Saturday, April 30, 2011

تین درویش از لیو ٹالسٹائی, حصہ دوم

An Urdu Translation Of  Three Hermits by Leo Tolstoy, Part 2

ملاحوں نے احتیاط سے کشتی کو ساحل کے ساتھ لگایا، اور پادری کے اتر جانے تک کشتی کو تھامے رکھا۔
بوڑھے اُسے دیکھ کر ادب سے جھکے، اس نے  انہیں دعا دی، جسے سن کر وہ اور بھی جھک گئے۔ پھر پادری ان سے مخاطب ہوا۔
اللہ کے بندو میں نے سنا ہے کہ تم یہاں رہتے ہو، اپنی روح کی حفاظت کی خاطر اور تم خدا سے کُل عالمین کی خیر بھی مانگتے ہو۔ میں بھی مسیح کا ادنٰی خادم ہوں، خدا کی مہربانی سے اسکی رعایا کا دھیان رکھنا اور انکی تربیت کرنا میری ذمہ داریاں ہیں۔ اللہ والو میری خواہش ہے تھی کہ تم سے مِلوں اور کچھ تمہیں بھی سکھلائوں۔
بوڑھے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے، لیکن خاموش رہے۔
مجھے بتائو، پادری بولا۔۔۔ تم اپنی روح کی حفاظت کی خاطر کیا کر رہے ہو، اور تم اِس جذیرے میں رہ کر خدا کا کونسا کام کر رہے ہو؟
دوسرے درویش نے آہ بھری، اور سب سے بوڑھے...  سب سے قدیم بابے کی طرف دیکھا۔ بابا مسکرایا اور گویا ہوا
بندہء خدا، ہمیں نہیں پتہ خدا کی خدمت کیسے کرنی ہے۔ ہم تو بس اپنے کام کاج کر کے گذر بسر کرتے ہیں۔
لیکن تم خدا کی عبادت کیسے کرتے ہو؟ پادری نے پوچھا۔
ہم تو ایسے عبات کرتے ہیں، درویش بولا
تم تین ہو، ہم بھی تین ہیں، ہم پر رحم کرو۔
جب بوڑھا یہ الفاظ کہہ رہا تھا، تینوں درویشوں نے نگاہیں آسمان کی سمت اٹھا لیں اور بولے
تم تین ہو، ہم بھی تین ہیں، ہم پر رحم کرو۔
پادری مسکرایا۔
تم لوگوں کو مقدس تکون کا تو پتہ ہے، لیکن تمہارا عبادت کا طریقہ درست نہیں ہے۔ اللہ والو مجھے تم سے ہمدردی ہو گئی ہے۔  صاف ظاہر ہے کہ تم خدا کو خوش کرنا چاہتے ہو، لیکن تمہیں طریقہ نہیں پتہ۔
ایسے نہیں کرتے عبادت۔۔۔ میں تمہیں سکھا دوں گا، تم سنتے جائو۔ جو طریقہ میں تمہیں بتائوں گا وہ میرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ خداوند نے مقدس صحیفوں میں بندوں کو  اس طریقے سے اُسکی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔
پھر پادری نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ کس طرح خدا نے خود کو لوگوں پر ظاہر کیا۔ اس نے انہیں باپ خدا، بیٹے خدا، اور مقدس روح خدا کے بارے میں بتایا۔
بیٹا خدا انسانوں کی جان بخشی کروانے زمین پر آیا۔ اور اس نے ہمیں عبادت کا یہ طریقہ سکھایا۔۔۔
 " ہمارا باپ " 
پہلا بوڑھے نے پادری کے پیچھے دہرایا، ہمارا باپ اسکے پیچھے دوسرا بولا ہمارا باپ اور پھر تیسرا بولا ہمارا باپ
جو عالم بالا میں ہے، پادری بولا
پہلے بوڑھے نے دہرایا "جو عالم بالا میں ہے" ، لیکن دوسرے والے سے الفاظ خلط ملط ہو گئے۔ اسکے بڑھے ہوئے بال اسکے منہ میں آ رہے تھے، اسلئے اس سے صحیح بولا نہیں جاتا تھا۔ سب سے بوڑھے بابے کے دانت نہیں تھے، اس نے بھی 
پوپلے منہ سے کچھ انٹ شنٹ بول دیا۔
پادری نے دوبارہ الفاظ دہرائے، اسکے پیچھے پیچھے بوڑھے بھی دہرانے لگے۔ پادری ایک پتھر پر بیٹھ گیا، اور بوڑھے اسکے سامنے بیٹھ گئے، جیسے جیسے وہ بولتا بوڑھے بھی اسکے منہ کی طرف دیکھ کر دہراتے جاتے۔ سارا دِن پادری جان مارتا رہا، ایک ایک لفظ کو بیس بیس تیس تیس سو سو مرتبہ تک دہراتا رہا، اور بوڑھے۔۔۔ اسکے پیچھے پیچھے دہراتے رہے۔ وہ غلطی کرتے، وہ تصحیح کرتا، اور پھر شروع سے شروع کرا دیتا۔
پادری وہیں رہا، حتٰی کہ اس نے انہیں پوری دعا زبانی یاد کروا دی، وہ نہ صرف اسکے پیچھے دہرانے جوگے ہو گئے بلکہ اسکے بغیر بھی پوری دعا انہیں یاد ہو گئی۔ درمیانے والے نے سب سے پہلے دعا یاد کر کے زبانی سنائی۔ پادری کے
کہنے پر اس نے دوسروں کی بار بار دہرائی کروائی، بالآخر دوسروں کو بھی دعا ازبر ہو گئی۔
اندھیرا چھا رہا تھا، اور پانیوں کے پیچھے سے چاند طلوع ہو رہا تھا، تب پادری جہاز پر واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے بوڑھوں سے جانے کی اجازت مانگی، وہ سارے اسکے سامنے احتراماً جھک گئے۔ اس نے انہیں اٹھایا، اور ایک ایک کو چوما، اور انہیں اِسکے بتائے ہوئےطریقے پر عبادت کرنے کی ہدایت کی۔
کشتی میں بیٹھ کر واپس جاتے ہوئے اسے بوڑھوں کی آوازیں آ رہی تھیں، وہ اونچی اونچی دعا پڑھ رہے تھے۔ جیسے جیسے کشتی جہاز کے نزدیک ہوتی گئی، انکی آوازیں مدھم ہوتی چلی گئیں، لیکن چاند کی چاندنی میں انکے ہیولے پھر بھی دکھائی 
دے رہے تھے، جہاں وہ انہیں چھوڑ کر آیا تھا اسی جگہ پر کھڑے سب سے چھوٹا درمیان میں، بڑا دائیں، اور درمیانا والا بائیں۔ پادری کے جہاز پر پہنچتے ہی لنگر اٹھا کر بادبان کھول دیئے گئے۔ ہوا نے بادبانوں کو بھر دیا، اور جہاز جذیرے سے 
دور دھکیلا جانے لگا۔ پادری عرشے پر ایک جگہ بیٹھ گیا اور اس جذیرے کی جانب دیکھنے لگ پڑ جسے وہ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ تھوڑی دیر تک درویش نظر آتے رہے، لیکن پھر وہ نظر سے اوجھل ہو گئے، جذیرہ بہرحال نظر آتا رہا۔ آخر کار وہ بھی غائب ہو گیا، تاحد نگاہ سمندر ہی سمندر رہ گیا۔۔۔ چاندنی میں کروٹیں لیتا سمندر۔
زائرین لیٹ کر سو گئے،  عرشے پر خاموشی چھا گئی۔ پادری سونا نہیں چاہتا تھا، لیکن عرشے پر اکیلا ہی بیٹھا رہا، اور سمندر میں اس سمت دیکھتا رہا جہاں اب جذیرہ نظر نہیں آ رہا تھا،  بھلے مانس درویشوں کے بارے میں سوچتے ہوئے۔ اس نے سوچا کہ وہ لوگ دعا یا کر کے کتنے خوش ہوئے تھے؛ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اُس نے اِسے اتنے خدا پرست لوگوں کو کچھ سکھانے اور انکی مدد کرنے کا موقع دیا۔
بس جی پادری بیٹھا رہا، سوچتا رہا، اور سمندر کی جانب دیکھتا رہا جہاں جذیرہ اوجھل ہوا تھا۔ چاندنی اسکی نظروں کے سامنے ٹمٹماتی رہی، جلھملاتی رہی، ابھی یہاں ابھی وہاں لہروں کے دوش پر۔
اچانک اسے کوئی سفید اور چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی، سمندر پر پھیلی چاندی میں۔ پتہ نہیں کوئی بگلا تھا، یا کسی کشتی کا چھوٹا سا چمکدار بادبان؟ پادری نے سوچتے سوچتے اُس پر نظر ٹکا دی۔
یہ کوئی کشتی ہی لگتی ہے، جو ہمارے پیچھے پیچھے چلی آ رہی ہے۔ لیکن قریب بڑی تیزی سے آ رہی ہے۔ ابھی چند لمحے پہلے تو بہت دور تھی، لیکن اب بہت نزدیک۔ کشتی تو نہیں ہو سکتی، کیونکہ بادبان کوئی نہیں نظر آ رہا۔ خیر جو کچھ بھی ہے، ہمارا پیچھا کر رہا ہے اور ہم تک پہنچنے ہی والا ہے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر چیز تھی کیا؟ کشتی نہیں ہے، پرندہ نہیں ہے، مچھلی بھی نہیں ہے۔ آدمی سے تو وہ بہت ہی بڑی چیز تھی، اور ویسے بھی بندہ سمندر کے بیچوں بیچ تو آ ہی نہیں سکتا۔ پادری اٹھا، اور ملاح سے بولا
وہ دیکھو یار، وہ پتہ نہیں کیا چیز ہے؟پتہ نہیں کیا چیز ہے؟ پادری نے تکرار کی، حالانکہ اب اسے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کیا چیز ہے۔۔۔
پانی پر دوڑے چلے آتے ہوئے، تینوں درویش، نِرے چِٹے سفید، انکی بھوری داڑھیاں چمک رہی تھیں، اور وہ اتنی تیزی سے جہاز کے قریب آ رہے تھے جیسے کہ جہاز رُکا ہوا ہو۔
ان پر نظر پڑتے ہی پتوار پر بیٹھے ملاح نے خوف کے مارے پتوار چھوڑ دیا۔
اوہ میرے خدا!درویش ہمارے پیچھے پانی پر ایسے بھاگے چلے آ رہے ہیں جیسے خشک زمین پر بھاگ رہے ہوں۔
دوسرے مسافر اسکی یہ بات سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے ، اور جہاز کے کنارے ان کا مجمع لگ گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ درویش ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے انکی طرف چلے آ رہے ہیں، دائیں بائیں والے درویش جہاز کو رکنے کے لئے اشارے کر رہے رہے تھے۔ پانی کے اوپر تینوں بنا پائوں ہلائے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اڑے چلے آ رہے تھے۔  جہاز کے رکنے سے پہلے درویش اس تک آن پہنچے، سر اوپر اٹھائے تینوں بیک آواز کہنے لگے
اللہ کے بندے، ہمیں تیری بتائی ہوئی تعلیمات بھول گئی ہیں۔ جتنی دیر ہم دہراتے رہے، ہمیں یار رہیں، لیکن جونہی ہم نے ذرا دہرائی روکی ایک حرف بھول گیا۔ اور اب حرف حرف کر کے ساری دعا ہی بھول گئی ہے۔ ہمیں کچھ یاد نہیں رہا ہے۔ ہمیں دوبارہ سکھلا دو۔
پادری نے سینے پر صلیب بنائی، اور جہاز کے کنارے پر جھک کر بولا
اللہ کے بندو، تمہاری خود کی دعا خدا کو پہنچ جائے گی، میں تمہیں کچھ نہیں پڑھا سکتا، بس ہم گنہگاروں کے لئے دعا کر دینا۔
پھر پادری اُن بوڑھوں کے سامنے بہت ادب سے جُھک گیا، وہ مڑے اور سمندر پر اڑتے ہوئے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ جس جگہ وہ نظروں سے اوجھل ہوئے تھے ایک نور سحر ہو جانے تک اس جگہ لشکارے مارتا رہا۔
ختم شد
حصہ اول کا لِنک
موجودہ وولگا کے علاقے کی ایک لوک داستان۔

Thursday, April 28, 2011

تین درویش، از لیو ٹالسٹائی حصہ اول

An Urdu Translation Of  Three Hermits by Leo Tolstoy, Part One
لیو ٹالسٹائی کی کہانی تین درویش کا اردو ترجمہ
Leo-Tolstoy
اور دعا میں بار بار باتیں مت دہرایا کرو، جینٹائلیوں کی طرح۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں بہت بولنے سے انکی سنی جائے گی۔ لہٰذا ان جیسے مت ہو جانا۔ کیونکہ تمہارا رب تمہاری حاجتیں جانتا ہے، تمہارے مانگنے سے بھی پہلے۔ میٹ، آیات سات آٹھ۔

موجودہ وولگا کے علاقے کی ایک لوک داستان۔

ایک پادری آرچ اینجل سے سمندر کے راستے سلوستک خانقاہ کی جانب سفر کر رہا تھا، اسی جہاز میں اور بھی زائرین سوار تھے۔ سفر آسان تھا، ہوا ساتھ دے رہی تھی، اور موسم خوشگوار۔ مسافر عرشے پر لیٹے رہتے، کھاتے پیتے 

یا گروہوں میں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے۔ پادری بھی عرشے پر آ گیا، اور ادھر اُدھر چکر لگانے لگا، تب اسکا دھیان جہاز کے بادبان کے پاس کھڑے چند لوگوں پر پڑا جو ایک مچھیرے کی بات بڑے غور سے سن رہے تھے، مچھیرا سمند کی جانب انگلی سے 

اشارہ کر کے لوگوں کو کچھ بتا رہا تھا۔ پادری نے رُک کر اس سمت دیکھا جدھر مچھیرا اشارہ کر رہا تھا۔ لیکن اسکو لشکیں مارتے سمندر کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا۔ بات چیت سننے کے لئے پادری ان لوگوں کے تھوڑا اور نزدیک ہو گیا، لیکن مچھیرے نے اسے دیکھتے ہی احتراماً ٹوپی اتاری اور خاموش ہو گیا۔ باقی لوگوں نے بھی اپنی ٹوپیاں اتاری اور خم ہوئے۔
"میں تم لوگوں کو تنگ نہیں کرنے آیا دوستو"
پادری بولا، 'بلکہ میں تو ان بھائی صاحب کی بات سننے آیا ہوں' ۔
 مچھوارہ ہمیں درویشوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔ دوسروں کی نسبت تیز طراز ایک تاجر بولا ۔
کیسے درویش؟ پادری نے جہاز کے کونے پر پڑے ایک ڈبے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ "مجھے بھی بتائو یار، مجھے بھی پتہ چلے تم کس چیز کی طرف اشارہ کر رہے تھے" ۔
وہ جذیرہ نظر آ رہا ہے، بندے نے جواب میں آگے کی طرف تھوڑا سا دائیں اشارہ کرتے ہوئے کہا "وہ جذیرہ ہے جہاں درویش رہتے ہیں، روحانی نجات کی خاطر"۔
کدھر ہے جذیرہ، مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا"؟ پادری نے جواب دیا۔"
ادھر، تھوڑے فاصلے پر، اگر آپ میرے ہاتھ کی سمت دیکھیں تو چھوٹا سا بادل نظر آئے گا اسکے نیچے ذرا بائیں، مدہم سی پٹی ہے۔ وہی جذیرہ ہے۔
پادری نے غور سے دیکھا، لیکن اسکی سمندر نا شناسا نگاہوں کو سوائے چمکتے پانی کے اور کچھ نہ دکھائی دیا۔
مجھے نہیں نظر آیا، لیکن۔۔۔ کیا درویش یہیں رہتے ہیں؟ پادری بولا۔
وہ بڑے پہنچے ہوئے بندے ہیں، مچھیرے نے جواب دیا، میں نے انکے بارے میں بڑے عرصے سے سن رکھا تھا لیکن پچھلے سال ہی انکو دیکھ پایا ہوں۔
پھر مچھیرے نے بتایا کہ کیسے وہ مچھلیاں پکڑتے پکڑتے رات کے وقت جذیرے میں پھنس گیا، اور اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔ صبح کے وقت جب وہ جذیرے میں مارا مارا پھر رہا تھا، اسکو مٹی کی ایک جھونپڑی اور اسکے ساتھ کھڑا ایک بوڑھا آدمی دکھائی دیا۔ پھر دو اور بھی آ گئے، مجھے کھانا کھلانے اور میرا سامان سکھانے کے بعد انہوں نے کشتی مرمت کرنے میں میری مدد بھی کی۔ 
اچھا... دیکھنے میں کیسے ہیں؟ پادری نے پوچھا۔
ایک چھوٹے قد کا ہے، اسکی کمر جھکی ہوئی ہے۔ بڑا ضعیف ہے، اور پادریوں والا چولا پہنتا ہے؛ کم و بیش سو سال کا تو ہو گا میرے حساب میں۔ اتنا بوڑھا ہے! اتنا بوڑھا ہے! کہ اسکی داڑھی کی سفیدی بھی اب ہری سی ہوئی جاتی ہے، لیکن ہر وقت  مسکراتا رہتا ہے، اور اسکا چہرہ تو جیسے کسی عرشوں سے اترے فرشتے کی طرح روشن ہے۔ دوسرا قدرے لمبا ہے، لیکن وہ بھی بہت بوڑھا ہے۔ پھٹا پرانا کسانوں والا سلُوکا پہنتا ہے۔ اسکی داڑھی چوڑی اور زردی مائل سلیٹی رنگ کی ہے، وہ مضبوط آدمی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اسکی مدد کرتا، اُس نے میری کشتی کو کھلونے کی طرح الٹا بھی دیا۔ وہ بھی، حلیم اور خوش مزاج ہے۔ تیسرے والا لمبا ہے ، داڑھی اسکی برف سفید اور گھٹنوں تک آتی ہے۔ وہ سنجیدہ ہے، بڑی بڑی بھونئوں والا؛ 

اس نے بس کمر کے گرد ایک لنگی سی باندھ رکھی ہے۔
انہوں نے تم سے کوئی بات کی؟ پادری نے پوچھا۔
زیادہ تر کام انہوں نے خاموشی سے کئے اور تو اور آپس میں بھی بہت کم بات کی۔ کوئی ایک بس نگاہ کرتا اور دوسرا اسکی بات سمجھ جاتا۔ میں نے لمبے والے سے پوچھا کہ کافی عرصے سے یہاں رہ رہے ہو؟   اس نے جواباً مجھے گھور کر دیکھا اور بڑبڑانے لگ پڑا، جیسے کہ غصے میں ہو۔ لیکن سب سے بوڑھے نے اسکا ہاتھ پکڑا اور مسکرایا، تو لمبے والا خاموش ہو گیا۔ پھر بابے نے مجھ سے مسکرا کر کہا، "ہم پر رحم کرو" ۔
مچھیرے کی گفتگو کے دوران جہاز کنارے کے کافی نزدیک جا پہنچا تھا۔
وہ دیکھیں، اب صاف نظر آ رہا ہے، اگر سرکار دیکھنا پسند فرمائیں تو، تاجر ہاتھ سے اس طرف اشارہ کر کے بولا۔
پادری نے دیکھا، اور اب کے اسے واقعی ہی سیاہ پٹی کی شکل میں جذیرہ دکھائی دیا۔ تھوڑی دیر اس پٹی کی جانب دیکھنے کے بعد وہ جہاز کے کنارے سے ہٹ گیا اور عرشے پر جا کر جہازی سے پوچھا
یہ کونسا جذیرہ ہے؟
وہ والا، ملاح بولا، بے نام ہے۔ اس جیسے بے شمار ہیں سمندر میں۔
کیا یہ سچ ہے کہ یہاں درویش تذکیہ نفس کی خاطر رہ رہے ہیں؟
ایسا ہی کہتے ہیں سرکار، سچ جھوٹ کا مجھے نہیں پتہ۔ مچھیرے دعوٰے کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھے ہیں، لیکن وہ آپکو پتہ ہے لمبی لمبی چھوڑتے ہیں۔
میرا دِل ہے کہ جذیرے پر رُک کر ان بندوں سے مِلوں۔ پادری نے کہا، لیکن کیسے؟
جہاز جزیرے کے بالکل پاس نہیں جا سکے گا، البتہ آپکو چھوٹی کشتی میں وہاں پہنچایا جا سکتا ہے۔ بہتر ہو گا آپ کپتان سے بات کریں۔
کپتان کو بلاوا بھیجا گیا تو وہ فوراً آ گیا۔ 
میں ان درویشوں کو مِلنا چاہتا ہوں، پادری نے کہا، مجھے ساحل تک پہنچا سکتے ہو؟
کپتان نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔
ہاں جی بالکل جا سکتے ہیں، وہ بولا لیکن وقت بہت ضائع ہو جائے گا۔ اور گستاخی معاف یہ بڈھے اس قابل نہیں کہ سرکار انکے لئے تکلیف کریں۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ ایویں پاگل بوڑھے ہیں، جنہیں کسی بات کی سمجھ ہی نہیں آتی، اور کچھ بولتے بھی نہیں، ایسے ہی ہیں جیسے سمندر کی مچھلیاں۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، پادری بولا۔ تمہارے وقت اور تکلیف اٹھانے کا میں معاوضہ ادا کروں گا۔ براہِ مہربانی کشتی کا بندوبست کروا دو۔
کوئی چارہ نہ چلا تو کپتان نے کشتی تیار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ملاحوں نے چپو اور پتوار تیار کئے، اور کشتی جذیرے کی جانب چل نکلی۔
 پادری کے لئے کشتی میں ایک کرسی رکھی گئی تھی، سارے مسافر جہاز کے کنارے پر ٹکے جذیرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ تیز نظر والوں کو وہاں پڑے پتھر دکھائی دے رہے تھے، پھر مٹی کی ایک جھونپڑی نظر آئی۔ بالآخر ایک بندے کو درویش بھی نظر آ گئے۔ کپتان نے دوربین نکالی اور اس سے ایک نظر دیکھ کر پادری کی جانب بڑھا دی۔ 
بات تو سچ لگتی ہے، تین بندے کھڑے ہیں ساحل پر۔ وہ، اس بڑی چٹان سے تھوڑا دائیں۔
پادری نے دوربین پکڑی، سیدھی کی اور تین بندوں کو دیکھا: ایک لمبا، ایک درمیانا، اور ایک بہت چھوٹا کُبڑا سا، ساحل پر ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے کھڑے۔
کپتان پادری کی طرف مڑا۔
سرکار جہاز مزید آگے نہیں جا سکتا، آپ ساحل پر جانا ہی چاہتے ہیں تو گزارش ہے کشتی میں تشریف لے جائیں تب تک ہم یہاں لنگر ڈال کر انتظار کرتے ہیں۔
رسا پھینکا لنگر ڈالا گیا، بادبان پھڑپھڑائے۔ ایک جھٹکا لگا، جہاز ہِل گیا۔ پھر کشتی کو پانی میں اتارا گیا، ایک ملاح چھلانگ مار کر کشتی میں اترا اسکے بعد پادری سیڑھی سے نیچے جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ بندوں نے چپو چلا کر کشتی کو تیزی سے جذیرے کی جانب لے جانا شروع کر دیا۔ جب وہ بہت قریب آ گئے تو انکو تین بندے دکھائی دیئے: ایک لنگی پوش لمبا، ایک مندھرا جس نے چیتھڑے سا سلوکا پہن رکھا تھا، اور ایک بہت بوڑھا۔۔۔ ضعف پیری کی وجہ سے جھکا ہوا، پرانی پوشاک پہنے ہوئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ تھامے کھڑے۔

بقیہ ایک آدھے دِن میں۔۔۔


Saturday, April 23, 2011

علی الصبح کا ایک خوشگوار نظارہ

 ایم ایم عالم روڈ لاہور کا یہ منظر یہاں سے روز صبح گزرنے والوں کو پہلی مرتبہ لازمی عجیب لگتا ہے۔ پہلی مرتبہ کوئی نومبر دسمبر میں صبح ساڑھے چھے پونے سات بجے ادھر سے گزر ہوا تو مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ اتنے سارے لوگ دھند میں اتنی تمیز سے قطار باندھ کر کیوں کھڑے ہیں۔ پاس آنے پر بحرحال ماجرہ سمجھ میں آ گیا، اور خوشگوار حیرت بھی ہوئی۔
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast


بڑے بزرک کہتے ہیں کہ اللہ دیتوں کو دیتا ہے، اور بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔ اس ایک جگہ سے بلا مبالغہ سیکڑوں لوگ روزانہ ناشتہ کر کے جاتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ یہ نیکی کرنے والوں کو اسکا بہترین اجر عطا فرمائے، اور ان لوگوں کو اس سے بھی بڑھ کر غریب پروری کی توفیق دے۔ میرا اپنا بڑا دِل کرتا ہے کہ ایسا ہی کوئی کام کروں، اب بھی الحمد للہ راہِ خدا خرچ کرتا ہوں لیکن وہ میرے خیال سے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast

تھوڑا آگے حسین چوک ہے، یہاں میں نے ایک اور اشتہار دیکھا۔ نیچے ملاحظہ فرمائیے
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast


ایک کنٹراسٹ، ایک تضاد دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف اتنے لوگ ہیں جنکے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اور دوسری طرف ایک اکیلے بندے کا کھانا چار سو پچانوے روپے میں۔  مجھے اس مخصوص ریسٹورانٹ سے کوئی بیر نہیں ہے۔ میں صرف ایک مثال دے رہا ہوں۔
یہ در حقیقت دو ذہنیتوں کا مقابلہ ہے، ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنے مال میں سے محروم غریب طبقے کا بھی حصہ رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایسا طبقہ ہے جو سب کچھ اپنے ہی پیٹ میں ڈال لینا چاہتا ہے۔  آپکو بھوک لگی ہے، سو دو سو روپے میں اچھا کھانا گھر بنوائیں اور کھائیں لیکن پانچ سو روپے ایک وقت کے کھانے پر خرچ کرنا ظلم نہیں ہے کیا؟
دلیل دی جا سکتی ہے کہ جناب کلاس کی بات ہے، جو زیادہ محنت کرتے ہیں انکا حق بنتا ہے اچھا کھائیں اور اچھا پہنیں۔ ٹھیک ہے بھئی، لیکن اگر کوئی ایسا "اچھا" کھانا روٹین ہی بنا لے تو زیادتی ہے۔


یہ ایک باندر صاحب اپنے سسرال جا رہے ہیں۔ پارک سے واپسی پر فردوس مارکیٹ کے مین بازار میں صبح سویرے ہی اس بندے نے تماشہ شروع کر رکھا تھا۔ آجکل یہ مناظر بھی مفقود ہوتے جا رہے ہیں، ورنہ سنا ہے بھلے وقتوں میں یہی انٹرٹینمنٹ ہوا کرتی تھی۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer