Saturday, September 5, 2009

قصہ ایک قطار کا



ان دنوں ٹی وی وغیرہ والے آٹے کی قطاروں میں لگا کر عوام کی تذلیل کا کافی چرچا ہے۔ اول تو جی غریب بندے کی کیا تذلیل اور کیا اُسکی توقیر، پاک سرزمین کے غرباء میں "عزت نفس" کے جراثیم تو ساٹھ سال کی مستقل"چھترویکسینشن" کی وجہ سے کب کے مر چُکے۔ خیر یہ تو ایک لمبا رونا ہے بقول حبیب جالب

ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا، اس غم کو نیا کیا لکھنا

آج مجھے بھی ایک قطار میں لگ کے آٹا لینے کا اتفاق ہوا، دس کلو والا توڑا صرف ایک سو روپے کا۔ کہاں پچیس اور کہاں دس روپے کلو، اللہ معاف کرے اس معاشرے کے خلیفے شاید اگلے جہان جا کے حساب دینے پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ یہاں میں نے لوگوں کی باتیں بھی سنیں۔ کوءی کچھ بھی کہے، لوگ میاں شہباز شریف سے بڑے خوش ہیں اور انہیں بہت دعاءیں دیتے ہیں۔ آٹا اور چینی کی فراہمی کے لیے باقاعدہ شامیانے لگاءے گءے ہیں، اور قطار بنوانے کے لیے لوہے کی گرلیں آپکو تصاویر میں نظر آ رہی ہوں گی۔

جب میں وہاں پہنچا تو آٹے والا ایک ٹرک پانچ دس منٹ پہلے ہی خالی ہو کر گیا تھا، اکا دُکا لوگ پارک میں بیٹھ کر اگلے ٹرک کا انتظار کر رہے تھے۔ وہاں ایک خان صاحب بھی تھے جو ایک دن پہلے ہی سرحد کے کسی شہر سے آءے تھے۔ بقول خان صاحب، وہاں بیس کلو آٹا پانچ سو ستر روپے کا مل رہا ہے۔ اب سرحد والے بھی تو اپنے ساتھ خود ہی ظلم کرتے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ جو آٹا یہاں سے جاتا ہے اُسے زیادہ پیسوں میں افغانستان اسمگل کر دیتے ہیں، اور خود ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ کام عام آدمی تو کر ہی نہیں سکتا، وہاں کےمگر مچھ ہی عوام کہ ہاتھ سے نوالہ چھین کر اسمگل کرتے اور اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ مگرمچھ تو بہرحال ہمارے ہاں بے تحاشہ پاءے جاتے ہیں، ہر شعبے میں ہر ساءز کے۔


لوگ کہہ رہے تھے کہ اللہ زندگی دے بابے شہباز کو، بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔ ظاہری سی بات ہے، ایک طرف ایس ایم ایس پہ ٹیکس لگانے والے، پیٹرول کی قیمتیں آسمان پہ چڑہانے والے، عوام کو جون جولاءی کی گرمی میں بجلی بند کر کے بیڑہ غرق کرنے والے، نسل در نسل حکومت کرنے والے فرعون ہیں۔ جو کہ عوام کو ہر قیمت پہ "تھلے لگا" کے رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ایک بندے کا پُتر لوگوں کو روٹی کھلا رہا ہے تو بھوکے ننگے پیٹوں سے دعاءیں ہی نکلیں گی۔ لوگ کہہ رہے تھےکہ مِل سےآٹے کا بیس کلو والا توڑا تین سو کا نکلتا ہے، عوام کو یہ توڑا دو سو روپے کا دیا جاتا ہے اور ایک سو روپے فی توڑا حکومتِ پنجاب دے رہی ہے۔

شروع شروع میں تو لوگوں کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ مملکتِ خداداد میں ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ بے یقینی کے مارے ہوءے آٹا حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ پلاننگ کر کے آتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ پارک کے بینچ پہ ایک عورت بیٹھی ہے اور اسکے ساتھ تین چار توڑے آٹا پڑا ہے، اندازہ ہوتا تھا کہ آنٹی کے ساتھ کوءی اور بھی ہے جو کہ دھڑا دھڑ آٹا خرید رہا ہے۔

آج کے اخبار میں جماعت اسلامی کے ایک مظاہرے کی تصویر دیکھی، جس میں آٹے دال چینی قسم کی چیزوں کا رونا رویا جا رہا تھا۔ بندہ پوچھے کہ ابھی اگلے دن آپکا "سنہری" دورِ حکومت ختم ہوا ہے، آپ نے اس سلسلے میں کونسے تیر مار لیے تھے بس ایل ایف او کا طواف کرتے کرتے پانچ سال گزار دیے۔

اچھی خاصی لمبی لاءن تھی، میں خوش قسمتی سے ٹرک آنے سے پہلے ہی وہاں جا پہنچا تھا اس لیے پانچ سات منٹ میں ہی مجھے آٹا مل گیا۔

ایک اور مزے کی بات ، جب ہم لوگ سامنے سے فوٹو لینے گءے تو غریب عوام نے کیمرہ کو دیکھ کے پوز ہی بنانے شروع کر دیے۔ ہمارے لوگ بھی بیچارے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتے ہیں۔ خیر ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ جیو بابا شہباز شریف۔۔۔

No comments:

Post a Comment

کھلے دِل سے رائے دیں، البتہ کھلم کھلی بدتمیزی پر مشتمل کمنٹ کو اڑانا میرا حق ہے۔

Pak Urdu Installer

Pak Urdu Installer