیرو ڈالیں، ایک ولن اور ہمنوا میں ظالم سماج جمع کریں۔ پریم کہانی کا آغاز ہو گا، پھر اسکی بہاریں دکھائی جائیں گی، پھر جناب بیچ میں ولن اور ظالم    سماج کود پڑیں گے، جنکو دنیا میں فساد پھیلانے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ اب عشاق اور سماج میں ٹھن جائے گی، حالات گمبھیر ہوں گے، شور شرابہ ہوگا، مارا ماری ہو گی، اور بالآخر گندے بندوں کی ایسی کی تیسی کرتے ہوئے ہیرو ہیروئن نکل جائیں گے جنگلوں کی طرف۔
میں نے ایک موٹا موٹا خاکہ بتایا ہے، اس میں مختف مصالحے مختلف مقداروں اور  مختلف ٹائمنگ کے ساتھ ڈالتے جائیں اور نت نئے لالی پاپ بناتے جائیں۔


عشق کی پیکنگ میں اپنا مال بیچنے والے لوگوں نے انسانی زندگی کے خاص الخاص جزو کو ایسا استعمال کیا ہے کہ کُل کا انجر پنجر ہِل گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارا سوشل فیبرک۔ 
پاکیزہ، شعاع، خواتین ڈائجسٹ، رنگ برنگی فلمیں گانے، اور ان جیسے سستے فکشن فروش ہمیشہ عشق کی مخالفت کرنے والوں کو ظالم ثابت کرنےپر تلے رہتے ہیں۔ اور انکی کہانیوں میں عشق ہمیشہ مظلوم ہوا کرتا ہے۔ جناب عشق حقائق سے فرار دلانے والی نیند کی گولی، اور عقل کا اندھا بھی ہوتا ہے۔ عشق کی مخالفت کرنے والے ظالم انا پرست بھی ہوتے ہیں لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار انکا تجربہ، علم، اور وسعت نظر  گرم رو نوجوانوں کے سے بہت زیادہ، اور نیت صاف ہوتی ہے۔ وہ زمینی حقائق اور تجربے کی روشنی میں صحیح بات کر رہے ہوتے، ہیں، ان سے اپنا بیٹا، بیٹی، بہن، بھائی انکی آنکھوں کے سامنے خراب ہوتا ہوا نہیں دیکھا جا رہا ہوتا۔
عشق فروشوں کی عشق عشق عشق عشق کی سستی گردان نے عشق کو ایک ہوّا بنا دیا ہے۔ حالانکہ آج سے پچاس سال پہلے بھی  لوگ عشق کیا ہی کرتے تھے لیکن تب خود کشیوں، کورٹ میرجز، اور اسی نوع کے مسائل بہت کم تھے۔ تب لوگ عشق بازی کے علاوہ اور بھی کام کیا کرتے تھے۔
کورٹ میرج کی تو میں ایک حد تک حمایت بھی کرتا ہوں، کیونکہ دوسری طرف ہمارے جھوٹے معاشی رسوم و رواج نے نکاح جیسی جائز ضرورت کو عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور کر دیا ہے۔ دھوم دھام سے شادی بھی میرے خیال سے ایک ہوا ہی ہے۔
اسکے علاوہ بدقسمتی سے ہم لوگوں کی غیرت اور غصہ کوئی زیادہ ہی تیز ہے، نتیجے کے طور پر بہت سے لوگوں کی جائز خواہشات بھی نہیں پوری ہو رہی ہوتیں تو بہرحال کورٹ میرج ایک طرح سے سماج کے خلاف ہتھیار بھی ہے۔
ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انسانوں کی تاریخ میں پروپگینڈا کی کیا اہمیت ہے، جرمن نازیوں کا جنگی پراپگینڈا، انیس سو اکہتر میں ہندوستان کا پاکستان کے خلاف پراپگینڈا، روس افغانستان جنگ میں مولویوں کا دہریئے روسیوں کے خلاف پراپگینڈا، بینکنگ سیکٹر کا مڈل کلاس کو آسانی سے ساری خوشیاں پا لینے کا پراپگینڈا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ عشق بھی ایک پراپگینڈا ہی ہے۔ جسکا مقصد صرف اپنا اپنا مال بیچنا ہے۔ لیکن اسکے نتیجے میں ہونے والا نقصان کوئی نہیں دیکھ رہا۔
شاید عشق ایک اوور ایکسپوزڈ پراپگینڈا ہے، اور بہت سارے نشوں کی طرح ایک  نشہ جن میں دھت رہ کر غریب، اورمتوسط  کلاس کے چوہے ساری زندگی دوڑتے دوڑتے گزار دیتے ہیں۔
خود سوچیں، دنیا میں کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں ہے۔ اللہ کی زمین گھومیں، بے انت پھیلے خلائوں اور کہکشائوں کو جانیں، کوئی ہنر سیکھ لیں یا کوئی بڑا کاروبار بنائیں اپنے ساتھ ساتھ اور کئی لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنیں، بھوکوں کو کھانا کھلائیں، انسانی جسم کے اندر کا مطالعہ کریں ڈاکٹر بن کر مسیحا ہو جائیں، کوانٹم فزکس کے پیچھے پڑ جائیں اور دیکھیں تو سہی کیسے بہت چھوٹے ذرات سے مل کر ساری کائنات بنی ہے، کمپیوٹر پروگرامنگ کر لیں مارک زکربرگ اور سٹیو جابز جیسا کچھ کریں۔ مسلمان ہیں تو جناب رسول اللہ صلی اللہ و علیہ صلعم کے نقش 
قدم پر چک لر کوئی معاشی اور سماجی انقلاب برپا کریں۔
لیکن نہیں، اس طرف آپکو کوئی نہیں لگائے گا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے انکی دوکانداری کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ 
بندہ کھائے پیئے، سکون کرے لیکن یہ کیا تماشہ ہے کہ جو ہے عشق ہی ہے۔ عشق رب ہے، سب کچھ ہے، عشق نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے، مر جائو مٹ جائو، وغیرہ  وغیرہ وغیرہ۔
اپنےساتھ کمپیٹ ایبل اپنے جیسے بندے یا اپنی جیسی بندی کے ساتھ زندگی گزارنا بلاشبہ بڑی بات ہے لیکن یہاں تو اکثریت کو اگلے بندے سے عشق ہوتا ہی نہیں ہے، بلکہ اُس کے ایک خود سے بنائے امیج سے عشق ہوتا ہے۔ اونچے قد، لمبے بال، گورا رنگ، کتابی آنکھیں یہ سب کچھ تو چند گھنٹوں میں خرچ ہو جاتا ہے۔ آخر پر جب آپکا کامل محبوب توقعات کے برعکس آپ جیسا ہی انسان نکلتا ہے، زندگی کے تلخ و شیریں سے واسطہ پڑتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
میری اپنی پسند کی شادی ہے، لیکن میں اپنی بیوی سے اور میری بیوی مجھ سے بہت خوش ہیں۔  ایسا بہرحال ہمیشہ نہیں ہوتا۔
کھل کر آراء دیں، البتہ گالی گلوچ اور بے حیائی سے اجتناب کریں۔

6 comments:

  1. مضمون بہت اعلیِ ہے اور بہت مشکل ہے کہ اس سے اختلاف کیا جا سکے۔ لیکن عشق کے ضمن میں تہزیب و ثقافت، شاعری اور ادب اور ایک خاص خطے میں رہنے والوں کے مزاج اور عشق کے ضمن میں جتنی بحی واردات قلبی روایت کی جاتی ہیں کو بھی نہیں بحولنا چاہیے باوجود اس حقیقت کے صنفی کشش کو ہمارے یہاں عشق کا نام دے دیا گیا ہے۔ لیکن جناب جو بھی لولی لنگڑی چیز ہمارے یہاں موجود ہے کیا دوسرے معاشروں میں وہ ان لوازمات کے ساتھ پائی جاتی ہے ؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔

    ReplyDelete
  2. میرے خیالات بھی کافی حد تک ایسے ہی ہیں کہ اصل میں یہ ضرورت ہوتی ہے جسمانی، جسے گلوریفائی کرکے مختلف نام دے دئیے گئے ہیں

    ReplyDelete
  3. رائے دینا کا شکریہ ڈاکٹر صاحب، لوازمات بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ جیسے کہ شادی میں بنیادی اہمیت نکاح رخصتی اور بعد میں نئے جوڑے کا گھر بسنے کی ہوتی ہے لیکن ہمارے یہاں مہندیاں، کھارے، دوستیاں، پارٹیاں، جہیز اور بے شمار لوازمات شامل کر دیئے گئے ہیں۔
    مرد و زن ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت یا زندگی گزارنے خواہش بھی، البتہ خواہش تو بندے کو اور بھی بہت ساری چیزوں کی ہوتی ہے۔ لیکن دوکاندار ظالم بس عشق کے غبارے میں ہوا بھری جا رہے ہیں بھری جا رہے ہیں، کیا خبر ابھی اور کتنے سال یہ مارکیٹنگ کیمپین کامیابی سے چلے گی؟
    جعفر بھائی ضرورت کئی سطحوں پر ہوتی ہے، نفس کی آگ بجھانے کے لئے جسم، اولاد کی تڑپ مٹانے کے لئے عورت جسکے بارے میں آپ کو کم از کم کچھ یقین ہو کہ وہ آپکے ہی بچے پیدا کر رہی ہے اور پھر اولاد، ہمدرد اور ہمراز کی کمی بھی ایک وقت آتا ہے وہی عورت پوری کرتی ہے، بڑھاپے میں تقریباً اپنے ہی جیسی بے بسی کا شکار ایک شراکت دار۔
    مرد اور عورت دونوں کے ڈیزائن میں ایسی کمزوریاں جان بوجھ کر ڈال دی گئی ہیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے، اور یہ کثیر الجہتی طریقے سے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں

    ReplyDelete
  4. بہت اچھی تحریر ہے۔ آپ کی بات واقعی ٹھیک ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آج کل عشق کے نام پر ہوس پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ عشق میں ایسی کسی چیز کو روا نہیں سمجھا جاتا۔

    عشق ہوتا بھی کسی کسی کو اور شاذ و نادر ہی ہے۔ زیادہ تر ذہن تو فلموں اور ناولوں کو پڑھ پڑھ کر ہی ان چیزوں میں پڑ جاتے ہیں۔

    ٹھیک کہا آپ نے کہ اللہ کی دنیا بہت بڑی ہے اور ہزاروں کام ایسے ہیں جو ابھی کرنے ہیں۔

    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا

    ReplyDelete
  5. kafi talkh hakaik samney lay gae hain, zaberdast.... :)

    Stay Blessed

    ReplyDelete
  6. احمد صاحب کسی زمانے میں ایک انگریزی کہانی پڑھی تھی جس میں کوئی واجبی سا پڑھا لکھا شخص میڈیکل کی کتاب پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور مختلف بیماریوں کی علامات دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اعلٰحضرت علامات کا خود پر اطلاق بھی کرتے جاتے ہیں۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں اُس پر انکشاف ہوتا ہے کہ انکو کوئی پچھتر موذی امراض لاحق ہو چکے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ عشق کا ہے، لوگ کتابوں رسالوں سے علامات پڑھتے جاتے ہیں اور ان پر انکشاف ہوتا جاتا ہے کہ وہ عشق کی پکڑ میں آ چکے ہیں۔
    شکریہ اسما۔۔۔

    ReplyDelete

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer