Friday, November 11, 2011

پاکستان، ہندوستان اور Amazon Mechanical Turk

amazon-mechanical-turk-mturk-home

 امازون ڈاٹ کام امریکہ کا بہت بڑا آنلائن شاپنگ سٹور ہے۔ اس سٹور کا نام شمالی امریکہ کے دوسرے بڑے دریا امازون کے نامر پر ہے۔ امازون ڈاٹ کام حالیہ سالوں میں صرف شاپنگ سٹور سے بڑھ کر ایک بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے، انہوں نے کِنڈل نامی ای بک ریڈر بنا کر کتاب پڑھنے والوں کی دنیا تبدیل کر دی ہے، اور اسکے علاوہ یہ مختلف خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں۔

امازون مکینکل ترک کیا ہے؟
ایم ترک پر مختلف لوگ ایسے ہیومن انٹیلیجنس ٹاسک فروخت کے لئے رکھتے ہیں جو کہ کمپیوٹر سر انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر
کسی تحریر کا خلاصہ لکھنا -
انگریزی آڈیو بیان کو سن کر ٹائپ کرنا، یا ٹرانسکرپشن -
انگریزی ویڈیو کی ٹرانسکرپشن -
دی گئی تصاویر میں سے ایسی کی نشاندہی کرنا جن میں آگ یا دھواں ہو -
عربی، ہسپانوی، یا کسی اور زبان میں لکھے جملوں کوبول کر ریکارڈ کرنا -
دیئے گئے ٹویٹس کی درجہ بندی کرنا -

ایم ترک پر برائے فروخت کاموں کی اجرت انکی پیچیدگی کے حساب سے ہوتی ہے، یہ اجرت ایک سینٹ سے لے کر دس ڈالرتک ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی فرد ایم ترک پر رجسٹر ہو کے ہیومن انٹیلی جنس ٹاسک مکمل کر سکتا ہے، اگر آجر آپکے کام سے مطمئن ہو گا تو وہ کام کو مکمل تسلیم کر کے اجرت ادا کر دے گا۔

میرے اندازے میں ایم ترک پر چار سے چھے گھنٹے کام کر کے کوئی بھی پڑھا لکھا فرد ماہانہ تین سے پانچ سو ڈالر با آسانی کما سکتا ہے۔ میں نے تجرباتی طور پر چار دِن ایک گھنٹہ روزانہ کام کیا، چار اعشاریہ تیس ڈالر اجرت اور تیس سینٹ بونس   میں آئے۔ اس وقت ایم ترک پر دو لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھوٹے بڑے ٹاسک موجود 
ہیں۔
ہارڈ کور کمپیوٹر پروفیشنلز کی اکثریت اوڈیسک اور ای لانس جیسی ویب ساٹئس پر فری لانس کام کر رہی ہے، لیکن ایم ترک ایسے لوگوں کے لئے ہے جو صرف کمپیوٹر استعمال کر کے ترجمہ، خلاصہ وغیرہ جیسے کام کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اس کہانی کے ٹریجک ڈراپ سین کی طرف۔
امازون ایم ترک پر کئے گئے کام کے پیسے صرف امریکہ اور ہندوستان میں ہی ٹرانسفر کئے جاتے ہیں، پاکستان یا دنیا کے کسی اور ملک سے کام کرنے والے لوگوں کو نقد پیسے نہیں دیئے جاتے بلکہ کئے گئے کام کے بدلے آپ صرف امازون سے شاپنگ کر سکتے ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہندوستان والے امازون کو منا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
میاں شہباز شریف صاحب کی ٹیکسی روزگار سکیم سے جتنے پڑھے لکھے لوگوں کو روزگار مِلے گا، لگ بھگ اتنے ہی لوگوں کو امازون ایم ترک پر بھی کام مِل سکتا ہے۔ خیال رہے کہ ایسا کرنے پر خرچہ برائے نام آئے گا، جو پیسے خرچ ہوں گے وہ ہمارے بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کے امریکہ دوروں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہائش، اور دھواں دھار پبلسٹی پر ہی خرچ ہوں گے۔
المختصر، امازون ایم ترک پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا یک بڑا موثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے اگر کوئی کوشش کرے تو۔


تجاویز
حکومتی سطح پر امازون کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، اور انہیں پاکستان کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
اس مقصد کے لئے وطن کارڈ کی طرز پر خصوصی اے ٹی ایم کارڈ بھی جاری کئے جاسکتے ہیں۔
گورنمنٹ اگر چاہے تو ان کارڈز میں آنے والے پیسے میں سے پانچ فیصد ٹیکس بھی کاٹ سکتی ہے۔
یہ کارڈ ایشو کرنے والے بینک یا پاکستان پوسٹ ڈھائی فیصد تک انتظامی اخراجات کاٹ سکتے ہیں، یا پھر سالانہ پانچ سو روپے فِکس کر لیں۔

نوٹ: کچھ ایسا ہی معاملہ پے پال کا بھی ہے، انہوں نے پاکستان آنے کی کوشش تو کی تھی لیکن ہمارا بینکنگ نظام انکی سمجھ میں نہیں آیا۔
نوٹ: اس امر میں پاشا اور پی سیب جیسی تنظیموں سے کوئی امید رکھنا فضول ہے، کیونکہ اُن لوگوں کا کوئی براہ راست مفاد وابستہ نہیں ہے۔

Monday, November 7, 2011

قصائی کی تلاش



پونے گیارہ بج چکے ہیں اور قصائی بھائی ابھی تک نہیں پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شیراز میرے چچا زاد کزن سے قصائی نے سات ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی تھی، جبکہ شیراز نے اُسے پانچ ہزار پر منا لیا تھا۔ البتہ اتفاق سے اُسی شام وہ بکرا خریدنے ہمارے گائوں آ گیا، بکرا اور بیل ایک ہی حویلی میں بندھے تھے۔ بیل کودیکھ کر قصائی نے تو رونا ہی شروع کر دیا، کہ یار یہ ہٹا کٹا جانور تو نو ہزار سے کم میں نہیں ذبح کروں گا۔ بعد میں بہرحال چھے ہزار روپے پر مان گیا۔
ابھی تک قصائی نہیں آیا، فون کرتے ہیں تو فون نہیں اٹھاتا۔ تھوڑی دیر قبل شیراز کی طلبی ہوئی تھی، اور وہ بچیارہ بزتی سے بچنےکی خاطر منظر سے غائب ہو گیا تھا۔
کل رات ہم لوگوں نے بزرگوں سے کہا بھی تھا کہ عید کی نماز ساڑھے آٹھ بجے رکھیں لیکن اُنہوں نے ضد کر کے نماز آٹھ بجے کروا لی، اور ابھی تک قصائی کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔
البتہ جو لوگ خود بکرے وغیرہ ذبح کر رہے ہیں، یا جنکے خوش قسمتی سے قصائی جلدی آ گئے ہیں سکون میں ہیں۔
ہمارے گائوں میں جانور پالنے کے لئے عام طور پر علیحدہ عمارت بنائی جاتی ہے، اور اس عمارت کو حویلی کہا جاتا ہے۔ اکثر حویلیوں میں ایک کمرہ بھوسے کے لئے، اور ایک سردیوں میں بھینس باندھنے کے لئے بنایا جاتا ہے۔ اسکے علاہ چارہ کترنے والی مشین لگانے کے لئے بھی جگہ مختص ہوتی ہے۔ گرمیوں میں بھینس اور دیگر مویشی کھلے صحن میں باندھے جاتے ہیں۔
میں نے تو سوچا تھا کہ بلاگ لکھتا ہوں، اتنی دیر میں قصائی آ جائے گا لیکن وہ الو کا کان ابھی تک نہیں آیا، میرے خیال سے مجھے جا کر اُسکا پتہ کرنا چاہیئے۔ قارئین کو عید مبارک۔۔۔ میں تو چلا۔۔۔ قصائی کی تلاش میں۔۔۔


Saturday, October 29, 2011

رِم جھم اور کمینے لوگ۔۔۔

کہنے کو تو چھے بجے چھٹی ہو جاتی ہے لیکن، نہ نہ کرتے بھی دفتر سے نکلتے ساڑھے چھے بج ہی جاتے ہیں۔ بہر حال ایسے بھی سافٹ ویئر ہائوس ہیں جہاں رات دس بجے تک جان نہیں چھوٹتی، شکر ہے یہاں اسطرح نہیں ہوتا۔ باجوہ نے فٹا فٹ دروازہ کھولا، بٹوہ اور دونوں موبائل فرنٹ سیٹ پر پھنیکے، گاڑی سٹارٹ کی، اور کیٹی پیری کے گانے لگا لئے۔ اُسکے سارے دوست شغل لگاتے تھے کہ کیٹی پیری تو لڑکیاں سنتی ہیں، اور آئی فون کمپیوٹر سے ناواقف لوگوں کا کھلونا ہے لیکن اُسے دونوں چیزیں اچھی لگی تھیں سو وہ پرواہ نہیں تھا کرتا۔
گاڑی بیسمنٹ سے باہر آتے ہی اُسکا دِل خوش ہو گیا، بھئی شام کا وقت جمع رِم جھم رِم جھم پڑے پھوار، اُس نے اے سی بند کر کے دونوں شیشے نیچے کئے اور گانوں کی آوازمزید اونچی کر دی۔ بیچارہ کنوارا بندہ اب ایسے ہی انجوائے کر سکتا ہے۔
گلبرگ کے مین بلیوارڈ پر اُسکی توقع کے مطابق آج خوب رش تھا، عوام الناس ٹھنڈے موسم کا کا مزا لینے کے لئے گھروں سے نکلے ہوئے تھے۔ اکثریت کا رُخ ایم ایم عالم روڈ، اور قذافی سٹیڈیم والے ریسٹورانٹس کی طرف ہی تھا۔ لاہوریوں کو تو بس روٹی کھانے کا بہانہ چاہئیے، ذرا موقع مِل جائے سہی۔
مین مارکیٹ والا اشارہ بند تھا، اُس نے درمیان والی لین میں گاڑی لگا دی، چند سیکنڈ میں پیچھے بھی رش لگ گیا۔ گجرے بیچنے والے چُن چُن کر جوڑوں کی ۔ گاڑیوں موٹرسائیکلوں کے پاس جا رہے تھے، اور دھڑا دھڑ مال بیچ رہے تھے۔ بھکاریوں کی بھی موجیں لگی تھیں۔
اچانک بائیں جانب کھٹکا سا ہوا، کھلے شیشے میں سے ایک ہاتھ جانے کب اندر آ گیا اُسے پتہ ہی نہیں چلا البتہ باہر نکلتے اُسکی شرٹ کا بٹن شیشے پر لگنے کی وجہ سے آواز پیدا ہو ہی گئی۔ باجوہ کو یہ نہیں پتہ چلا کہ چور نے اُٹھایا کیا تھا، بس اُسے اتنا پتہ تھا کہ کوئی ہینڈ ہو گیا ہے۔ اُس نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور پوری قوت سے اچکے کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔  دِن دیہاڑے ہونے والی اس واردات نے اُسکا تو میٹر ہی آئوٹ کر دیا تھا، وہ سوچ رہا تھا کہ بس یہ بندہ پکڑا جائے توٹانگیں توڑ دوں سالے کی۔
چور اب تک سڑک کے بائیں جانب سروس لین میں پہنچ چُکا تھا۔۔۔
"اوئے رُک کُتے۔۔۔ تیری ماں کی ****** ۔۔۔" 

مین مارکیٹ کا اشارہ، جدھر گاڑیاں کھڑی ہیں باجوہ اُدھر سے آ رہا تھا
باجوہ چیخا لیکن چور کو بھی پتہ تھا کہ آج پکڑا گیا تو بہت بُری ہو گی، باجوہ کو اپنی ٹانگوں پر بھروسا تھا، لیکن چور اُسکی توقعات سے زیادہ کمینہ ثابت ہوا۔ اُسکی اگلی حرکت باجوہ کے لئے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی۔
چور ایک پہلے سے سٹارٹ کھڑے موٹر سائیکل پر بیٹھا، اور اُسکے منتظر موٹر سائیکل سوار نے دستی موٹر سائیکل بھگا دی۔ باجوہ۔۔۔ بیچارہ۔۔۔ ماتھے پر ہاتھ رکھے وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔
سگنل کھل چُکا تھا اور سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی اُسکی گاڑی کی وجہ سے خاصہ اُدھم مچا ہوا تھا۔ اُس نے شکر کیا کہ گاڑی وہیں سٹارٹ کھڑی تھی، ورنہ اگر چوروں کا کوئی تیسرا ساتھی گاڑی بھی بھگا لے جاتا تو وہ فوراً کچھ نہ کر پاتا۔ سیٹ پر پڑا بٹوہ اور نیا سیم سنگ گلیکسی جیو موبائل پڑا دیکھ کر اُس نے سکھ کا سانس لیا۔  البتہ آئی فون تھری جی ایس کو غائب پا کر اُسے بڑا افسوس ہوا اور نقصان کا اندازہ بھی۔ اُس نے سیٹ کے نیچے اور آس پاس دیکھا، لیکن آئی فون ندارد۔ چور نے اندھا دھند ہاتھ مارا، اور جو اُسکو مِلا وہ لے کر بھاگ گیا۔
یہ ایک سچے واقعے کی رودار ہے، اور باجوہ میرا دوست ہے۔ شہر میں آجکل اس قسم کے واقعات عام ہیں۔ اللہ کا شکر ہے یہاں کراچی جیسی موبائل سنیچنگ نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی کافی کچھ ہو جاتا ہے۔ اگر اگلی مرتبہ آپ خوشگوار موسم میں ڈرائیونگ کر رہے ہوں تو جناب احتیاط کیجئے گا، ورنہ بعد میں افسوس کرتے  پھریں گے۔ اسکے علاوہ رش والی جگہوں پر عورتوں کے پرس جھپٹ کر دوڑ جانے والے گرگے بھی کافی ہیں، بیگم کی ایک سہیلی کو چھوٹی عید کے دِنوں میں چونا لگا تھا۔

Tuesday, October 11, 2011

The Formula Of Universe

کائنات کا کُلیہ
universe-puzzle

بحیثیت مسلمان ہم سب کا یہ مانتے ہیں کہ اللہ ماضی، حال، اور مستقبل کی ہر بات کا علم رکھتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ موت کا اِک دِن معین ہے، جب آنی ہے تب آ ہی جانی ہے۔ ساری تقدیر لوحِ محفوظ پر لکھِی ہے اور اللہ پاک تو تمام باتوں کا علم ہے۔ میں ان تمام حقائق پر یقین رکھتا ہوں۔
مجھے البتہ یہ خاصہ عجیب لگتا ہے کہ اللہ نے سب کچھ پتھر پر لکیر کی طرح لکھ دیا ہوا ہے، اور کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ہم انسان ہوتے ہوئے ریاضی کے فارمولے بنا سکتے ہیں تو وہ تو پھر رب العالمین ہے، اسکے علوم کی وسعت وہی جانے کیا ہو گی۔
مثال کے طور پر ذیل میں درج فارمولے کو دیکھئے
f(x) = x + (2*x)
اب اگر ہم اس فارمولے میں ایکس کی جگہ دو ڈال دیں گے تو صورتحال کچھ ایسی بن جائیگی
f(2) = 2 + (2 * 4) =  10

اسی فارمولے میں ایکس کی قیمت صفر کر دیں تو
f(0) = 0 + (2 *  0) = 0

نتیجہ
مجھے لگتا ہے کہ خدا نے بڑے زبردست کلیئے بنا دیئے ہوئے ہیں، اوپر دیئے گئے کلیئے میں تو صرف ایک ایکس ہے خدا کے بنائے ہوئے کلیات میں ہزار ہا متغیرات یا ویری ایبلز ہیں۔ ان سب کی قیمتوں سے مِل کر بالآخر انسانی تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔
اللہ اس سارے نظام کے بنانے والا ہے، اور اُسے کامِل علم ہے کہ کِس وقت کونسے ویری ایبل یا متغیر کی کیا قیمت ہو گی۔ اس لئے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کونسے انسان کی زندگی میں کِس وقت کونسا واقعہ رونما ہو گا۔

Saturday, October 8, 2011

چوکیدار کا قتل HSY

حسن شہریار یاسین مشہور فیشن ڈیزائنر ہے۔ آج دِن کو میرا سکے گلبرگ والے سٹوڈیو کے سامنے سے گزر ہوا۔
فِلموں والی پیلی پٹی، پولیس، پریس، اور دوسری گاڑیوں کا  رش دیکھ کر رُکنا پڑا۔ پاس کھڑے لوگوں سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ سٹوڈیو  کا چوکیدار کل رات کِسی وقت قتل کر دیا گیا۔
کہتے ہیں کہ مقتول کو پھانسی دی گئی تھی۔ اُسکا نام، اور دیگر تفصیلات فی الحال پتہ نہیں چلیں، تھوڑی دیر تک شاید ٹی وی 
پر دکھا دیں۔
ذیل میں سٹوڈیو کی تازہ تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔

HSY-Studio-Incident-Murder-11


HSY-Studio-Incident-Murder-12

Thursday, October 6, 2011

Facebook Login Approval Functionality

فیس بُک کی سالانہ ڈویلپر کانفرنس ایف ایٹ حال ہی میں ختم ہوئی، اس کانفرنس میں فیس بُک نے کئی نئی چیزیں متعارف کروائیں۔ مثال کے طور پر ٹائم لائن، جو کہ ابھی عام اسعتمال کے لئے دستیاب نہیں ہے، البتہ اگر آپ شوقین ہیں تو تھوڑی محنت کر کے ٹائم لائن والا نیا پروفائل حاصل بھی کر سکتے ہیں۔ میرے پروفائل کی تصویر نیچے دی ہوئی ہے۔
facebook_timeline_snapshot

ٹائم لائن بنانا سیکھنے کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں
http://mashable.com/2011/09/22/how-to-facebook-timeline/
اس پوسٹ میں البتہ میں جلدی جلدی دوستوں کے ساتھ ایک بڑی اعلٰی اور سادہ سی 
خصوصیت پر بات کروں گا۔ لاگ اِن اپرول، یا لاگ اِن کی اجازت فیس بُک کے ذریعے فیس بُک میں لاگ اِن کےلئے اب خالی خولی پاس ورڈ ہی کافی نہیں ہو گا۔ بلکہ اگر آپ کسی ایسے کمپیوٹر سے لاگ اِن کرتے ہیں جِس سے آپ نے پہلے کبھی لاگ اِن نہیں کیا تو جناب فیس بُک آپکو بھیجے گی آپکے موبائل نمبر پر ایک ایس ایم ایس، اگر اِس ایس ایم ایس میں دیئے گئے چھے ہندسوں کے سیکورٹی کوڈ کو فیس بُک میں ڈالا جائے گا تب ہی آپ یا کوئی اور لاگ اِن کر سکیں گے۔
 کہتے ہیں صرف پاس ورڈ کے ذریعے لاگ ان کرنے کو۔Something you know 
کہتے ہیں لاگ اِن کے لئے کسی ایسی چیز کو  استعمال کرنا جو کہ آپ کے پاس ہو۔Some thing you have 
مثال کے طور پر آپکا موبائل فون۔
فیس بُک پر یہ خصوصیت یا آپشن عام طور پر بند ہوتی ہے، اور اسے استعمال کرنے کے لئے اِسکو آن کرنا پڑتا ہے۔ اپنا فیس بُک پیج کھولیں اور مائوس کو دائیں جانب اوپری کونے پر موجود ہوم بٹن کے ساتھ موجود ننھے تیر کے اوپر لے جائیں۔ ایسا کرنے سے ایک مینو کھلے گا جو کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔
facebook_account_settings_menu_item


  اسکے بعد بائیں طرف موجود سیکورٹی نامی لِنک پر کلک کرنے سے دائیں سیاہ رنگ میں لاگ اِن اپروول لکھا ہے، اسکے سامنے لکھے ایڈٹ نامی لِنک پر کلک کریں۔
facebook_security_main_page


 اب آپ کے سامنے پیج پر یہ تحریر نظر آ رہی ہو گی
Require me to enter a security code each time an unrecognized computer or device tries to access my account.
اس تحریر کے ساتھ بائیں ہاتھ پر ایک چیک بٹن ہے، اسکو ایک مرتبہ کلک کر کے سلیکٹ کر لیں۔  اب عین اس فقرے کے نیچے دیئے نیلے رنگ کے سیو سیٹنگ نامی بٹن پر کلک کر دیں۔ 
facebook_account_seurity_login_approval


 اگلے چند لمحات میں فیس بُک آپکو ایک چھے ہندسوں کا سیکورٹی کوڈ بھیجے گی، اسکو ذیل میں دکھائے گئے پیج میں ڈال دیں۔
facebook_security_code_page


اگر آپکو تھوڑی دیر تک سیکورٹی کوڈ نہیں مِلتا تو جناب سیکورٹی کوڈ ڈالنے والے ٹیکسٹ باکس کے دائیں جانب موجود نیلے رنگ کے لنک پر کلک کریں، اس لنک کی تحریر ہے
I can't get my code
اب آکے سامنے آجائے گا ایک اور پیج، جو کہ ذیل میں دیا گیا ہے
facebook_resent_security_code_page


اس پیج پر اپنا کوڈ ڈال دیں۔
بس دو اور اقدامات کے بعد آپکا فیس بُک کھاتہ مزید محفوظ ہو جائے گا۔۔۔ اگر فقرہ عجیب لگا ہو تو اقدامات کی جگہ سٹپ اور ،  کھاتے کی جگہ اکائونٹ لگا لیں، افاقہ ہو گا۔ اگلے قدم پر فیس بُک آپ سے گُزارش کرے گی کہ جس کمپیوٹر یا دوسری کمیپوٹنگ ڈیوائس سے بھی آپ اسوقت فیس بُک استعمال کر رہے ہیں اُسکا کوئی نام ڈال دیں۔ ذیل میں دکھائے گئے پیج پر نام ڈالیں اور اسکے بعد دھمال ڈالیں۔ ارے بھئی کوئی زبردستی نہیں ہے، دِل نہیں مانتا تو نا ڈالیں دھمال۔
facebook_security_add_device


مجھے تو ذاتی طور پر یہ آپشن بڑا پسند آیا ہے، اس سے مِلتا جُلتا آپشن گوگل نے جی میل کا پاس ورڈ تبدیل کرنے کے لئے بھی دیا ہوا ہے۔ مزید معلومات، سوالات، اور بیانات کے لئے بلا جھجھک کمنٹ فرمائیں۔ اسکے علاوہ بھی اگر فیس بُک، ٹوئٹر، یا کسی اور سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعے کے بارے میں معلومات درکار ہوں تو پوچھنے کی اجازت ہے، اگر مجھے جواب پتہ ہوا تو جواب دوں گا ورنہ گولی شولی دے کر کام چلائوں گا۔ کمپیوٹر پروگرامنگ سے متعلقہ سوالات اور جوابات کا بھی خیر مقدم ہے۔

Thursday, September 29, 2011

وزیر خارجہ حنا ربانی کا الجزیرہ کو انٹرویو، ترجمہ اور ٹرانسکرپٹ

پاکستانی وزیر خارجہ محترمہ حنا ربانی کھر کا امریکہ کو سیدھا جواب، اردو ترجمہ اور انگریزی ٹرانسکرپٹ


الجزیرہ: امریکی جائنٹ چیفس کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نے جمعرات کے روز بنیادی طور پر، بلاواسطہ آئی ایس آئی پر حقانی نیٹ ورک کی امداد کرنے کا یا اُنکا بازو ہونے کا، اور کابل میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا الزام لگایا۔ آپکی حکومت کا اس بارے میں کیا رد عمل ہے؟
:حِنا ربانی کھر
یہ ایک ایسی چیز ہے جو کہ ہماری طرف بہت بہت بہت ناپسندیدہ سمجھی جا رہی ہے۔ بالکل بے بنیاد ہے، ہمیں کوئی ثبوت نہیں دکھائے گئے۔ آپ رابطوں کی بات کرتے ہیں تو مجھے پورا یقین ہے سی آئی اے کے بھی دنیا میں بہت ساری دہشت 
گرد تنظیموں سے روابط ہیں۔ روابط سے سے ہماری مراد جاسوسی روابط ہیں۔ اور یہ مخصوص نیٹ ورک جسکے بارے میں مسلسل باتیں کی جا رہی ہیں ایسا نیٹ ورک ہے جو کہ برسوں امریکہ کی آنکھ کا تارا رہا ہے، مطلب اسکو تو بنایا ہی سی 
آئی اے نے تھا، ایک طرح سے۔

الجزیرہ: یہ بڑا گمبھیر الزام ہے، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر اسکا کیا اثر پڑے گا؟
:کھر
حصے دار، اتحادی۔۔۔ ایک دوسرے سے عوام کے ذریعے بات نہیں کرتے۔  یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہم نے امریکہ کے سامنے اٹھایا ہے، ہم یہ مسئلہ امریکہ کے سامنے پہلے بھی لے کر گئے تھے اور اگر اسی طرح چلتا رہا تو ہم واحد نتیجہ نکال
سکتے ہیں کہ یہ امریکہ کا پالیسی فیصلہ ہے اور اس صورت میں ہمیں بھی اپنا پالیسی فیصلہ کرنے کا پورا حق  حاصل ہے۔
ہم امریکہ کے ساتھ مِل کر کام کرنا چاہتے ہیں، ہم بارہا کہہ چُکے ہیں۔ 
مسئلہ پیچیدہ ہے، قربانی کے بکرے تلاش کرنے سے۔۔۔ الزام تراشیاں کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ مجھے امید ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کا موقع دیا جائے گا اور دروازے کھلے رہیں گے۔ کیونکہ اِس طرح کے بیان تقریباً دروازے بندے کرنے والی ہی بات ہو جاتی ہے۔
الجزیرہ:  ایڈمرل مولن کے تاثرات کو ایک طرح سے تیسرا وار بھی کہا جا سکتا ہے۔ آپکی انتظامیہ نے امریکی حکومت پر مغربی قبائلی علاقہ جات میں ڈرون حملوں پر تنقید کی ہے۔ اسکے علاوہ آپکی فوج یا انتظامیہ کے علم میں لائے بغیر اسامہ بِن لادن کو  پاکستانی سرزمین پر حملہ کر کے قتل کیا گیا۔ ایسا کیا ہو سکتا کہ 
جسکے بعد بالآخر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ٹوٹ جائیں گے؟

:کھر
میرے خیال میں ہماری برداشت سے بڑھ کر ہمارا صبر مت آزمایا جائے۔ آپکو زمینی حقائق پر نظر رکھنی پڑتی ہے، ہم بار بار کہہ چُکے ہیں کہ ڈرون حملوں کا استعمال نہ صرف ہماری سالمیت کے خلاف ہے بلکہ الٹا نقصان دہ ہے۔ اِس سے وہ لوگ 
غیر بن جاتے ہیں جنکو آپ دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی میں دوست بنانا چاہتے ہیں۔
صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کی حکومت نے پاکستانی عوام میں اس جنگ کو اپنی جنگ ماننے کے سلسلے میں بڑا اعلٰی کام کیا ہے۔
اب ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ بڑی جان جوکھم میں ڈال کر انہی لوگوں کو دشمن بنا 
رہا ہے۔
English Transcript of  Hina Rabbani Khar's Interview with AlJazeera TV
AlJazeera: The American Chairman of the Joint Chiefs Admiral Mike Mullen on Thursday essentially accused, indirectly accused the ISI of helping the Haqqani network or being an arm of Haqqani network and carrying out these attacks on US embassy in Kabul. How does your government responsd to that?

Hina Rabbani Khar: Its just something which is... obviously goes very very very unappreciated on our side. This is unsubstantiated, no evidence has been shared with us. If you talk about links I'm quite sure CIA also has links with many terrorist organizations around the world, by which we mean intelligence links.And this particular network that they continue to talk about is a network which is the blue eyed boy of CIA itself for many years, I mean it was created by the CIA it could be said.

AlJazeera: this accusation its very serious, how is it going to affect the relationship between Pakistan and Unites States.

Hina Rabbani Khar: Partners... Allies do not talk to each other through the public.this is something that we took up we have taken up with the US and if this continues the only way that we have to interpret this is that this is the policy decision of the US then we have the right to be able to take our own policy decisions. We want to partner with the US, we have said this repeatedly. This is a complex problem, looking for scape goats... blame games will not help. I just hope that we'd be give a chance to cooperate each other and the doors will remain open. Because statements like this are pretty much close to shutting those doors.

AlJazeera: The comments by Adm. Mullen can be seen almost as a third strike. Your administration has criticized the US gov for the drone strikes in western tribal areas. You have the attack that killed Osama Bin Ladin on Pakistani soil without knowledge of Pk military or Admin. What would it take to finally break that relationship between the Unites States and Pakistan.

Hina Rabbani Khar: I think we must not be tested more than we have the ability to bear.  You have to look at the ground realities, we have repeatedly said tha use of drone attacks is not against our sovereignty it is also counter productive. It alienates the people that you want to build as friends against this fight against terrorism. The gov of pres zar and pm gilani has done an excellent job in being able to develope ownership of this war from amongst the people of Pakistan.
Now it seems as if the US is going out of its way to alienate the same  been able to develope an ownership of this war for.

Wednesday, August 10, 2011

پاکستان ریلویز کا سیاپا، ہائپر سٹار بروز اتوار

پاکستان ریلویز کا سیاپا
نوٹ: عنوان میں دیئے گئے دونوں مضامین پر الگ الگ تحریر ہے، دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
کل صبح دس بجے کے آس پاس میرا گزر شیرپائو پُل سے ہوا۔ سلیٹی مائل دھویں نے توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تو میں بھی اور بہت سے پُل پر گاڑیاں موٹرسائیکلیں کھڑی کر کے تماشہ دیکھتے راہگیروں کے ہجوم میں شامل ہو گیا۔ تماشہ لگایا تھا پاکستان ریلوے کی ایک لاوارث بوگی میں جلتی آگ نے۔ تصویر ملاحظہ فرمائیں

Pakistan-railways-boggie-burning-sherpao-bridge-fire-brigade

ریلوے والوں کی اپنی فائر سروس ہے، اور اچھی بات یہ ہے کہ انکی ایک گاڑی وہاں پہلے سے موجود تھی جبکہ اگلے چند منٹ میں دو اور بھی میرے دیکھتے دیکھتے غائوں غائوں کرتی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
آگ لگنے کی وجہ تو نہیں معلوم، نہ میں نے پُل سے اتر کر نیچے کھڑے لوگوں سے جا کر پوچھا۔ کسی اخبار وغیرہ میں تو ایسی خبریں آتی ہی نہیں، کہ انکے صفحات سیاستدانوں کے بے مقصد بیانات، نورا کشتی کھینچا تانی کی داستانوں، اور دیگر  دلدوز خبروں کے لئے وقف ہیں۔

Pakistan-railways-boggie-burning-sherpao-bridge-train

یہ بیبی ٹرین کا ایک اور زاویے سے نظارہ، لگتا ہے بیچاری کو کھڑے کھڑے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔ اللہ بھلا کرے بشیر بلور کا، اور اس سے پہلے شیخ رشید صاحب کا۔۔۔ کہ ان اصحاب نے پاکستان ریلوے کی گرتی ہوئی دیوار کو دھکے پہ دھکا اور دوبارہ دھکا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آئے دِن ٹرینیں بند ہو رہی ہیں۔ حالانکہ ٹرین کی پٹڑی تو امریکہ اور انگلینڈ کے صنعتی انقلابوں کا دِل تھی۔ ہم اور ہمارے نالائق بزرگوں نے قابض کافر گندے بچے انگریزوں کے لگائے اس انقلابی نظام کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہاں جی انگریز چلا گیا ہے تو اب اسکی دی ہوئی کوئی سوغات بھی کیوں رہے بھلا؟

Pakistan-railways-boggie-burning-sherpao-bridge-far

اللہ بہتر جانتا ہے کہ آگ کسی کرپٹ ریلوے ملازم نے لگائی، یا کسی نشئی کی پھینکی ہوئی تیلی سے لگی۔ لیکن مجھے تو وہ ٹیکس کا پیسہ جلتا ہوا نظر آ رہا ہے جو میں ہر مہینے حکومت وقت کو ملک چلانے کے لئے دیتا ہوں۔
اس وقت پورا یورپ ٹرینوں کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جاپان بلٹ ٹرینیں بنا رہا ہے، اور چین تین سو میل فی گھنٹہ والی مقناطیسی ٹرین چلا رہا ہے۔ ہم پچاس پچاس ٹرینیں اکٹھی بند کر رہے ہیں، کوئی انسانیت ہے بھلا؟ کبھی پنڈی سے لاہور یا مخالف سمت ریل کار پر سفر کریں تو آپکو اندازہ کہ کتنے لوگ ٹرین پر سفر کرنا چاہتے ہیں۔ عید کے دِنوں میں تو جناب دس دِن پہلے ساری سیٹیں بُک ہو جاتی ہیں اور دو تین دِن پہلے اگر سیٹ نہیں بُک کروائی تو شاید آپکو ڈبے کے واش روم میں کھڑے ہو کر جانا پڑے۔
اب تو یہ بھی کہنے کو دِل نہیں کرتا کہ اللہ ہمارے لیڈروں کو ہدایت دے، یا عوام کو توفیق دے۔ پتہ نہیں کِس کِس کو ہدایت اور کِس کِس کو توفیق کی ضرورت ہے۔

ہائپر سٹار بروز پچھلا اتوار
ہائپر سٹار ایک فرانسیسی کمپنی کا سپر سٹور ہے پچھلے اتوار رات نوبجے کے بعد میں اور میری بیگم صاحبہ ذرا شاپنگ کرنے گئے۔ تفریح طبع کے لئے چند تصاویر حاضر ہیں
hyperstart-kids-in-trolley

بچے تو یہاں آتے ہی اسلئے ہیں کہ ٹرالی میں بیٹھ کر جھولے لے سکیں۔ ایک آدھی مرتبہ تو میں نے بچوں کے والدین سے پوچھا بھی کہ "یہ بچے ہائپر سٹار سے لئے ہیں؟"۔۔۔
hyperstar-kids-in-trolley

یہ بہن بھائی بھی جھونٹے لینے کے بعد کافی خوش نظر آ رہے تھے۔

اور یہ چھوٹی خاتون کسی اپنے ہی حساب کتاب میں مگن فریزر کے ساتھے لگی گرِل پر والک فرما رہی تھی۔۔۔

hyperstar-waiting-line

لمبی لائن لگی تھی ٹرالیوں کی، کم از کم بیس مِنٹ کھڑے ہونے کے بعد ہماری باری آئی۔ لیکن لوگ پھر بھی سکون سے انتظار کر رہے تھے۔ اندر کا ماحول ٹھنڈا تھا ور میرے خیال میں کسی کو بے یقینی بھی نہیں تھی کہ پتہ نہیں ہماری باری آئے یانہ۔ ورنہ تو سحری ٹائم محلے میں دودھ دہی والے پہلوان کی دوکان پر اس سے زیادہ افراتفری مچی ہوتی ہے۔ اس تصویر کے ساتھ تھوڑی سی انجینئرنگ میں نے خود کی ہے، ایویں ای کسی کو اعتراض ہو تو کیا فائدہ؟

hyperstart-trollies-queue

ہائپر سٹار سے کافی عرصہ پہلے میکرو اور میٹرو پاکستان میں آئے تھے، لیکن یہ اُن سے کافی بہتر ہے۔ یا شاید میرے گھر کے نزدیک ہے ہی یہی۔ آپ لوگوں کا اِس بارے میں کیا خیال ہے؟

Wednesday, August 3, 2011

کیا عشق بھی ایک بلاوجہ بڑھایا چڑھایا نظریہ ہے؟

کتابوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں، ساٹھ ستر سالوں میں لاکھوں فلمیں بن گئیں، بےشمار گیت لکھے گئے۔ سب کا مرکزی خیال صرف ایک، عشق۔ عشق ایک قابلِ قدر جذبہ ہے لیکن آج کی دنیا میں لگتا ہے مختلف دوکانداروں نے اپنا اپنا سامان بیچنے کی خاطر اس جذبے میں کچھ زیادہ ہی ہوا بھر دی ہے۔ غبارے کی طرح، اسکا اپنا جسم چھوٹا سا ہی ہوتا ہے، لیکن اندر بھری ہوا کی وجہ سے وہ بہت بڑا دکھائی دیتا ہے۔
فلم بنانی ہو، گانا لکھنا ہو، ڈرامہ بنانا ہو، ناول یا کہانی لکھنی ہو، سیدھا سا فارمولا ہے۔ ایک ہیروئن پکڑیں، ایک ہیرو ڈالیں، ایک ولن اور ہمنوا میں ظالم سماج جمع کریں۔ پریم کہانی کا آغاز ہو گا، پھر اسکی بہاریں دکھائی جائیں گی، پھر جناب بیچ میں ولن اور ظالم    سماج کود پڑیں گے، جنکو دنیا میں فساد پھیلانے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ اب عشاق اور سماج میں ٹھن جائے گی، حالات گمبھیر ہوں گے، شور شرابہ ہوگا، مارا ماری ہو گی، اور بالآخر گندے بندوں کی ایسی کی تیسی کرتے ہوئے ہیرو ہیروئن نکل جائیں گے جنگلوں کی طرف۔
میں نے ایک موٹا موٹا خاکہ بتایا ہے، اس میں مختف مصالحے مختلف مقداروں اور  مختلف ٹائمنگ کے ساتھ ڈالتے جائیں اور نت نئے لالی پاپ بناتے جائیں۔


عشق کی پیکنگ میں اپنا مال بیچنے والے لوگوں نے انسانی زندگی کے خاص الخاص جزو کو ایسا استعمال کیا ہے کہ کُل کا انجر پنجر ہِل گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارا سوشل فیبرک۔ 
پاکیزہ، شعاع، خواتین ڈائجسٹ، رنگ برنگی فلمیں گانے، اور ان جیسے سستے فکشن فروش ہمیشہ عشق کی مخالفت کرنے والوں کو ظالم ثابت کرنےپر تلے رہتے ہیں۔ اور انکی کہانیوں میں عشق ہمیشہ مظلوم ہوا کرتا ہے۔ جناب عشق حقائق سے فرار دلانے والی نیند کی گولی، اور عقل کا اندھا بھی ہوتا ہے۔ عشق کی مخالفت کرنے والے ظالم انا پرست بھی ہوتے ہیں لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار انکا تجربہ، علم، اور وسعت نظر  گرم رو نوجوانوں کے سے بہت زیادہ، اور نیت صاف ہوتی ہے۔ وہ زمینی حقائق اور تجربے کی روشنی میں صحیح بات کر رہے ہوتے، ہیں، ان سے اپنا بیٹا، بیٹی، بہن، بھائی انکی آنکھوں کے سامنے خراب ہوتا ہوا نہیں دیکھا جا رہا ہوتا۔
عشق فروشوں کی عشق عشق عشق عشق کی سستی گردان نے عشق کو ایک ہوّا بنا دیا ہے۔ حالانکہ آج سے پچاس سال پہلے بھی  لوگ عشق کیا ہی کرتے تھے لیکن تب خود کشیوں، کورٹ میرجز، اور اسی نوع کے مسائل بہت کم تھے۔ تب لوگ عشق بازی کے علاوہ اور بھی کام کیا کرتے تھے۔
کورٹ میرج کی تو میں ایک حد تک حمایت بھی کرتا ہوں، کیونکہ دوسری طرف ہمارے جھوٹے معاشی رسوم و رواج نے نکاح جیسی جائز ضرورت کو عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور کر دیا ہے۔ دھوم دھام سے شادی بھی میرے خیال سے ایک ہوا ہی ہے۔
اسکے علاوہ بدقسمتی سے ہم لوگوں کی غیرت اور غصہ کوئی زیادہ ہی تیز ہے، نتیجے کے طور پر بہت سے لوگوں کی جائز خواہشات بھی نہیں پوری ہو رہی ہوتیں تو بہرحال کورٹ میرج ایک طرح سے سماج کے خلاف ہتھیار بھی ہے۔
ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انسانوں کی تاریخ میں پروپگینڈا کی کیا اہمیت ہے، جرمن نازیوں کا جنگی پراپگینڈا، انیس سو اکہتر میں ہندوستان کا پاکستان کے خلاف پراپگینڈا، روس افغانستان جنگ میں مولویوں کا دہریئے روسیوں کے خلاف پراپگینڈا، بینکنگ سیکٹر کا مڈل کلاس کو آسانی سے ساری خوشیاں پا لینے کا پراپگینڈا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ عشق بھی ایک پراپگینڈا ہی ہے۔ جسکا مقصد صرف اپنا اپنا مال بیچنا ہے۔ لیکن اسکے نتیجے میں ہونے والا نقصان کوئی نہیں دیکھ رہا۔
شاید عشق ایک اوور ایکسپوزڈ پراپگینڈا ہے، اور بہت سارے نشوں کی طرح ایک  نشہ جن میں دھت رہ کر غریب، اورمتوسط  کلاس کے چوہے ساری زندگی دوڑتے دوڑتے گزار دیتے ہیں۔
خود سوچیں، دنیا میں کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں ہے۔ اللہ کی زمین گھومیں، بے انت پھیلے خلائوں اور کہکشائوں کو جانیں، کوئی ہنر سیکھ لیں یا کوئی بڑا کاروبار بنائیں اپنے ساتھ ساتھ اور کئی لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنیں، بھوکوں کو کھانا کھلائیں، انسانی جسم کے اندر کا مطالعہ کریں ڈاکٹر بن کر مسیحا ہو جائیں، کوانٹم فزکس کے پیچھے پڑ جائیں اور دیکھیں تو سہی کیسے بہت چھوٹے ذرات سے مل کر ساری کائنات بنی ہے، کمپیوٹر پروگرامنگ کر لیں مارک زکربرگ اور سٹیو جابز جیسا کچھ کریں۔ مسلمان ہیں تو جناب رسول اللہ صلی اللہ و علیہ صلعم کے نقش 
قدم پر چک لر کوئی معاشی اور سماجی انقلاب برپا کریں۔
لیکن نہیں، اس طرف آپکو کوئی نہیں لگائے گا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے انکی دوکانداری کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ 
بندہ کھائے پیئے، سکون کرے لیکن یہ کیا تماشہ ہے کہ جو ہے عشق ہی ہے۔ عشق رب ہے، سب کچھ ہے، عشق نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے، مر جائو مٹ جائو، وغیرہ  وغیرہ وغیرہ۔
اپنےساتھ کمپیٹ ایبل اپنے جیسے بندے یا اپنی جیسی بندی کے ساتھ زندگی گزارنا بلاشبہ بڑی بات ہے لیکن یہاں تو اکثریت کو اگلے بندے سے عشق ہوتا ہی نہیں ہے، بلکہ اُس کے ایک خود سے بنائے امیج سے عشق ہوتا ہے۔ اونچے قد، لمبے بال، گورا رنگ، کتابی آنکھیں یہ سب کچھ تو چند گھنٹوں میں خرچ ہو جاتا ہے۔ آخر پر جب آپکا کامل محبوب توقعات کے برعکس آپ جیسا ہی انسان نکلتا ہے، زندگی کے تلخ و شیریں سے واسطہ پڑتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
میری اپنی پسند کی شادی ہے، لیکن میں اپنی بیوی سے اور میری بیوی مجھ سے بہت خوش ہیں۔  ایسا بہرحال ہمیشہ نہیں ہوتا۔
کھل کر آراء دیں، البتہ گالی گلوچ اور بے حیائی سے اجتناب کریں۔

Monday, August 1, 2011

اپر مڈل کلاس اور امارت کا دھوکا

پچاس ساٹھ یا ستر ہزار کمانے والی اپر مڈل کلاس آجکل عام ہے۔ گھر میں ایک سے زیادہ کمانے والے ہوں تو شاید یہ آمدن کافی ہو، لیکن ایک آدھے کمانے والا ہو تو حالات مختلف ہوتے ہیں۔ آجکل اس کلاس میں بہت سارے لوگ امارت کے الیوزن میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حالانکہ وہ ہرگز امیر نہیں ہیں۔ دیکھنے والوں کے لئے انکی تنخواہیں یا آمدنیاں پر کشش ہوتی ہیں لیکن بغور مشاہدہ   کریں تو سمجھ آتی ہے کہ پچاس ساٹھ یا ستر ہزار کمانے والی یہ مڈل کلاس لانگ رن میں غریب ہی ہوتی ہے۔
جو لوگ اس الیوزن سے جلدی چھٹکارہ نہیں پا سکتے انہیں سمجھ تب آتی ہے جب وہ کسی خطرناک صورتحال میں پھنس چکے ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اپر مڈل کلاس کی امارت بہت نازک ہوتی ہے، وہ کیا کہتے ہیں انگریزی میں فریجائل۔ بالکل نا پائیدار۔ احساس عام طور پر کسی حادثے کی صورت میں ہوتا ہے، جب اچانک آمدن کا واحد ذریعہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

دھوکے کی وجوہات
عام طور پر اس کلاس کے لوگ نیچے سے ترقی کر کے اوپر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر میرے ایک دوست کی تنخواہ آج سے صرف چار سال پہلے آٹھ ہزار روپے تھی، اب اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔  یہ اضافہ کافی تیزی سے ہوا، اور اسکی وجہ سے اُسے لگنے لگا کہ وہ بہت امیر ہو گیا ہے۔ کھانا پینا، کپڑا جوتا، اور کافی چیزیں اچھی قسم کی استعمال کرنے لگ گیا۔ ان میں سے اکثر ایسی چیزیں تھیں جو کہ آج سے چار سال پہلے وہ عیاشی سمجھا کرتا تھا۔
پتہ اُسے بھی تب ہی چلا جب اچانک ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو گیا، اسکے گھر والے موجود تھے سو انہوں نے اسکو سنبھال لیا۔ تب اُس نے سوچا کہ آج سے پچیس سال بعد جب میرے بچے جوان ہوں گے، اور میرے والدین اول تو حیات نہیں ہو گے اور اگر ہوئے بھی تو میری مالی امداد کرنے قابل نہیں ہوں گے۔ اگر تب میرے ساتھ کوئی ایسی صورتحال بن گئی تو میں کیا کروں گا؟
تنخواہ دار برادری سمجھ سکتی ہے، یہ دورہ تنخواہ آنے سے ایک دو دِن پہلے پڑتا ہے۔ تنخواہ آنے کے فوراً بعد پڑتا ہے ہاتھوں میں خارش کا دورہ جسکے نتیجے میں تنخواہ کا بڑا حصہ شُت کر کے خرچ ہو جاتا ہے۔ بہر حال اس وقت مجھے دورہ پڑ چکا ہے، اور میں لکھی جا رہا ہوں۔

مسئلے کا حل
کسی طریقے سے اپنے ذہن کو ریورس گیئر لگا کر غریبی والی حالت میں لے جانے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔ بیگمات اور امہات کو بھی چاہیئے کے اس سلسلے میں تعاون کریں۔ ورنہ بیس سال بعد سمجھ آتی ہے کہ عمر گزر گئی اور بچا کچھ بھی نہیں، سب کچھ کھا پی کے ہضم کر دیا۔
انشورنس کروا لیں، ایسے کم از کم کچھ پیسے بچتے رہتے ہیں۔
میں پروگرامر ہوں، اچھی تنخواہ لیتا ہوں۔ اگر دِن رات ایک کر دوں تو اس سے دوگنا کما لوں گا۔ لیکن ویسا کرنے سے  میری سوشل لائف تباہ ہو جائے گی۔ زیادہ کام کرنا، اور زیادہ پیسہ کمانا مسائل کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکتا۔ مسائل کے مکمل حل کے لئے وسائل کا سلیقہ مندہ سے استعمال زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
میں بخیلی کرنے کا مشورہ ہرگز نہیں دے رہا، جہاں ضرورت ہو وہاں پیسہ خرچ کریں۔ لیکن جہاں ضرورت نہ ہو وہاں عقلمندی سے کام لیتے ہوئے جو بچ جائے وہی بہتر ہے۔

Saturday, July 16, 2011

سستی جان


طالب حسین کا تعلق بورے والا کے علاقے کچی پکی سے ہے۔ تلاش معاش میں بیوی بچوں کو لے کر کافی عرصہ پہلے لاہور آ گیا تھا۔ طالب حسین کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ آمدنی کا ذریعہ گورنمنٹ کی روزگار سکیم سے قسطوں پر لیا گیا 
رکشہ۔ طالب حسین کے اکلوتے بیٹے سونی کی عمر صرف چودہ سال تھی اور اسے رکشہ چلانے کا بڑا شوق تھا۔ پڑھنے لکھنے کے جھنجھٹ میں وہ کبھی پڑا ہی نہیں تھا۔ طالب نے روزی کمانے کی ذمہ داری خود ہی اٹھا رکھی تھی، بہرحال سونی 
کبھی کبھار شوقیہ رکشہ لے کر سواری وغیرہ اتارنے نکل جاتا تھا۔
اُس دِن بھی ایسے ہی رکشہ لے کر گھر سے نکلا، فردوس مارکیٹ کے سٹینڈ پر جانے کے تھوڑی دیر بعد اسکے پاس دو نوجوان آئے۔ بھائو تائو کے بعد وہ انکو واہگہ بارڈر لے جانے پر رضا مند ہو گیا۔ چلا تو وہ گیا، لیکن چھے ماہ گزر گئے وہ 
واپس نہ آیا۔  ماں باپ نے بڑی بھاگ دوڑ کی، جو جمع پونجی تھی خرچ کر دی لیکن بے سود۔ سونی کی ماں راتوں کو اٹھ کر روتی اور دعائیں کرتی رہی۔ اسے رہ رہ کر اپنے لاڈلے بیٹے کی یاد آتی تھی۔
رکشہ البتہ دوسرے ہی دِن بھٹہ چوک کے علاقے سے پکڑا گیا۔ 


پولیس افسر بڑی دیر سے اپنے سالے کو فون کر رہا تھا لیکن سالے کا فون بند جا رہا تھا۔ بالآخر کال مِل ہی گئی۔
افسر: کیا تکلیف ہے تمہارے فون کو؟
سالا: یار فون خراب ہے اچانک بند ہو جاتا ہے۔
افسر: اچھا میرے پاس ایک سیٹ پڑا ہے وہ لے لے لینا۔
کچھ اور گفتگو کے بعد فون بند ہو گیا۔ چند دِن بعد سالے نے افسر سے فون لے کر اس میں اپنی سِم ڈال لی۔


یہ فون افسر نے کچھ ڈکیتوں کے قبضے سے برآمد کیا تھا۔ فون آن ہوتے ہی آئی ایم ای آئی نمبر سی آئے اے والوں کے نوٹس میں آ گیا۔ سی آئی اے والے اِس فون کو ٹریس کرتے کرتے سالے کے پاس جا پہنچے، سالے سے افسر کا پتہ چلا، اور 
افسر سے ان ڈکیتوں کا جن کے قبضے سے یہ موبائل برآمد ہوا تھا۔۔۔ سونی کا موبائل۔۔۔


پولیس نے ڈکیتوں کا جسمانی ریماںڈ لے لیا، جسکے نتیجے میں ان لوگوں نے سونی کے بارے میں دِلدوز انکشاف کر ہی دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سونی کو بارڈر والے علاقے میں لے گئے، وہاں جا کر انہوں نے اس سے رکشہ چھین لیا اور اسے 
بھاگ جانے کو کہا۔ لیکن سونی ضد پر اڑ گیا، اور کہنے لگا کہ وہ رکشہ لے کر ہی جائے گا۔ ان لوگوں نے اسے کسی طریقے سے نشہ آور دوا پلائی، لیکن رات کے بارہ بجے تک اسے نشہ نہ ہوا۔ بالآخر بارہ بجے کے بعد بچہ بے ہوش ہو گیا۔ 
ڈکیتوں نے اسکی شلوار میں سے نالہ نکال کر پھندا بنایا، اور اس سے سونی کا گلا گھونٹ ڈالا۔ قتل کرنے کے بعد اس معصوم کی لاش کو پاس ہی دفنا کر اور اسکے کپڑے جلا کر وہاں سے فرار ہو گئے۔قاتلوں کی نشاندہی پر سونی کی لاش برآمد ہو 
چکی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ابھی نہیں آئی۔ پولیس کو شک ہے کہ کہیں بچے کے ساتھ قتل سے پہلے زیادتی نہ کی گئی ہو۔
مجھے یہ بات کچھ دیر پہلے سونی کی ایک رشتہ دار خاتون سے پتہ چلی۔ اس وقت سے لے کر اب تک مجھے بے چینی لگی ہوئی ہے۔ ایک سو ایک سوال میرے دِل میں آ رہے ہیں۔ ڈیڑھ دو لاکھ کے رکشے کی خاطر ایک انسان دوسرے انسان کی جان کیسے لے سکتا ہے۔ شاید یہی اسفل السافلین ہیں، انسانیت کے نام پر داغ۔

Saturday, April 30, 2011

تین درویش از لیو ٹالسٹائی, حصہ دوم

An Urdu Translation Of  Three Hermits by Leo Tolstoy, Part 2

ملاحوں نے احتیاط سے کشتی کو ساحل کے ساتھ لگایا، اور پادری کے اتر جانے تک کشتی کو تھامے رکھا۔
بوڑھے اُسے دیکھ کر ادب سے جھکے، اس نے  انہیں دعا دی، جسے سن کر وہ اور بھی جھک گئے۔ پھر پادری ان سے مخاطب ہوا۔
اللہ کے بندو میں نے سنا ہے کہ تم یہاں رہتے ہو، اپنی روح کی حفاظت کی خاطر اور تم خدا سے کُل عالمین کی خیر بھی مانگتے ہو۔ میں بھی مسیح کا ادنٰی خادم ہوں، خدا کی مہربانی سے اسکی رعایا کا دھیان رکھنا اور انکی تربیت کرنا میری ذمہ داریاں ہیں۔ اللہ والو میری خواہش ہے تھی کہ تم سے مِلوں اور کچھ تمہیں بھی سکھلائوں۔
بوڑھے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے، لیکن خاموش رہے۔
مجھے بتائو، پادری بولا۔۔۔ تم اپنی روح کی حفاظت کی خاطر کیا کر رہے ہو، اور تم اِس جذیرے میں رہ کر خدا کا کونسا کام کر رہے ہو؟
دوسرے درویش نے آہ بھری، اور سب سے بوڑھے...  سب سے قدیم بابے کی طرف دیکھا۔ بابا مسکرایا اور گویا ہوا
بندہء خدا، ہمیں نہیں پتہ خدا کی خدمت کیسے کرنی ہے۔ ہم تو بس اپنے کام کاج کر کے گذر بسر کرتے ہیں۔
لیکن تم خدا کی عبادت کیسے کرتے ہو؟ پادری نے پوچھا۔
ہم تو ایسے عبات کرتے ہیں، درویش بولا
تم تین ہو، ہم بھی تین ہیں، ہم پر رحم کرو۔
جب بوڑھا یہ الفاظ کہہ رہا تھا، تینوں درویشوں نے نگاہیں آسمان کی سمت اٹھا لیں اور بولے
تم تین ہو، ہم بھی تین ہیں، ہم پر رحم کرو۔
پادری مسکرایا۔
تم لوگوں کو مقدس تکون کا تو پتہ ہے، لیکن تمہارا عبادت کا طریقہ درست نہیں ہے۔ اللہ والو مجھے تم سے ہمدردی ہو گئی ہے۔  صاف ظاہر ہے کہ تم خدا کو خوش کرنا چاہتے ہو، لیکن تمہیں طریقہ نہیں پتہ۔
ایسے نہیں کرتے عبادت۔۔۔ میں تمہیں سکھا دوں گا، تم سنتے جائو۔ جو طریقہ میں تمہیں بتائوں گا وہ میرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ خداوند نے مقدس صحیفوں میں بندوں کو  اس طریقے سے اُسکی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔
پھر پادری نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ کس طرح خدا نے خود کو لوگوں پر ظاہر کیا۔ اس نے انہیں باپ خدا، بیٹے خدا، اور مقدس روح خدا کے بارے میں بتایا۔
بیٹا خدا انسانوں کی جان بخشی کروانے زمین پر آیا۔ اور اس نے ہمیں عبادت کا یہ طریقہ سکھایا۔۔۔
 " ہمارا باپ " 
پہلا بوڑھے نے پادری کے پیچھے دہرایا، ہمارا باپ اسکے پیچھے دوسرا بولا ہمارا باپ اور پھر تیسرا بولا ہمارا باپ
جو عالم بالا میں ہے، پادری بولا
پہلے بوڑھے نے دہرایا "جو عالم بالا میں ہے" ، لیکن دوسرے والے سے الفاظ خلط ملط ہو گئے۔ اسکے بڑھے ہوئے بال اسکے منہ میں آ رہے تھے، اسلئے اس سے صحیح بولا نہیں جاتا تھا۔ سب سے بوڑھے بابے کے دانت نہیں تھے، اس نے بھی 
پوپلے منہ سے کچھ انٹ شنٹ بول دیا۔
پادری نے دوبارہ الفاظ دہرائے، اسکے پیچھے پیچھے بوڑھے بھی دہرانے لگے۔ پادری ایک پتھر پر بیٹھ گیا، اور بوڑھے اسکے سامنے بیٹھ گئے، جیسے جیسے وہ بولتا بوڑھے بھی اسکے منہ کی طرف دیکھ کر دہراتے جاتے۔ سارا دِن پادری جان مارتا رہا، ایک ایک لفظ کو بیس بیس تیس تیس سو سو مرتبہ تک دہراتا رہا، اور بوڑھے۔۔۔ اسکے پیچھے پیچھے دہراتے رہے۔ وہ غلطی کرتے، وہ تصحیح کرتا، اور پھر شروع سے شروع کرا دیتا۔
پادری وہیں رہا، حتٰی کہ اس نے انہیں پوری دعا زبانی یاد کروا دی، وہ نہ صرف اسکے پیچھے دہرانے جوگے ہو گئے بلکہ اسکے بغیر بھی پوری دعا انہیں یاد ہو گئی۔ درمیانے والے نے سب سے پہلے دعا یاد کر کے زبانی سنائی۔ پادری کے
کہنے پر اس نے دوسروں کی بار بار دہرائی کروائی، بالآخر دوسروں کو بھی دعا ازبر ہو گئی۔
اندھیرا چھا رہا تھا، اور پانیوں کے پیچھے سے چاند طلوع ہو رہا تھا، تب پادری جہاز پر واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے بوڑھوں سے جانے کی اجازت مانگی، وہ سارے اسکے سامنے احتراماً جھک گئے۔ اس نے انہیں اٹھایا، اور ایک ایک کو چوما، اور انہیں اِسکے بتائے ہوئےطریقے پر عبادت کرنے کی ہدایت کی۔
کشتی میں بیٹھ کر واپس جاتے ہوئے اسے بوڑھوں کی آوازیں آ رہی تھیں، وہ اونچی اونچی دعا پڑھ رہے تھے۔ جیسے جیسے کشتی جہاز کے نزدیک ہوتی گئی، انکی آوازیں مدھم ہوتی چلی گئیں، لیکن چاند کی چاندنی میں انکے ہیولے پھر بھی دکھائی 
دے رہے تھے، جہاں وہ انہیں چھوڑ کر آیا تھا اسی جگہ پر کھڑے سب سے چھوٹا درمیان میں، بڑا دائیں، اور درمیانا والا بائیں۔ پادری کے جہاز پر پہنچتے ہی لنگر اٹھا کر بادبان کھول دیئے گئے۔ ہوا نے بادبانوں کو بھر دیا، اور جہاز جذیرے سے 
دور دھکیلا جانے لگا۔ پادری عرشے پر ایک جگہ بیٹھ گیا اور اس جذیرے کی جانب دیکھنے لگ پڑ جسے وہ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ تھوڑی دیر تک درویش نظر آتے رہے، لیکن پھر وہ نظر سے اوجھل ہو گئے، جذیرہ بہرحال نظر آتا رہا۔ آخر کار وہ بھی غائب ہو گیا، تاحد نگاہ سمندر ہی سمندر رہ گیا۔۔۔ چاندنی میں کروٹیں لیتا سمندر۔
زائرین لیٹ کر سو گئے،  عرشے پر خاموشی چھا گئی۔ پادری سونا نہیں چاہتا تھا، لیکن عرشے پر اکیلا ہی بیٹھا رہا، اور سمندر میں اس سمت دیکھتا رہا جہاں اب جذیرہ نظر نہیں آ رہا تھا،  بھلے مانس درویشوں کے بارے میں سوچتے ہوئے۔ اس نے سوچا کہ وہ لوگ دعا یا کر کے کتنے خوش ہوئے تھے؛ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اُس نے اِسے اتنے خدا پرست لوگوں کو کچھ سکھانے اور انکی مدد کرنے کا موقع دیا۔
بس جی پادری بیٹھا رہا، سوچتا رہا، اور سمندر کی جانب دیکھتا رہا جہاں جذیرہ اوجھل ہوا تھا۔ چاندنی اسکی نظروں کے سامنے ٹمٹماتی رہی، جلھملاتی رہی، ابھی یہاں ابھی وہاں لہروں کے دوش پر۔
اچانک اسے کوئی سفید اور چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی، سمندر پر پھیلی چاندی میں۔ پتہ نہیں کوئی بگلا تھا، یا کسی کشتی کا چھوٹا سا چمکدار بادبان؟ پادری نے سوچتے سوچتے اُس پر نظر ٹکا دی۔
یہ کوئی کشتی ہی لگتی ہے، جو ہمارے پیچھے پیچھے چلی آ رہی ہے۔ لیکن قریب بڑی تیزی سے آ رہی ہے۔ ابھی چند لمحے پہلے تو بہت دور تھی، لیکن اب بہت نزدیک۔ کشتی تو نہیں ہو سکتی، کیونکہ بادبان کوئی نہیں نظر آ رہا۔ خیر جو کچھ بھی ہے، ہمارا پیچھا کر رہا ہے اور ہم تک پہنچنے ہی والا ہے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر چیز تھی کیا؟ کشتی نہیں ہے، پرندہ نہیں ہے، مچھلی بھی نہیں ہے۔ آدمی سے تو وہ بہت ہی بڑی چیز تھی، اور ویسے بھی بندہ سمندر کے بیچوں بیچ تو آ ہی نہیں سکتا۔ پادری اٹھا، اور ملاح سے بولا
وہ دیکھو یار، وہ پتہ نہیں کیا چیز ہے؟پتہ نہیں کیا چیز ہے؟ پادری نے تکرار کی، حالانکہ اب اسے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کیا چیز ہے۔۔۔
پانی پر دوڑے چلے آتے ہوئے، تینوں درویش، نِرے چِٹے سفید، انکی بھوری داڑھیاں چمک رہی تھیں، اور وہ اتنی تیزی سے جہاز کے قریب آ رہے تھے جیسے کہ جہاز رُکا ہوا ہو۔
ان پر نظر پڑتے ہی پتوار پر بیٹھے ملاح نے خوف کے مارے پتوار چھوڑ دیا۔
اوہ میرے خدا!درویش ہمارے پیچھے پانی پر ایسے بھاگے چلے آ رہے ہیں جیسے خشک زمین پر بھاگ رہے ہوں۔
دوسرے مسافر اسکی یہ بات سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے ، اور جہاز کے کنارے ان کا مجمع لگ گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ درویش ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے انکی طرف چلے آ رہے ہیں، دائیں بائیں والے درویش جہاز کو رکنے کے لئے اشارے کر رہے رہے تھے۔ پانی کے اوپر تینوں بنا پائوں ہلائے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اڑے چلے آ رہے تھے۔  جہاز کے رکنے سے پہلے درویش اس تک آن پہنچے، سر اوپر اٹھائے تینوں بیک آواز کہنے لگے
اللہ کے بندے، ہمیں تیری بتائی ہوئی تعلیمات بھول گئی ہیں۔ جتنی دیر ہم دہراتے رہے، ہمیں یار رہیں، لیکن جونہی ہم نے ذرا دہرائی روکی ایک حرف بھول گیا۔ اور اب حرف حرف کر کے ساری دعا ہی بھول گئی ہے۔ ہمیں کچھ یاد نہیں رہا ہے۔ ہمیں دوبارہ سکھلا دو۔
پادری نے سینے پر صلیب بنائی، اور جہاز کے کنارے پر جھک کر بولا
اللہ کے بندو، تمہاری خود کی دعا خدا کو پہنچ جائے گی، میں تمہیں کچھ نہیں پڑھا سکتا، بس ہم گنہگاروں کے لئے دعا کر دینا۔
پھر پادری اُن بوڑھوں کے سامنے بہت ادب سے جُھک گیا، وہ مڑے اور سمندر پر اڑتے ہوئے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ جس جگہ وہ نظروں سے اوجھل ہوئے تھے ایک نور سحر ہو جانے تک اس جگہ لشکارے مارتا رہا۔
ختم شد
حصہ اول کا لِنک
موجودہ وولگا کے علاقے کی ایک لوک داستان۔

Thursday, April 28, 2011

تین درویش، از لیو ٹالسٹائی حصہ اول

An Urdu Translation Of  Three Hermits by Leo Tolstoy, Part One
لیو ٹالسٹائی کی کہانی تین درویش کا اردو ترجمہ
Leo-Tolstoy
اور دعا میں بار بار باتیں مت دہرایا کرو، جینٹائلیوں کی طرح۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں بہت بولنے سے انکی سنی جائے گی۔ لہٰذا ان جیسے مت ہو جانا۔ کیونکہ تمہارا رب تمہاری حاجتیں جانتا ہے، تمہارے مانگنے سے بھی پہلے۔ میٹ، آیات سات آٹھ۔

موجودہ وولگا کے علاقے کی ایک لوک داستان۔

ایک پادری آرچ اینجل سے سمندر کے راستے سلوستک خانقاہ کی جانب سفر کر رہا تھا، اسی جہاز میں اور بھی زائرین سوار تھے۔ سفر آسان تھا، ہوا ساتھ دے رہی تھی، اور موسم خوشگوار۔ مسافر عرشے پر لیٹے رہتے، کھاتے پیتے 

یا گروہوں میں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے۔ پادری بھی عرشے پر آ گیا، اور ادھر اُدھر چکر لگانے لگا، تب اسکا دھیان جہاز کے بادبان کے پاس کھڑے چند لوگوں پر پڑا جو ایک مچھیرے کی بات بڑے غور سے سن رہے تھے، مچھیرا سمند کی جانب انگلی سے 

اشارہ کر کے لوگوں کو کچھ بتا رہا تھا۔ پادری نے رُک کر اس سمت دیکھا جدھر مچھیرا اشارہ کر رہا تھا۔ لیکن اسکو لشکیں مارتے سمندر کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا۔ بات چیت سننے کے لئے پادری ان لوگوں کے تھوڑا اور نزدیک ہو گیا، لیکن مچھیرے نے اسے دیکھتے ہی احتراماً ٹوپی اتاری اور خاموش ہو گیا۔ باقی لوگوں نے بھی اپنی ٹوپیاں اتاری اور خم ہوئے۔
"میں تم لوگوں کو تنگ نہیں کرنے آیا دوستو"
پادری بولا، 'بلکہ میں تو ان بھائی صاحب کی بات سننے آیا ہوں' ۔
 مچھوارہ ہمیں درویشوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔ دوسروں کی نسبت تیز طراز ایک تاجر بولا ۔
کیسے درویش؟ پادری نے جہاز کے کونے پر پڑے ایک ڈبے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ "مجھے بھی بتائو یار، مجھے بھی پتہ چلے تم کس چیز کی طرف اشارہ کر رہے تھے" ۔
وہ جذیرہ نظر آ رہا ہے، بندے نے جواب میں آگے کی طرف تھوڑا سا دائیں اشارہ کرتے ہوئے کہا "وہ جذیرہ ہے جہاں درویش رہتے ہیں، روحانی نجات کی خاطر"۔
کدھر ہے جذیرہ، مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا"؟ پادری نے جواب دیا۔"
ادھر، تھوڑے فاصلے پر، اگر آپ میرے ہاتھ کی سمت دیکھیں تو چھوٹا سا بادل نظر آئے گا اسکے نیچے ذرا بائیں، مدہم سی پٹی ہے۔ وہی جذیرہ ہے۔
پادری نے غور سے دیکھا، لیکن اسکی سمندر نا شناسا نگاہوں کو سوائے چمکتے پانی کے اور کچھ نہ دکھائی دیا۔
مجھے نہیں نظر آیا، لیکن۔۔۔ کیا درویش یہیں رہتے ہیں؟ پادری بولا۔
وہ بڑے پہنچے ہوئے بندے ہیں، مچھیرے نے جواب دیا، میں نے انکے بارے میں بڑے عرصے سے سن رکھا تھا لیکن پچھلے سال ہی انکو دیکھ پایا ہوں۔
پھر مچھیرے نے بتایا کہ کیسے وہ مچھلیاں پکڑتے پکڑتے رات کے وقت جذیرے میں پھنس گیا، اور اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔ صبح کے وقت جب وہ جذیرے میں مارا مارا پھر رہا تھا، اسکو مٹی کی ایک جھونپڑی اور اسکے ساتھ کھڑا ایک بوڑھا آدمی دکھائی دیا۔ پھر دو اور بھی آ گئے، مجھے کھانا کھلانے اور میرا سامان سکھانے کے بعد انہوں نے کشتی مرمت کرنے میں میری مدد بھی کی۔ 
اچھا... دیکھنے میں کیسے ہیں؟ پادری نے پوچھا۔
ایک چھوٹے قد کا ہے، اسکی کمر جھکی ہوئی ہے۔ بڑا ضعیف ہے، اور پادریوں والا چولا پہنتا ہے؛ کم و بیش سو سال کا تو ہو گا میرے حساب میں۔ اتنا بوڑھا ہے! اتنا بوڑھا ہے! کہ اسکی داڑھی کی سفیدی بھی اب ہری سی ہوئی جاتی ہے، لیکن ہر وقت  مسکراتا رہتا ہے، اور اسکا چہرہ تو جیسے کسی عرشوں سے اترے فرشتے کی طرح روشن ہے۔ دوسرا قدرے لمبا ہے، لیکن وہ بھی بہت بوڑھا ہے۔ پھٹا پرانا کسانوں والا سلُوکا پہنتا ہے۔ اسکی داڑھی چوڑی اور زردی مائل سلیٹی رنگ کی ہے، وہ مضبوط آدمی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اسکی مدد کرتا، اُس نے میری کشتی کو کھلونے کی طرح الٹا بھی دیا۔ وہ بھی، حلیم اور خوش مزاج ہے۔ تیسرے والا لمبا ہے ، داڑھی اسکی برف سفید اور گھٹنوں تک آتی ہے۔ وہ سنجیدہ ہے، بڑی بڑی بھونئوں والا؛ 

اس نے بس کمر کے گرد ایک لنگی سی باندھ رکھی ہے۔
انہوں نے تم سے کوئی بات کی؟ پادری نے پوچھا۔
زیادہ تر کام انہوں نے خاموشی سے کئے اور تو اور آپس میں بھی بہت کم بات کی۔ کوئی ایک بس نگاہ کرتا اور دوسرا اسکی بات سمجھ جاتا۔ میں نے لمبے والے سے پوچھا کہ کافی عرصے سے یہاں رہ رہے ہو؟   اس نے جواباً مجھے گھور کر دیکھا اور بڑبڑانے لگ پڑا، جیسے کہ غصے میں ہو۔ لیکن سب سے بوڑھے نے اسکا ہاتھ پکڑا اور مسکرایا، تو لمبے والا خاموش ہو گیا۔ پھر بابے نے مجھ سے مسکرا کر کہا، "ہم پر رحم کرو" ۔
مچھیرے کی گفتگو کے دوران جہاز کنارے کے کافی نزدیک جا پہنچا تھا۔
وہ دیکھیں، اب صاف نظر آ رہا ہے، اگر سرکار دیکھنا پسند فرمائیں تو، تاجر ہاتھ سے اس طرف اشارہ کر کے بولا۔
پادری نے دیکھا، اور اب کے اسے واقعی ہی سیاہ پٹی کی شکل میں جذیرہ دکھائی دیا۔ تھوڑی دیر اس پٹی کی جانب دیکھنے کے بعد وہ جہاز کے کنارے سے ہٹ گیا اور عرشے پر جا کر جہازی سے پوچھا
یہ کونسا جذیرہ ہے؟
وہ والا، ملاح بولا، بے نام ہے۔ اس جیسے بے شمار ہیں سمندر میں۔
کیا یہ سچ ہے کہ یہاں درویش تذکیہ نفس کی خاطر رہ رہے ہیں؟
ایسا ہی کہتے ہیں سرکار، سچ جھوٹ کا مجھے نہیں پتہ۔ مچھیرے دعوٰے کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھے ہیں، لیکن وہ آپکو پتہ ہے لمبی لمبی چھوڑتے ہیں۔
میرا دِل ہے کہ جذیرے پر رُک کر ان بندوں سے مِلوں۔ پادری نے کہا، لیکن کیسے؟
جہاز جزیرے کے بالکل پاس نہیں جا سکے گا، البتہ آپکو چھوٹی کشتی میں وہاں پہنچایا جا سکتا ہے۔ بہتر ہو گا آپ کپتان سے بات کریں۔
کپتان کو بلاوا بھیجا گیا تو وہ فوراً آ گیا۔ 
میں ان درویشوں کو مِلنا چاہتا ہوں، پادری نے کہا، مجھے ساحل تک پہنچا سکتے ہو؟
کپتان نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔
ہاں جی بالکل جا سکتے ہیں، وہ بولا لیکن وقت بہت ضائع ہو جائے گا۔ اور گستاخی معاف یہ بڈھے اس قابل نہیں کہ سرکار انکے لئے تکلیف کریں۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ ایویں پاگل بوڑھے ہیں، جنہیں کسی بات کی سمجھ ہی نہیں آتی، اور کچھ بولتے بھی نہیں، ایسے ہی ہیں جیسے سمندر کی مچھلیاں۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، پادری بولا۔ تمہارے وقت اور تکلیف اٹھانے کا میں معاوضہ ادا کروں گا۔ براہِ مہربانی کشتی کا بندوبست کروا دو۔
کوئی چارہ نہ چلا تو کپتان نے کشتی تیار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ملاحوں نے چپو اور پتوار تیار کئے، اور کشتی جذیرے کی جانب چل نکلی۔
 پادری کے لئے کشتی میں ایک کرسی رکھی گئی تھی، سارے مسافر جہاز کے کنارے پر ٹکے جذیرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ تیز نظر والوں کو وہاں پڑے پتھر دکھائی دے رہے تھے، پھر مٹی کی ایک جھونپڑی نظر آئی۔ بالآخر ایک بندے کو درویش بھی نظر آ گئے۔ کپتان نے دوربین نکالی اور اس سے ایک نظر دیکھ کر پادری کی جانب بڑھا دی۔ 
بات تو سچ لگتی ہے، تین بندے کھڑے ہیں ساحل پر۔ وہ، اس بڑی چٹان سے تھوڑا دائیں۔
پادری نے دوربین پکڑی، سیدھی کی اور تین بندوں کو دیکھا: ایک لمبا، ایک درمیانا، اور ایک بہت چھوٹا کُبڑا سا، ساحل پر ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے کھڑے۔
کپتان پادری کی طرف مڑا۔
سرکار جہاز مزید آگے نہیں جا سکتا، آپ ساحل پر جانا ہی چاہتے ہیں تو گزارش ہے کشتی میں تشریف لے جائیں تب تک ہم یہاں لنگر ڈال کر انتظار کرتے ہیں۔
رسا پھینکا لنگر ڈالا گیا، بادبان پھڑپھڑائے۔ ایک جھٹکا لگا، جہاز ہِل گیا۔ پھر کشتی کو پانی میں اتارا گیا، ایک ملاح چھلانگ مار کر کشتی میں اترا اسکے بعد پادری سیڑھی سے نیچے جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ بندوں نے چپو چلا کر کشتی کو تیزی سے جذیرے کی جانب لے جانا شروع کر دیا۔ جب وہ بہت قریب آ گئے تو انکو تین بندے دکھائی دیئے: ایک لنگی پوش لمبا، ایک مندھرا جس نے چیتھڑے سا سلوکا پہن رکھا تھا، اور ایک بہت بوڑھا۔۔۔ ضعف پیری کی وجہ سے جھکا ہوا، پرانی پوشاک پہنے ہوئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ تھامے کھڑے۔

بقیہ ایک آدھے دِن میں۔۔۔


Saturday, April 23, 2011

علی الصبح کا ایک خوشگوار نظارہ

 ایم ایم عالم روڈ لاہور کا یہ منظر یہاں سے روز صبح گزرنے والوں کو پہلی مرتبہ لازمی عجیب لگتا ہے۔ پہلی مرتبہ کوئی نومبر دسمبر میں صبح ساڑھے چھے پونے سات بجے ادھر سے گزر ہوا تو مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ اتنے سارے لوگ دھند میں اتنی تمیز سے قطار باندھ کر کیوں کھڑے ہیں۔ پاس آنے پر بحرحال ماجرہ سمجھ میں آ گیا، اور خوشگوار حیرت بھی ہوئی۔
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast


بڑے بزرک کہتے ہیں کہ اللہ دیتوں کو دیتا ہے، اور بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔ اس ایک جگہ سے بلا مبالغہ سیکڑوں لوگ روزانہ ناشتہ کر کے جاتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ یہ نیکی کرنے والوں کو اسکا بہترین اجر عطا فرمائے، اور ان لوگوں کو اس سے بھی بڑھ کر غریب پروری کی توفیق دے۔ میرا اپنا بڑا دِل کرتا ہے کہ ایسا ہی کوئی کام کروں، اب بھی الحمد للہ راہِ خدا خرچ کرتا ہوں لیکن وہ میرے خیال سے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast

تھوڑا آگے حسین چوک ہے، یہاں میں نے ایک اور اشتہار دیکھا۔ نیچے ملاحظہ فرمائیے
lahore-mmalamroad-ziafat-charity-breakfast


ایک کنٹراسٹ، ایک تضاد دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف اتنے لوگ ہیں جنکے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اور دوسری طرف ایک اکیلے بندے کا کھانا چار سو پچانوے روپے میں۔  مجھے اس مخصوص ریسٹورانٹ سے کوئی بیر نہیں ہے۔ میں صرف ایک مثال دے رہا ہوں۔
یہ در حقیقت دو ذہنیتوں کا مقابلہ ہے، ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنے مال میں سے محروم غریب طبقے کا بھی حصہ رکھتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایسا طبقہ ہے جو سب کچھ اپنے ہی پیٹ میں ڈال لینا چاہتا ہے۔  آپکو بھوک لگی ہے، سو دو سو روپے میں اچھا کھانا گھر بنوائیں اور کھائیں لیکن پانچ سو روپے ایک وقت کے کھانے پر خرچ کرنا ظلم نہیں ہے کیا؟
دلیل دی جا سکتی ہے کہ جناب کلاس کی بات ہے، جو زیادہ محنت کرتے ہیں انکا حق بنتا ہے اچھا کھائیں اور اچھا پہنیں۔ ٹھیک ہے بھئی، لیکن اگر کوئی ایسا "اچھا" کھانا روٹین ہی بنا لے تو زیادتی ہے۔


یہ ایک باندر صاحب اپنے سسرال جا رہے ہیں۔ پارک سے واپسی پر فردوس مارکیٹ کے مین بازار میں صبح سویرے ہی اس بندے نے تماشہ شروع کر رکھا تھا۔ آجکل یہ مناظر بھی مفقود ہوتے جا رہے ہیں، ورنہ سنا ہے بھلے وقتوں میں یہی انٹرٹینمنٹ ہوا کرتی تھی۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer