Wednesday, December 29, 2010

لبرٹی مارکیٹ کے قریب ریس لگاتی گاڑیوں کا حادثہ، تین نوجوان جاں بحق

اب سے دو ڈھائی گھنٹے قبل، ساڑھے بارہ بجے کے آس پاس میں منی مارکیٹ والے برگر کارنر پر تھا، کہ لوگوں کی کی آواز کانوں میں پڑی۔
پہلا: تین تو موقع پر ہی مر گئے ہیں، اسکے بھائی شانی کی حالت نازک ہے جنرل ہسپتال لے گئے ہیں۔
 دوسرا: یہ صرف دو ہی بھائی ہیں نا۔ اسکے باپ بیچارے کی حالت دیکھی تھی؟

اسی نوع کی کچھ اور گفتگو ہوئی تو میں نے پوچھ لیا کہ ایکسیڈنٹ کہاں ہوا ہے؟ پتہ چلا لبرٹی مارکیٹ گول چکر کے پاس لاہور پلازہ کے نزدیک، دو گاڑیاں تھیں اور ریس لگا رہے تھے۔ ان دو میں سے ایک گاڑی بے قابو ہو کر فٹ پاتھ پر چڑھ گئی۔
ڈبل ون ڈبل ٹو والے فٹا فٹ ہی آ گئے تھے، گاڑی سے نکالے ہی انہوں نے لڑکوں کے دل پمپ کئے لیکن جلد ہی اعلان کر دیا کہ جان نکل چکی ہے۔




میں ذاتی طور پر ایکسٹریم سپورٹس کے حق میں ہوں، گذشتہ دنوں جب بحریہ ٹائوں والے ایکسیڈنٹ کی ویڈیو سامنے آئی تودفتر میں خاصی گرما گرم بحث ہوئی جس میں میرا نقطہ نظر تھا کہ ایسی سرگرمیاں ہونی چاہئیں کیونکہ ان سے معاشرے کی رگوں میں خون چلتا ہے۔ نوجوانوں کے گرم خون میں موجود ٹھاٹیں مارتی توانائی کو اظہار کرنے موقع ملتا ہے۔ ایسے کاموں کی بدولت سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ ملتا ہے۔ 
اب بھی میں اسی نظریے کا قائل ہوں، اور سمجھتا ہوں کہ مصلٰے پر بیٹھ کر نوجوانی کا زور قابو میں نہیں آتا۔ اس منہ زور سیلاب کو بالکل بند کرنا ناممکن ہے، اگر مناسب ناکہ بندی کر لی جائے تو منہ زور دھاروں کے آگے جنریٹرز لگائے جا سکتے ہیں، اور دور دراز کی بنجر دھرتیوں کو سیراب کیا جا سکتا ہے۔
لیکن آج کے واقعے کے بعد میرے ذہن میں امی جی کی ایک بات فورًا آئی، وہ کہتی ہیں کہ "بندہ ایک پودا لگاتا ہے اور اسے دیکھنے بیٹھ جاتا ہے"۔ چھوٹا سا بچہ ہوتا ہے، ہم اسکو دیکھ دیکھ کے جیتے ہیں۔ آج اس نے بات کی، آج اس نے مجھے ماما کہا، آج چلنا شروع کر دیا، سکول جانے لگ پڑا، ماں باپ بوٹے کو دیکھتے رہتے ہیں دیکھتے رہتے ہیں، اسکی ایک ایک کونپل پر انکی نظر ہوتی ہے۔ قدرت کا نظام ہے کہ جب پودا تناور ہوتا ہے تو مالی بوڑھا ہو جاتا ہے۔ ناتواں بوڑھے مالیوں کی آس امید پھر اسی بوٹے سے لگ جاتی ہے۔
لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ جن کے یہ بوٹے تھے، ان پر کیا گزری؟ وہ بوٹے جنکو پانی دیتے جسکی کونپلیں گنتے انکے ان گنت بال سفید ہو گئے تھے جب آن کی آن میں جڑ سے اکھڑ گئے، تو باقی کیا بچا؟
کوئی کہہ رہا تھا کہ یہی لڑکے ہر ہفتے لبرٹی آیا کرتے تھے، پچھلے ہفتے آٹھ ہونڈے لے کر آئے تھے۔ لبرٹی کے پارکنگ پلازہ میں ویلنگ کر کے چڑھتے اور خوش ہو رہے تھے۔ اسی طرح جس جگہ آج کا حادثہ ہوا ہے، وہ بھی ریسنگ کے لئے نہایت غیر موزوں ہے۔



ایڈرنالین رش بڑی بری چیز ہے، بندے کی مت مار دیتا ہے۔ میٹر ایک سو پچاس سے اوپر جاتے ہیں، اگلا پہیہ ہوا میں اٹھتے ہی، دوسری گاڑی کے پیچھے نکلتے ہی ایڈرنالین رش شروع ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کو اسکا چسکا پڑ جائے وہ طرح طرح کے جتن کر کےسکون حاصل کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے ابلتے خون میں مِل کر اس کیفیت کا اثر اور بھی دوبالا ہو جاتا ہے۔
مسئلہ تو بیان کر دیا، اب حل کیا ہے؟
ایکسٹریم سپورٹس کا اگر کوئی دیوانہ ہے تو اسے ہوش سے کام لینا چاہیئے۔ مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر ایسے کام کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ اور ون ویلنگ کسی بھی طرح سپورٹ نہیں ہے، خاص طور پر مصروف سڑکوں پر ستر اسی کی رفتار سے پہیا اٹھا دینے کا مردانگی سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے خیال میں بڑی بڑی موٹر کمپنیوں، آئل کمپینوں، اور حکومت وقت کے اشتراک سے ہر شہر میں باقاعدہ ان کاموں کے ٹریکس بننے چاہیئیں۔ جہاں پر لوگ ریسنگ، ون ویلنگ جیسے کام کر کے اپنا خون ٹھنڈا کر سکیں۔

Saturday, December 25, 2010

Nokia C3-00 میرا نیا

nokia_c3_blue_front_blue_pink_silver_all_colors
کوئی دو مہینے پہلے کی بات ہے، میرا کزن لاہور آیا اور میں اسے کھانا کھلانے لے گیا۔ لبرٹی والے بندو خان میں بیٹھے تھے کہ میرے نوکیا بارہ سو پر کال آنا شروع ہو گئی۔ کزن کہتا ہے کہ "یار یہ تو نے کیا رکھا ہوا ہے، شرم کر شرم اچھی خاصی تنخواہ ہے اور موبائل دیکھو ذرا"۔ اس وقت میں ہنس کے ٹال گیا۔ پھر جناب نتھیا گلی جانے کا اتفاق ہوا تو کیمرہ کہیں سے نہ مِلا، پورا ٹرپ میں نے کیمرہ بہت مِس کیا کہ اگر ہوتا تو چلو شغل رہتا۔ بہت اعلٰی کوالٹی کی نہ سہی، تصویریں اور ویڈیوز ہونی چاہیئے تھیں۔ پھر آ گئی میرے کزن کی شادی، جہاں پر موخر الذکر کزن کے علاوہ باقی بھی پورے خاندان کی موجودگی یقینی تھی۔ یہاں آ کر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اور ساتھ ہی میری تنخواہ بھی اکائونٹ میں ٹرانسفر ہو گئی، اور آپکو پتہ ہونا چاہئیے کہ تنخواہ دار بندے کی تنخواہ آتے ہی اسکو خاص قسم کی خارش شروع ہو جاتی ہے جسکا علاج عام طور پر کہیں پیسے خرچ کرنا ہی ہوتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے نوٹوں کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔
nokia_1200_front_urduتو جناب میں نے کزن کو ساتھ لیا اور جا پہنچا حفیظ سینٹر، موبائل خریدنے۔ انٹرنیٹ پر ایک سائٹ نے بارہ ہزار نو سو روپے قیمت لکھی ہوئی تھی۔ مارکیٹ گیا تو پہلے دوکاندار نے بارہ ہزار پورے بتائی، دوسرے دوکاندار نے گیارہ ہزار پانچ سو بتائی۔ ویسے میں نے سیکنڈ ہینڈ ای سیونٹی ٹو بھی تلاش کیا لیکن کوئی اچھا دانہ  ملا نہیں۔
سی تھری میں اچھا کیا ہے؟
اس قیمت میں اتنے فیچرز والا سیٹ نوکیا نے آج سے پہلے کبھی نہیں نکالا تھا، اس مرتبہ نوکیا والوں نے صحیح مارکیٹ سگمنٹ کو پکڑا کیا ہے۔ وجہ شاید یہ ہے کہ نوکیا ہائی اینڈ سمارٹ فونز میں پٹ چکا تھا، وہاں آئی فون، اینڈرائڈ، بلیک بیری جیسے پہلوانوں کا راج ہے۔ اسکے علاوہ کچھ عرصہ پہلے سام سنگ کی کوربی لائن مارکیٹ میں آ چکی تھی، اسکی دیکھا دیکھی۔
تو جناب سب سے بڑی خوبی ہے وائی فائی نیٹ ورکنگ۔ اگر آپ کے پاس گھر میں یا دفتر میں وائی فائی نیٹ ورک ہے تو آپکی تو لگ گئی موجیں، بالکل میری طرح۔ سی تھری کا وائی فائی بلاشبہ بہترین ہے۔

پہلے سے انسٹال شدہ انٹرنیٹ میسجنگ کا سافٹ ویئر بھی اچھا ہے، ایم ایس این میسنجر، یاہو، جی ٹالک، اور نوکیا کی اپنی او وی چیٹ پر آپ ایک ہی وقت میں لاگ ان ہو سکتے ہیں، ہر اکائونٹ کے روابط الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے یہ پروگرام وائی فائی کے علاوہ جی پی آر ایس پر بھی چلا کر دیکھا ہے، فٹا فٹ کانٹیکٹس اٹھا کر لے آتا ہے اور اے ون چلتا ہے۔
Nokia_C3-00_Blue_Side
فیس بک اور ٹوٹر والی جو بلٹ ان اپلیکشن ہے، نوکیا کمیونٹیز وہ ہر مرتبہ کمیونیکیشن ایرر دے کے بند ہو جاتی ہے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ۔ بہرحال میں نے ان کاموں کے لئے سنیپ ٹو انسٹال کر لیا ہے۔ جو کہ میرے خیال سے بہتر ہے، کیونکہ اس میں آر ایس ایس ریڈر، روزنامہ گارڈین، بگ پکچر، اور کافی کچھ ہے۔ مزا آتا ہے جب اپ انگیجیٹ یا ٹیک کرنچ پر کچھ پڑھ رہے ہوں اور اسے آرام سے فیس بک پر شیئر کر سکیں یا ٹوٹر پر چوں چوں کر سکیں۔
او وی سٹور کے ذریعے ایپلیکیشنز ڈائونلوڈ کرنے کی سہولت بھی بہت اعلٰی ہے، کافی ساری مفت اپلیکیشنز مل جاتی ہیں۔ جن پر پیسے لگے ہیں وہ بھی کوئی زیادہ مہنگی نہیں ہیں، مثال کے طور پر پینتالیس روپے سے لے کر ڈھائی تین سو روپے تک۔ 
پورا کی پیڈ تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہو گا، ایس ایم ایس کے دیوانوں کے لئے اسے سے اچھی اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟ 
میں نے اپنے کمپیوٹر پر نوکیا او وی پی سی سوئٹ بھی انسٹال کیا ہوا ہے۔ یو ایس بی یا بلو ٹوتھ کے ذریعے کمپیوٹر کی سی تھری کے ساتھ گپ شپ کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ مجھے خود کمپیوٹر پر ایس ایم ایس پڑھنا، انکا جواب دینا اور انکو فارورڈ کرنا آسان لگتا ہے، خاص طور پر جب دفتر بیٹھا ہوں۔

موبائل گم جائے تو ساتھ ہی کانٹیکٹس بھی جاتے رہتے ہیں، بہرحال او وی سوئٹ کی موجودگی میں یہ مسئلہ سمجھیں حل ہو جاتا ہے بشرطیکہ آپ نوکیا کا ایک فون گم کر کے ایک اور نوکیا فون خرید لیں۔ کانٹیکٹس کو مفتو مفت نوکیا کی انٹرنیٹ سروس پر محفوظ کیا جا سکتا ہے، یعنی کہ موجاں ای موجاں، خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں۔
سی تھری میں اوپرا برائوزر پہلے سے انسٹال شدہ آتا ہے، میں نے نیا ورژن کیا ہے جو کہ پہلے والے سے کافی بہتر ہے۔ میں نے تو کافی سارے گانے، اور ویڈیوز ڈائریکٹ ڈائونلوڈ بھی کئے ہیں۔ سانگز ڈاٹ پی کے ڈیسک ٹاپ وغیرہ سے استعمال کرتے وقت محسوس نہیں ہوتا، لیکن موبائل پر بار بار زورے آ جانے والے پاپ اپ بہت برےلگتے ہیں۔
Nokia_OVi_Store_Logoاسکے علاوہ آٹھ جی بی تک کا میموری کارڈ لگایا جا سکتا ہے، میں نے دو جی بی کا لگایا ہوا ہے میرے لئے کافی ہے۔ اس میں بھی کافی گانے آ جاتے ہیں۔ سائونڈ کوالٹی اچھی ہے، آئی پوڈ، زون، سونی والک مین سیریز، یا آئی فون کی ٹکر کی تونہیں ہے بہر حال ٹھیک ہے۔
کال ریکارڈنگ کی اپلیکشن بھی موجود ہے، آنے جانے والی کالز کو بڑے سکون سے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے، اگر آپ گندے بندے ہیں یا آپکا واسطہ گندے بندوں سے پڑتا رہتا ہے تو خوش ہو جائیں۔
ای میل کی بھی ایپلیکیشن ہے، جس میں کہ ہاٹ میل یاہو جی میل اور سکے علاوہ بھی پاپ یا ایس ایم ٹی پی میلز چیک کی جا سکتی ہیں۔
Nokia_C3-00_Pink_front_urduآپ سوچ رہے ہوں گے کہ سافٹ ویئر ہی سافٹ ویئر بتائی جا رہا ہے، تو جناب اس موبائل کا ہارڈ ویئر بھی اچھا ہے۔ پچپن ایم بی انٹرنل میموری ہے۔ کانٹیکٹس اور ایس ایم ایس جتنے مرضی محفوظ رکھیں۔
اسکے علاوہ نوکیا والوں نے ایک اور اچھا کام یہ کیا ہے، کہ ایک جناب گلابی رنگ کا سی تھری بھی بنا دیا ہے۔ یقین مانیں نیلے والا سی تھری نوجوان لڑکوں کے لئے زبردست ہے، اور گلابی والا لڑکیوں کے لئے۔ جہاں تک میرا خیال ہے مارکیٹ میں جلد ہی اس فون کی اور بھی رنگ برنگی کیسنگز آ جائیں گی۔
سب کچھ اچھا ہی نہیں ، کچھ کمزوریاں بھی ہیں؟
ہاں جی میں نے کوئی نوکیا والوں سے پیسے نہیں پکڑے ہوئے جو تعریفیں ہی کری جائوں۔ دو تین ہفتے کے استعمال میں مجھے سی تھری کی چند باتیں بری بھی لگی ہیں۔
بیٹری لائف زیادہ نہیں ہے، ایک مرتبہ فُل کروں تو کوئی ڈیڑھ دن نکالتا ہے۔ شاید اگرمیں صرف فون کالز اور ایس ایم ایس کروں تو زیادہ چل جائے لیکن میں نے دو ایک گھنٹے تو وائی فائی آن کرنا ہی ہوتا ہے، اور گانے بھی چلانے ہوتے ہیں۔
samsung_corby_plus_open_flip_urdu
سام سنگ کاربی
اگر آپ فیس بک پر کسی کے میسج کا جواب دے رہے ہیں، یا کسی کی ای میل کا جواب لکھنے بیٹھ گئے ہیں، یا اپنے بلاگ پر کسی کے کمنٹ کا طویل جواب تحریر کر رہے ہیں اور ساتھ میں گانے بھی چلے ہوئے ہیں تو لکھائی کی رفتار آہستہ ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی حرف ضائع تو نہیں ہوتا لیکن، حروف ٹھہر ٹھہر کے سکرین پر نظر آتے ہیں۔
کیمرہ پر دو میگا پکسل لکھا ہوا ہے لیکن کیمرہ کی کوالٹی بالکل فارغ ہے، کیا تھا اگر ذرا سنسر اچھی کوالٹی کا لگا کر ساتھ میں کمزور سا فلیش بھی دے دیتے؟
جی پی آر ایس کو زبردستی بند کرنے کا کوئی آپشن کہیں نہیں ملتا، اگر آپکا وائی فائی سوئچ کسی وجہ سے اچانک آف لائن ہو گیا ہے تو سی تھری چول اپنے اپ جی پی آر ایس یا ایج کے ذریعے رابطہ چالو کر دے گا۔ غلطی سے بندہ ایم ایس این چلتا چھوڑ کے سو جائے، اوپر سے بجلی بند ہو جائے، تو جناب آپکے جاگنے تک کافی پیسے خرچ ہو چکے ہوں گے۔
samsung-corby-txt-front-urdu
سام سنگ کاربی ٹی ایکس ٹی
اس سے ملتا جلتا مسئلہ ای میل اپلیکشن کے ساتھ بھی ہے، الو کی کان تھوڑی تھوڑی دیر بعد خود ہی آن ہو کے آپکی ای میل چیک کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اگر کوئی نئی میل ہو تو بیل بجا کر بتاتی ہے کہ جناب نئی میل آئی ہے، پاڈی وڈی۔ گھر یا دفتر میں تو بھائی وائی فائی سے کام چل جاتا ہے، بصورت دیگر جی پی آر ایس آن اور خرچہ پروگرام شروع۔ بھئی بندہ کبھی صرف مِس کال کا بیلنس بمعہ ایس ایم ایس پیکج رکھ کر بھی کام چلا رہا ہوتا ہے، لیکن اس بات کا تو کسی کو خیال ہی نہیں جیسے۔
چیٹ اپلیکشن کی طرح برائوزر کو بھی بیک گرائونڈ میں لے جانا ممکن ہونا چاہیئے، ورنہ اگر آپ برائوزنگ کر رہے ہوں اور ایس ایم ایس آ جائے تو سارے ٹیب بند کر کے ایس ایم ایس دیکھنا پڑتا ہے۔ 
اسکے علاوہ ایم پی فور فائلز کچھ چلتی ہیں اور کچھ نہیں چلتی۔ فیس بک کی تو اکثر ویڈیوز نہیں چلتی، صرف آواز آتی ہے تصویر کوئی نہیں۔
انٹرنیٹ پر ہر جگہ لکھا ہوا ہے کہ دو جی بی کا کارڈ ساتھ مفت آتا ہے، لیکن ہماری لوکل مارکیٹ میں کوئی بھی نہیں دے رہا۔ پتہ نہیں کیا چور بازاری لگائی ہوئی ہے لوگوں نے؟؟؟
کافی مرتبہ فون کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر مرتبہ فیل ہو جاتا ہے، یہ بات مجھے بری لگتی ہے۔ نوکیا والوں کے پاس لے کر گیا تو انکی نمائندی کا رویہ بڑا غیر پیشہ ورانہ بدتمیزانہ لعنتیانہ تھا۔ میں نے جا کے مشین سے ٹکٹ لیا، وہ فارغ بیٹھی تھی میں جا کے کھڑا ہو گیا کہ جی یہ سی تھری کا مسئلہ ہے۔
 بد تمیز نمائندی: ٹوکن لیا ہے۔
میں: ہاں جی۔
بدتمیز نمائندی: نمبر کیا ہے؟
میں: اٹھانوے۔
بدتمیز نمائندی: اوپر سکرین پر کہیں لکھا نظر آ رہا ہے؟
میں: نہیں۔
بد تمیز نمائندی: تو پھر جا کے بیٹھیں، جب نمبر آئے گا تو آ جانا۔
مجھے بڑی تپ چڑھی کہ بھلا یہ کوئی طریقہ ہے، بندے کے پتروں کی طرح کہو بھئی آپ انتظار کریں، جب سکرین پر ٹوکن نمبر آئے تو آ جانا۔ بلاوجہ سکرین والی فلم چلائی اس نے، اوپر سے اسکا لہجہ ایسے تھا جیسے میں پتہ نہیں اللہ واسطے کام کروانے آیا ہوں۔ یا مجھ پر بڑا احسان کر رہی ہے، مِس ورلڈ۔
مجھے کہتی ہے کہ جی فون چھوڑ جائیں، تین دن بعد ملے گا اور آپکا تمام ڈیٹا بھی فارغ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ چل بھاگ جا بی بی، میں خود ہی کوئی جگاڑ لگا لوں گا۔
کال ویٹنگ سے متعلقہ کسی مسئلے کی بھنک سنی تھی میں نے، مجھے اس قسم کا کوئی مسئلہ نہیں پیش آیا۔
اب آپ لوگ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں فون کی سپیکس کا ٹیبل کاپی پیسٹ کروں گا، کوئی چکر نہیں وئی۔ سی تھری کا انگریزی میں سیدھا سادا جائزہ آپکو پندرہ سو ویب سائٹوں پر مل جائے گا، اور ساتھ سپیکس بھی ہوں گی۔ جا کے وہاں سے دیکھ لیں۔ مطلب خالی کانپی پیسٹ کرنے کا کیا فائدہ بھئی۔
اچھا چلیں نراض نا ہوں، یہ جی ایس ایم ارینا کا لنک لے لیں، یہاں سارے سپیکس لکھے ہیں
سی تھری کا جامع ریویو، از نعیم اکرم ملک
جی ایس ایم ارینا پر نوکیا سی تھری

حال ہی میں نوکیا سی سِکس کا بھی ریویو لکھا ہے، وہ بھی ضرور دیکھیں
نوکیا سی تھری کا جائزہ از نعیم اکرم م لک



Wednesday, December 15, 2010

کچھ خوش قسمت بےوقوفوں کے بارے میں

روز مرہ زندگی میں ہمیں اکثر بڑی عجیب ہستیوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ بندہ حریان رہ جاتا ہے کہ "یار یہ نمونہ اور اتنی اچھی پوزیشن پر"۔۔۔ مزید پڑھنے کے لئے ملاحظہ فرمائیں میرے انگریزی بلاگ کا دوسرا جنم

Saturday, December 11, 2010

نتھیا گلی کے گرد و نواح میں ٹریکنگ، تیسرا اور آخری حصہ

رات کے ڈھائی بج چکے ہیں، ابھی پزا ہٹ سے لوٹا ہوں۔ ایک دوست کا آج دفتر میں آخری دن تھا، اسکو الوداعی دفع دوری پارٹی دینی تھی۔ دِل تو نہیں چاہ رہا تھا لکھنے کو، لیکن اگر لٹکاتا رہا تو لکھنے نہیں ہو گا۔ لہٰذا اپنی تمام تر ذہنی و فکری صلاحیتوں کو پیزے، پیپسی اور سلاد سے مدہوش کر کے شروع کرتا ہوں رودادِ درویش کا تیسرا حصہ اور آخری حصہ۔۔۔

نتھیا گلی کی صبح
اگلی صبح دس بجے تک مجھے کوئی ہوش نہیں آیا، خیر جاگ کر ناشتہ واشتہ کیا۔ نتھیا گلی میں آفاق ہوٹل ہے، انہوں نے جہاں کرسیاں لگائی ہوئی ہیں وہاں سے وادی کا کافی خوبصورت ویو ملتا ہے۔ ناشتے کے بعد میں سڑک پر گاڑی کے انتظار میں کھڑا ہو گیا۔ اتفاق سے دوبارہ گائیڈ کا بھائی ہی مِل گیا۔ مجھے دیکھتے ہی گاڑی روکی اور نیچے اتر آیا
واجد: صاحب آپ کل رات ریسٹ ہائوس نہیں آئے، کدھر چلے گئے تھے؟
میں: یار مجھے رات کو ریسٹ ہائوس ہی نہیں مِلا، بہت ڈھونڈا میں نے۔
واجد: ہم تو بڑے پریشان تھے کہ پتہ نہیں صاحب اکیلا تھا تو کوئی مسئلہ ہی نہ ہو گیا ہو، پتہ نہیں جنگل میں راستہ بھول گئے یا کوئی چیتا ویتا ہی نہ پڑ گیا ہو۔
میں، ہنستے ہوئے: نہیں یار چیتا ویتا نہیں پڑا، بس رات کے وقت پتہ نہیں چلا ریسٹ ہائوس کہاں ہے۔ ویسے میں نے وقار کو کافی مرتبہ فون کیا لیکن اسکا نمبر بند جا رہا تھا۔
واجد: او ہو، وہ تو نیچے گائوں میں چلا گیا، شادی ہے۔ وہاں سگنل  نہیں آتے موبائل کے۔
میں: اچھا یار موبائل تو اب بھی اسکا بند ہے، پھر بھی ریسٹ ہائوس جاتے ہیں شاید وقار مِل جائے تو اس سے پانچ سو روپے ہی واپس لے لوں گا۔ اسکے بعد مجھے ڈونگا گلی پائپ لائن والے ٹریک پر اتار دینا۔
قصہ مختصر ہم ریسٹ ہائوس گئے، اور وہاں جا کر مجھے خود پر بہت غصہ آیا۔ رات کے وقت میں فون پر بات کرتا کرتا ریسٹ ہائوس کے قریب سے گزر کر آگے چلا گیا تھا۔ ورنہ وہ تو چڑھائی ختم ہوتے ساتھ ہی تھا۔ لہٰذا جب بھی کہیں جائیں، اپنا ہوٹل دھیان سے دیکھ کر آس پاس کی چند نشانیاں یاد رکھ لیں۔  وقار وہاں نہِں تھا، جو لڑکا تھا پیسوں کا حساب اسکے پاس نہیں ہوتا تھا اس لئے میرا یہ پانچ سو تو ڈوب گیا۔

پائپ لائن ٹریک اور گائیڈ کی چالاکیاں
واجد گائیڈ نے مجھ سے پوچھا کہ صاحب اب آپکا کیا پروگرام ہے؟ جب میں نے کہا کہ یار پائپ لائن والا ٹریک کرنا ہے، تو وہ سوچ میں پڑ گیا۔ پھر کہنے لگا کہ صاحب آپ اکیلے اس طرف نا جائیں، آجکل چیتے بہت بھوکے ہیں کہیں کوئی حادثہ ہی نہ ہو جائے۔ میں نے کہا کہ نہیں یار، پر رونق ٹریک ہے شیر چیتے کچھ نہیں کہتے مجھے۔ پھر جوان کہنے لگا کہ صاحب سرد علاقوں کے سانپ بہت زہریلے ہوتے ہیں، کاٹ لیں تو بندہ فوراً سے پہلے پورا ہو جاتا ہے۔ آپ نہ جائیں، آپکو میں نیچے گائوں میں لے جاتا ہوں۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ استاد اپنی دیہاڑی بنانے کے چکر میں میری چھٹی خراب کرے گا۔ اتنے میں ڈونگا گلی پہنچ گئے، یہ ٹریک بالکل مین روڈ پر ہی شروع ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں مانا ہوا صحت بخش ٹریک ہے۔ اب مجھے یاد نہیں لیکن یہ ٹریک شاید انیس سو تیس کے آس پاس بنایا گیا تھا۔ ایک طرف پہاڑی ہے اور دوسری طرف کھائی، کھائی والی طرف پہ جنگلا لگا ہوا ہے۔ پورے ٹریک پر تین چار جگہ آرام کرنے کے لئے بنچ اور شیڈ بھی موجود ہیں۔ لیکن ان بینچوں کے آس پاس پلاسٹک کی بوتلیں اور لفافے بہت ہی برے لگتے ہیں، اتنی خوبصورت جگہوں کو لوگ پتہ نہیں کیسے گندا مندا چھوڑ کر آ جاتے ہیں، میں تو جو بسکٹ چپس بوتلیں وغیرہ کھاتا پیتا رہا انکے لفافے وغیرہ جمع کر کے جہاں کوڑا دانی ملی ٹھکانے لگائے۔ اس ٹریک کی لمبائی چار کلو میٹر ہے۔ کافی خوبصورت ٹریک ہے،چڑہائی بالکل نہیں ہے۔ مشہور ہونے کی وجہ سے کافی آباد رہتا ہے، ڈرنے والی کوئی بات نہیں۔ ٹریک کا ٹکٹ صرف دس روپے ہے، اور میرے خیال میں منت ترلے سے بھی کام چلایا جا سکتاہے۔ بہر حال ریکارڈ کی درستگی کے لئے باتا چلوں کہ میں نے دس روپے دیئے تھے۔ گھنٹے سوا میں یہ ٹریک بھی ہو گیا۔ اور جناب میں جا نکلا ایوبیہ۔ 

باندروں کی باجی
نتھیا گلی سے ایوبیہ دس کلومیٹر دور ہے۔ یہاں ایک دلچسپ واقع ہوا۔ ایوبیہ کے بازار میں کافی بندر گھوم رہے ہوتے ہیں، ایک نمبر بندروں کی بات کر رہا ہوں، موٹر سائیکلوں والے بندر مری سے آگے نہیں جاتے انکی تفنن طبع کا سامان مال روڈ پر وافر مِل جاتا ہے۔ یہاں ایک بابا مکئی بیچ رہا تھا، میں نے تھوڑ مکئی خریدی، اور ہتھیلی پر رکھ کر ایک بندر یا پتہ نہیں بندریا تھی کے سامنے کر دی۔ اس نے کھانی شروع کر دی، جب تھوڑ سی رہ گئی تو مجھے لاڈ سوجھا، میں نے چُک اُسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ہاتھ لگانے کی دیر تھی جناب بندر بے شرم بے حیا نے فائٹنگ پوز ہی بنا لیا، ایسی خوفناک آوازیں نکالی، ایسے وحشیانہ ایکسپریشن دیئے کہ میں تو گھبرا گیا۔ سونے پہ سہاگا اسکے خاندان کے دیگر "معززین" بھی ارد گرد اکٹھے ہو کر شدید غم و غصے کا اظہار کرنے لگ پڑے۔ میں نے سوچا کہ "استاد لگتا ہے باندروں کی باجی کو ہاتھ لگا دیا تو نے" ۔ خیر ہاتھ کھڑے کر دیئے، پیچھے ہٹ گیا، رونی شکل بنا لی، تب کہیں جا کر بندرز سے جان بچی۔

خانسپور
ایوبیہ سے نیچے دو کلومیٹر ڈھلوان اتر کر خانسپور کا گائوں ہے۔ خانسپور میں پنجاب یونیورسٹی کا ریسرچ سنٹر ہے، یونیورسٹی کے رہائشی کاٹیجز بھی ہیں جن کی بکنگ شاید لاہور سے ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ وائس چانسلر صاحب کے لئے شاندار رہائش بھی ہے۔ یہاں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا ریسٹ ہائوس، اور یوتھ ہاسٹل بھی ہیں۔ ان جگہوں کے علاوہ کوئی خاص رہائشی انتظام نہیں ہے۔ ایک آدھا اوسط درجے کا ہوٹل ہے، بازار سےروزمرہ استعمال ہونے والی تمام اشیاء مِل جاتی ہیں۔ بلکہ ایک ویلڈنگ کی دکان بھی ہے، اگرپہاڑیاں چڑہتے اترتے آپکا کوئی ٹانکا ٹوٹ جائے تو یہاں سے ویلڈ کروا لیجئے گا۔ اب مجھے کافی تھکن محسوس ہو رہی تھی، لہٰذا میں نے ایک ہوٹل سے کوئی دو تین کپ چائے پی، ساتھ کچھ کھایا بھی تھا شاید۔ پھر سوچا کہ چلو شیو کرواتا ہوں، اسی بہانے مقامی لوگوں کے ساتھ گپ شپ بھی ہو جائے گی۔ وہاں لوگوں سے پتہ چلا کہ نیچے جا کے گائوں میں کوئی چشمہ ہے، لیکن وہ کافی دور ہے اور پیدل جانا مشکل ہے۔ آسان بھی ہوتا تو میں نہ جاتا کیونکہ میرے پائوں دکھ رہے تھے۔ خیر میں نے حساب لگایا کہ یہاں رہنا فضول، بہتر ہو گا آج ہی ایوبیہ واپس چلا جائوں اور کل صبح لاہور۔ لیکن واپسی ساری چڑھائی ہے، سوچ سوچ کر مجھے واپسی کا سفر پہاڑ لگ رہا تھا۔ خانسپور ذرا ہٹ کر ہے تو اس طرف زیادہ عوامی سواریاں نہیں آتیں۔ جیسے تیسے، گرتا پڑتا واپس اوپر پہنچا۔ ایوبیہ سے خانسپور جاتے وقت اگر پیدل ہیں تو ضروری نہیں کہ سڑک پر ہی چلیں، دو جگہ پر شارٹ کٹ موجود ہیں۔ لیکن صرف دو جگہ پر۔ باقی پگڈنیڈیاں پہاڑی پر واقع مکانوں میں جا نکلتی ہیں، جہاں اِن علاقوں کے لوگوں کے دوستانہ رویے کے باوجود چھترول کے امکانات کافی روشن ہیں۔
 ایوبیہ میں رات
میں کہیں پانچ بجے کے آس پاس ایوبیہ واپس پہنچ گیا۔ ایوبیہ میں چار پانچ ہوٹل ہیں، پی ٹی ڈی سی کا موٹل بھی ہے، مجھے ایک ہوٹل میں ڈبل بیڈ روم مِل گیا، کرایہ وہی پانچ سو روپے۔ بیڈ کے پیروں والی سائیڈ پر جو دیوار تھی اس میں یہ بڑی کھڑکی تھی، میں نے پردے ہٹا ئے تو باہر مبہوت کر دینے والا نظارہ تھا۔ خیر جناب میں بستر پر گِرا، اور پھر کمبل میں اکٹھا ہو گیا، اور پھر سو گیا۔ سات بجے کے قریب ظہیر(  آف سیزن کی وجہ سے ہوٹل مینجر، بیرا، کُک، وغیرہ وغیرہ سب کچھ) نے دروازہ بجانا شروع کر دیا۔ دِل تو میرا کوئی نہیں تھا اٹھنے پر لیکن جب اس نے دس ایک منٹ ہمت نہ ہاری تو میں بستر سے نکل ہی آیا۔ در اصل وہ ساتھ ساتھ اعلان بھی کر رہا تھا کہ صاحب کھانا وانا کھا لو، رش نہیں ہے، کافی ٹھنڈ ہے تھوڑی دیر میں مجھے سونا بھی ہے۔ خیر جناب کھانا وانا کھایا، جو کہ کافی مزے کا تھا، ایوبیہ کا چوچا مشہور ہے لیکن میں نے یہاں آ کر بھی دال چنا ہی کھائی۔ چائے وائے پی، ظہیر کے ساتھ گپ شپ لگائی۔ اسکے مطابق بندر مقامی لوگوں کے ساتھ بد تمیزی نہیں کرتے، البتہ ٹورسٹوں کو معاف نہیں کرتے۔ مقامی لوگ انکے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں، ڈرتے نہیں ان سے اس لئے وہ مقامی لوگوں سے ڈر ور کے گزارا کرتے ہیں۔ اچھی خاصی ٹھنڈ تھی، میں تو جناب ٹھنڈ سے دوڑ کے کمرے میں آیا اور سپرد کمبل ہو کے سو گیا۔

ایوبیہ کی چیئر لفٹ
اگلی صبح اٹھ کر وہی روٹین، ناشتہ پانی کر کے میں نے چائے کا کپ ہاتھ میں اٹھایا اور ایوبیہ کی واحد سڑک پر تھوڑی چہل قدمی کی۔ بلکہ شاید گائوں والا چشمہ خانسپور نہیں ایوبیہ میں تھا، مجھے اب صحیح یاد نہیں آ رہا۔  اسکے بعد میں چلا ایوبیہ چیئر لفٹ کی طرف۔ ایک بات بتاتا چلوں، کہ عوام میں زیادہ مشہور پتریاٹہ کی چیئر لفٹ اور کیبل کار ہے، ایوبیہ میں الگ چیئر لفٹ ہے جو کہ صدر ایوب کے زمانے میں لگائی گئی تھی۔ ایوبیہ کا پرانا نام گھوڑا ڈاکہ تھا، جسے کہ ایوب صاحب کے دور میں بدل کر ایوبیہ کر دیا گیا۔  یہ چیئر لفٹ تقریباً آدھا کلومیٹر طویل ہے، اور اوپر پہاڑی پر جا کے ختم ہوتی ہے۔ پہاڑی پر پارک ہے، چائے وائے مِل جاتی ہے اور شمالی علاقہ جات کے پہاڑ یہاں سے دکھائی دیتے ہیں۔ کافی خوبصورت نظارے ہیں اوپر۔ اوپر ایک چائے کے کھوکھے سے جب میں نے پوچھا کہ یار چائے کے ساتھ صرف بسکٹ، کوئی پکوڑے شکوڑے ہی رکھ لیتے؟ مجھے یاد ہے شوگران سری پائے اوپر جا کے ٹھنڈ میں چائے پینے اور تازہ پکوڑے کھانے کا بڑا مزا آیا تھا۔ اس پر یہ بھائی صاحب جو کہ ڈیڑھ سو روپے کِلو چینی کی وجہ سے کافی پریشان تھے، پھٹ ہی پڑے۔ بقول انکے پہلے سیزن لگا کر اتنے پیسے بچ جاتے تھے کہ باقی پانچ چھے مہنیے سکون سے گزارے جا سکیں لیکن اب تو ستیا ہی ناس ہو گیا ہے، خرچے تک پورے کرنے مشکل ہو گئے ہیں۔ واپسی پر جو وادی کا نظارہ چیئر لفٹ سے دکھا تو میں سمجھیں حیران پریشان ہی رہ گیا۔  سامنے پوری وادی پھیلی ہوئی ہے، تاحد نظر سبزہ اور خوبصورتی۔

واپسی کا سفر
ایوبیہ سے مری جانے کے لئے پہلے کوزہ گلی جانا پڑتا ہے، جو کہ دو کلومیٹر دور ہے۔ میں نے پانی کی بوتل پکڑی اور اللہ کا نام لے کر چل پڑا، اس سفر میں بھی چڑھائی نہیں ہے اور راستہ بہت خوبصورت ہے۔ بندے کے ہتھ پلے کچھ نا ہو تو یہ بڑی سہولت رہتی ہے، منہ اٹھا کر چل پڑو، ڈر ور نہیں لگتا۔ کوزہ گلی سے نتھیا گلی بارہ کلومیٹر اور ایبٹ آباد اٹھارہ کلومیٹر ہے، مری بیس بائیس کلومیٹر ہے۔ یہاں سے میں اک سوزوکی پک اپ میں بیٹھا، مری تک کا کرایہ پچاس روپے اور سفر تقریباً آدھے گھنٹے میں طے ہوا۔ اس سفر میں ساتھ بیٹھے مقامی نوجوان کی باتوں میں بیزاری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ مجھے کہتا ہے کہ یار آپ لوگ یہاں لینے کیا آتے ہیں؟ کیا ملتا ہے آپ کو یہاں؟ ہم لوگ تو اس جگہ سے تنگ ہیں، پہاڑوں پر رہنا بہت مشکل ہے۔ پھر کام کاج روزگار وغیرہ کا بہت مسئلہ ہے، نا کوئی فیکٹری نا دفتر جائیں تو جائیں کہاں؟ اسکے علاوہ بتاتا چلوں کہ مری صوبہ پنجاب میں ہے، اور نتھیا گلی صوبہ خیبر پختونخواہ میں۔ خیبر پختونخواہ کی اس علاقہ میں سخت مخالفت کی جاتی ہے، ہر جگہ پر صوبہ ہزارہ کا بورڈ ہی مِلا، کہیں خیبر پختونخواہ نہیں لکھا تھا۔
اسکے بعد میں مری  آیا، مال روڈ پر تھوڑی شاپنگ کی، آنکھیں ٹھنڈی کی۔ حلقہ ارباب ذوق والے عامر فراز مِل گئے، اپنی والدہ کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ شام پانچ بجے مری سے پنڈی والی ویگن پر بیٹھا، سات بجے پنڈی، ساڑھے سات بجے پنڈی سے چل کر کوئی بارہ بجے واپس لاہور۔ اور یوں میرا ایک سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔
نوٹ: نتھیا گلی سطح سمندر سے آٹھ ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

Thursday, December 2, 2010

جلتے "کیوں"۔۔۔

کتھئی آنکھوں والا وہ کلین شیو نوجوان میرے سامنے آیا اور اس نے ہاتھ جوڑ دیئے۔ میں اُن آنکھوں میں بھری بےچارگی دیکھ کر بوکھلا سا گیا۔ وہ بولا بھائی اللہ کے واسطے مجھے بس کھانا کھلا دو، ایک انڈہ ایک پراٹھا اور ایک کپ چائے۔ کہاں خلیفتہ اللہ، اور کہاں ایک انڈہ ایک پراٹھا اور ایک کپ چائے، کیوں۔۔۔ آخر کیوں؟
آٹھ سو روپے، اس سے کم نہیں ہو سکتے۔۔۔ ستائیسویں رمضان المبارک ہے۔۔۔  کافی دیر سے سر ماری کر رہا ہوں لیکن اُسکی سوئی آٹھ سو پر آ کے اٹک ہی گئی ہے۔۔۔ "دیکھ پہلے ہی رمضان کی وجہ سے بہت بُرا حال ہے، پھر ساری رات ذلیل ہونا کوئی سوکھا کام نہیں ہے۔۔۔ دل کرتا ہے تو چل ورنہ جا اپنا کام کر"۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ شیطان تو سُنا تھا رمضان کا چاند طلوع ہوتے ہیں قید ہو جاتا ہے۔۔۔ تو پھر یہ آٹھ سو روپے پر بحث کرنے والوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟
جانوروں کو لگانے والا بڑا ٹیکا پکڑے وہ سامنے والے لکڑی کے بینچ پر لیٹی ہے۔ پیروں والی طرف ایک بارہ تیرہ سال کی بچی بیٹھی اپنے جوتے سے کھیل رہی ہے۔ ٹیکے کے ساتھ ایک سوئی گیس والا پائپ لگا ہے جو کہ اسکی میلی پرانی قمیض کے نیچے کہیں گم ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ خوراک کی نالی میں کینسر ہے، کچھ نگل نہیں سکتی۔ خوراک ٹیکے میں بھر کر سیدھی معدے میں انڈیلتی ہے۔ بارہ سال سے کم عمر کے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، خاوند چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ بہن بھائی ماں باپ کوئی نہیں ہے۔ گھر کرائے کا ہے، بیٹا محلے کے لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کرتا ہے اور لوگ۔۔۔ ترس کھا کے کچھ کھانے پہننے کو دے دیتے ہیں۔ میں نے اسکی مٹھی میں ایک نوٹ تھمایا، مٹھی کھول کر دیکھی اور میرے پیروں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے۔ میرا دِل چاہا زمین پھٹ جائے اور میں اس میں اتر جائوں۔ اس سے زیادہ پیسوں کا تو یہ جوتا ہے جو میں نے پہنا ہے۔
مٹی سے بال اٹے ہیں۔ قمیض اتری ہوئی ہے۔ چہرے پر خون اور مٹی سے بنا گارا لپا ہے۔ لوگ اسے مار رہے ہیں، ڈنڈے جوتے ٹھڈے مکے جسکو جو ملتا ہے اس سے مار رہے ہیں۔ ساتھ ہی ایک ننگے دھڑ والا ساکن جسم پڑا ہے، جان نکل گئی اسکی شاید۔ وہ اٹھتا ہے، ہاتھ جوڑتا ہے لیکن مجمع ایک نہیں سنتا۔ مار مار کے اسے زمین پر گرا دیتے ہیں۔ اسکے ناک سے خون بہہ رہا ہے، اسکا پنڈا چور چور ہو چکا ہے، اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ بھائی۔۔۔ اسکا بھائی جسکے ساتھ صبح وہ کرکٹ کھیلنے آیا تھا اسکے ساتھ بے سدھ پڑا یا شاید مر گیا ہے۔ دو ہی تو وہ بھائی تھے۔
ویر ویراں دا درد ونڈاندے، تے ویر ویراں دیا بانہواں
اُسکا ویر تو مر گیا۔۔۔ مار دیا ظالموں نے۔۔۔ اسکی بانہیں تو نوچ لی گئیں۔۔۔ پھر اسکی آنکھوں کے آگے بھی منظر دھندلا گیا۔۔۔ ایک ڈوبتی سی یاد ماں کی آئی۔۔۔ وہی ماں جو آج صبح کہہ رہی تھی کہ "جا پتر، رب راکھا" شاید وہ بھی مرنے والا تھا۔۔۔


میرے دِل میں ہول اٹھتے ہیں، میں پوچھتا ہوں ذوالجلال جبار قہار رزاق رحمان غفور رحیم یہ کیا ہے؟ تجھے تیری شان کریمی کا واسطہ مجھے سمجھا کہ یہ کیا ہے؟ تو قادر مطلق ہے، تو سمجھا سکتا ہے نا۔۔۔ کوئی ایک عذاب ہو تو میں اسکا رونا روئوں یہاں تو تا حد نظر عجائب پھیلے ہوئے ہیں۔۔۔ میں کمی کمین ہی سہی، تیرا بنایا ہی سہی، مطلق تیرا محتاج ہی سہی۔۔۔ تو مجھے بتا میں کیا کروں، کہاں جائوں؟ تو انہیں سکون کیوں نہیں دیتا؟ اتنی لاچارگی کیوں پھیلا رکھی ہے اس دنیا میں؟ اتنی بے رحمی کہاں سے آ گئی تیری تخلیق میں؟ تیرا خلیفہ تھوڑے سے پیسوں کے لئے ننگا کیوں ہو جاتا ہے؟ ہاتھ کیوں جوڑ دیتا ہے؟ پیر کیوں پکڑ لیتا ہے؟ لاشوں کے ساتھ کھڑا ہو کے تصویریں کیوں بنواتا ہے؟ زندہ ماس پر ڈنڈے مارتے ہوئے جب خون کے چھینٹے اڑتے ہیں تو اسکو تسکین ملی ہے، ہیں کیوں؟ کیا پاکھنڈ مچا رکھا ہے تو نے؟ تو کوئی بچہ ہے جس نے کھیل کھیل میں سب بنا ڈالا، اور اب ڈمیز کو کرتب کرتا دیکھ کر خوش ہو رہا ہے؟ یا تو کوئی حکیم تخلیق کار ہے، جسے اپنے ایک ایک شعر ایک ایک جملے اور ایک ایک مجسمے سے پیار ہوتا ہے؟ پیار ہے تو پھر میرے بادشاہ یہ کیسا پیار ہے؟
بے شک میں بڑا بے صبرا اور بڑا کم علم ہوں، تو ضرور مجھ پر کرم کرے گا۔۔۔ مجھے قرار بخش، ہدایت دے۔۔۔ تجھے مجھ سے سات مائوں جتنا پیار ہے۔۔۔ اور تو کسی پر اسکی برداشت سے زیادہ بوجھ بھی نہیں ڈالتا۔۔۔


نوٹ: سفرنامے کے سلسلے کی تیسری تحریر لکھنی تھی لیکن بس آمد شروع ہو گئی تو یہ تحریر سپرد قرطاس کر چھوڑی۔۔۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer